Tuesday, March 22, 2016
مطالعۂ کتب کے فوائد
اسلاف کے علمی اسفار کی داستان دلنواز
حافظ ابن مندہؒ نے اپنے وقت کے تمام شہرئہ آفاق ائمۂ کبار اور محدثین ومجتہدین سے شرف ملاقات حاصل کیا اور ان کے بحار علوم وفنون سے جرعہ کشی کی، طلب کی راہ میں نکلے تو ہر قسم کی تکالیف کا صبر واستقامت کے ساتھ سامنا کیا، بھوک وپیاس اور صعوبت ومشقت برداشت کی ؛ مگر تحصیلِ علم کا ایک سودا سر میں سمایا تھا، نہ رات کو رات جانا نہ دن کو دن، بس جنون علم تھا، جو بادیہ پیمائی پر برانگیختہ کرتا تھا، جس علاقہ یا ملک میں کسی شیخ کا چشمۂ فیض جاری ہوتا، وہاں سیراب ہونے کے لیے پہنچ جاتے تھے، محققین نے ان کے اساتذہ وشیوخ کی تعداد ایک ہزار سات سو سے متجاوز بتائی ہے۔
ان کے نابغۂ روزگار شاگرد رشید ابن السباعیؒ کا کہنا ہے کہ میرے شیخ امام ابن نجار بغدادیؒ کے شیوخ واساتذہ کی تعداد تین ہزار ہے اور یہ سب پورے بلادِ اسلامیہ میںلولوء ومرجان کے مثل بکھرے ضوفشانی کررہے تھے، جس کی زندگی کے ستائیس قیمتی ماہ وسال راہِ طلب میں گذرے ہوں وہ اپنے سرمایۂ علم کو محفوظ رکھنے کی کتنی فکر کرے گا، ہم خود اندازہ لگاسکتے ہیں۔ امام ابن نجار بغدادی نے بھی اپنے پیش رو ائمہ کی طرح تحصیل علم میںہرقسم کے شدائد ومصائب اور مشکلات کا خندہ پیشانی سے سامنا کیا، کوہِ بیاباں کی خاک چھانی، عشقِ رسول ﷺ میں سرشار، سماعت حدیث کے لیے جان کاہی ان کا شیوہ تھا، پھر ان کو ضبط تحریر میں لانا تاکہ رسول اللہ ﷺ کی علمی ودینی میراث ان کی امت تک پہنچاسکیں، امام ابن نجار بغدادی تصنیف وتالیف میںمصروف رہے، وہ کثیر التصانیف عالم وفاضل امام ہیں، ان کی تالیفات: تفسیر وحدیث تاریخ وفقہ اور سیر وانساب ہر موضوع پر ہیں، ان میں سے چند مشہور معروف تصنیفات یہ ہیں: (۱) کتاب کنزالامام فی السنن والاحکام (۲) النساب المحدثین الی الآباء والبلدان (۳) کتاب العوامی (۴) الکمال فی الرجال (۵) مناقب الامام الشافعی وغیرہ۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے: تذکرۃ الحفاظ للذہبی ج۴، وفیات الاعیان لابن خلقان، صفحات من صبر العلماء لابی عبدالفتاح ابی غدہؒ)
وہ ماہ وسال اور اس کے باکمال لوگ گذرگئے، اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ عہدِ زریں اور اسلاف ایک خواب تھے۔
مطالعۂ کتب کے فوائد
تحصیل علم میں فقر و فاقہ سے نبرد آزمائی
تحصیل علم میں فقر و فاقہ سے نبرد آزمائی
مطالعۂ کتب کے فوائد
مطالعۂ کتب کے فوائد
تحصیل علم میں شب بیداری:
اسلاف کا شوق علم ، چند واقعات
2۔تاریخ بغداد کے مصنف خطیب بغدادی لکھتے ہیں کہ جاحظ کتاب فروشوں کی دکانیں کرایہ پر لے کر ساری رات کتابیں پڑھتے رہتے تھے
3۔ فتح بن خاقان خلیفہ عباسی المتوکل کے وزیرتھے ۔ وہ اپنی آستین میں کوئی نہ کوئی کتاب رکھتے تھے اور جب انہیں سرکاری کاموں سے فرصت ملتی تو آستین سے کتاب نکال کر پڑھنے میں لگ جاتے
4۔ اسماعیل بن اسحاق القاضی کے گھر جب بھی کوئی جاتا تو انہیں پڑھنے میں مصروف پاتا۔
5۔ابن رشد اپنی شعوری زندگی میں صرف دو راتوں کو مطالعہ نہیں کرسکے
6 امام ابن جریر طبری ہر روز چودہ ورقے لکھ لیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی عمر عزیز کا ایک لمحہ بھی فائدے اور استفادے کے بغیر نہیں گذارا
7 البیرونی کے شوق علم کا یہ عالم تھا کہ حالت مرض میں مرنے سے چند منٹ پیشتر وہ ایک فقیہ سے جو ان کی مزاج پرسی کے لیے آیا تھا ، علم الفرائض کا ایک مسلہ پوچھ رہے تھے۔
8-امام الحرمین ابوالمعالی عبد الملک جو مشہور متکلم امام غزالی کے استاد تھے ، فرمایا کرتے تھے کہ میں سونے اور کھانے کا عادی نہیں۔ مجھے دن اور رات میں جب نیند آتی ہے سو جاتا ہوں اور جب بھوک لگتی ہے کھا لیتا ہوں۔ ان کا اوڑھنا بچھونا ، پڑھنا اور پڑھانا تھا۔
9 علامہ ابن جوزی کی چھوٹی بڑی کتابوں کی تعداد ایک ہزار ہے ، وہ اپنی عمر کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتے تھے۔ وہ اپنی قلم کے تراشے سنبھال کر رکھ دیتے تھے چنانچہ ان کی وفات کے بعد ان تراشوں سے گرم کردہ پانی سے انہیں غسل دیا گیا۔ وہ اپنے روزنامچے "الخاطر" میں ان لوگوں پر کف افسوس ملتے نظر آتے ہیں جو کھیل تماشے میں لگے رہتے ہیں، ادھر ادھر بلامقصد گھومتے رہتے ہیں، بازاروں میں بیٹھ کر آنے جانے والوں کو گھورتے ہیں اور قیمتوں کے اتارچڑھاو پر رائے زنی کرتے رہتے ہیں۔
10-امام فخر الدین رازی کی چھوٹی بڑی کتابوں کی تعداد ایک سو سے کم نہ ہوگی۔ صرف تفسیر کبیر تیس جلدوں میں ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ کھانے پینے میں جو وقت ضائع ہوتا ہے میں ہمیشہ اس پر افسوس کرتا ہوں۔
11۔علامہ شہاب الدین محمود آلوسی مفسر قرآن نے اپنی رات کے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم کررکھا تھا۔ پہلے حصہ میں آرام و استراحت کرتے ، دوسرے میں اللہ تعالی کو یاد کرتے اور تیسرے میں لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے
Wednesday, March 2, 2016
ﺣﺎﺿﺮ ﺟﻮﺍﺑﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﺿﺮ ﺩﻣﺎﻏﯽ
ﺣﺎﺿﺮ ﺟﻮﺍﺑﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﺿﺮ ﺩﻣﺎﻏﯽ
ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ عربی ﺷﺎﻋﺮ ﻣﺘﻨﺒﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ: ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﻤﺠﮭﺎ... تو ﻣﺘﻨﺒﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ: ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﺮﺩ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺗﮭﺎ.
ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﮐﮯ ﻣﻮﭨﮯ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ "ﭼﺮﭼﻞ" ﻧﮯ ﺩﺑﻠﮯ پتلے "ﺑﺮﻧﺎﺭﮈ ﺷﻮ" ﺳﮯ ﮐﮩﺎ: ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮔﺎ ﻭﮦ ﺳﻮﭼﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﻏﺬﺍﺋﯽ ﺑﺤﺮﺍﻥ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺷﻮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: اور ﺟﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮔﺎ ﺍﺱ ﺑﺤﺮﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ.
ﺍﯾﮏ ﻋﺮﺏ ﺑﺪﻭ ﮔﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ: ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﺪﮬﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮﺗﻤﮩﯿﮟ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻟﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍ ﮐﮩﺎ: ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﮔﺪﮬﮯ ﮐﻮ ﮔﺪﮬﺎ ﮨﯽ ﭘﮩﭽﺎنتا ﮨﮯ.
ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ: ﺗﻢ ﮐﺘﻨﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﻮ؟ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﮐﺎﺵ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﺘﯽ۔ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻮﺋﯽ بات ﻧﮩﯿﮟ تم بھی ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮل دو.
ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﺴﯽ ﮔﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﮔﺪﮬﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺎﻧﮏ ﮐﺮ ﮐﮭﯿﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ لے ﺟﺎﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﺩﻭ منچلے ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ کہنے لگے کہ: ﺻﺒﺢ ﺑﺨﯿﺮ ﮔﺪﮬﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ. ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍ جواب دیا: ﺻﺒﺢ ﺑﺨﯿﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﻮﮞ.
ﺍﯾﮏ ﺑﺪﻭ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﻋﺮﺏ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮑﺮﯼ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﺟﻠﺪﯼ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ: ﺑﮑﺮﯼ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ تو ایسے ﮐﮭﺎﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﮔﻮﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ کبھی ﺳﯿﻨﮓ ﻣﺎﺭا ہو؟ ﺑﺪﻭ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍ ﮐﮩﺎ: اور ﺗﻢ ﺍیسے ﮐﮭﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ جیسے ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺭﺿﺎﻋﯽ ﻣﺎﮞ ﺗﮭﯽ▫
عشق میں حساب کتاب ؟؟
عشق میں حساب کتاب ؟؟
-------------------------------------
روایت ہے کہ مولانا رومی ایک دن خرید و فروخت کے سلسلے میں بازار تشریف لے گئے۔ایک دکان پر جا کر رک گئے۔دیکھا کہ ایک عورت کچھ سودا سلف لے رہی ہے۔سودا خریدنے کے بعد اس عورت نے جب رقم ادا کرنی چاہی تو دکان دار نے کہا،“عشق میں حساب کتاب کہاں ہوتا ہے،چھوڑو پیسے اور جاؤ۔“
مولانا رومی یہ سن کر غش کھا کر گر پڑے۔دکان دار سخت گھبرایا اس دوران وہ عورت وہاں سے چلی گئی۔خاصی دیر بعد جب مولانا رومی کو ہوش آیا تو دکاندار نے پوچھا،
“مولانا صاحب آپ کیوں بے ہوش ہو ئے؟“
مولانا رومی نے جواب دیا،
“میں اس بات پر بے ہوش ہوا کے تم دونوں میں اتنا قوی اور مضبوط عشق ہے کہ آپس میں کوئی حساب کتاب نہیں جب کہ اللہ کے ساتھ میرا عشق کتنا کمزور ہے کہ میں دانے گن گن کر تسبیح کرتا ہوں ۔۔
