Tuesday, March 22, 2016

مطالعۂ کتب کے فوائد

مطالعۂ کتب کے فوائد
کتب بینی ۔۔۔ ایک نہایت مفید مشغلہ ہے ۔
یہ علم میں اضافے اور پری
شانیوں سے چھٹکارے کے لیے نہایت موثر نسخہ ہے ۔ صدیوں پہلے کے ایک عرب مصنف ’الجاحظ‘ نے ایک پریشان حال شخص کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا ‫:
کتاب ایک ایسا دوست ہے جو آپ کی خوشامندانہ تعریف نہیں کرتا اور نہ آپ کو برائی کے راستے پر ڈالتا ہے ۔ یہ دوست آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا ہونے نہیں دیتا ۔ یہ ایک ایسا پڑوسی ہے جو آپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا ۔ یہ ایک ایسا واقف کار ہے جو جھوٹ اور منافقت سے آپ سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کرے گا ۔
جب آپ پڑھتے ہوئے کتاب کے ورق پر ورق الٹتے جائیں گے تو آپ کی ذہانت بڑھتی رہے گی اور کئی مفید باتیں آپ کے ذہن میں اپنے لیے جگہ بناتی رہیں گی ۔ سوانحِ حیات پر لکھی ہوئی کتابوں سے آپ کو عام لوگوں کی پسند کی باتیں بھی معلوم ہوتی رہیں گی اور بادشاہوں کے طور طریقوں کا بھی پتا چلتا رہے گا۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ بعض اوقات آپ ایک ماہ کی کتب بینی سے اتنا کچھ سیکھ جاتے ہیں کہ وہ لوگوں کی زبانی صدی بھر میں سنی ہوئی باتوں سے بڑھ کر ہوتا ہے ۔
پڑھنے کے بیشمار فائدے ہیں ۔ لیکن نقصان ذرا بھی نہیں ہوتا ۔ آپ کو کسی استاد کے دروازے پر انتظار کی زحمت بھی نہیں اٹھانا پڑتی جو آپ کی فیس کا منتظر رہتا ہے ۔ اور ایسے شخص سے بھی نہیں سیکھنا پڑتا جو جانتا تو بہت کچھ ہے مگر اس کی عادات و اطوار بڑے ناپسندیدہ ہوتے ہیں ۔ کتاب رات کو بھی آپ کا حکم اسی طرح مانتی ہے جیسے دن کو ، خواہ آپ سفر میں ہوں یا گھر میں بیٹھے ہوں ۔
سفر کے دوران میں ہونے والی اکتاہٹ سے نجات کے لیے کتاب سے بڑھ کر کوئی چیز کارآمد نہیں ہوتی ۔ کتاب ایک ایسے استاد کی مانند ہے کہ آپ کو جب بھی ضرورت پڑے ، آپ اسے اپنے پاس پائیں گے ۔
یہ ایسا ’استاد‘ ہے کہ آپ خواہ اسے کچھ نہ دیں ، یہ آپ کو دیتا رہے گا ۔ اس کے پاس جتنا کچھ ہے ، یہ سب کھول کر آپ کے سامنے رکھ دے گا ۔ اگر آپ اس سے لاپروائی کریں تب بھی یہ آپ کی فرمانبرداری کرتا رہے گا ۔ سب لوگ آپ کی مخالفت پر کمربستہ ہو جائیں تو بھی یہ بدستور آپ کے دوش بدوش کھڑا رہے گا ۔
پڑھنے کے فوائد ‫: 
پڑھنے سے غم اور بےچینی دور ہو جاتی ہے ۔
پڑھنے کے دوران میں انسان جھوٹ بولنے اور فریب کرنے سے بچا رہتا ہے ۔
پڑھنے کی عادت کی وجہ سے انسان کتاب میں اتنا منہمک رہتا ہے کہ سستی اور کاہلی سے مغلوب نہیں ہونے پاتا ۔
پڑھنے سے فصاحت و بلاغت کی صفت پیدا ہو جاتی ہے ۔
پڑھنے سے ذہن کھلتا ہے اور خیالات میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے ۔
پڑھنے سے علم میں اضافہ ، یادداشت میں وسعت اور معاملہ فہمی میں تیزی آتی ہے ۔
پڑھنے والا دوسروں کے تجربات سے مستفید ہوتا ہے اور بلند پایہ مصنفین کا ذہنی طور پر ہمسفر بن جاتا ہے ۔
پڑھنے والا اوقات کے ضیاع سے محفوظ رہتا ہے ۔
پڑھنے والے کا زخیرۂ الفاظ ، دوسروں کی بہ نسبت کئی گنا زیادہ ہوتا ہے ۔
پڑھتے رہنے سے لکھنا بھی آ جاتا ہے اور جو لوگ پہلے سے لکھنا جانتے ہیں ان کی تحریر میں مزید شگفتگی پیدا ہو جاتی ہے ۔

مزید پڑھئے :

اسلاف کے علمی اسفار کی داستان دلنواز

اسلاف کے علمی اسفار کی داستان دلنواز

اسلاف کے علمی اسفار کی داستان دلنواز
از مولانا ضیاء الدین قاسمی ندوی
’’علوم وفنون کا بیش بہا خزانہ ہم تک یونہی نہیں پہنچا، ان کو جمع کرنے میں ہمارے اسلاف نے بے پناہ صبر، استقامت، جانکاہی اور دلسوزی کاثبوت دیا ہے؛ راہ طلب کی صعوبتوں، مشقتوں کو جھیلا اور طلبِ علم میں خاندان ووطن کو ترک کیا، برسوں در، در کی خاک چھانتے رہے اور سرمایۂ علم وفن جمع کرتے رہے۔ آج کے طلبۂ عزیز اور عام و خاص مسلمانوں کے لیے ان نفوسِ قدسیہ کی داستانِ دلنواز باعث فخروناز اور عزم وحوصلہ کو جواں کرنے کاسبب ہوگی۔ مستند مصادر ومراجع میں بکھرے واقعات کو تلاش کرکے ہم نے یہ علمی گلدستہ تیار کیاہے،جس کو نذر قارئین کررہے ہیں۔‘‘ (ضیاء الدین قاسمی ندوی)
حافظ حدیث ابوعبداللہ محمد بن مندہؒ کے علمی اسفار (ولادت ۳۱۰ھ، وفات ۳۹۵ھ)
   حافظِ حدیث شیخ ابوعبداللہ محمد بن مندہؒ محدثین کبار اور ثقہ رواۃ میں سے ہیں، تفسیر وحدیث، فقہ وتاریخ اور علومِ اسماء الرجال کے ماہرین میں شمار کیے جاتے ہیں، ان کی جلالت شان اور رفعت مکان کا اعتراف علومِ تفسیر وحدیث کے شیوخ وحفاظ نے کیا ہے، علمی طبقہ میں حافظ ابن مندہ کے نام سے مشہور ومعروف ہیں اور دنیا کی سیاحت، علوم وفنون کی تحصیل میں مسلسل سرگرداں رہنے کی وجہ سے ’’جوالۃ الارض‘‘ کہلاتے ہیں۔ کثرت تصانیف وتالیفات میں اپنا امتیازی مقام رکھتے ہیں اور احادیث کی کتابت کرکے محفوظ رکھنے میں، نمایاں حیثیت کے حامل ہیں، ہزاروں صفحات خود اپنے ہاتھوں سے لکھے، جن شیوخ کی خدمت میں سماعت حدیث کے لیے حاضر ہوتے ان کی مرویات کو قلم بند کرلیتے تھے، خود ان کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے شیوخ کی روایات کو سن کر پانچ ہزار صن تحریر کیے (صن، صاد کے زیر اور زبر کے ساتھ ایک صن کاغذ کے دس بڑے اجزا پر مشتمل ہوتا ہے) جب اپنے طویل تر علمی اسفار سے واپس آئے تو ان کے ساتھ کتابوں کا چالیس بنڈل تھا، حافظ ابن مندہ کا کہنا ہے کہ میں نے مشرق ومغرب کا دو مرتبہ چکر لگایا۔
   حافظ ابن مندہؒ نے اپنے وقت کے تمام شہرئہ آفاق ائمۂ کبار اور محدثین ومجتہدین سے شرف ملاقات حاصل کیا اور ان کے بحار علوم وفنون سے جرعہ کشی کی، طلب کی راہ میں نکلے تو ہر قسم کی تکالیف کا صبر واستقامت کے ساتھ سامنا کیا، بھوک وپیاس اور صعوبت ومشقت برداشت کی ؛ مگر تحصیلِ علم کا ایک سودا سر میں سمایا تھا، نہ رات کو رات جانا نہ دن کو دن، بس جنون علم تھا، جو بادیہ پیمائی پر برانگیختہ کرتا تھا، جس علاقہ یا ملک میں کسی شیخ کا چشمۂ فیض جاری ہوتا، وہاں سیراب ہونے کے لیے پہنچ جاتے تھے، محققین نے ان کے اساتذہ وشیوخ کی تعداد ایک ہزار سات سو سے متجاوز بتائی ہے۔
 غور کیجیے یہ اس زمانہ کی بات ہے، جب آمدورفت کے وسائل محدود تھے، جنگل وبیاباں کی بھرمار تھی، ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر جان جوکھم میںڈالنا تھا، پھر آج کی طرح مدارس وجامعات کا جال بھی نہیں بچھاتھا، محدثین وعلماء کرام عام طور پر اپنے شہروں اور قصبات کی مساجد یا اپنی قیام گاہ میں درس دیتے تھے، قیام وطعام کا کوئی بندوبست نہیں ہوتا تھا؛ مگر طالبین وشائقین کا ہجوم پروانہ وار علوم وفنون کی ان شمعوں پر ٹوٹتا تھا، سیکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ حاضرِ درس ہوتے تھے، اُنھیں میں ابن مندہ جیسے غریب الوطن طلبہ بھی شامل ہوتے تھے، جو اپنے قیام وطعام کا انتظام خود کرتے تھے۔
   ذرا حافظ ابن مندہؒ کی جانفشانی کا تصور کیجیے، درس کے ان حلقوں میں پہنچنا، درس سننا، یاد کرنا اور لکھنا پھر ان سب کو لے کر دوسرے لمبے سفر پر روانہ ہوجانا، دوسرے شیخ کے حلقۂ درس میں شریک ہونا اور وہاں پر بھی انھیں معمولات کا اعادہ کرنا، قیام وطعام کا نظم کرنا، کتنے سخت مراحل طے کرتے تھے، تحصیل علوم کی اس لگن کی مثال ہمارے اسلاف کے سوا کون پیش کرسکتا، ابن مندہ کے شیوخ واساتذہ کی کثیر تعداد ان کے عزم وحوصلہ اور شوق طلب کی گواہی دیتی ہے کہ وہ آسمانِ علم وفن کے درخشاں ستاروں اور بحرِتفسیر وحدیث کے شناوروں کی قدرووقعت پہچانتے تھے، ان کے جواہر پاروں سے اپنے دامن مراد کو بھرلینا چاہتے تھے، ورنہ علوم اسلامیہ کا گرانقدر ذخیرہ ہم تک نہ پہنچ پاتا۔
  حافظ ابن مندہؒ نے اپنا پہلا علمی سفر بیس سال کی عمر میں ۳۳۰ھ میں کیا تھا، نیشیاپور پہلی منزل تھی، کئی سال تک علمائے نیشاپور کے حلقاتِ درس میں شرکت کرتے رہے، جب ہرممکن طور علمی تشنگی بجھائی تو ۳۶۱ھ میںبخارا روانہ ہوئے، وہ علماء ومحدثین کا مرکز بنا تھا، وہاں خوب خوب سیراب ہوئے اس کے بعد دوسرے شہروں کا سفر شروع کیا۔ در،در کی خاک چھانتے ہوئے ۳۷۵ھ میں گھر واپس ہوئے۔ ۶۵ سال کا سِن تھا، جب گئے تھے تو جوان رعنا تھے، واپس آئے تو بوڑھے تھے، پینتالیس سال کا عرصہ کم نہیں ہوتا جو غریب الوطنی میں بسر ہوا، تقریباً نصف صدی تک کمال علم پیدا کرتے رہے، تبھی تو یگانۂ روزگار بنے۔
طلب کی راہ میں گر بیخودی نہیںہوتی
قسم خدا کی ، خدا آگہی نہیں ہوتی
  ان کے صاحبزادے شیخ ابوزکریا بن حافظ ابن مندہ کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا عبداللہ کے ساتھ نیشاپور جارہا تھا، جب بیرمجہ نامی ایک جگہ پر پہنچے تو چچا نے کہا: میں اپنے والد کے ہمراہ خراسان سے لوٹ رہا تھا، جب اس مقام پر پہنچے ، تو ہم نے اچانک چالیس بڑے بڑے گٹھر رکھے دیکھے، گمان ہوا کہ کپڑوں کے پارسل ہیں پھر جب قریب پہنچے تو خیمہ میں ایک شیخ کو دیکھا، جانتے ہو وہ کون تھے؟ وہ تمہارے والد حافظ ابن مندہ تھے، قافلہ والوں میں سے کسی نے گٹھروں کے بارے میں استفسار کیا تو فرمایا ان میں وہ متاعِ خاص ہے، جس سے اس زمانہ کے لوگوں کو بہت کم رغبت ہے، یہ احادیثِ رسول کے مجموعے ہیں، شیخ ابوزکریا کہتے ہیں کہ اس کے بعد چچا جان شیخ عبداللہ نے کہا کہ جب میں واپس خراسان سے وطن آرہا تھا تو میرے پاس بھی بیس بڑے گٹھر تھے تمہارے والد کی پیروی میں، میں نے بھی بیرمجہ میں قیام کیا تھا۔ (بحوالہ تذکرۃ الحفاظ للذہبی ج۳)
امام ابن نجّار بغدادیؒ کے علمی اسفار (ولادت ۵۷۸ھ، وفات ۶۴۳ھ)
  علوم نبویہ کی تحصیل اور فنِ حدیث کی تکمیل میں غریب الوطنی اختیار کرنے اور کثرت اسفار کی مثال قائم کرنے والوں میں محدث زمانہ، مورخ اسلام، رئیس القرائ، حافظ حدیث نجب الدین ابوعبداللہ محمد بن محمود ابن نجار بغدادی رحمۃ اللہ علیہ سرفہرست ہیں، محدثین کے حلقوں اور قراء کے زمرہ میں ابن نجار بغدادی کا پایہ بہت بلند ہے، علمائے کرام میں امام ابن نجار بغدادیؒ کے نام سے مشہور ہیں۔ ستائیس سال تک راہِ طلب میں سرگرداں رہے اور ’’طوّاف الارض‘‘ کہلائے، عمرِ عزیز کا دسواں سال تھا کہ حدیث نبوی کی سماعت شروع کی، پندرہ سال کی عمر میں شاہراہ علم کے راہ رو بن چکے تھے،ائمہ احادیث اور فقہائے عصر کے علمی مراکز ان کے پڑائو تھے، ان کی علمی سیاحت کا دائرہ بہت وسیع ہے اپنے عہد وزمانہ کے ماہرین علم وفن  اور ائمہ حدیث وفقہ سے کسبِ فیض کی دُھن، ہمہ دم ان کو متحرک وسرگرمِ سفر رکھتی تھی، سماعتِ حدیث کے ساتھ ساتھ کتابت کا بھی معمول تھا، اپنے وقت کے تمام مروجہ علوم وفنون میں رسوخ رکھتے تھے۔
    امام یحییٰ بن بوش، محدث عبدالمنعم بن کلیب اور علامہ ابن الجوزی جیسے یکتائے زمانہ، ائمہ ومحدثین کے منہل علم سے جی بھرکر سیراب ہوئے اور مختلف شہروں کے علماء وشیوخ سے ملاقات کرکے ان سے کسب علم کرتے تھے، اصفہان کا سفر کیا، تو شیخ عین الشمس ثقفیہ سے استفادہ کیا، وہاں سے رختِ سفر باندھا، تو نیشاپور پہنچے اور شیخ الاسلام موبد کی خدمت میں رہ کر تحصیلِ حدیث کرتے رہے، جب وہاں سے روانہ ہوئے ، تو ہرات منزل تھی، جہاں امام ابوروح کا دریائے علم وفن رواں تھا، اس سے اپنی تشنگی بجھائی، پھر علماء وفقہائے مصر وشام کی بارگاہ علم میںحاضر ہوئے اور برسوں فیض اٹھاتے رہے، اسی کے ساتھ تفسیر وحدیث اور فقہ وتاریخ کا علمی ذخیرہ جمع کرتے رہے، کتابت کا معمول تھا ہی، فن قرأت میں بھی درجہ کمال کو پہنچے، بلادِ اسلامیہ کا کوئی معروف شہر نہیں بچا، جہاں کہ امام ابن نجار کے قدم نہ پڑے ہوں اور وہاں کے علماء وقراء اور فقہاء سے فیض نہ اٹھایا ہو۔
     ان کے نابغۂ روزگار شاگرد رشید ابن السباعیؒ کا کہنا ہے کہ میرے شیخ امام ابن نجار بغدادیؒ کے شیوخ واساتذہ کی تعداد تین ہزار ہے اور یہ سب پورے بلادِ اسلامیہ میںلولوء ومرجان کے مثل بکھرے ضوفشانی کررہے تھے، جس کی زندگی کے ستائیس قیمتی ماہ وسال راہِ طلب میں گذرے ہوں وہ اپنے سرمایۂ علم کو محفوظ رکھنے کی کتنی فکر کرے گا، ہم خود اندازہ لگاسکتے ہیں۔ امام ابن نجار بغدادی نے بھی اپنے پیش رو ائمہ کی طرح تحصیل علم میںہرقسم کے شدائد ومصائب اور مشکلات کا خندہ پیشانی سے سامنا کیا، کوہِ بیاباں کی خاک چھانی، عشقِ رسول ﷺ میں سرشار، سماعت حدیث کے لیے جان کاہی ان کا شیوہ تھا، پھر ان کو ضبط تحریر میں لانا تاکہ رسول اللہ ﷺ کی علمی ودینی میراث ان کی امت تک پہنچاسکیں، امام ابن نجار بغدادی تصنیف وتالیف میںمصروف رہے، وہ کثیر التصانیف عالم وفاضل امام ہیں، ان کی تالیفات: تفسیر وحدیث تاریخ وفقہ اور سیر وانساب ہر موضوع پر ہیں، ان میں سے چند مشہور معروف تصنیفات یہ ہیں: (۱) کتاب کنزالامام فی السنن والاحکام (۲) النساب المحدثین الی الآباء والبلدان (۳) کتاب العوامی (۴) الکمال فی الرجال (۵) مناقب الامام الشافعی وغیرہ۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے: تذکرۃ الحفاظ للذہبی ج۴، وفیات الاعیان لابن خلقان، صفحات من صبر العلماء لابی عبدالفتاح ابی غدہؒ)
شیخ ابوالحسن القطان قزوینیؒ کے علمی اسفار(ولادت ۳۱۰ھ، وفات ۳۹۵ھ)
  محدثین کرام کی فرخ انجام صفت میںہمہ گیر شہرت وعزت کے حامل شیخ ابوالحسن القطان قزوینی کا نام بھی شامل ہے، آپ افریقہ کے مشہور شہر قزوین میں پیدا ہوئے اور اپنے صلاح وتقویٰ، دیانت و امانت، نحو وصرف اور لغت کے علاوہ علوم وتفسیر وحدیث میں ملکہ ومہارت کے سبب محدثِ قزوین کہلاتے ہیں۔ علماء کرام اور محدثین عظام ان کا نام ادب واحترام سے لیتے ہیں، محدث قطان نے سنن ابن ماجہ کی سماعت براہ راست امام ابن ماجہؒ سے کی ہے اور بلاواسطہ ان سے حدیث رسول ﷺ کی روایت بھی کی ہے، جب کہ خود امام قطان سے روایت کرنے والے تلامذہ کی تعداد ہزاروں میں ہے، اُنھیں تلامذہ میں ایک روشن نام امام ابوالحسن احمد الفارسی القزوینی کا ہے۔
    امام قزوینی بھی وادی علم کے سیاح ہیں، ان کی زندگی کے قیمتی لمحات محدثین عصر اور ائمہ زمانہ کی جوتیاں سیدھی کرنے اور ان کے بحار علوم وفنون سے جرعہ کشی کرنے میں گذرے، قزوین، بغداد، کوفہ، صنعاء یمن، رے، ہمدان، حلوان اور مکہ مکرمہ کے طویل تر پُرمشقت علمی اسفار کیے، شہر بہ شہر، کوچہ درکوچہ گھومتے رہے، محدث جلیل امام ابوحاتم الرازیؒ سے سماعت کی اور تین سال ان کی تربیت میں رہے، اللہ تعالیٰ نے کمال کی قوت حفظ عطا فرمائی تھی، ان کے محبوب شاگرد شیخ ابوالحسن احمد الفارسی فرماتے ہیں کہ:
    میں نے خود اپنے شیخ کو فرماتے ہوئے سنا ہے، جب کہ وہ بہت بوڑھے اور کمزور ہوچکے تھے کہ: انھوں نے اپنے علمی اسفار کے زمانہ میں ایک لاکھ حدیثیں یاد کرلی تھیں، پھر فرمایا کہ اب حافظہ اتنا کمزور ہوگیا ہے کہ ایک حدیث یاد کرنا مشکل ہے، فرمایا کہ آج میری بینائی زائل ہوگئی ہے، شاید یہ میری ماں کی کثرت گریہ کی سزا ہے، میں اپنے علمی اسفار کے باعث والدہ کی خدمت میں زیادہ وقت نہیں دے پارہا تھا، جب کہ والدہ کی خواہش رہتی تھی کہ میںان کے پاس رہا کروں، مجھے افسوس ہوتا ہے کہ ان کی خدمت کا حق ادا نہ کرسکا، یہ کوتاہی علومِ حدیث کی طلب کے شوق وجنون کے باعث ہوئی۔ (الأمالی)
       محدث قطان قزوینیؒ صلاح وتقویٰ کے پیکر تھے، ایک تو مسلسل اسفار جس میں فرض روزہ بھی ترک کرنے اور بعد میں قیام کی حالت میں قضا کرنے کی شریعت نے اجازت دی ہے، مگر وہ مسلسل تیس سال تک روزہ رکھتے رہے، صرف نمک روٹی سے افطار کرتے تھے، زہد اور قناعت کے نمونہ تھے، صبر واستقامت کے ساتھ ہر قسم کی تکالیف کا پامردی سے مقابلہ کرتے تھے اور اپنے شوق کی تکمیل کرتے تھے (بحوالہ معجم الاولیاء از یاقوت حموی ج۱۱،  تذکرۃ الحفاظ ج۳، الامالی)
      آج جب کہ ہر طرف مدارس اسلامیہ کا جال بچھا ہوا ہے، کتب دراسیہ کے علاوہ ہر فن کی کتابیں میسر ہیں، قیام وطعام کا مفت نظم ہے، کون مرد مجاہد ہے جو احادیثِ رسول ﷺ کو حفظ کرنے کا شوق رکھتا ہے، کہنے کو تو شیخ الحدیث و شیخ الجامعہ کے منصب پر فائز ہزاروں علماء کرام پائے جاتے ہیں، مگر شاید وباید ہی کسی کو ایک ہزار حدیث یاد ہوگی پھر اس پر راویوں کے حالات کی پوری تفصیل بھی ازبر ہو!
   وہ نوادرات زمانہ گذر گئے جس کے وجود سے امتِ مسلمہ باعزت وباوقار تھی، وہ یکتائے روزگار اسلاف اب صفحاتِ تاریخ کی زینت ہیں، ہم کو یہ بھی توفیق نہیںہوتی کہ ان کی سوانح حیات سے ہی دل کو گرمائیں۔
قَدْ خَلَتْ تلک السنونُ وأہلُہا
فـکَاَنَّہــا وکاَنَّـہــم أحــلامٗ
   وہ ماہ وسال اور اس کے باکمال لوگ گذرگئے، اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ عہدِ زریں اور اسلاف ایک خواب تھے۔
٭           ٭           ٭
-----------------------
مزید پڑھئے :

مطالعۂ کتب کے فوائد

تحصیل علم میں فقر و فاقہ سے نبرد آزمائی

تحصیل علم میں فقر و فاقہ سے نبرد آزمائی


تحصیل علم میں فقر و فاقہ سے نبرد آزمائی :
فقروفاقہ فقیہ کا  لازمہ  ہے، جوعلم  دین کے حصول کے  لیے  اپنے آپ کو تیارکرتا ہے گویا کہ  وہ  اپنے آپ کو فقیربناتا ہے، اس لیے کہ  مالداروں کے نصیب میں کہاں کہ  وہ  اس نعمت عظمی  سے سرفراز  ہوسکیں  اور یہ  ایک تاریخی  بات  ہے کہ ہمارے  جتنے بھی اسلاف گزرے  ہیں سبہوں نے علم  دین  کی راہ  میں قلاشی اورفقر و فاقہ  کا سامنا کیا، امام  مالک رحمہ اللہ کہتے  ہیں: لا ینال ھذاالعلم حتی یذاق فیہ طعم الفقر یہ علم اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب  تک کہ اس کی  راہ میں فقروفاقہ کا  مزہ  نہ چکھا جائے ۔
اور عبدالرحمن بن قاسم نے بیس سال تک امام  مالک رحمہ اللہ کی مصاحبت  اختیار کی،  امام  مالک کی بابت کہتے ہیں کہ امام  مالک کوطلب حدیث کی خاطر گھر کا چھت توڑ کر اس کی لکڑیاں بیچنی پڑیں۔
عمروبن حفص الأشقر کہتے  ہیں کہ ہم لوگ  امام بخاری  کے ساتھ بصرہ  میں سماع  حدیث  کے لیے گیے  تھے کہ اچانک  چند  دنوں  تک  وہ غائب  رہے، ہم  لوگوں نے انہیں بہت تلاشا، جب ایک  گھر  کے  پاس  پہنچے  تو دیکھا کہ  امام بخاری رحمہ اللہ ننگے اس گھر میں بیٹھے ہیں، ان کی ساری رقم ختم ہوچکی ہے، اب ایک پیسہ بھی باقی نہیں رہ گیا ہے، ہم لوگوں نے آپس میں اکٹھا ہوکر کچھ درہم جمع کیا اور ایک کپڑا خرید کر پہنایا پھر وہ  ہمارے  ساتھ  سماع  حدیث  کے لیے جانے لگے (علوالھمہ: 141)
بکربن حمدان المروزی کہتے  ہیں کہ میں  نے  ابن خراش کو کہتے ہوئے سناکہ  ہم نے طلب حدیث کی  خاطر چار بار اپنا پیشاب تک پیا ہے فائدہ:  وہ  اس  طرح  کہ  ہمارے اسلاف کرام طلب علم کی خاطر دور دراز ممالک کا سفرصحراؤں اورجنگلوں  سے ہوتے ہوئے کرتے  تھے،  چنانچہ جب  وہ ایسی جگہ پہنچے جہاں صحرا ہی صحرا تھا  پانی  کا کوئی  نام  و نشان نہ تھا، ایسی حالت میں قوت لایموت  کے طور پر پیشاب  تک  پینے پرمجبور ہوئے ۔
ابوعلی الحسن کہتے ہیں کہ  میں عسقلان میں حدیث کا سماع کرتا تھا، اچانک  چند دنوں  کے  بعد  ہمارا زاد سفرختم ہوگیا اور چند دنوں  بھوکا رہا اس  دوران  اپنے  دل کوتسلی  دینے کے لیے  نان بائی  کی  دکان  جاکر اس  کے قریب  بیٹھ جاتا کہ روٹی کی خوشبو سونگھ  سکیں تاکہ اس  سے بھی کچھ تقویت  ملے، پھر اللہ تعالیٰ  نے مجھے خوش حال کردیا ۔
اور ابن  جوزی  رحمہ  اللہ  اپنی  بابت  لکھتے  ہیں: میں تحصیل علم  کے زمانے میں سوکھی روٹی لیکر طلب حدیث کے لیے نکل  جاتا اورنہرعیسی کے پاس بیٹھ کر  اسے کھانا شروع کرتا  تو بغیر  پانی  کے اسے کھا  نہیں  پاتا  کیوں کہ روٹی بہت سخت  ہوجایا کرتی تھی  ۔
لیکن ان سارے  مصائب  و مشکلات  کے  باوجود ان  کی ہمتیں بلند تھیں، ان کا حوصلہ جوان تھا اور ہمیشہ ان کے ذہن ودماغ میں یہ بات بیٹھی تھی کہ مجھ کو جانا ہے بہت اونچا حد پرواز سے۔ ظاہر ہے کہ عالی ہمت طبیعتیں ہمیشہ خندہ پیشانی کے ساتھ  پریشانیوں سے نبردآزما ہوتی ہیں، انہیں  مشکلات میں بھی آرام وسکون ملتا  ہے، یہاں تک کہ کامیابی قدم بوس ہوتی ہے۔
----------------
مزید پڑھئے :

مطالعۂ کتب کے فوائد

مطالعۂ کتب کے فوائد

تحصیل علم میں شب بیداری:

تحصیل علم میں شب بیداری:
محمد بن حسن الشیبانی  امام  ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد  رشید رات میں سوتے بھی نہیں  تھے، پڑھتے وقت اپنے  پاس پانی  رکھا کرتے، جب نیند  کا غلبہ ہوتا تو فورا  آنکھ  میں  پانی  کی چھینٹ  مارتے،  اس  طرح  نیند کافور ہوجاتی، وہ کہتے تھے: نیند گرمی کے باعث آتی ہے اس لیے اسے ٹھنڈے  پانی سے ختم کرو۔
بعض سلف  سے کہا گیا کہ آپ  نے علم  کیسے  حاصل کیا ؟ تو انہوں  نے جواب  دیا کہ چراغ  کے  سامنے صبح  تک بیٹھ کر۔
ربیع  کہتے  ہیں کہ  امام شافعی  کی  بیٹی  فاطمہ رحمہا  اللہ  نے  بیان کیا  کہ میں  نے  اپنے والد محترم امام شافعی  کے لیے ایک رات ستر مرتبہ چراغ  روشن  کیا۔
اور امام  ابن کثیر  امام  بخاری  رحمہ اللہ  کی  بابت  لکھتے  ہیں: امام بخاری رحمہ اللہ رات میں بیدار ہوکرچراغ روشن کرتے اورمعلومات نوٹ کرتے، پھرچراغ کو بجھا کر سوجاتے،  پھر  جگتے اور لکھنا  پڑھنا  شروع  کر دیتے، اس طرح  رات  میں تقریبا بیس  بار کیا کرتے  تھے۔
عبدالرحمن  بن  قاسم  امام  مالک  کے شاگرد  رشید  کہتے  ہیں: میں امام مالک  کے پاس صبح  کی تاریکی  ہی  میں آتا،  ایک روز آیا تودروازہ  بند تھا، چنانچہ میں دروازے  کی چوکھٹ پرٹیک  لگا کرسوگیا، مجھے گہری نیند آگئی،امام مالک مسجد میں نماز کے لئے نکل گئے اورمیں بیدار نہ ہوسکا، امام  مالک کی ایک سیاہ فام لونڈی آئی اورمجھے اپنے لات  سے مار کر جگا کر کہنے لگی : ابھی  تمہارے مالک نکلے  ہیں۔
امام  مالک  کے  پاس عبدالرحمن بن قاسم  کی آمد و رفت کو دیکھ کر لونڈی نے سمجھا کہ  یہ  امام  مالک  کے غلام  ہیں، حالانکہ یہ آمد و رفت طلب علم کے لیے تھی۔

اسلاف کا شوق علم ، چند واقعات

اسلاف کا شوق علم
1۔عامر بن قیس ایک زاہد تابعی تھے ۔ ایک شخص نے ان سے کہا "آو بیٹھ کر باتیں کریں" انہوں نے جواب دیا کہ پھر سورج کو بھی ٹھہرالو۔
2۔تاریخ بغداد کے مصنف خطیب بغدادی لکھتے ہیں کہ جاحظ کتاب فروشوں کی دکانیں کرایہ پر لے کر ساری رات کتابیں پڑھتے رہتے تھے
3۔ فتح بن خاقان خلیفہ عباسی المتوکل کے وزیرتھے ۔ وہ اپنی آستین میں کوئی نہ کوئی کتاب رکھتے تھے اور جب انہیں سرکاری کاموں سے فرصت ملتی تو آستین سے کتاب نکال کر پڑھنے میں لگ جاتے
4۔ اسماعیل بن اسحاق القاضی کے گھر جب بھی کوئی جاتا تو انہیں پڑھنے میں مصروف پاتا۔
5۔ابن رشد اپنی شعوری زندگی میں صرف دو راتوں کو مطالعہ نہیں کرسکے
6 امام ابن جریر طبری ہر روز چودہ ورقے لکھ لیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی عمر عزیز کا ایک لمحہ بھی فائدے اور استفادے کے بغیر نہیں گذارا
7 البیرونی کے شوق علم کا یہ عالم تھا کہ حالت مرض میں مرنے سے چند منٹ پیشتر وہ ایک فقیہ سے جو ان کی مزاج پرسی کے لیے آیا تھا ، علم الفرائض کا ایک مسلہ پوچھ رہے تھے۔
8-امام الحرمین ابوالمعالی عبد الملک جو مشہور متکلم امام غزالی کے استاد تھے ، فرمایا کرتے تھے کہ میں سونے اور کھانے کا عادی نہیں۔ مجھے دن اور رات میں جب نیند آتی ہے سو جاتا ہوں اور جب بھوک لگتی ہے کھا لیتا ہوں۔ ان کا اوڑھنا بچھونا ، پڑھنا اور پڑھانا تھا۔
9 علامہ ابن جوزی کی چھوٹی بڑی کتابوں کی تعداد ایک ہزار ہے ، وہ اپنی عمر کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتے تھے۔ وہ اپنی قلم کے تراشے سنبھال کر رکھ دیتے تھے چنانچہ ان کی وفات کے بعد ان تراشوں سے گرم کردہ پانی سے انہیں غسل دیا گیا۔ وہ اپنے روزنامچے "الخاطر" میں ان لوگوں پر کف افسوس ملتے نظر آتے ہیں جو کھیل تماشے میں لگے رہتے ہیں، ادھر ادھر بلامقصد گھومتے رہتے ہیں، بازاروں میں بیٹھ کر آنے جانے والوں کو گھورتے ہیں اور قیمتوں کے اتارچڑھاو پر رائے زنی کرتے رہتے ہیں۔
10-امام فخر الدین رازی کی چھوٹی بڑی کتابوں کی تعداد ایک سو سے کم نہ ہوگی۔ صرف تفسیر کبیر تیس جلدوں میں ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ کھانے پینے میں جو وقت ضائع ہوتا ہے میں ہمیشہ اس پر افسوس کرتا ہوں۔
11۔علامہ شہاب الدین محمود آلوسی مفسر قرآن نے اپنی رات کے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم کررکھا تھا۔ پہلے حصہ میں آرام و استراحت کرتے ، دوسرے میں اللہ تعالی کو یاد کرتے اور تیسرے میں لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے
12. خطیب بغدادی کا واقعہ :ان کی بابت مورخین لکھتے ہیں کہ وہ راستے سے گزرتے ہوتے اس حالت میں بھی ان کے ہاتھ میں کتاب ہوتی تھی، جسے پڑھتے رہتے تھے، انہیں کا کہنا ہے: سب سے بہترین مذاکرہ رات کا مذاکرہ ہے اورسلف کی ایک جماعت ایسا کرتی تھی، اور بعض سلف عشاء کے بعد مذاکرہ شروع کرتے یہاں تک کہ بعض اوقات صبح کی اذان ہوجایا کرتی۔
13. ابوجعفر ابن جریر الطبری کا واقعہ:انہوں نے اپنی پوری زندگی پڑھنے اورتصنیف وتالیف میں گزار دی یہاں تک کہ موت کے وقت بھی جب ان کے سامنے کسی نے ایک حدیث پیش کی جسے وہ نہیں جانتے تھے، تو فورا قلم کاپی منگوائی اور اسے لکھ لیا، کسی نے کہا: حضرت! زندگی کا آخری وقت ہے، اس وقت بھی پڑھنا نہیں چھوڑتے؟ توآپ نے فرمایا: ینبغی للإنسان أن لایدع اقتباس العلم حتی الممات آدمی کے لیے مناسب ہے کہ تا دم حیات علم کی باتیں قیدتحریر میں لاتا رہے ۔

Wednesday, March 2, 2016

ﺣﺎﺿﺮ ﺟﻮﺍﺑﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﺿﺮ ﺩﻣﺎﻏﯽ

ﺣﺎﺿﺮ ﺟﻮﺍﺑﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﺿﺮ ﺩﻣﺎﻏﯽ
��ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ عربی ﺷﺎﻋﺮ ﻣﺘﻨﺒﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ: ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﻤﺠﮭﺎ... تو ﻣﺘﻨﺒﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ: ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﺮﺩ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺗﮭﺎ.
��ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﮐﮯ ﻣﻮﭨﮯ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ "ﭼﺮﭼﻞ" ﻧﮯ ﺩﺑﻠﮯ پتلے "ﺑﺮﻧﺎﺭﮈ ﺷﻮ" ﺳﮯ ﮐﮩﺎ: ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮔﺎ ﻭﮦ ﺳﻮﭼﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﻏﺬﺍﺋﯽ ﺑﺤﺮﺍﻥ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺷﻮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: اور ﺟﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮔﺎ ﺍﺱ ﺑﺤﺮﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ.
��ﺍﯾﮏ ﻋﺮﺏ ﺑﺪﻭ ﮔﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ: ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﺪﮬﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮﺗﻤﮩﯿﮟ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻟﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍ ﮐﮩﺎ: ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﮔﺪﮬﮯ ﮐﻮ ﮔﺪﮬﺎ ﮨﯽ ﭘﮩﭽﺎنتا ﮨﮯ.
��ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ: ﺗﻢ ﮐﺘﻨﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﻮ؟ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﮐﺎﺵ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﺘﯽ۔ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻮﺋﯽ بات ﻧﮩﯿﮟ تم بھی ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮل دو.
��ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﺴﯽ ﮔﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﮔﺪﮬﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺎﻧﮏ ﮐﺮ ﮐﮭﯿﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ لے ﺟﺎﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﺩﻭ منچلے ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ کہنے لگے کہ: ﺻﺒﺢ ﺑﺨﯿﺮ ﮔﺪﮬﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ. ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍ جواب دیا: ﺻﺒﺢ ﺑﺨﯿﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﻮﮞ.
��ﺍﯾﮏ ﺑﺪﻭ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﻋﺮﺏ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮑﺮﯼ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﺟﻠﺪﯼ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ: ﺑﮑﺮﯼ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ تو ایسے ﮐﮭﺎﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﮔﻮﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ کبھی ﺳﯿﻨﮓ ﻣﺎﺭا ہو؟ ﺑﺪﻭ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍ ﮐﮩﺎ: اور ﺗﻢ ﺍیسے ﮐﮭﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ جیسے ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺭﺿﺎﻋﯽ ﻣﺎﮞ ﺗﮭﯽ▫

عشق میں حساب کتاب ؟؟


عشق میں حساب کتاب ؟؟
-------------------------------------
روایت ہے کہ مولانا رومی ایک دن خرید و فروخت کے سلسلے میں بازار تشریف لے گئے۔ایک دکان پر جا کر رک گئے۔دیکھا کہ ایک عورت کچھ سودا سلف لے رہی ہے۔سودا خریدنے کے بعد اس عورت نے جب رقم ادا کرنی چاہی تو دکان دار نے کہا،“عشق میں حساب کتاب کہاں ہوتا ہے،چھوڑو پیسے اور جاؤ۔“
مولانا رومی یہ سن کر غش کھا کر گر پڑے۔دکان دار سخت گھبرایا اس دوران وہ عورت وہاں سے چلی گئی۔خاصی دیر بعد جب مولانا رومی کو ہوش آیا تو دکاندار نے پوچھا،
“مولانا صاحب آپ کیوں بے ہوش ہو ئے؟“
مولانا رومی نے جواب دیا،
“میں اس بات پر بے ہوش ہوا کے تم دونوں میں اتنا قوی اور مضبوط عشق ہے کہ آپس میں کوئی حساب کتاب نہیں جب کہ اللہ کے ساتھ میرا عشق کتنا کمزور ہے کہ میں دانے گن گن کر تسبیح کرتا ہوں ۔۔