Saturday, August 2, 2025

ایک بادشاہ اور اس کے وزیر کی خوبصورت بیوی کا قصہ

ایک بادشاہ محل کی چھت پر ٹہلنے چلا گیا، ٹہلتے ٹہلتے اسکی نظر محل کے نزدیک گھر کی چھت پر پڑی جس پر ایک بہت خوبصورت عورت کپڑے سوکھا رہی تھی۔
بادشاہ نے اپنی ایک باندی کو بلا کر پوچھا: کس کی بیوی ہے یہ؟
باندی نے کہا: بادشاہ سلامت یہ آپ کےغلام فیروز کی بیوی ہے۔
بادشاہ نیچے اترا، بادشاہ پر اس عورت کے حسن وجمال کا سحر سا چھا گیا تھا۔
اس نے فیروز کو بلایا،
فیروز حاضر ہوا تو بادشاہ نے کہا: فیروز ہمارا ایک کام ہے، ہمارا یہ خط فلاں ملک کے بادشاہ کو دے آٶ اور اسکا جواب بھی ان سے لے آنا۔
فیروز اس خط کو لے کر گھر واپس آ گیا خط کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ دیا، سفر کا سامان تیار کیا، رات گھر میں گزاری اور صبح منزل مقصود پر روانہ ہو گیا اس بات سے لاعلم کہ بادشاہ نے اس کے ساتھ کیا چال چلی ہے۔
ادھر جیسے ہی فیروز نظروں سے اوجھل ہوا بادشاہ چپکے سے فیروز کے گھر پہنچا اور آہستہ سے فیروز کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
فیروز کی بیوی نےپوچھا کون ہے؟
بادشاہ نے کہا: میں بادشاہ ہوں تمہارے شوہر کا مالک۔
تو اس نے دروازہ کھولا، بادشاہ اندر آ کر بیٹھ گیا۔
فیروز کی بیوی نے حیران ہو کر کہا: آج بادشاہ سلامت یہاں ہمارے غریب خانے میں؟
بادشاہ نے کہا: میں یہاں مہمان بن کر آیا ہوں۔
فیروز کی بیوی نے بادشاہ کا مطلب سمجھ کر کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں آپکے اس طرح آنے سے جس میں مجھے کوئی خیر نظر نہیں آ رہی۔
بادشاہ نے غصے میں کہا: اے لڑکی کیا کہہ رہی ہو تم۔۔۔۔؟ شاید تم نے مجھے پہچانا نہیں میں بادشاہ ہوں تمہارے شوہر کا مالک۔
فیروز کی بیوی نے کہا: بادشاہ سلامت میں جانتی ہوں کہ آپ ہی بادشاہ ہیں لیکن بزرگ کہہ گئے ہیں:
شیر کو اگرچہ جتنی بھی تیز بھوک لگی ہو لیکن وہ مردار تو نہیں کھانا شروع کر دیتا،
اور کہا: بادشاہ سلامت آپ اس کٹورے میں پانی پینے آ گئے ہو جس میں تمہارے کتے نے پانی پیا ہے۔
بادشاہ اس عورت کی باتوں سے بڑا شرمسار ہوا اور اس کو چھوڑ کر واپس چلا گیا لیکن اپنے چپل وہیں پر بھول گیا ۔
یہ سب تو بادشاہ کی طرف سے ہوا۔
اب فیروز کو آدھے راستے میں یاد آیا کہ جو خط بادشاہ نے اسے دیا تھا وہ تو گھر پر ہی چھوڑ آیا ہے اس نے گھوڑے کو تیزی سے واپس موڑا اور اپنے گھر کی طرف لپکا۔
فیروز اپنے گھر پہنچا تو تکیے کے نیچے سے خط نکالتے وقت اسکی نظر پلنگ کے نیچے پڑے بادشاہ کے چپل پر پڑی جو وہ جلدی میں بھول گیا تھا۔
فیروز کا سر چکرا کر رہے گیا اور وہ سمجھ گیا کہ بادشاہ نے اس کو سفر پر صرف اس لیئے بیھجا تاکہ وہ اپنا مطلب پورا کر سکے۔
فیروز کسی کو کچھ بتائے بغیر چپ چاپ گھر سے نکلا۔ خط لے کر وہ چل پڑا اور کام ختم کرنے کے بعد بادشاہ کے پاس واپس آیا تو بادشاہ نے انعام کے طور پر اسے سو ١٠٠ دینار دیئے۔
فیروز دینار لے کر بازار گیا اور عورتوں کے استعمال کے قیمتی کپڑے اور کچھ تحائف بھی خریدے گھر پہنچ کر بیوی کو سلام کیا اور کہا چلو تمہارے میکے چلتے ہیں۔
بیوی نے پوچھا: یہ کیا ہے؟
کہا: بادشاہ نے انعام دیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ پہن کر اپنے گھر والوں کو بھی دکھاٶ۔
بیوی: جیسے آپ چاہیں، بیوی تیار ہوئی اور اپنے والدین کے گھر اپنے شوہر کے ساتھ روانہ ہوئی داماد اور بیٹی اور انکے لائے ہوۓ تحائف کو دیکھ کر وہ لوگ بہت خوش ہوئے۔
فیروز بیوی کو چھوڑ کر واپس آ گیا اور ایک مہینہ گزرنے کے باوجود نہ بیوی کا پوچھا اور نہ اسکو واپس بلایا۔
پھر کچھ دن بعد اسکے سالے اس سے ملنے آئے اور اس سے پوچھا: فیروز آپ ہمیں ہماری بہن سے غصے اور ناراضگی کی وجہ بتائیں یا پھر ہم آپکو قاضی کے سامنے پیش کریں گے
تو اس نے کہا: اگر تم چاہو تو کر لو لیکن میرے ذمے اسکا ایسا کوئی حق باقی نہیں جو میں نےادا نہ کیا ہو۔
وہ لوگ اپنا کیس قاضی کے پاس لے گئے تو قاضی نے فیروز کو بلایا۔
قاضی اس وقت بادشاہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔
لڑکی کے بھائیوں نے کہا: اللّٰه بادشاہ سلامت اور قاضی القضاہ کو قائم و دائم رکھے۔ قاضی صاحب ہم نے ایک سر سبز باغ، درخت پھلوں سے بھرے ہوئے اور ساتھ میں میٹھے پانی کا کنواں اس شخص کے حوالے میں دیا۔ تو اس شخص نے ہمارا باغ اجاڑ دیا سارے پھل کھا لیئے، درخت کاٹ لئیے اور کنویں کو خراب کر کے بند کردیا۔
قاضی فیروز کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: ہاں تو لڑکے تم کیا کہتے ہو اس بارے میں؟
فیروز نے کہا: قاضی صاحب جو باغ مجھے دیا گیا تھا وہ اس سے بہتر حالت میں انہیں واپس کیا ہے۔
قاضی نے پوچھا: کیا اس نے باغ تمھارے حوالے ویسی ہی حالت واپس کیا ہے جیسے پہلے تھا؟
انہوں نے کہا : ہاں ویسے ہی حالت میں واپس کیا ہے لیکن ہم اس سے باغ واپس کرنے کی وجہ پوچھنا چاہتے ہیں۔
قاضی: ہاں فیروز تم کیا کہنا چاہتے ہو اس بارے؟
فیروز نے کہا: قاضی صاحب میں نے باغ کسی بغض یا نفرت کی وجہ سے نہیں چھوڑا بلکہ اسلیئے چھوڑا کہ ایک دن میں باغ میں آیا تو اس میں، میں نے شیر کے پنجوں کے نشان دیکھے تو مجھے خوف ہوا کہ شیر مجھے کھا جائے گا اسلیئے شیر کے اکرام کی وجہ سے میں نے باغ میں جانا بند کردیا۔
بادشاہ جو ٹیک لگائے یہ سب کچھ سن رہا تھا، اور اٹھ کر بیٹھ گیا اور کہا: فیروز اپنے باغ کی طرف امن اور مطمئن ہو کر جاو، وللہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شیر تمھارے باغ آیا تھا لیکن وہ وہاں پر نہ تو کوئی اثر چھوڑ سکا، نہ کوئی پتا توڑ سکا اور نہ ہی کوئی پھل کھا سکا وہ وہاں پر تھوڑی دیر رہا اور مایوس ہو کر لوٹ گیا اور خدا کی قسم میں نے کبھی تمھارے جیسے باغ کے گرد لگی مظبوط دیواریں نہیں دیکھیں۔
تو فیروز اپنے گھر لوٹ آیا اور اپنی بیوی کو بھی واپس لے لیا۔ نہ تو قاضی کو پتہ چلا اور نہ ہی کسی اور کو کہ ماجرا کیا تھا!!!
کیا خوب بہتر ہے اپنے اہل وعیال کے راز چھپانا تا کہ لوگوں کو پتہ نہ چلے
*اپنے گھروں کے بھید کسی پر ظاہر نہ ہونے دو*
اللہ آپ لوگوں کی زندگی خوشیوں سے بھر دے آپکو، آپ کے اہل وعیال کو آپکے مال کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔
آمین یا رب العالمین

Saturday, March 31, 2018

غافل مالک اور ہوشیار چور

امام جاحظ نے کتاب الحمقاء میں لکھا ہے کہ دو چور کھڑے تھے اتنے میں ان کے سامنے سے ایک شخص ہاتھ میں اپنے گدھے کی لگام تھامے گزرا ایک چور نے دوسرے سے کہا میں اس شخص کا گدھا چرا سکتا ہوں اور اس کو خبر بھی نہیں  ہو گی دوسرے چور نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے جب کہ لگام اس کے ہاتھ میں ہے پہلے چور نے کہا یہ غافل ہے (یعنی ایسا شخص ہے جو اپنی سوچوں اور خیالات میں گُم ہونےکی وجہ سے اردگرد سے بےخبر ہو جاتا ہے) چنانچہ وہ چور اس گدھے والے کے پیچھے گیا اور گدھے کی گردن سے رسی کھول کر اپنے گلے میں ڈال دی اور اپنی ساتھی دوسرے چور کو اشارہ کیا کہ گدھا لےجا کر دوڑ جائے چنانچہ دوسرا چور گدھا لے کر چلا گیا
پہلا چور کچھ دیر تک چلتا رہا پھر رک گیا غافل نے رسی کھینچی مگر چور کھڑا رہا غافل نے پیچھے دیکھا اور حیران رہ گیا کہنے لگا میرا گدھا کہاں ہے؟ چور نے کہا گدھا کہاں تھا؟ وہ میں ہی تھا میں نے اپنے والدین کی نافرمانی کی تھی جس کی وجہ سے میں گدھا بن گیا تھا اب میرے والدین نے مجھے معاف کر دیا ہے اور میں پھر سے انسان بن گیا ہوں غافل نے افسوس کا اظہار کیا کہ میں اتنے عرصے تک ایک انسان سے خدمت لیتا رہا ہوں چور سے معافی مانگی اور اسے چھوڑ کرچل دیا کچھ دنوں کے بعد وہ غافل گدھا خریدنے کی غرض سے بازار گیا اور یہ دیکھ کر پھر حیرت زدہ رہ گیا کہ اس کا اپنا گدھا وہاں بکنے کی غرض سے موجود تھا غافل گدھے کے قریب گیا اور اس کے کان میں کہنے لگا بےوقوف پھر والدین کی نافرمانی کر ڈالی۔۔

Saturday, March 24, 2018

عمارت کی کرسی اونچی رکھیں

عمارت کی کرسی اونچی رکھیں

محی الدین غازی

کوئی بیس سال پہلے کی بات ہے، مولانا محمد فاروق خاں صاحب لکھنؤ کی ٹیلے والی مسجد میں تربیت ذات کے موضوع پر تقریر کررہے تھے، مجھے اس تقریر کی ایک بات یاد رہ گئی، مولانا نے کہا تھا: ’’ہرعمارت کی ایک کرسی (Plinth) ہوتی ہے، کرسی نیچی ہوتی ہے تو عمارت کا حسن  دب جاتا ہے، کرسی اونچی ہوتی ہے، تو عمارت کا حسن دوبالا ہوجاتا ہے، دہلی کی جامع مسجد کی امتیازی شان اس کی اونچی کرسی سے ہے۔ انسان کی زندگی بھی ایک عمارت ہے، اور اس کی بھی کرسی ہوتی ہے، آپ اپنی زندگی کی عمارت کی کرسی اونچی رکھیں‘‘۔

میں نے اپنے گردوپیش کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ عمارت کی کرسی عمارت کے حسن کو بڑھاتی ہے، ساتھ ہی گلی کوچے کی گندگی سے بھی محفوظ رکھتی ہے، برسات میں نالی کا گندا پانی ان گھروں میں نہیں گھستا ہے جن کی کرسی اونچی ہوتی ہے۔ بہت سے کیڑوں مکوڑوں کی رسائی سے بھی مکان محفوظ رہتا ہے۔ سیلاب آجائے تو اونچی کرسی والے مکان لوگوں کے لئے پناہ گاہ بھی بن جاتے ہیں۔

مولانا نے دہلی کی جامع مسجد کی مثال دی، اور میں اونچی کرسی والی انسانی عمارتوں کی تلاش میں نکل گیا۔ اس سفر میں ایسی بہت سی اونچی کرسیوں والی عالیشان عمارتیں نظر آئیں کہ جن کی عظمت اور وقار کے سامنے دل ونگاہ احترام سے جھک جائیں، ایک نمایاں شخصیت حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے، مصر کی حسیناؤں نے سارے حربے آزما ڈالے، لیکن ان کی شخصیت کی کرسی اتنی اونچی تھی، کہ سارا زور لگا کر بھی وہ اس عمارت کی چوکھٹ تک نہیں پہونچ سکیں، کجا کہ اس عمارت کو داغ دار کرپاتیں۔ آخر بے بس ہوکر پکار اٹھیں کہ یہ انسان نہیں ہے، شرافت اور گناہ بیزاری کا یہ پیکر تو ایک فرشتہ ہی ہوسکتا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن جفر سخاوت کے سمندر تھے، اور اس سخاوت کی عمارت جس کرسی پر تھی وہ بھی بہت اونچی تھی، ایک بار ان کے سامنے ایک غریب عورت نے دست سوال دراز کیا، آپ نے اچھی خاصی رقم دے دی، لوگوں نے کہا یہ آپ کو نہیں جانتی ہے، اور یہ تو تھوڑی رقم سے بھی بہت خوش ہوجاتی، آپ نے کہا: ’’وہ تو تھوڑی رقم لے کر خوش ہوجاتی لیکن مجھے تو زیادہ دے کر ہی خوشی مل سکے گی، اور وہ مجھے نہیں جانتی تو کیا ہوا، میں تو اپنے آپ کو جانتا ہوں‘‘۔

شام کے مشہور عالم شیخ سعید حلبی ایک بار درس دے رہے تھے اور تکلیف کی وجہ سے پیر پھیلاکر بیٹھے تھے، درس کے دوران شام کا گورنر ابراہیم پاشا آنکلا، اس کی دہشت پورے ملک پر چھائی ہوئی تھی، لیکن شیخ حلبی پر اس کی آمد کا کوئی اثر نہیں ہوا، انہوں نے اپنے پاؤں نہیں سمیٹے، اور درس کو اسی طرح جاری رکھا۔ پاشا کو غضب ناک کرنے کے لئے یہ بہت تھا، مگر اس نے ضبط کرلیا، اور مجلس سے نکلنے کے بعد ان کے پاس اپنے کارندے سے اشرفیوں کی ایک تھیلی بھجوائی، شیخ نے اس تھیلی کو واپس کرتے ہوئے کہا: ’’یہ واپس لے جاؤ، اور پاشا سے کہہ دو جو اپنے پاؤں پھیلاتا ہے وہ اپنا ہاتھ نہیں پھیلاتا ہے‘‘۔ اونچی کرسی کی شان کو اس ایک جملے سے سمجھا جاسکتا ہے۔

اس دور کی عظیم شخصیت سید قطب کو پھانسی کی سزا سنائی گئی، اور ان سے رحم کی اپیل لکھنے کو کہا گیا، انہوں نے عزیمت سے بھرپور لہجے میں کہا: ’’میری شہادت کی انگلی جو ہر نماز میں اللہ کی وحدانیت کی گواہی دیتی ہے، وہ ایسا ایک حرف نہیں لکھ سکتی جس سے اللہ کے کسی باغی کی حکمرانی کا اقرار ہوتا ہو۔ میں رحم کی اپیل کیوں کروں، اگر میری سزا کا فیصلہ درست ہے، تو میں اسے خود قبول کرتا ہوں، اور اگر یہ فیصلہ باطل ہے تو میں اس سے برتر ہوں کہ باطل سے رحم کی التجا کروں‘‘۔ حق پرستوں کی زندگی کی کرسی اتنی ہی اونچی ہونی چاہئے کہ بڑے بڑے جابروظالم بے بسی سے اس کے سنگ دیوار سے اپنا سر پھوڑتے نظر آئیں۔

جب برائی فیشن بن جائے، مادہ پرستی اور بے حیائی کا گندا سیلاب ہر گھر میں گھسنے کے درپے ہو، اخلاقی اقدار کے پشتے ایک کے بعد ایک ٹوٹتے جارہے ہوں، ہر جانب انسانی عظمت داؤ پر لگی ہوئی ہو، بلند قامت شخصیتوں کو اپنی قامت کھوتے دیر نہیں لگتی ہو، باوقار مکانوں کی عزت واحترام خطرے میں ہو، تو زندگی کی عمارت کی کرسی کو اونچا رکھنا بہت زیادہ ضروری ہوجاتا ہے۔

یاد رہے کہ انسانی زندگی کی وہ عمارتیں مقام امامت کی سزاوار نہیں ہیں جو بظاہر اونچی نظر آتی ہوں لیکن ان کی کرسی اتنی نیچی ہو کہ کبھی بھی گندے پانی کا ریلا اندر گھس آئے، اور سب کچھ گندا کرڈالے، جن کی نالیوں سے باہر کی گندگی اندر آتی ہو، اور جن کی زمین چاٹتی چوکھٹیں حشرات الارض کی گزرگاہ بنی ہوئی ہوں۔

Friday, August 18, 2017

ایک دلچسپ مکالمہ


محقق اصفہانی نے حلیۃ الاولیاء میں سیدنا علی مرتضی کرم اللہ وجہ اور حضرت حسن بن علی رض کا ایک دلچسپ اور معرفت سے بھرپور مکالمہ ذکر کیا ہے، اس میں حضرت علی ابن ابی طالب کے کچھ سوالات اور حضرت حسن ابن علی کی جانب سے ان سوالات کے جواب دیئے گئے ہیں:

حضرت علی : راہ راست کیا ہے؟
حضرت حسن : برائی کو بھلائی کے ذریعہ دور کرنا۔

حضرت علی : شرافت کیا ہے؟
حضرت حسن : خاندان کو جوڑ کر رکھنا اور ناپسندیدہ حالات کو برداشت کرنا۔

حضرت علی : سخاوت کیا ہے؟
حضرت حسن : فراخی اورتنگ دستی دونوں حالتوں میں خرچ کرنا۔

حضرت علی : کمینگی کیا ہے؟
حضرت حسن : مال کو بچانے کے لئے عزت گنوا بیٹھنا۔

حضرت علی : بزدلی کیا ہے؟
حضرت حسن : دوست کو بہادری دکھانا اوردشمن سے ڈرتے رہنا۔

حضرت علی : مالداری کیا ہے؟
حضرت حسن : اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہنا، خواہ مال تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

حضرت علی : بردباری کیا ہے؟
حضرت حسن : غصے کو پی جانا اورنفس پر قابو رکھنا۔

حضرت علی : بے وقوفی کیا ہے؟
حضرت حسن : عزت دارلوگوں سے جھگڑا کرنا

حضرت علی : ذلت کیا ہے؟
حضرت حسن : مصیبت کے وقت جزع فزع اور فریاد کرنا۔

حضرت علی : تکلیف دہ چیز کیاہے؟
حضرت حسن : لایعنی اورفضول کلام میں مشغول ہونا۔

حضرت علی : بزرگی کیا ہے؟
حضرت حسن : لوگوں کے جرمانے ادا کرنا اور جرم کو معاف کرنا۔

حضرت علی : سرداری کس چیز کا نام ہے؟
حضرت حسن : اچھے کام کرنا اوربرے امور ترک کر دینا۔

حضرت علی : نادانی کیا ہے؟
حضرت حسن : کمینے لوگوں کی اتباع کرنا اور سرکش لوگوں سے محبت کرنا۔

حضرت علی : غفلت کیا ہے؟
حضرت حسن : مسجد سے تعلق ختم کرلینا اوراہل فساد کی اطاعت کرنا۔

حلیۃ الأولیاء:۲/۳۶،
المعجم الکبیر:۳/۶۸

Thursday, July 20, 2017

چالاک درزی

مولانا رومی رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ ایک شیریں زبان آدمی رات کو دوستوں کی محفل میں بیٹھ کر درزیوں کے بارے میں مزے دار قصے سنا رہا تها، داستان گو اتنی معلومات رکهتا تها کہ باقاعدہ اچها خاصا درزی نامہ مرتب ہو سکتا تها، جب اس آدمی نے درزیوں کی چوری اور مکاری سے گاہکوں کا کپڑا غائب کر دینے کے ان گنت قصے بیان کر ڈالے، سننے والوں میں ملک خطا کا ایک ترک جسے اپنی دانش و ذہانت پر بڑا ناز تها کہنے لگا :
" اس علاقے میں سب سے گرو درزی کونسا ہے ...؟ "

داستان گو نے کہا :
" یوں تو ایک سے ایک ماہر فن اس شہر کے گلی کوچوں میں موجود ہیں، لیکن پورش نامی درزی بڑا فنکار ہے، اس کے کاٹے کا منتر ہی نہیں، ہاتھ کی صفائی میں ایسا استاد کہ کپڑا تو کپڑا آنکهوں کا کاجل تک چرالے اور چوری کا پتہ نہ لگنے دے ... "

ترک کہنے لگا :
" لگا لو مجھ سے شرط میں اس کے پاس کپڑا لے کر جاؤں گا، اور دیکهوں گا کہ وہ کیونکر میری آنکهوں میں دهول پهونک کے کپڑا چراتا ہے، میاں کپڑا تو درکنار ایک تار بهی غائب نہ کر سکے گا ...! "

دوستوں نے جب یہ سنا تو کہنے لگے :
" ارے بهائی ذیادہ جوش میں نہ آ، تجھ سے پہلے بهی بہت سے یہی دعوی کرتے آئے اور اس درزی سے چوٹ کها گئے، تو اپنی عقل و خرد پر نہ جا، دهوکا کهائے گا ...! "

محفل برخاست ہونے کے بعد ترک اپنے گهر چلا گیا، اسی پیچ و تاب اور فکر و اضطراب میں ساری رات گزاری، صبح ہوتے ہی قیمتی اطلس کا کپڑا لیا اور پورش درزی کا نام پوچهتا پوچهتا اس کی دکان پر پہنچ گیا، درزی اس ترک گاہک کو دیکهتے ہی نہایت ادب سے کهڑا ہوکر تسلیمات بجا لایا، درزی نے خوش اخلاقی و تعظیم و کریم کا ایسا مظاہرہ کیا کہ ترک بےحد متاثر ہوا اور دل میں کہنے لگا :
" یہ شخص تو بظاہر ایسا عیار اور دغاباز نظر نہیں آتا، لوگ بهی خواہ مخواہ رائی کا پہاڑ بنا دیتے ہیں ...! "

یہ سوچ کر قیمتی اطلس درزی کے آگے دهر دی اور کہنے لگا
" اس اطلس کی قبا مجهے سی دیں ... "

درزی نے دونوں ہاتھ ادب سے اپنے سینے پر باندهے اور کہنے لگا :
" حضور قبا ایسی سیوں گا جو نہ صرف آپ کے جسم پر زیب دے گی بلکہ دنیا دیکهے گی ...!"

اس نے کپڑا گز سے ناپا، پهر کاٹنے کے لئے جابجا اس پر نشان لگانے لگا، ساتھ ہی ساتھ ادهر ادهر کے پرلطف قصے چهیڑ دیئے ہنسنے ہنسانے کی باتیں ہونے لگیں، جن میں ترک کو بےحد دلچسپی ہوگئی، جب درزی نے اسکی دلچسپی دیکهی تو ایک مزاحیہ لطیفہ سنایا جسے سن کر ترک ہنسنے لگا اس کی چندهی چندهی آنکهیں اور بهی مچ گئیں درزی نے جهٹ پٹ کپڑا کاٹا اور ران تلے ایسا دبایا کہ سوائےخدا کی ذات کے اور کوئی نہ دیکھ سکا، غرض کی اس پرلطف داستان سرائی میں ترک اپنا اصل مقصد اور دعوی فراموش کر بیٹها، کدهر کی اطلس، کہاں کی شرط، ہنسی مذاق میں سب سے غافل ہو گیا، اور ترک درزی سے کہنے لگا کہ :
" ایسی ہی مزیدار کوئی اور بات سناو ...! "

درزی نے پهر چرب زبانی کا مظاہرہ کیا، ترک اتنا ہنسا کہ اس کی آنکهیں بالکل بند ہوگئیں، ہوش و حواس رخصت، عقل و خرد الوداع، اس مرتبہ درزی نے پهر کپڑا کاٹ کر ران تلے دبا لیا، ترک نے چوتهی بار مذاق کا تقاضا کیا تو درزی کو کچھ حیا آ گئی اور کہنے لگا :
" مزید تقاضا نہ کر اگر ہنسی کی اور بات کہوں گا تو تیری قبا تنگ ہو جائے گی ...! "

مولانا رومی رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ نصیحت فرماتے ہیں کہ :
" جانتے ہو وہ ترکی کون تها ...؟
دغاباز درزی کون تها ...؟
اطلس کیا ہے ...؟
اور ہسنی مذاق کیا ہے ...؟
قینچی کیا ہے ...؟
اور قبا کیا چیز ہے ...؟ "

" سنوں ...! وہ غافل ترک "تیری ذات ہے" جسے اپنی عقل و خرد پر بڑها بهروسہ ہے، وہ عیار دهوکہ باز درزی "یہ دنیائے فانی"  ہے، ہنسی مذاق "نفسانی جذبات" ہیں، " تیری عمر" اطلس پر دن رات درزی کی "قینچی" کی مانند چل رہے ہیں دل لگی کا شوق تیری "غفلت" ہے، اطلس کی قبا تجهے
"بهلائی اور نیکی" کے لئے سلوانی تهی، وہ فضول مذاق اور قہقہوں میں تباہ و برباد ہو گئی ...! "

Saturday, July 1, 2017

ستارہ مچھلی اور ہمارا کام

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک دانشمند مضمون نگاری کے لئے سمندر کا رخ کیا کرتا تھا- اس کی عادت تھی کہ کام شروع کرنے سے پہلے وہ ساحل سمندر پر چہل قدمی کیا کرتا تھا۔

ایک روز وہ ساحل پر ٹہل رہا تھا تو اسے کچھ دور کنارے پر ایک انسانی ہیولا کسی رقاص کی مانند حرکت کرتا دکھائی دیا- وہ متجسس ہوا کہ یہ کون شخص ہے جو دن کا آغاز رقص سے کرتا ہے- یہ جاننے کے لئے وہ تیز قدموں سے اس کی جانب چل پڑا- وہ نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایک نوجوان ہے- نوجوان رقص نہیں کر رہا تھا- وہ ساحل پر جھکتا، کوئی شے اٹھاتا اور پھر پھرتی سے اسے دور سمندر میں پھینک دیتا۔

دانش مند اس نوجوان کے پاس پہنچا اور بلند آواز میں پوچھا، "صبح بہ خیر جوان! یہ تم کیا کر رہے ہو ؟"

نوجوان نے قدرے توقف کیا نظریں اٹھا کر دانش مند کی جانب دیکھا اور بولا

"ستارہ مچھلی کو سمندر میں پھینک رہا ہوں"

"میں سمجھا نہیں۔ تم ستارہ مچھلی کو سمندر میں کیوں پھینک رہے ہو؟"

"سورج چڑھ رہا ہے اور لہریں پیچھے ہٹ رہی ہیں۔ میں نے انھیں پانی میں نہیں پھینکا تو یہ مر جائیں گی۔"

"لیکن نوجوان! یہ ساحل تو میلوں تک پھیلا ہوا ہے اور سارے ساحل پر ستارہ مچھلیاں بکھری ہوئی ہیں ممکن نہیں کہ تمھاری اس کوشش سے کوئی فرق پڑے"

نوجوان نے شائستگی سے دانش مند کی بات سنی، نیچے جھک کر ایک اور ستارہ مچھلی اٹھائی اور اسے پیچھے ہٹتی ہوئی لہروں کے اندر پوری قوت سے اچھالتے ھوئے بولا

"لیکن اس کے لیے تو فرق پڑ گیا نا"

ہمیں بھی اسی طرح ہر کسی کے ساتھ اچھائی کرتے رہنا چاہیے یہ سوچے بغیر کہ اس سے معاشرے پر فرق پڑے گا کہ نہیں، کیوںکہ جس کے ساتھ اچھائی کی گئی اُس پر تو پڑے گا نا۔۔

Tuesday, June 27, 2017

با ادب با نصیب.. بے ادب بے نصیب

ایک بار جناب بہلول دانا رحمتہ اللّه علیہ کسی نخلستان میں تشریف رکھتے تھے - ایک تاجر کا وھاں سے گذر ھوا --- وہ آپ کے پاس آیا اور سلام کر کے مودب سامنے بیٹھ گیا اور انتہائی ادب سے گذارش کی.. " حضور ! تجارت کی کونسی ایسی جنس خریدوں جس میں بہت نفع ھو.. "
جناب بہلول نےفرمایا.. " کالا کپڑا لے لو.. "
تاجر نے شکریہ ادا کیا اور الٹے قدموں چلتا واپس چلاگیا.. جا کر اس نے علاقے میں دستیاب تمام سیاہ کپڑا خرید لیا..
کچھ دنوں بعد شہر کا بہت بڑا آدمی انتقال کر گیا.. ماتمی لباس کے لئے سارا شہر سیاہ کپڑے کی تلاش میں نکل کھڑا ھوا.. اب کپڑا سارا اس تاجر کے پاس ذخیرہ تھا.. اس نے مونہہ مانگے داموں فروخت کیا اور اتنا نفع کمایا جتنا ساری زندگی نہ کمایا تھا اور بہت ھی امیر کبیر ھو گیا..
کچھ عرصے بعد وہ گھوڑے پر سوار کہیں سے گذرا.. جناب بہلول وھاں تشریف رکھتے تھے.. وہ وہیں گھوڑے پر بیٹھے بولا.. " او دیوانے ! اب کی بار کیا لوں.. ؟"
بہلول دانا رحمتہ اللّه علیہ نے فرمایا.. " تربوز لے لو.. "
وہ بھاگا بھاگا گیا اور ساری دولت سے پورے ملک سے تربوز خرید لئے.. ایک ہی ہفتے میں سب خراب ہو گئے اور وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گیا..
اسی خستہ حالی میں گھومتے پھرتے اس کی ملاقات جناب بہلول دانا رحمتہ اللّه علیہ  سے ھوگئی تو اس نے کہا.. " یہ آپ نے میرے ساتھ کیا کِیا..? "
جناب بہلول دانا رحمتہ اللّه علیہ نے فرمایا.. " میں نے نہیں ' تیرے لہجوں اور الفاظ نے سب کیا.. جب تونے ادب سے پوچھا تو مالا مال ہوگیا.. اور جب گستاخی کی تو کنگال ہو گیا.. "
اس کو کہتے ہیں...

باادب با نصیب.. بے ادب بے نصیب.....