Tuesday, February 23, 2016

دنیا کی ریل پیل تم.کو بدل نہ سکی ..

ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺟﺲ ﮐﻮ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺿﺮﻭﺭ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺑﻦ ﺟﺮﺍﺡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻤﺮ
ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺗﮭﮯ
ﺍﻭﺭ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺷﺎﻡ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﮐﺘﺮ
ﻋﻼﻗﮧ ﺍﻧﮭﻮ ﮞ ﻧﮯ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮬﯿﮟ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺭﺩﻥ،ﺷﺎﻡ ،ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ،ﻟﺒﻨﺎﻥ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﯾﮧ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻋﻼﻗﮧ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺻﻮﺑﮧ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺑﻦ ﺟﺮﺍﺡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﺳﮑﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﮐﺎ
ﺻﻮﺑﮧ ﺑﮍﺍ ﺯﺭﺧﯿﺰ ﺗﮭﺎ ﻣﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﯽ ﺭﯾﻞ ﭘﯿﻞ ﺍﻭﺭ
ﺭﻭﻡ ﮐﺎ ﺳﺮﺳﺒﺰ ﻭ ﺷﺎﺩﺍﺏ ﻋﻼﻗﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ
ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﮮ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ
ﮐﻤﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﻌﺎﺋﻨﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺷﺎﻡ ﺩﻭﺭﮦ ﭘﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﮮ ﺷﺎﻡ ﺩﻭﺭﮦ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮮ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﺎﺉ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮﻥ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﻢ ﺭﮬﺘﮯ ﮬﻮ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﺎ ﮐﮧ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﺗﻨﮯ ﺑﮍے ﺻﻮﺑﮧ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺑﻦ ﮔﯿﮯ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﯽ ﻓﺮﺍﻭﺍﻧﯽ ﮬﮯ ﺍﺱ ﻟﮯ ﺍﻧﮑﺎ ﮔﮭﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺘﻨﺎ ﻣﺎﻝ ﺟﻤﻊ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﯿﺴﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ
ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﯿﺮ
ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ
ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮯ ﺟﺐ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ
ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﭽﻮﮌﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮧ ﮬﻮ ﮔﺎ ﺗﻮ
ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ
ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﮬﻮﮞ
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﮐﻮ ﻟﮯ
ﮐﺮ ﭼﻠﮯ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ
ﺟﺐ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺧﺘﻢ ﮬﻮ ﮔﺊ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ
ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎﺭﮬﮯ ﮬﻮ ؟
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺑﺲ ﺍﺏ
ﺗﻮ ﻗﺮﯾﺐ ﮬﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﭘﻮﺭﺍ ﺩﻣﺸﻖ ﺷﮩﺮ ﺟﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ
ﻣﺎﻝ ﻭ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﺳﮯ ﺟﮓ ﻣﮕﺎ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ
ﻟﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﺎ ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﺍ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ
ﺳﻮﺍﮮ ﺍﯾﮏ ﻣﺼﻠّﮯ ﮐﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﻈﺮ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ .
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﮬﺘﮯ ﮬﻮ ؟ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺎﺯﻭﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺮﺗﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻧﮭﯽ ﮬﮯ ﺗﻢ ﯾﮭﺎ ﮞ ﮐﯿﺴﮯ ﺭﮬﺘﮯ ﮬﻮ؟
ﺍﻧﮭﻮﻥ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮯ ﺍﮮ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺍﻟﺤﻤﺪﺍﻟﻠﮧ
ﻣﯿﺮﯼ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻣﯿﺴﺮ ﮬﯿﮟ ﯾﮧ
ﻣﺼﻠﯽ ﮬﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺘﺎ ﮬﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ
ﺍﺱ ﭘﺮ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﻭﭘﺮ ﭼﮭﭙﺮ
ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﻧﮑﺎﻻ ﺟﻮ
ﻧﻈﺮ ﻧﮭﯽ ﺁ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎﯾﺎ ﮐﮧ
ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺑﺮﺗﻦ ﯾﮧ ﮬﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ
ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺍﺱ ﺑﺮﺗﻦ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﻦ ﭘﺎﻧﯽ
ﺑﮭﺮﺍ ﮬﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﮐﮭﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﺑﮭﯿﮕﮯ
ﮬﻮﮮ ﺗﮭﮯ
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺗﻮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻓﺮﺻﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺗﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﻮ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮬﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺳﻮﮐﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﻦ ﮈﺑﻮ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺳﻮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮬﻮﮞ
ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ
ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺁ ﮔﺌﮯ .
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮬﯽ ﮐﮩﮧ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﮑﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﭽﻮﮌﻧﮯ ﮐﺎﮮ ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮬﻮﮔﺎ -ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ
ﺍﮮ ﺍﺑﻮﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﺱ ﺩﯾﻨﺎ ﮐﯽ ﺭﯾﻞ ﭘﯿﻞ ﻧﮯ ﮬﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺗﻢ ﻭﯾﺴﮯ ﮬﯽ ﮬﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﻴﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻧﮯ ﺗﻢ ﭘﺮ ﮐﻮﺉ ﺍﺛﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺍﻻ
(منقول)

ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین

ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین ،،

سعید جدہ ائیر پورٹ پر بیٹھا ھوا اپنی فلائیٹ کا انتظار کر رھا تھا جبکہ اس کے ساتھ ھی اس کا ھم وطن دوسرا مصری حاجی بھی بیٹھا ھوا تھا ، جس کے چہرے سے آسودگی کی طراوت چھلک رھی تھی ، دونوں حج کے مناسک ادا کرنے کے بعد وطن واپس جانے والے حاجیوں میں شامل تھے ، اچانک سعید کے ساتھ بیٹھے حاجی نے ایک لمبی سی سانس لی اور اپنا تعارف کرایا ،، میں بزنس مین ھوں اور الحمد للہ یہ میرا دسواں حج ھے ، اللہ پاک کا میرے اوپر بڑا فضل ھے اور میں سمجھتا ھوں کہ ھر حج کے بعد مجھے رب کے زیادہ قریب ھونے کا موقع ملا ھے ،، اس کے بعد اس نے استفسارانہ نظروں سے سعید کی طرف دیکھا گویا جواباً اس کے تعارف کا منتظر ھو ،، سعید مسکرا دیا اور بولا بھائی میرے حج کا قصہ کچھ زیادہ ھے طویل اورگنجلک ھے  میں آپ کا سر کھانا نہیں چاھتا ،،، کوئی بات نہیں ایک تو ھم یہاں انتطار کے سوا کچھ کر نہیں رھے دوسرا یہاں کھانے کی ھر چیز باھر سے بیس گنا زیادہ مہنگی ھے ، بس ایک سر ھی تو کھانے کو فری میں ھے دوسرے حاجی عبدالباری نے ھنستے ھوا کہا ،،

سعید خیالوں میں کھو گیا گویا فیصلہ نہ کر پا رھا ھو کہ اپنی کہانی کو کہاں سے شروع کرے ،، میرے بھائی میں ایک پرائیویٹ اسپتال میں فزیوتھراپسٹ ھوں ،سعید نے آخرکار بولنا شروع کیا ،،میں نے 30 سال اپنی تنخواہ میں سے تھوڑی تھوڑی رقم کٹوا کر اس حج کی تیاری کی ھے ، اس سال میرے حج کے اخراجات پورے ھو گئے تھے جنہیں میں اسپتال کے فائنانس ڈیپارٹمنٹ سے لے کر نکلا ھی تھا کہ ایک خاتون کو دیکھا ،جس کا بیٹا ایکسیڈنٹ میں تقریباً معذور ھو گیا تھا ،مگر پچھلے چھ ماہ میں میری انتھک محنت اور پیار و شفقت کی وجہ سے وہ 50 فیصد ٹھیک ھو گیا تھا جبکہ امید تھی کہ مزید چھ ماہ کے بعد وہ مکمل صحتیاب ھو جائے گا ،، اس خاتون نے مجھے سلام کیا اور بجھے ھوئے لہجے میں بتایا کہ وہ لوگ اسپتال چھوڑ کر جا رھے ھیں ، ،، شاید پھر ھماری ملاقات نہ ھو لہذا میں آپ کو ڈھونڈ رھی تھی ، جس پر مجھے کافی اچھنبا ھوا- مجھے لگا جیسے وہ میرے علاج سے مطمئن نہ ھو ،، کیا آپ میرے طریقہ علاج سے مطمئن نہیں ھیں ؟ میں نے اس خاتون سے سوال کر ھی دیا ،، نہیں نہیں ڈاکٹر صاحب ایسی بات نہیں ھے ،آپ نے تو بچے کو  ڈاکٹر کی بجائے باپ بن کر سنبھالا ھے ،میرا تو رواں رواں آپ کو دعائیں دیتا ھے ، آپ نے میرے بچے میں نہ صرف جینے کی جوت جگا دی بلکہ اپنی ڈیوٹی سے ھٹ کر اس کو وزٹ کیا اور تحفے تحائف بھی دیئے جس کے لئے ھم میاں بیوی آپ کے بہت شکر گزار ھیں ،، پھر آپ اسپتال چھوڑ کر کیوں جا رھی ھیں ؟ میں نے حیرانی سے پوچھا ،، مگر وہ میری بات کا جواب دیئے بغیر مریض کے کمرے کی طرف چل دی ،،

میں سیدھا ایڈمن آفس کی طرف گیا اور بچے کا کمرہ نمبر بتا کر پوچھا کہ یہ لوگ اسپتال کیوں چھوڑ رھے ھیں ؟ وہ چھوڑ نہیں رھے بلکہ ان کو کمرہ خالی کرنے کا نوٹس دیا گیا ھے ،لڑکے کا والد جاب سے فارغ کر دیا گیا ھے جس کی وجہ سے وہ لوگ اسپتال کے چارجز دینے کے قابل نہیں ، لہذا ان کو کمرہ خالی کرنے کے لئے کہہ دیا گیا ھے ،، میں وھاں سے مینیجر صاحب کے آفس میں گیا اور ان سے درخواست کی کہ بچے کو علاج جاری رکھنے کی اجازت دی جائے مگر میری بات ابھی پوری بھی نہیں ھوئی تھی کہ مدیر نے نہایت رکھائی سے کہا کہ سعید یہ ایک پرائیویٹ اسپتال ھے کوئی چیریٹی ادارہ نہیں ھے ، یہاں وھی علاج کرا سکتا ھے جو اخراجات کی سکت رکھتا ھے ،، مدیر کا دوٹوک جواب سن کر جونہی میں مڑا تو میرا دائیاں ھاتھ میری جیب سے ٹکرایا جس میں میرے حج کے پیسے رکھے ھوئے تھے ،،

دفتر سے نکل کر میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا کہ" اے اللہ تو اچھی طرح جانتا ھے کہ مجھے تیرے گھر آنے کا کس قدر شوق ھے ، اور اب جبکہ میرا خواب ایک حقیقت بننے والا ھے تو اس بچے کی زندگی کا سوال کھڑا ھو گیا ھے ،، اے اللہ میں مجبور ھوں مگر تو بے نیاز ھے میں حج پہ نہ آ سکا تب بھی مجھے اپنے فضل سے محروم مت کرنا ، میں وھاں سے سیدھا اکاؤنٹنٹ  آفس میں آیا اور اس بچے کے اگلے چھ ماہ کے اخراجات جمع کرا کر اس کے ڈسچارج آرڈرز کینسل کرا دیئے ،،،،،

الحمد للہ میرا دل سکون سے بھر گیا تھا مگر حج پہ نہ جا سکنے کی کسک اپنی جگہ تھی، ،،،،
پھر آپ نے جب اپنے حج کے اخراجات اس عورت کے بچے کے علاج کے لئے دے دیئے تو آپ حج پر کیسے آگئے ؟ عبدالباری نے بےچینی سے سوال کیا ،،

میں جب گھر آکر لیٹا تو حج کے مناسک کا ایک ایک منظر میری نظروں میں گھوم رھا تھا ،میں نے کئ بار بیت اللہ کا خیالی طواف کیا تھا - کئ بار لبیک اللھم لبیک کہتے مجمعے کے ساتھ اپنی آواز ملا کر ان کا حصہ بن گیا تھا ،، پتہ نہیں کب میری آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ھو گئے اور میں بہتے آنسوؤں کے ساتھ ھی سو گیا ،، میں نے دیکھا کہ میں بیت کا طواف کر رھا ھوں اور لوگ مجھے میرا نام لے لے کر حج کی قبولیت کی بشارتیں دے رھے ھیں ۔۔ حجاً مبروراً یا حاج سعید ،لقد حججت فی السماء قبل ان تحج فی الارض ، دعواتک لنا یا حاج سعید ،، اے سعید اللہ نے تیرا حج قبول کر لیا ،تو نے زمین سے پہلے آسمان پر حج کیا ھے ،ھمارے حج کی قبولیت کے لئے بھی دعا کرو ،،

اسی کیفیت میں فون کی گھنٹی نے مجھے جگا دیا - فون پر اسپتال کا مینجر تھا جو کہہ رھا تھا کہ اسپتال کا مالک حج پر جا رھا ھے ، وہ اپنے خاص معالج کے بغیر کبھی نہیں جاتا ، مگر اس دفعہ اس کے معالج کی بیوی شدید بیمار ھو گئ ھے جو بیوی کو اس حال مین چھوڑ کر باس کے ساتھ حج پہ نہیں جا سکتا ،لہذا آپ کو ان کے ساتھ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ھے ، آپ اپنے ضروری کاغذات اسپتال کے ایڈمن آفس پہنچا دیں ،،،،،،،،،

میں نے سب سے پہلے تو شکرانے کے نفل ادا کیئے پھر کاغذات آفس والوں کے حوالے کیئے یوں اللہ پاک نے مجھے اپنے گھر بلانے کا انتظام کر دیا ،،حج کے بعد اسپتال کے مالک نے مجھے میری خدمات کا معاوضہ دینا چاھا تو میرے آنسو نکل پڑے اور میں نے اس کو بتایا کہ اس نے مجھے حج کرا کر مجھ پر اتنا بڑا احسان کیا ھے کہ مجھے اپنا خادم بنا لیا ھے ،لہذا میں نے جو بھی اس کی خدمت کی ھے وہ اس کے احسان کے مقابلے میں کچھ نہیں ھے لہذا وہ معاوضے کی بات کر کے مجھے گنہگار نہ کرے ،، پھر میں نے اس کو سارا واقعہ تفصیل کے ساتھ سنایا ،، جس پر اس نے مکے سے ھی فون کر کے اس بچے کے مکمل علاج تک اسے اسپتال میں بلا معاوضہ رکھنے کے احکامات جاری کر دیئے ، اس خاتون کے شوھر کو اپنی ایک فیکٹری میں سپروائزر کی پوسٹ پر رکھ لیا اور اسپتال انتظامیہ کو میرے سارے پیسے مجھے واپس کرنے کے لئے کہہ دیا ،، یوں اللہ پاک نے مجھے فری میں حج کرا دیا ،،،

عبدالباری کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، اس نے اٹھ کر سعید کا ماتھا چوما اور اسے مبارک دی اور کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ میں نے دس حج کر کے اللہ پاک کا بہت قرب حاصل کیا ھے مگر آج مجھے لگتا ھے کہ میرے ایسے ھزار حج بھی تیرے اس ایک حج کے برابر نہیں ،میں تو خود حج پر آتا رھا جبکہ تجھے تو اللہ خود ھی اٹھا کر اپنے گھر لایا ھے ،، حاج سعید ،  اللہ  پاک سے میرے حج کی قبولیت کی دعا بھی کر دو ،، اللہ تمہارے حج میں برکت دے ،،

Monday, February 22, 2016

یہودی نو مسلم جاد اللہ قرآنی. قبول اسلام کا ایمان افروز واقعہ


یہ تقریباً 1957ء کی بات ہے فرانس میں کہیں ایک رہائشی عمارت کی نکڑ میں ترکی کے ایک پچاس سالہ بوڑھے آدمی نے چھوٹی سی دکان بنا رکھی تھی۔ اردگرد کے لوگ اس بوڑھے کو "انکل ابراہیم" کے نام سے جانتے اور پکارتے تھے۔ انکل ابراہیم کی دکان میں چھوٹی موٹی گھریلو ضروریات کی اشیاء کے علاوہ بچوں کیلئے چاکلیٹ، آئسکریم اور گولیاں، ٹافیاں دستیاب تھیں۔
اسی عمارت کی ایک منزل پر ایک یہودی خاندان آباد تھا جن کا ایک سات سالہ بچہ (جاد) تھا۔ جاد تقریباً روزانہ ہی انکل ابراہیم کی دکان پر گھر کی چھوٹی موٹی ضروریات خریدنے کیلئے آتا تھا۔ دکان سے جاتے ہوئے انکل ابراہیم کو کسی اور کام میں مشغول پا کر جاد نے کبھی بھی ایک چاکلیٹ چوری کرنا نہ بھولی تھی۔
ایک بار جاد دکان سے جاتے ہوئے چاکلیٹ چوری کرنا بھول گیا۔ انکل ابراہیم نے جاد کو پیچھے سے آواز دیتے ہوئے کہا، "جاد! آج چاکلیٹ نہیں اُٹھاؤ گے کیا؟"
انکل ابراہیم نے یہ بات محبت میں کی تھی یا دوستی سے مگر جاد کیلئے ایک صدمے سے بڑھ کر تھی۔ جاد آج تک یہی سمجھتا تھا کہ اس کی چوری ایک راز تھی مگر معاملہ اس کے برعکس تھا۔ جاد نے گڑگڑاتے ہوئے انکل ابراہیم سے کہا کہ، "وہ اگر اسے معاف کر دے تو آئندہ وہ کبھی بھی چوری نہیں کرے گا۔"
مگر انکل ابراہیم نے جاد سے کہا: "اگر تم وعدہ کرو کہ اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی کی چوری نہیں کرو گے تو روزانہ کا ایک چاکلیٹ میری طرف سے تمہارا ہوا، ہر بار دکان سے جاتے ہوئے لے جایا کرنا۔" اور بالآخر اسی بات پر جاد اور انکل کا اتفاق ہو گیا۔
وقت گزرتا گیا اور اس یہودی بچے جاد اور انکل ابراہیم کی محبت گہری سے گہری ہوتی چلی گئی۔ بلکہ ایسا ہو گیا کہ انکل ابراہیم ہی جاد کیلئے باپ، ماں اور دوست کا درجہ اختیار کر چکا تھا۔
جاد کو جب کبھی کسی مسئلے کا سامنا ہوتا یا پریشانی ہوتی تو انکل ابراہیم سے ہی کہتا، ایسے میں انکل میز کی دراز سے ایک کتاب نکالتا اور جاد سے کہتا کتاب کو کہیں سے بھی کھول کر دو۔ جاد کتاب کھولتا اور انکل وہیں سے دو صفحے پڑھتا، جاد کو مسئلے کا حل بتاتا، جاد کا دل اطمینان پاتا اور وہ گھر کو چلا جاتا۔
اور اسی طرح ایک کے بعد ایک کرتے سترہ سال گزر گئے۔ سترہ سال کے بعد جب جاد چوبیس سال کا ایک نوجون بنا تو انکل ابرہیم بھی اس حساب سے سڑسٹھ سال کا ہوچکا تھا۔ داعی اجل کا بلاوا آیا اور انکل ابراہیم وفات پا گیا۔ اُس نے اپنے بیٹوں کے پاس جاد کیلئے ایک صندوقچی چھوڑی تھی، اُس کی وصیت تھی کہ "اس کے مرنے کے بعد یہ صندوقچی اس یہودی نوجوان جاد کو تحفہ میں دیدی جائے۔۔۔۔!"
جاد کو جب انکل کے بیٹوں نے صندوقچی دی اور اپنے والد کے مرنے کا بتایا تو جاد بہت غمگین ہوا، کیونکہ انکل ہی تو اسکا غمگسار اور مونس تھا۔ جاد نے صندوقچی کھول کر دیکھی تو اندر وہی کتاب تھی جسے کھول کر وہ انکل کو دیا کرتا تھا۔
جاد، انکل کی نشانی گھر میں رکھ کر دوسرے کاموں میں مشغول ہو گیا۔ مگر ایک دن اُسے کسی پریشانی نے آ گھیرا، "آج انکل ہوتا تو وہ اُسے کتاب کھول کر دو صفحے پڑھتا اور مسئلے کا حل سامنے آجاتا" جاد کے ذہن میں انکل کا خیال آیا اور اُس کے آنسوؤں نکل آئے۔
"کیوں ناں آج میں خود کوشش کروں۔۔!" کتاب کھولتے ہوئے وہ اپنے آپ سے مخاطب ہوا، لیکن کتاب کی زبان اور لکھائی اُس کی سمجھ سے بالا تر تھی۔ کتاب اُٹھا کر اپنے تیونسی عرب دوست کے پاس گیا اور اُسے کہا، "مجھے اس میں سے دو صفحے پڑھ کر سناؤ"، مطلب پوچھا اور اپنے مسئلے کا اپنے تئیں حل نکالا۔ واپس جانے سے پہلے اُس نے اپنے دوست سے پوچھا، "یہ کیسی کتاب ہے؟"
تیونسی نے کہا، "یہ ہم مسلمانوں کی کتاب قرآن ہے۔۔!"
جاد نے پوچھا، "مسلمان کیسے بنتے ہیں؟"
تیونسی نے کہا، "کلمہ شہادت پڑھتے ہیں اور پھر شریعت پر عمل کرتے ہیں۔"
جاد نے کہا، "تو پھر سن لو میں کہہ رہا ہوں
أشهد ان لا الا اللہ وا اشہد ان محمد الرسول اللہ۔
جاد مسلمان ہو گیا اور اپنے لئے "جاد اللہ القرآنی" کا نام پسند کیا۔ نام کا اختیار اس کی قرآن سے والہانہ محبت کا کھلا ثبوت تھا۔ جاد اللہ نے قرآن کی تعلیم حاصل کی، دین کو سمجھا اور اور اس کی تبلیغ شروع کی۔
یورپ میں اس کے ہاتھ پر چھ ہزار سے زیادہ لوگوں نے اسلام قبل کیا۔
ایک دن پرانے کاغذات دیکھتے ہوئے جاد اللہ کو انکل ابراہیم کے دیئے ہوئے قرآن میں دنیا کا ایک نقشہ نظر آیا جس میں براعظم افریقہ کے اردگرد لکیر کھینچی ہوئی تھی اور انکل کے دستخط کیئے ہوئے تھے۔ ساتھ میں انکل کے ہاتھ سے ہی یہ آیت کریمہ لکھی ہوئی تھی:
"ادع إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة"
"اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ۔۔۔!!"
جاد اللہ کو ایسا لگا جیسے یہ انکل کی اس کیلئے وصیت ہو۔ اور اسی وقت جاد اللہ نے اس وصیت پر عمل کرنے کی ٹھانی۔ جاد اللہ نے یورپ کو خیرباد کہہ کر کینیا، سوڈان، یوگنڈہ اور اس کے آس پاس کے ممالک کو اپنا مسکن بنایا، دعوت حق کیلئے ہر مشکل اور پرخطر راستے پر چلنے سے نہ ہچکچایا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھوں ساٹھ لاکھ انسانوں کو دین اسلام کی روشنی سے نوازا۔
جاد اللہ نے افریقہ کے کٹھن ماحول میں اپنی زندگی کے تیس سال گزار دیئے۔ سن 2003ء میں افریقہ میں پائی جانے والی بیماریوں میں گھر کر محض چون سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی کو جا ملے۔
جاد اللہ کی محنت کے ثمرات اس کی وفات کے بعد بھی جاری رہے۔ وفات کے ٹھیک دو سال بعد اس کی ماں نے ستر سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔
جاد اللہ اکثر یاد کیا کرتے تھے کہ انکل ابراہیم نے اس کے سترہ سالوں میں کبھی بھی اسے غیر مسلم محسوس نہیں ہونے دیا اور نہ ہی کبھی کہا کہ اسلام قبول کر لو۔ مگر اس کا رویہ ایسا تھا کہ جاد کا اسلام قبول کیئے بغیر چارہ نہ تھا۔
میرے دوستو! آخر میں صرف اتنا ہی کہونگا کہ جتنا ہو سکے ہم اپنے اچھے کردار کو اُجاگر کریں۔ کیونکہ ہماری زبان سے نکلی ہوئی بات سے ہو سکتا ہے کوئی انکار کر دے لیکن جس بات کو ہم اپنے کردار سے اور دل کی گہرائیوں سے استوار کریں گے اُسے کوئی نہیں جھٹلا سکتا۔

Tuesday, February 16, 2016

ہارون رشید لاجواب

خلافت راشدہ کے بعد عربوں کی دو عظیم حکومتیں قائم ہوئیں۔ ایک کا تعلق بنو امیہ سے تھا اور دوسری کا بنو عباس سے ۔بنو عباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس کی اولاد میں سے تھے۔  عباسی خاندان نے پانچ صدیوں تک حکومت کی۔  تہذیب وتمدن، علم و حکمت، قوت واقتدار، غرض ہر اعتبار سے ان کے دور میں اسلامی سلطنت اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی۔
عباسی خاندان کا سب سے بڑ ا خلیفہ ہارون الرشیدتھا۔ اس کے اقتدار کی عظمت کا اندازہ ایک واقعہ سے کیا جا سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ دارالخلافہ بغداد میں خشک سالی ہوگئی۔ ایک روز خلیفہ اپنے محل کی چھت پر کھڑ ا تھا کہ ابر چھا گیا، مگر بادل برسے بغیر آگے چلا گیا۔ یہ دیکھ کر ہارون رشید نے کہا:
 ”اے بادل تو جہاں چاہے جا کر برس، تیری  پیداوار کا خراج میرے ہی پاس آئے گا۔
خلیفہ ہارون رشید بڑے حاضر دماغ تھے۔ ایک مرتبہ کسی نے ان سے پوچھا: ’’آپ کبھی کسی بات پر لاجواب بھی ہوئے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا: تین مرتبہ ایسا ہوا کہ میں لاجواب ہوگیا۔ ایک مرتبہ ایک عورت کا بیٹا مرگیا اور وہ رونے لگی۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ مجھے اپنا بیٹا سمجھیں اور غم نہ کریں۔ اس نے کہا میں اپنے بیٹے کے مرنے پر کیوں نہ آنسو بہاؤں۔۔۔ جس کے بدلے خلیفہ میرا بیٹا بن گیا۔ دوسری مرتبہ مصر میں کسی شخص نے حضرت موسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا۔ میں نے اسے بلوا کر کہا کہ حضرت موسیٰ کے پاس تو اللہ کے دیئے معجزات تھے اگر تو موسیٰ ہے تو کوئی معجزہ دکھا۔ اس نے جواب دیا کہ موسیٰ نے تو اس وقت معجزہ دکھایا جب فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا تو بھی یہ دعویٰ کرے تو میں معجزہ دکھاؤں گا۔ تیسری مرتبہ لوگ ایک گورنر کی غفلت اور کاہلی کی شکایت لے کر آئے۔ میں نے کہا کہ وہ شخص تو بہت نیک، شریف اور ایماندار ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ پھر آپ اپنی جگہ اسے خلیفہ بنا دیں تاکہ اس کا فائدہ سب کو پہنچے۔


Monday, February 8, 2016

پهانسی کا قیدی . از شورش کاشمیری


مجھے پھانسی پانے والے قیدیوں سے خاصی دل چسپی رہی ، میں ان سے طرح طرح کے سوالات پوچھتا رہا ، میرے سامنے کوئی پانچ چھ سو قیدی تختہ دار پر لٹکے ہوں گے، ان میں صرف دو بے گناہ تھے، ایک نے کہا کہ اس نے کوءی قتل نہیں کیا، جس میں وہ پھانسی لگ رہا ہے، البتہ اس سے پہلے وہ ایک قتل کر چکا ہے، لیکن اس میں ہو گیا تھا، دوسرا پھانسی کے تختہ پر چلا چلا کر کہتا رہا میں بے ناہ ہوں، گواہ رہنا میں بے گناہ ہوں ، میں نے قتل نہیں کیا ، تھانیدار نے قاتلوں سے رشوت لے کر مجھے پھانسی لگوا دی ہے، میں بے گناہ ہوں ، باقہ جتنے قیدی بھی میرے سامنے پھانسی پاتے رہے میں ان کے ہاتھوں کی ریکھا بھی دیکھتا رہا اور پوچھتابھی رہا ، وہ تسلیم کرتے تھے کہ وہ ناحق پھانسی نہیں پا رہے، انہوں نے قتل کیا ہے، عام طور پر قتل کے محرکات میں ذاتی عداوتیں ، خاندانی بدلے ، ڈاکہ اور اسی قسم کے دوسرے اسباب مضمر ہوتے ہیں ۔ اپنی ذات سے باہر کسی عشق یا مقصد کے لیے شاذ ہی کوءی جان دیتا ہے ،
اسی صوبہ کے ایک قصبہ پلول میں ایک ہندو سرکاری سرجن تھا، جس نے اپنے گدھے کا ( خاکم بدہن ) حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے نام پر رکھا تھا، ایک مسلمان نوجوان نے اسے قتل کر ڈالا ۔
عدالت نے اسے سزائے موت کا حکم سنایا جو آخر تک بحال رہا، اس کے پھانسی پانے کے ایک پہلے میں اسے ملا، وہ چھریرے بدن کا ایک خوبصورت نوجوان تھا، بڑا مطمئن تھا، مطلقا پشیمان یا ہراساں نہ تھا، اسے یقین تھا کہ وہ بارگاہ رسالت مآب میں حاضر ہو رہا ہے، چنانچہ بڑی جواں مردی کے ساتھ دار کے تختہ پر گیا ، بڑے اطمینان کے ساتھ جان دی ، مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم (فداہ ابی و امی ) سے جو عشق ہے ، اور اسلام کے آثار و مظاہر سے جو محبت ہے وہ شاید ہی کسی پیرو مذبب کو اپنی ہادی یا مذہب سے ہو ،
مسلمانوں نے ١٨٥٧ سے لے کر تحریک خلافت ١٩٢٠ تک ذوق و شوق سے دار و رسن کو لبیک کہا ، اور جواں مردی کے بڑے بڑے نشان چھوڑے ، اس کے بعد بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسجد شہید گنج کے انہدام پر ( رہ نماؤں کے اغراض مشؤمہ سے قطع نظر ) نوجوانوں نے جس دلیری سے دو روز تک گولیاں کھائیں ، اور متواتر اڑتالیس اور ساتھ گھنٹے تک نورچہ باندھے رکھا بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ قرن اول کے غزوات ہی کا عکس تھا،
ہم جہاد و قربانی کے جو معرکے کتابوں میں پڑھتے ہیں ، ا کی تصویر سے اس کی نظیر مختلف ہو جاتی ہے، کہ یہاں ایک طرف حکومت کے جبر واستعداد کا سر وسامان تھا، دوسری طرف نہتے نوجوانوں کا شوق شہادت جو انہیں کھنیچ کھینچ کے گولیوں کے سامنے لایا تھا ۔

ساری نیکیاں لے لو

بھٹو صاحب! آپ میری ساری نیکیاں لے لیں مگرحضور صلٰی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرلیں(شورش)
ذوالفقار علی بھٹو مرحوم آغاشورش کاشمیری مرحوم سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شورش مجھ سے قادیانیوں کی تاریخ بیان کرتے ہوئے انکی سیاسی اور مذہبی حیثیت پرکافی دیر تک دلائل دیتے رہے-پھر وہ جانے کے لئے اٹھے تو اچانک واپس پلٹ آئے اور کہنے لگے:
”بھٹو صاحب!ہمارے پاس کون سی عظمت ہے- ہم ایک سو سال سے اپنے آقاومولٰی صلٰی اللہ علیہ وسلم کی عزت وعظمت بحال نہیں کراسکے-ہم سے زیادہ ذلیل قوم کسی ملک نے آج تک پیدا نہیں کی ہوگی-ہم اسی وقت عزت وعظمت کا تاج سر پررکھ سکتے ہیں جب قادیانیوں سے محمد عربی صلٰی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا تاج چھین کر سیدالکونین صلٰی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرلیں-پھرایک سنسنی خیز بات ہوئی شورش نے روتے ہوئے میرے سامنے اپنی جھولی پھیلادی اور کہنے لگے:”بھٹو صاحب! مین آپ سے اپنے نبی صلٰی اللہ علیہ وسلم کی ختم المرسلینی کی بھیک مانگتا ہوں-آپ میری زندگی کی تمام نیکیاں اور خدمات لے لیں - میں خدا کے حضور خالی ہاتھ چلا جاؤں گا مگر خدا کے لئے اپنے نبی صلٰی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کی حفاظت کر دیجئے-یہ میری جھولی نہیں-فاطمہ بنت محمد صلٰی اللہ علیہ وسلم کی جھولی ہے، جس جھولی پر قادیانی حملہ آور ہیں-"
بھٹو کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں لرز اٹھا-اب مجھ میں اس سے زیادہ سننے کی تاب نہیں تھی-میرے بدن میں ایک جھرجھری سی آئی-میں بھی آخر مسلمان تھا اور نبی اکرم صلٰی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتا تھا-اس موقع پر شورش نے بات چیت کا رخ جذبات کی طرف موڑ دیا تھااور مین اپنے مسلمان کی حیثیت کے سوا سب کچھ بھول گیا تھا-میں نے شورش سے وعدہ کرلیا کہ میں قادیانی مسئلہ ضرور بالضرور حل کروں گا-شورش مجھ سے وعدہ لے کر چلے گئے اور میں سوچتا رہا کہ شاید اس شخص نے مجھ پر جادو کردیا ہے-لیکن مجھ جیسے شخص کو قائل کرنے
کے لئے ایک جذباتی ماحول پیدا کرنا صرف شورش کا کام تھا-"

Tuesday, January 26, 2016

ہارون رشید اور خواجہ فضیل بن عیاض کا ایک عجیب واقعہ

ہارون رشید اور خواجہ فضیل بن عیاض کا ایک عجیب واقعہ

ہارون رشید کا  وزیر فضیل بن ربیع روایت کرتا ہے کہ میں مکہ کے سفر میں ہارون رشید کے ساتھ تھا جب ہم حج کے ارکان ادا کر کے فارغ ہوگئے تو ہارون نے مجھے پوچھا کہ یہاں مردان خدا سے کوئی ایسا پاکباز مرد ہے جس کے قدمبوسی کی سعادت میں حاصل کروں۔ میں نے جواب دیا کہ ہاں عبد الرزاق صنعانی بڑے با خدا اور صاحب دل آدمی ہیں چنانچہ ہم ان کی خدمت میں پہنچے  اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد خلیفہ نے مجھے اشارہ کیا کہ ان سے پوچھ۔ آپ کو کسی کا  کچھ قرضہ دینا ہے۔ میں نے خلیفہ کا یہ اشارہ پاکر دریافت کیا جس کے جواب میں عبد الرزاق رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہاں مجھے فلاں شخص کا قرضہ دینا ہے خلیفہ ہارون نے حکم دیا کہ جن لوگوں کا آپ پر قرضہ آتا ہے وہ چھڑا دیں۔ ازاں بعد ہارون نے مجھ سے کہا اے فضیل ہنوز میں سیر نہیں ہوا بلکہ میرا دل کسی اور خدا ترس سے ملنے کو چاہتا ہے۔ میں نے کہا سفیان بن عینیہ یہاں موجود ہیں ان سے چل کر ملئے چنانچہ ہم  سفیان کی خدمت میں پہنچے۔ ہارون نے بہت سی گفتگو کے بعد کہا آپ کو کسی کا  قرضہ دینا ہے سفیان نے کہا ہاں۔ یہاں بھی ہارون نے ان کا قرضہ چھڑوا دیا اور پھر میری طرف مخاطب ہوکر کہا۔ فضیل، ابھی مجھے پورا اطمینان نہیں ہوا اور مجھے کسی ایسے شخص سے ملنے کی خواہش ہے جوان دونوں سے بڑھ کر ہو مجھے فوراً یاد آگیا اور میں نے شتابا نہ لہجہ میں کہا خلیفہ! یہاں خواجہ فضیل عیاض رحمۃ رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں ان کے پاس چلنا چاہیے۔ جس وقت ہم وہاں پہنچے ہیں تو آپ حجرے میں قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف تھے اور نہایت ترتیل کے ساتھ یہ آیت پڑھ رہے تھے۔ ام حسب الذین اجتر خوا السیات ان نجعلھم کالذین امنو اعملو الصالحات۔یعنی کیا بدکاروں کا گمان ہے کہ ہم انہیں ایمانداروں اور شائستہ کاروں کے برابر کردیں گے۔ جب اس آیت کے پُر اثر الفاظ ہارون رشید کے کان میں پڑے تو بے ساختہ بول اٹھا فضیل! بس یہی ایک آیت بس کرتی ہے۔ فضیل کہتے ہیں میں نے حجرے کا دروازہ کھٹ کھٹایا۔ خواجہ نے فرمایا کون؟ میں بولا امیر المومنین ہارون رشید! فرمایا۔ ’’مالی ولا امیر المومنین‘‘ یعنی مجھ میں اور  امیر المومنین میں کیا تعلق۔ ہارون نے کہا میں اپنے نفس کی شفاعت کے لیے آیا ہوں اور یہ کام کرنا آپ کو ضرور ہے خواجہ نے جھٹ چراغ گل کر  دیا اور  حجرے کا دروازہ کھول کر ایک کونے میں کھڑے ہوگئے ہارون حجرے میں آکر آپ کو ڈھونڈنے لگا اور دفعۃً اس کا ہاتھ خواجہ پر جا پہنچا آپ نے فرمایا آہ آج تک میں نے اس ہاتھ سے زیادہ نرم کوئی ہاتھ نہیں دیکھا بشرطیکہ دوزخ کی آگ سے نجات پائے۔ یہ سن کر ہارون رونے لگا اور اس  قدر رویا کہ بے ہوش ہوگیا ہوش میں آنے کے بعد بولا خواجہ مجھے کچھ نصیحت کیجیے فرمایا اے امیر المومنین تیرے جد امجد نے جو جناب نبی عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واحب الاحترام چچا تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک قوم پر حکومت کرنے کی درخواست کی تھی جناب رسالت  مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جواب میں فرمایا تھا کہ اے میرے بزرگ چچا آپ کا ایک سانس خدا  کی فرمانبرداری تھی میں ان ہزار برسوں  سے کہیں بہتر ہے جن میں خلق آپ کی اطاعت کرے ’’لان الا مارۃ یوم القیامۃ لدامۃ‘‘ کیونکہ حکومت قیامت کے دن باعث ندامت ہوگی۔ ازاں بعد ہارون رشید بولا کچھ اور بھی نصیحت کیجیے۔ خواجہ فضیل قدس سرہ نے فرمایا۔ اے امیر المومنین مجھے خوف ہے کہ مباد اتیرایہ خوبصورت اور دلگیر چہرہ دوزخ کی آگ میں مبتلا ہو تجھے خدا ترسی اور اس سے بہتر اس کی حق گذاری چاہیے۔ جب یہ سب باتیں ہوچکیں تو ہارون رشید نے کہا کہ کیا آپ کو کسی کا کچھ قرض دینا ہے فرمایا ہاں خدا کا بہت بڑا قرضہ میرے ذمہ ہے جس کے ادا کرنے میں مشغول ہوں حق تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اسے جمع کردے۔ آپ کی یہ عبرت انگیز باتیں سن کر ہارون نے ہزار طلائی دینار کی ایک تھیلی خواجہ کے آگے رکھ دی اس پر خواجہ نے برہم ہوکر فرمایا اے امیر المومنین افسوس میری یہ نصیحتانہ باتیں تجھے کچھ بھی مفید نہ پڑیں کیونکہ میں تجھے نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تو مجھے مصیبت و بلا میں ڈالتا ہے۔ ہارون روتا ہوا باہر نکل آیا اور مجھے کہنے لگا کہ حقیقت میں خواجہ فضیل بن عیاض ایک پاک اور معزز فرشتہ ہے۔ منقول ہے کہ خواجہ نے ماہ محرم 87 ہجری میں بمقام مکہ وفات پائی۔

(سیر الاولیاء)