Thursday, July 20, 2017

چالاک درزی

مولانا رومی رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ ایک شیریں زبان آدمی رات کو دوستوں کی محفل میں بیٹھ کر درزیوں کے بارے میں مزے دار قصے سنا رہا تها، داستان گو اتنی معلومات رکهتا تها کہ باقاعدہ اچها خاصا درزی نامہ مرتب ہو سکتا تها، جب اس آدمی نے درزیوں کی چوری اور مکاری سے گاہکوں کا کپڑا غائب کر دینے کے ان گنت قصے بیان کر ڈالے، سننے والوں میں ملک خطا کا ایک ترک جسے اپنی دانش و ذہانت پر بڑا ناز تها کہنے لگا :
" اس علاقے میں سب سے گرو درزی کونسا ہے ...؟ "

داستان گو نے کہا :
" یوں تو ایک سے ایک ماہر فن اس شہر کے گلی کوچوں میں موجود ہیں، لیکن پورش نامی درزی بڑا فنکار ہے، اس کے کاٹے کا منتر ہی نہیں، ہاتھ کی صفائی میں ایسا استاد کہ کپڑا تو کپڑا آنکهوں کا کاجل تک چرالے اور چوری کا پتہ نہ لگنے دے ... "

ترک کہنے لگا :
" لگا لو مجھ سے شرط میں اس کے پاس کپڑا لے کر جاؤں گا، اور دیکهوں گا کہ وہ کیونکر میری آنکهوں میں دهول پهونک کے کپڑا چراتا ہے، میاں کپڑا تو درکنار ایک تار بهی غائب نہ کر سکے گا ...! "

دوستوں نے جب یہ سنا تو کہنے لگے :
" ارے بهائی ذیادہ جوش میں نہ آ، تجھ سے پہلے بهی بہت سے یہی دعوی کرتے آئے اور اس درزی سے چوٹ کها گئے، تو اپنی عقل و خرد پر نہ جا، دهوکا کهائے گا ...! "

محفل برخاست ہونے کے بعد ترک اپنے گهر چلا گیا، اسی پیچ و تاب اور فکر و اضطراب میں ساری رات گزاری، صبح ہوتے ہی قیمتی اطلس کا کپڑا لیا اور پورش درزی کا نام پوچهتا پوچهتا اس کی دکان پر پہنچ گیا، درزی اس ترک گاہک کو دیکهتے ہی نہایت ادب سے کهڑا ہوکر تسلیمات بجا لایا، درزی نے خوش اخلاقی و تعظیم و کریم کا ایسا مظاہرہ کیا کہ ترک بےحد متاثر ہوا اور دل میں کہنے لگا :
" یہ شخص تو بظاہر ایسا عیار اور دغاباز نظر نہیں آتا، لوگ بهی خواہ مخواہ رائی کا پہاڑ بنا دیتے ہیں ...! "

یہ سوچ کر قیمتی اطلس درزی کے آگے دهر دی اور کہنے لگا
" اس اطلس کی قبا مجهے سی دیں ... "

درزی نے دونوں ہاتھ ادب سے اپنے سینے پر باندهے اور کہنے لگا :
" حضور قبا ایسی سیوں گا جو نہ صرف آپ کے جسم پر زیب دے گی بلکہ دنیا دیکهے گی ...!"

اس نے کپڑا گز سے ناپا، پهر کاٹنے کے لئے جابجا اس پر نشان لگانے لگا، ساتھ ہی ساتھ ادهر ادهر کے پرلطف قصے چهیڑ دیئے ہنسنے ہنسانے کی باتیں ہونے لگیں، جن میں ترک کو بےحد دلچسپی ہوگئی، جب درزی نے اسکی دلچسپی دیکهی تو ایک مزاحیہ لطیفہ سنایا جسے سن کر ترک ہنسنے لگا اس کی چندهی چندهی آنکهیں اور بهی مچ گئیں درزی نے جهٹ پٹ کپڑا کاٹا اور ران تلے ایسا دبایا کہ سوائےخدا کی ذات کے اور کوئی نہ دیکھ سکا، غرض کی اس پرلطف داستان سرائی میں ترک اپنا اصل مقصد اور دعوی فراموش کر بیٹها، کدهر کی اطلس، کہاں کی شرط، ہنسی مذاق میں سب سے غافل ہو گیا، اور ترک درزی سے کہنے لگا کہ :
" ایسی ہی مزیدار کوئی اور بات سناو ...! "

درزی نے پهر چرب زبانی کا مظاہرہ کیا، ترک اتنا ہنسا کہ اس کی آنکهیں بالکل بند ہوگئیں، ہوش و حواس رخصت، عقل و خرد الوداع، اس مرتبہ درزی نے پهر کپڑا کاٹ کر ران تلے دبا لیا، ترک نے چوتهی بار مذاق کا تقاضا کیا تو درزی کو کچھ حیا آ گئی اور کہنے لگا :
" مزید تقاضا نہ کر اگر ہنسی کی اور بات کہوں گا تو تیری قبا تنگ ہو جائے گی ...! "

مولانا رومی رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ نصیحت فرماتے ہیں کہ :
" جانتے ہو وہ ترکی کون تها ...؟
دغاباز درزی کون تها ...؟
اطلس کیا ہے ...؟
اور ہسنی مذاق کیا ہے ...؟
قینچی کیا ہے ...؟
اور قبا کیا چیز ہے ...؟ "

" سنوں ...! وہ غافل ترک "تیری ذات ہے" جسے اپنی عقل و خرد پر بڑها بهروسہ ہے، وہ عیار دهوکہ باز درزی "یہ دنیائے فانی"  ہے، ہنسی مذاق "نفسانی جذبات" ہیں، " تیری عمر" اطلس پر دن رات درزی کی "قینچی" کی مانند چل رہے ہیں دل لگی کا شوق تیری "غفلت" ہے، اطلس کی قبا تجهے
"بهلائی اور نیکی" کے لئے سلوانی تهی، وہ فضول مذاق اور قہقہوں میں تباہ و برباد ہو گئی ...! "

Saturday, July 1, 2017

ستارہ مچھلی اور ہمارا کام

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک دانشمند مضمون نگاری کے لئے سمندر کا رخ کیا کرتا تھا- اس کی عادت تھی کہ کام شروع کرنے سے پہلے وہ ساحل سمندر پر چہل قدمی کیا کرتا تھا۔

ایک روز وہ ساحل پر ٹہل رہا تھا تو اسے کچھ دور کنارے پر ایک انسانی ہیولا کسی رقاص کی مانند حرکت کرتا دکھائی دیا- وہ متجسس ہوا کہ یہ کون شخص ہے جو دن کا آغاز رقص سے کرتا ہے- یہ جاننے کے لئے وہ تیز قدموں سے اس کی جانب چل پڑا- وہ نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایک نوجوان ہے- نوجوان رقص نہیں کر رہا تھا- وہ ساحل پر جھکتا، کوئی شے اٹھاتا اور پھر پھرتی سے اسے دور سمندر میں پھینک دیتا۔

دانش مند اس نوجوان کے پاس پہنچا اور بلند آواز میں پوچھا، "صبح بہ خیر جوان! یہ تم کیا کر رہے ہو ؟"

نوجوان نے قدرے توقف کیا نظریں اٹھا کر دانش مند کی جانب دیکھا اور بولا

"ستارہ مچھلی کو سمندر میں پھینک رہا ہوں"

"میں سمجھا نہیں۔ تم ستارہ مچھلی کو سمندر میں کیوں پھینک رہے ہو؟"

"سورج چڑھ رہا ہے اور لہریں پیچھے ہٹ رہی ہیں۔ میں نے انھیں پانی میں نہیں پھینکا تو یہ مر جائیں گی۔"

"لیکن نوجوان! یہ ساحل تو میلوں تک پھیلا ہوا ہے اور سارے ساحل پر ستارہ مچھلیاں بکھری ہوئی ہیں ممکن نہیں کہ تمھاری اس کوشش سے کوئی فرق پڑے"

نوجوان نے شائستگی سے دانش مند کی بات سنی، نیچے جھک کر ایک اور ستارہ مچھلی اٹھائی اور اسے پیچھے ہٹتی ہوئی لہروں کے اندر پوری قوت سے اچھالتے ھوئے بولا

"لیکن اس کے لیے تو فرق پڑ گیا نا"

ہمیں بھی اسی طرح ہر کسی کے ساتھ اچھائی کرتے رہنا چاہیے یہ سوچے بغیر کہ اس سے معاشرے پر فرق پڑے گا کہ نہیں، کیوںکہ جس کے ساتھ اچھائی کی گئی اُس پر تو پڑے گا نا۔۔