امام جاحظ نے کتاب الحمقاء میں لکھا ہے کہ دو چور کھڑے تھے اتنے میں ان کے سامنے سے ایک شخص ہاتھ میں اپنے گدھے کی لگام تھامے گزرا ایک چور نے دوسرے سے کہا میں اس شخص کا گدھا چرا سکتا ہوں اور اس کو خبر بھی نہیں ہو گی دوسرے چور نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے جب کہ لگام اس کے ہاتھ میں ہے پہلے چور نے کہا یہ غافل ہے (یعنی ایسا شخص ہے جو اپنی سوچوں اور خیالات میں گُم ہونےکی وجہ سے اردگرد سے بےخبر ہو جاتا ہے) چنانچہ وہ چور اس گدھے والے کے پیچھے گیا اور گدھے کی گردن سے رسی کھول کر اپنے گلے میں ڈال دی اور اپنی ساتھی دوسرے چور کو اشارہ کیا کہ گدھا لےجا کر دوڑ جائے چنانچہ دوسرا چور گدھا لے کر چلا گیا
پہلا چور کچھ دیر تک چلتا رہا پھر رک گیا غافل نے رسی کھینچی مگر چور کھڑا رہا غافل نے پیچھے دیکھا اور حیران رہ گیا کہنے لگا میرا گدھا کہاں ہے؟ چور نے کہا گدھا کہاں تھا؟ وہ میں ہی تھا میں نے اپنے والدین کی نافرمانی کی تھی جس کی وجہ سے میں گدھا بن گیا تھا اب میرے والدین نے مجھے معاف کر دیا ہے اور میں پھر سے انسان بن گیا ہوں غافل نے افسوس کا اظہار کیا کہ میں اتنے عرصے تک ایک انسان سے خدمت لیتا رہا ہوں چور سے معافی مانگی اور اسے چھوڑ کرچل دیا کچھ دنوں کے بعد وہ غافل گدھا خریدنے کی غرض سے بازار گیا اور یہ دیکھ کر پھر حیرت زدہ رہ گیا کہ اس کا اپنا گدھا وہاں بکنے کی غرض سے موجود تھا غافل گدھے کے قریب گیا اور اس کے کان میں کہنے لگا بےوقوف پھر والدین کی نافرمانی کر ڈالی۔۔
Saturday, March 31, 2018
غافل مالک اور ہوشیار چور
Saturday, March 24, 2018
عمارت کی کرسی اونچی رکھیں
عمارت کی کرسی اونچی رکھیں
محی الدین غازی
کوئی بیس سال پہلے کی بات ہے، مولانا محمد فاروق خاں صاحب لکھنؤ کی ٹیلے والی مسجد میں تربیت ذات کے موضوع پر تقریر کررہے تھے، مجھے اس تقریر کی ایک بات یاد رہ گئی، مولانا نے کہا تھا: ’’ہرعمارت کی ایک کرسی (Plinth) ہوتی ہے، کرسی نیچی ہوتی ہے تو عمارت کا حسن دب جاتا ہے، کرسی اونچی ہوتی ہے، تو عمارت کا حسن دوبالا ہوجاتا ہے، دہلی کی جامع مسجد کی امتیازی شان اس کی اونچی کرسی سے ہے۔ انسان کی زندگی بھی ایک عمارت ہے، اور اس کی بھی کرسی ہوتی ہے، آپ اپنی زندگی کی عمارت کی کرسی اونچی رکھیں‘‘۔
میں نے اپنے گردوپیش کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ عمارت کی کرسی عمارت کے حسن کو بڑھاتی ہے، ساتھ ہی گلی کوچے کی گندگی سے بھی محفوظ رکھتی ہے، برسات میں نالی کا گندا پانی ان گھروں میں نہیں گھستا ہے جن کی کرسی اونچی ہوتی ہے۔ بہت سے کیڑوں مکوڑوں کی رسائی سے بھی مکان محفوظ رہتا ہے۔ سیلاب آجائے تو اونچی کرسی والے مکان لوگوں کے لئے پناہ گاہ بھی بن جاتے ہیں۔
مولانا نے دہلی کی جامع مسجد کی مثال دی، اور میں اونچی کرسی والی انسانی عمارتوں کی تلاش میں نکل گیا۔ اس سفر میں ایسی بہت سی اونچی کرسیوں والی عالیشان عمارتیں نظر آئیں کہ جن کی عظمت اور وقار کے سامنے دل ونگاہ احترام سے جھک جائیں، ایک نمایاں شخصیت حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے، مصر کی حسیناؤں نے سارے حربے آزما ڈالے، لیکن ان کی شخصیت کی کرسی اتنی اونچی تھی، کہ سارا زور لگا کر بھی وہ اس عمارت کی چوکھٹ تک نہیں پہونچ سکیں، کجا کہ اس عمارت کو داغ دار کرپاتیں۔ آخر بے بس ہوکر پکار اٹھیں کہ یہ انسان نہیں ہے، شرافت اور گناہ بیزاری کا یہ پیکر تو ایک فرشتہ ہی ہوسکتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن جفر سخاوت کے سمندر تھے، اور اس سخاوت کی عمارت جس کرسی پر تھی وہ بھی بہت اونچی تھی، ایک بار ان کے سامنے ایک غریب عورت نے دست سوال دراز کیا، آپ نے اچھی خاصی رقم دے دی، لوگوں نے کہا یہ آپ کو نہیں جانتی ہے، اور یہ تو تھوڑی رقم سے بھی بہت خوش ہوجاتی، آپ نے کہا: ’’وہ تو تھوڑی رقم لے کر خوش ہوجاتی لیکن مجھے تو زیادہ دے کر ہی خوشی مل سکے گی، اور وہ مجھے نہیں جانتی تو کیا ہوا، میں تو اپنے آپ کو جانتا ہوں‘‘۔
شام کے مشہور عالم شیخ سعید حلبی ایک بار درس دے رہے تھے اور تکلیف کی وجہ سے پیر پھیلاکر بیٹھے تھے، درس کے دوران شام کا گورنر ابراہیم پاشا آنکلا، اس کی دہشت پورے ملک پر چھائی ہوئی تھی، لیکن شیخ حلبی پر اس کی آمد کا کوئی اثر نہیں ہوا، انہوں نے اپنے پاؤں نہیں سمیٹے، اور درس کو اسی طرح جاری رکھا۔ پاشا کو غضب ناک کرنے کے لئے یہ بہت تھا، مگر اس نے ضبط کرلیا، اور مجلس سے نکلنے کے بعد ان کے پاس اپنے کارندے سے اشرفیوں کی ایک تھیلی بھجوائی، شیخ نے اس تھیلی کو واپس کرتے ہوئے کہا: ’’یہ واپس لے جاؤ، اور پاشا سے کہہ دو جو اپنے پاؤں پھیلاتا ہے وہ اپنا ہاتھ نہیں پھیلاتا ہے‘‘۔ اونچی کرسی کی شان کو اس ایک جملے سے سمجھا جاسکتا ہے۔
اس دور کی عظیم شخصیت سید قطب کو پھانسی کی سزا سنائی گئی، اور ان سے رحم کی اپیل لکھنے کو کہا گیا، انہوں نے عزیمت سے بھرپور لہجے میں کہا: ’’میری شہادت کی انگلی جو ہر نماز میں اللہ کی وحدانیت کی گواہی دیتی ہے، وہ ایسا ایک حرف نہیں لکھ سکتی جس سے اللہ کے کسی باغی کی حکمرانی کا اقرار ہوتا ہو۔ میں رحم کی اپیل کیوں کروں، اگر میری سزا کا فیصلہ درست ہے، تو میں اسے خود قبول کرتا ہوں، اور اگر یہ فیصلہ باطل ہے تو میں اس سے برتر ہوں کہ باطل سے رحم کی التجا کروں‘‘۔ حق پرستوں کی زندگی کی کرسی اتنی ہی اونچی ہونی چاہئے کہ بڑے بڑے جابروظالم بے بسی سے اس کے سنگ دیوار سے اپنا سر پھوڑتے نظر آئیں۔
جب برائی فیشن بن جائے، مادہ پرستی اور بے حیائی کا گندا سیلاب ہر گھر میں گھسنے کے درپے ہو، اخلاقی اقدار کے پشتے ایک کے بعد ایک ٹوٹتے جارہے ہوں، ہر جانب انسانی عظمت داؤ پر لگی ہوئی ہو، بلند قامت شخصیتوں کو اپنی قامت کھوتے دیر نہیں لگتی ہو، باوقار مکانوں کی عزت واحترام خطرے میں ہو، تو زندگی کی عمارت کی کرسی کو اونچا رکھنا بہت زیادہ ضروری ہوجاتا ہے۔
یاد رہے کہ انسانی زندگی کی وہ عمارتیں مقام امامت کی سزاوار نہیں ہیں جو بظاہر اونچی نظر آتی ہوں لیکن ان کی کرسی اتنی نیچی ہو کہ کبھی بھی گندے پانی کا ریلا اندر گھس آئے، اور سب کچھ گندا کرڈالے، جن کی نالیوں سے باہر کی گندگی اندر آتی ہو، اور جن کی زمین چاٹتی چوکھٹیں حشرات الارض کی گزرگاہ بنی ہوئی ہوں۔
ShareFriday, August 18, 2017
ایک دلچسپ مکالمہ
محقق اصفہانی نے حلیۃ الاولیاء میں سیدنا علی مرتضی کرم اللہ وجہ اور حضرت حسن بن علی رض کا ایک دلچسپ اور معرفت سے بھرپور مکالمہ ذکر کیا ہے، اس میں حضرت علی ابن ابی طالب کے کچھ سوالات اور حضرت حسن ابن علی کی جانب سے ان سوالات کے جواب دیئے گئے ہیں:
حضرت علی : راہ راست کیا ہے؟
حضرت حسن : برائی کو بھلائی کے ذریعہ دور کرنا۔
حضرت علی : شرافت کیا ہے؟
حضرت حسن : خاندان کو جوڑ کر رکھنا اور ناپسندیدہ حالات کو برداشت کرنا۔
حضرت علی : سخاوت کیا ہے؟
حضرت حسن : فراخی اورتنگ دستی دونوں حالتوں میں خرچ کرنا۔
حضرت علی : کمینگی کیا ہے؟
حضرت حسن : مال کو بچانے کے لئے عزت گنوا بیٹھنا۔
حضرت علی : بزدلی کیا ہے؟
حضرت حسن : دوست کو بہادری دکھانا اوردشمن سے ڈرتے رہنا۔
حضرت علی : مالداری کیا ہے؟
حضرت حسن : اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہنا، خواہ مال تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔
حضرت علی : بردباری کیا ہے؟
حضرت حسن : غصے کو پی جانا اورنفس پر قابو رکھنا۔
حضرت علی : بے وقوفی کیا ہے؟
حضرت حسن : عزت دارلوگوں سے جھگڑا کرنا
حضرت علی : ذلت کیا ہے؟
حضرت حسن : مصیبت کے وقت جزع فزع اور فریاد کرنا۔
حضرت علی : تکلیف دہ چیز کیاہے؟
حضرت حسن : لایعنی اورفضول کلام میں مشغول ہونا۔
حضرت علی : بزرگی کیا ہے؟
حضرت حسن : لوگوں کے جرمانے ادا کرنا اور جرم کو معاف کرنا۔
حضرت علی : سرداری کس چیز کا نام ہے؟
حضرت حسن : اچھے کام کرنا اوربرے امور ترک کر دینا۔
حضرت علی : نادانی کیا ہے؟
حضرت حسن : کمینے لوگوں کی اتباع کرنا اور سرکش لوگوں سے محبت کرنا۔
حضرت علی : غفلت کیا ہے؟
حضرت حسن : مسجد سے تعلق ختم کرلینا اوراہل فساد کی اطاعت کرنا۔
حلیۃ الأولیاء:۲/۳۶،
المعجم الکبیر:۳/۶۸
Thursday, July 20, 2017
چالاک درزی
مولانا رومی رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ ایک شیریں زبان آدمی رات کو دوستوں کی محفل میں بیٹھ کر درزیوں کے بارے میں مزے دار قصے سنا رہا تها، داستان گو اتنی معلومات رکهتا تها کہ باقاعدہ اچها خاصا درزی نامہ مرتب ہو سکتا تها، جب اس آدمی نے درزیوں کی چوری اور مکاری سے گاہکوں کا کپڑا غائب کر دینے کے ان گنت قصے بیان کر ڈالے، سننے والوں میں ملک خطا کا ایک ترک جسے اپنی دانش و ذہانت پر بڑا ناز تها کہنے لگا :
" اس علاقے میں سب سے گرو درزی کونسا ہے ...؟ "
داستان گو نے کہا :
" یوں تو ایک سے ایک ماہر فن اس شہر کے گلی کوچوں میں موجود ہیں، لیکن پورش نامی درزی بڑا فنکار ہے، اس کے کاٹے کا منتر ہی نہیں، ہاتھ کی صفائی میں ایسا استاد کہ کپڑا تو کپڑا آنکهوں کا کاجل تک چرالے اور چوری کا پتہ نہ لگنے دے ... "
ترک کہنے لگا :
" لگا لو مجھ سے شرط میں اس کے پاس کپڑا لے کر جاؤں گا، اور دیکهوں گا کہ وہ کیونکر میری آنکهوں میں دهول پهونک کے کپڑا چراتا ہے، میاں کپڑا تو درکنار ایک تار بهی غائب نہ کر سکے گا ...! "
دوستوں نے جب یہ سنا تو کہنے لگے :
" ارے بهائی ذیادہ جوش میں نہ آ، تجھ سے پہلے بهی بہت سے یہی دعوی کرتے آئے اور اس درزی سے چوٹ کها گئے، تو اپنی عقل و خرد پر نہ جا، دهوکا کهائے گا ...! "
محفل برخاست ہونے کے بعد ترک اپنے گهر چلا گیا، اسی پیچ و تاب اور فکر و اضطراب میں ساری رات گزاری، صبح ہوتے ہی قیمتی اطلس کا کپڑا لیا اور پورش درزی کا نام پوچهتا پوچهتا اس کی دکان پر پہنچ گیا، درزی اس ترک گاہک کو دیکهتے ہی نہایت ادب سے کهڑا ہوکر تسلیمات بجا لایا، درزی نے خوش اخلاقی و تعظیم و کریم کا ایسا مظاہرہ کیا کہ ترک بےحد متاثر ہوا اور دل میں کہنے لگا :
" یہ شخص تو بظاہر ایسا عیار اور دغاباز نظر نہیں آتا، لوگ بهی خواہ مخواہ رائی کا پہاڑ بنا دیتے ہیں ...! "
یہ سوچ کر قیمتی اطلس درزی کے آگے دهر دی اور کہنے لگا
" اس اطلس کی قبا مجهے سی دیں ... "
درزی نے دونوں ہاتھ ادب سے اپنے سینے پر باندهے اور کہنے لگا :
" حضور قبا ایسی سیوں گا جو نہ صرف آپ کے جسم پر زیب دے گی بلکہ دنیا دیکهے گی ...!"
اس نے کپڑا گز سے ناپا، پهر کاٹنے کے لئے جابجا اس پر نشان لگانے لگا، ساتھ ہی ساتھ ادهر ادهر کے پرلطف قصے چهیڑ دیئے ہنسنے ہنسانے کی باتیں ہونے لگیں، جن میں ترک کو بےحد دلچسپی ہوگئی، جب درزی نے اسکی دلچسپی دیکهی تو ایک مزاحیہ لطیفہ سنایا جسے سن کر ترک ہنسنے لگا اس کی چندهی چندهی آنکهیں اور بهی مچ گئیں درزی نے جهٹ پٹ کپڑا کاٹا اور ران تلے ایسا دبایا کہ سوائےخدا کی ذات کے اور کوئی نہ دیکھ سکا، غرض کی اس پرلطف داستان سرائی میں ترک اپنا اصل مقصد اور دعوی فراموش کر بیٹها، کدهر کی اطلس، کہاں کی شرط، ہنسی مذاق میں سب سے غافل ہو گیا، اور ترک درزی سے کہنے لگا کہ :
" ایسی ہی مزیدار کوئی اور بات سناو ...! "
درزی نے پهر چرب زبانی کا مظاہرہ کیا، ترک اتنا ہنسا کہ اس کی آنکهیں بالکل بند ہوگئیں، ہوش و حواس رخصت، عقل و خرد الوداع، اس مرتبہ درزی نے پهر کپڑا کاٹ کر ران تلے دبا لیا، ترک نے چوتهی بار مذاق کا تقاضا کیا تو درزی کو کچھ حیا آ گئی اور کہنے لگا :
" مزید تقاضا نہ کر اگر ہنسی کی اور بات کہوں گا تو تیری قبا تنگ ہو جائے گی ...! "
مولانا رومی رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ نصیحت فرماتے ہیں کہ :
" جانتے ہو وہ ترکی کون تها ...؟
دغاباز درزی کون تها ...؟
اطلس کیا ہے ...؟
اور ہسنی مذاق کیا ہے ...؟
قینچی کیا ہے ...؟
اور قبا کیا چیز ہے ...؟ "
" سنوں ...! وہ غافل ترک "تیری ذات ہے" جسے اپنی عقل و خرد پر بڑها بهروسہ ہے، وہ عیار دهوکہ باز درزی "یہ دنیائے فانی" ہے، ہنسی مذاق "نفسانی جذبات" ہیں، " تیری عمر" اطلس پر دن رات درزی کی "قینچی" کی مانند چل رہے ہیں دل لگی کا شوق تیری "غفلت" ہے، اطلس کی قبا تجهے
"بهلائی اور نیکی" کے لئے سلوانی تهی، وہ فضول مذاق اور قہقہوں میں تباہ و برباد ہو گئی ...! "
Saturday, July 1, 2017
ستارہ مچھلی اور ہمارا کام
ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک دانشمند مضمون نگاری کے لئے سمندر کا رخ کیا کرتا تھا- اس کی عادت تھی کہ کام شروع کرنے سے پہلے وہ ساحل سمندر پر چہل قدمی کیا کرتا تھا۔
ایک روز وہ ساحل پر ٹہل رہا تھا تو اسے کچھ دور کنارے پر ایک انسانی ہیولا کسی رقاص کی مانند حرکت کرتا دکھائی دیا- وہ متجسس ہوا کہ یہ کون شخص ہے جو دن کا آغاز رقص سے کرتا ہے- یہ جاننے کے لئے وہ تیز قدموں سے اس کی جانب چل پڑا- وہ نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایک نوجوان ہے- نوجوان رقص نہیں کر رہا تھا- وہ ساحل پر جھکتا، کوئی شے اٹھاتا اور پھر پھرتی سے اسے دور سمندر میں پھینک دیتا۔
دانش مند اس نوجوان کے پاس پہنچا اور بلند آواز میں پوچھا، "صبح بہ خیر جوان! یہ تم کیا کر رہے ہو ؟"
نوجوان نے قدرے توقف کیا نظریں اٹھا کر دانش مند کی جانب دیکھا اور بولا
"ستارہ مچھلی کو سمندر میں پھینک رہا ہوں"
"میں سمجھا نہیں۔ تم ستارہ مچھلی کو سمندر میں کیوں پھینک رہے ہو؟"
"سورج چڑھ رہا ہے اور لہریں پیچھے ہٹ رہی ہیں۔ میں نے انھیں پانی میں نہیں پھینکا تو یہ مر جائیں گی۔"
"لیکن نوجوان! یہ ساحل تو میلوں تک پھیلا ہوا ہے اور سارے ساحل پر ستارہ مچھلیاں بکھری ہوئی ہیں ممکن نہیں کہ تمھاری اس کوشش سے کوئی فرق پڑے"
نوجوان نے شائستگی سے دانش مند کی بات سنی، نیچے جھک کر ایک اور ستارہ مچھلی اٹھائی اور اسے پیچھے ہٹتی ہوئی لہروں کے اندر پوری قوت سے اچھالتے ھوئے بولا
"لیکن اس کے لیے تو فرق پڑ گیا نا"
ہمیں بھی اسی طرح ہر کسی کے ساتھ اچھائی کرتے رہنا چاہیے یہ سوچے بغیر کہ اس سے معاشرے پر فرق پڑے گا کہ نہیں، کیوںکہ جس کے ساتھ اچھائی کی گئی اُس پر تو پڑے گا نا۔۔
ShareTuesday, June 27, 2017
با ادب با نصیب.. بے ادب بے نصیب
ایک بار جناب بہلول دانا رحمتہ اللّه علیہ کسی نخلستان میں تشریف رکھتے تھے - ایک تاجر کا وھاں سے گذر ھوا --- وہ آپ کے پاس آیا اور سلام کر کے مودب سامنے بیٹھ گیا اور انتہائی ادب سے گذارش کی.. " حضور ! تجارت کی کونسی ایسی جنس خریدوں جس میں بہت نفع ھو.. "
جناب بہلول نےفرمایا.. " کالا کپڑا لے لو.. "
تاجر نے شکریہ ادا کیا اور الٹے قدموں چلتا واپس چلاگیا.. جا کر اس نے علاقے میں دستیاب تمام سیاہ کپڑا خرید لیا..
کچھ دنوں بعد شہر کا بہت بڑا آدمی انتقال کر گیا.. ماتمی لباس کے لئے سارا شہر سیاہ کپڑے کی تلاش میں نکل کھڑا ھوا.. اب کپڑا سارا اس تاجر کے پاس ذخیرہ تھا.. اس نے مونہہ مانگے داموں فروخت کیا اور اتنا نفع کمایا جتنا ساری زندگی نہ کمایا تھا اور بہت ھی امیر کبیر ھو گیا..
کچھ عرصے بعد وہ گھوڑے پر سوار کہیں سے گذرا.. جناب بہلول وھاں تشریف رکھتے تھے.. وہ وہیں گھوڑے پر بیٹھے بولا.. " او دیوانے ! اب کی بار کیا لوں.. ؟"
بہلول دانا رحمتہ اللّه علیہ نے فرمایا.. " تربوز لے لو.. "
وہ بھاگا بھاگا گیا اور ساری دولت سے پورے ملک سے تربوز خرید لئے.. ایک ہی ہفتے میں سب خراب ہو گئے اور وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گیا..
اسی خستہ حالی میں گھومتے پھرتے اس کی ملاقات جناب بہلول دانا رحمتہ اللّه علیہ سے ھوگئی تو اس نے کہا.. " یہ آپ نے میرے ساتھ کیا کِیا..? "
جناب بہلول دانا رحمتہ اللّه علیہ نے فرمایا.. " میں نے نہیں ' تیرے لہجوں اور الفاظ نے سب کیا.. جب تونے ادب سے پوچھا تو مالا مال ہوگیا.. اور جب گستاخی کی تو کنگال ہو گیا.. "
اس کو کہتے ہیں...
باادب با نصیب.. بے ادب بے نصیب.....
ShareFriday, June 23, 2017
نیکی کی قیمت
ﻧﻴﮑﻲ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺍﻳﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮐﮩﺎﻧﻲ
ﺍﻳﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺴﻲ ﺷﮩﺮ ﻣﻴﮟ ﺍﻳﮏ ﺑﮩﺖ ﮨﻲ ﻏﺮﻳﺐ ﻟﮍﮐﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ - ﻟﮍﮐﺎ ﻏﺮﻳﺐ ﺿﺮﻭﺭ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﻲ ﺑﺎﮨﻤﺖ ﺑﮭﻲ ﺗﮭﺎ - ﻭﮦ ﺍﭘﻨﻲ ﺭﻭﺯ ﻣﺮّﮦ ﺯﻧﺪﮔﻲ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻴﮱ ﻣﺰﺩﻭﺭﻱ ﮐﻴﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ - ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻭﮦ ﮔﻠﻲ ﻣﺤﻠﻮﮞ ﻣﻴﮟ ﭼﮭﻮﭨﻲ ﻣﻮﭨﻲ ﭼﻴﺰﻳﮟ ﺑﻴﭻ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﻴﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮍﮬﺎﺋﻲ ﮐﺎ ﺧﺮﭼﮧ ﻧﮑﺎﻟﺘﺎ ﺗﮭﺎ - ﺍﻳﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺍﻳﮏ ﻣﺤﻠﮯ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺷﺪﻳﺪ ﺑﮭﻮﮎ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ - ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﻭﭘﮯ ﺩﻳﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﻴﮱ ﺍﭘﻨﻲ ﺟﻴﺐ ﻣﻴﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻻ ﻣﮕﺮ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺷﺪﻳﺪ ﻣﺎﻳﻮﺳﻲ ﮨﻮﺋﻲ ﺟﺐ ﺍﺳﮯ ﻳﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺟﻴﺐ ﻣﻴﮟ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﻳﮏ ﮨﻲ ﺳﮑﮧ ﺑﺎﻗﻲ ﺭﮦ ﮔﻴﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺍﻳﮏ ﺳﮑﮯ ﺳﮯ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﻴﻨﮯ ﮐﻲ ﮐﻮﺋﻲ ﺑﮭﻲ ﭼﻴﺰ ﻧﮩﻴﮟ ﺧﺮﻳﺪﻱ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﻲ ﮨﮯ - ﺍﺱ ﻧﮯ ﻓﻴﺼﻠﮧ ﮐﻴﺎ ﮐﮧ ﮐﺴﻲ ﻗﺮیبی ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻏﺬﺍ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﻲ ﺟﺎﮰ - ﺍﺗﻔﺎﻗﻲ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻳﮏ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﭩﮑﮭﭩﺎﻳﺎ - ﺍﻳﮏ ﺟﻮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺑﺎاﺩﺏ ﻟﮍﮐﻲ ﻧﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ - ﻟﮍﮐﮯ نے ﺟﺐ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﻲ ﮐﻮ ﺩﻳﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﻮﺍﺱ ﮐﮭﻮ ﺑﻴﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻴﮱ ﮐﭽﮫ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﮐﻲ ﺑﺠﺎﮰ ﺻﺮﻑ ﭘﺎﻧﻲ ﮐﺎ ﺍﻳﮏ ﮔﻼﺱ ﮨﻲ ﻃﻠﺐ ﮐﻴﺎ - ﻟﮍﮐﻲ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﻲ ﺗﮭﻲ ﮐﮧ ﻳﮧ ﻟﮍﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﻴﮱ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﮐﺎ ﺍﻳﮏ ﮔﻼﺱ ﻻ ﮐﺮ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﺩﻳﺎ - ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﺑﮍﮮ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻴﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﻲ ﮐﻲ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺩﻭﺩﮪ ﮐﮯ ﮐﺘﻨﮯ ﭘﻴﺴﮯ ﺩﻭﮞ ؟
ﻟﮍﮐﻲ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻳﺎ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺩﻳﻨﮯ ﮐﻲ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﻴﮟ ﮨﮯ - ﮨﻤﺎﺭﻱ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﮨﻤﻴﮟ ﻳﮧ ﺳﮑﮭﺎﻳﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻴﮑﻲ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺻﻠﮧ ﻣﺖ ﻣﺎﻧﮕﻮ - ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﻲ ﮐﺎ ﺑﮍﮮ ﻣﯚﺩﺑﺎﻧﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﻴﮟ ﺷﮑﺮﻳﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﻴﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮ ﮔﻴﺎ -
ﺳﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺟﻮﺍﻥ ﻟﮍﮐﻲ ﺑﻴﻤﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﻲ - ﺍﺱ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻲ ﺑﻴﻤﺎﺭﻱ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﻌﺬﺭﺕ ﮐﺮ ﻟﻲ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﮯ ﻟﻴﮱ ﺷﮩﺮ ﺑﮭﻴﺞ ﺩﻳﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺷﺎﻳﺪ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﻣﺎﮨﺮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺍﺱ ﮐﻲ ﺑﻴﻤﺎﺭﻱ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﻴﮟ ﮐﺎﻣﻴﺎﺏ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﻴﮟ -
ﺍﺱ ﻟﮍﮐﻲ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﺋﻨﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻴﮱ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﻮ ﺑﻼﻳﺎ ﮔﻴﺎ - ﺟﺐ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻣﺮﻳﺾ ﻓﻼﮞ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﺁﻳﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻳﮏ ﻋﺠﻴﺐ ﺳﻲ ﮐﻴﻔﻴﺖ ﻃﺎﺭﻱ ﮨﻮ ﮔﺌﻲ - ﺗﻴﺰﻱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﺮﻳﺾ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﻲ ﻃﺮﻑ ﮔﻴﺎ - ﺟﻴﺴﮯ ﮨﻲ ﻭﮦ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﻴﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﻲ ﮨﻲ ﻧﻈﺮ ﻣﻴﮟ ﻟﮍﮐﻲ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻟﻴﺎ -
ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻤﻠﮯ ﮐﻮ ﻓﻮﺭﻱ ﺣﮑﻢ ﺩﻳﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﺮﻳﺾ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻟﺠﮯ ﮐﮯ ﻟﻴﮱ ﻓﻮﺭﻱ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺗﻤﺎﻡ ﺿﺮﻭﺭﻱ ﺍﻗﺪﺍﻣﺎﺕ ﮐﻴﮯ ﺟﺎﺋﻴﮟ - ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻲ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﺩﻳﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﮐﻲ ﮔﺌﻲ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﮍﻱ ﻣﺤﻨﺖ ﺍﻭﺭ ﺩﻗﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻋﻼﺝ ﮐﻴﺎ ﮔﻴﺎ -
ﺁﺝ ﺍﺱ ﻣﺮﻳﻀﮧ ﮐﺎ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﻴﮟ ﺁﺧﺮﻱ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ - ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﮐﺎ ﺑﻞ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻴﮱ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﮯﺣﺪ ﭘﺮﻳﺸﺎﻥ ﺗﮭﻲ ﺍﻭﺭ ﻳﮧ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﻲ ﺗﮭﻲ ﮐﮧ ﺷﺎﻳﺪ ﺳﺎﺭﻱ ﻋﻤﺮ ﺍﺱ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﮐﺎ ﺑﻞ ﺍﺩﺍ ﻧﮩﻴﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﮰ ﮔﻲ - ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺑﻞ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﻨﮕﻮﺍﻳﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎﻏﺬ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﺍﻳﮏ ﺟﻤﻠﮧ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺍﻳﮏ ﭘﻴﮑﭧ ﻣﻴﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﮐﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺍﺭﺳﺎﻝ ﮐﺮ ﺩﻳﺎ -
ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻴﮟ ﺟﺐ ﻳﮧ ﻟﻔﺎﻓﮧ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﺮﻳﺸﺎﻧﻲ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﻴﮟ ﺍﺱ ﻟﻔﺎﻓﮯ ﮐﻮ ﮐﮭﻮﻻ - ﻭﮦ ﻳﮧ ﺩﻳﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺣﻴﺮﺍﻥ ﮨﻮﺋﻲ ﮐﮧ ﺑﻞ ﭘﺮ ﺍﻋﺪﺍﺩ ﮐﻲ ﺑﺠﺎﮰ ﭼﻨﺪ ﮐﻠﻤﺎﺕ ﺩﺭﺝ ﮨﻴﮟ - ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﻠﻤﺎﺕ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﺎ -
ﺑﻞ ﭘﺮ ﺩﺭﺝ ﺗﮭﺎ " ﺍﺱ ﺑﻞ ﮐﻲ ﺍﺩﺍﺋﻴﮕﻲ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻲ ﺩﻭﺩﮪ ﮐﮯ ﺍﻳﮏ ﮔﻼﺱ ﮐﻲ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﻴﮟ ﮨﻮ ﭼﮑﻲ ﮨﮯ "
" ﻣﻴﺮﮮ ﺧﻴﺎﻝ ﻣﻴﮟ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻳﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﻴﮑﻲ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻴﮱ ﻗﻴﻤﺖ ﻣﻘﺮﺭ ﻧﮩﻴﮟ ﮐﻲ ﺟﺎﺗﻲ "