Wednesday, September 30, 2015
٭اورنگزیب کی چَونّی۔٭
Tuesday, September 22, 2015
درزی کا جنازہ
ﻟﮑﮭﻨﻮ کے ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻏﺮﯾﺐ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﮨﺮ
ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﮯ ﻟﮱ ﺩﮐﺎﻥ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ...
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﺎ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮨﻮﮔﺎ، ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﭘﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﻞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﭘﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﺠﻮﻡ ﮨﻮﮔﺎ ...
ﻣﯿﮟ ﻏﺮﯾﺐ ﮨﻮﮞ ﻧﮧ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻟﻮﮒ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﭘﺮ ﮐﻮﻥ ﺁﮰ ﮔﺎ ...
ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮐﮧ 1902 ﺀ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﺊ ﻟﮑﮭﻨﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺍ ...
ﺭﯾﮉﯾﻮ ﭘﺮ ﺑﺘﻼﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺍﺧﺒﺎﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺁﮔﺌﯽ ..
ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺠﻤﻊ ﺗﮭﺎ . ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﻧﮑﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﮯ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ
ﺟﺐ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ
ﺟﻨﺎﺯﮦ ﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ . ﺍﻭﺭ ﺍﻋﻼﻥ ﮨﻮﺍ
ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﺟﺰ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ...
ﯾﮧ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍﺱ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ... ﻣﻮﻻﻧﺎ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﮯ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ، ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﮯ ، ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﺳﮯ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺭﮦ گئے ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﮔﺌﮯ ۔ ﺍﺱ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ تو ﻣﻮﻻﻧﺎ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﻧﮑﻼ
ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻻﺝ
ﺭﮐﮭﯽ ...
ﺳﭻ ﮐﮩﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﺧﻼﺹ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﻧﻌﻤﺖ ﮬﮯ.
Tuesday, June 16, 2015
دلچسپ بہترین واقعہ
دلچسپ بہترین واقعہ
یہ آج سے چھ سو سال پہلے کا ذکر ہے،عراق کے شہر بغداد میں ایک تاجرمصطفی بغدادی رہا کرتا تھا۔دنیا جہاں کی ہر نعمت اسے میسر تھی۔اللہ تعالیٰ نے اسے چار بیٹوں سے نوازا تھا۔
مصطفی ایک نہایت عقلمند انسان تھا۔وہ اپنے بیٹوں کو ایسی تعلیم و تربیت دینا چاہتا تھا جو دنیا و آخرت دونوں میں ممد و معاون ثابت ہو۔بغداد پوری دنیا علم و ادب کا مرکز تھا اور پوری دنیا سے لوگ بغداد میں تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔
مصطفی نے بغداد کے مشہور و معروف عقلمند لوگوں سے اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں مشورہ کیا اور پھر ایک انوکھا فیصلہ کیا۔
چاروں بیٹوں کو اس نے عالم بنانے کا فیصلہ کیا اور بغداد کے سب سے بڑے مدرسے میں داخل کروا دیا۔
سال گزرتے گئے اور آخر وہ دن بھی آگیا جب چاروں بیٹے مکمل عالم کے روپ میں اس کے سامنے کھڑے تھے۔ان کے اساتذہ سے مشورے کے بعد مصطفی نے ان کے مستقبل کے کچھ نئے فیصلے کئے تھے۔بیٹے بھی نہایت فرمانبردار تھے۔
سب سے بڑے بیٹے عبد الودود کو اسی مدرسے میں مزید دینی تخصص اور مہارت کا راستہ دکھایا۔
دوسرے بیٹے عبدالحئی کو اس کے جوہر دیکھتے ہوئے تعلیم کا سلسلہ موقوف کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے خاطر خواہ خرچہ دے کر اردگرد کے ممالک میں دعوت و تبلیغ کے لئے بھجوا دیا۔
تیسرے بیٹے عبدالغافر کوتربیت و تزکیہ کے لئے بغداد کے شہرۂ آفاق شیخ کے سپرد کردیا۔
اور چوتھا بیٹا عبد الباقی جو بچپن سے پھرتی میں اپنی مثال آپ تھا،کوایک مشہور فنون سپاہ گری کے ماہر کے حوالہ کردیا،جہاں سے مہارت حاصل کرنے کے بعد وہ ایک مشہور مسلمان سپہ سالار کے لشکر میں شامل ہوگیا۔
پانچ سال کا عرصہ گزر گیا تو مصطفی بغدادی نے چاروں بیٹوں کو بلایا اوران کو جانچنے کے لئے کچھ سوالات کئے۔
بڑا بیٹا جو ایک نامور عالم بن چکا تھا،اپنے علم پر کچھ نازاں دکھائی دیا۔اور یہی صورتحال اس نے اپنے مبلغ،صوفی اور مجاہد بیٹے میں محسوس کی۔
اسے محسوس ہوا کہ ہر کوئی اپنے شعبے کو برتر اور دوسرے کے شعبے کو کمتر تصور کررہا ہے،گویا وہ دین کے جزو کو دین کا کُل تصور کررہے تھے۔
مصطفی بغدادی نے چاروں بیٹوں کے اساتذہ سے مشاورت کے بعد ان کی موجودگی میں بیٹوں کو سمجھانے کا فیصلہ کیا۔
"میرے پیارے بیٹو!دین کے چار شعبے ہیں؛تبلیغ،جہاد،تعلیم و تعلم اور تزکیہ۔مسلمان اس وقت کامیاب ہوں گے جب ان چاروں شعبوں میں جوڑ ہوگا،مرکزیت ہوگی،اجتماعیت ہوگی ورنہ یہ شعبے ٹکڑے ٹکڑے رہیں گے اور مسلمان کامیاب نہیں ہوں گے۔"
مصطفی نے ایک گہرا سانس لیااوراپنی بات جاری رکھی۔
"تم لوگو ں کی اس طرز کی تربیت میں میری بہت گہری منصوبہ بندی تھی۔تمہارا اصل کام اب شروع ہوگا۔اور وہ ہے کہ مسلمانوں کو کس طرح امت میں جوڑا جائے اور ان کو اس سے بچایا جائے کہ میں مجاہد ہوں،میں تبلیغی ہوں،میں صوفی ہوں،میں عالم ہوں اور دوسرے سے میرا کوئی تعلق نہیں،بجائے اس کے وہ کہے کہ سارے ہمارے اپنے ہیں۔اگر ہم اس طرح کریں گے تو ہمیں سب جماعتوں کا ثواب ملے گا۔"
"عبد الباقی کی طرح اس مجاہد کا ثواب ملے گا جو کفر کے ساتھ حقیقی معنوں میں برسرِپیکار ہے۔"
"عبد الحئی کی طرح اس مبلغ کا ثواب ملے گا جو دوردراز تبلیغ کے لئے جاتا ہے۔"
"عبدالودود کی طرح اس مدرس کا ثواب ملے گا جو تدریس کررہا ہے۔ "
اور
"عبد الغافر کی طرح اس صوفی کا ثواب ملے گاجونفس کا تزکیہ کررہا ہے۔"
مصطفی بغدادی یہ کہہ کر چپ ہوگیا،اساتذہ کے چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ پھیل چکی تھی اور سارے بیٹے ہر شعبے کی افادیت جان چکے تھے اور اب وہ ایک دوسرے کے ہاتھ میں مضبوطی سے ہاتھ دیے کھڑے تھے۔(سبحان اللہ)
۔_______________________
Wednesday, March 18, 2015
ہارون رشید نے اسے پھر آزاد کردیا.
Tuesday, March 17, 2015
ایثار و ہمدردی
Monday, March 9, 2015
اورنگزیب کی چونّی
http://ur.wikipedia.org/wiki/اورنگزیب_عالمگیر
اورنگزیب کی چونّی
| عہد حکومت |
31 جولائی 1658 - 3 مارچ 1707
|
|---|---|
| تاج پوشی | |
| پورا نام |
ابوالمظفر محیالدین محمد اورنگزیب عالمگیر
|
| پیدائش |
4 نومبر 1618
|
| جائے پیدائش | |
| وفات |
3 مارچ 1707 (عمر 88 سال)
|
| جائے وفات | |
| مدفن | |
| پیشرو | |
| جانشین | |
| بیویاں |
نواب راج بائی بیگم
دلرس بانو بیگم
ہیرا بائی زین آبادی محل
اورنگ آبادی محلاُدے پوری محل |
| خاندان | مغل |
| والد | شاہجہان |
| والدہ | ممتاز محل |
| مذہب | اسلام |
Friday, March 6, 2015
~~حسن اخلاق کی قیمت~~
عربی میں "سکر" چینی کو کہتے ھیں... دراصل ان کے اخلاق اتنے میٹھے تھے... کہ ان کی ھر بات چینی کی طرح مزیدار لگتی تھی...
لھذا انکے اخلاق کی بدولت لوگوں نے انھیں "سکری" مشھور کردیا تھا...
جب محلے والوں کو علم ھوا تو انھوں نے وجہ پوچھی؟... کہنے لگے... مجھ پر مشکل وقت آگیا ھے... اور معاشی طور پر کمزور ھوگیا ھوں...
اخلاق برتنے میں امیر اور غریب، میں فرق نہ کیجۓ،