ایک آخری ملاقات کی خواہش
شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ نے اپنے خطبات میں ایک واقعہ نقل فرمایا ہے کہ ایک لڑکے کو ایک لڑکی سے محبت ہوگئی مگر اس لڑکی کی کسی اور جگہ شادی ہو گئی ، لڑکا بڑا پریشان ہوا لڑکی کو خط لکھا کہ بی بی !میں تمہارے ساتھ شادی کی کوشش میں تھا مگر قسمت میں نہیں تھا ۔ اب آپ میرے ساتھ ایک مرتبہ ملاقات کر لیں اس کے لئے جو بھی فرمائش ہوگی میں پوری کروں گا ۔ لڑکی نیک تھی اس نے کہا حضرت فاروق اعظمؓ کے پیچھے چالیس دن تک نماز با جماعت پڑھ لو پھر جہاں بلائیں گے حاضر ہو جاؤں گی ۔۔۔ لڑکا پہلے لڑکی کے مکان کی طرف چکر لگاتا تھا مگر چالیس دن بعد اس نے جانا ختم کردیا ۔۔۔لڑکی نے پیغام بھجوایا کہ اگر میری فرمائش پوری کی ہے تو میں حاضر ہوں ۔۔۔ لڑکے نے کہا پہلے میرے دل میں آپ کی محبت تھی مگر اب اللہ تعالیٰ کی محبت بیٹھ گئی ہے اب آپ کا اور میرا راستہ جدا ہے ۔۔۔ لڑکی نے خاوند کو یہ بات بتلادی اس کے خاوند نے فاروق اعظمؓ کو یہ بات بتلائی تو آپ نے فرمایا کہ اللہ نے سچ فرمایا : ’’بے شک نماز لوگوں کو بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے ۔‘‘ (خطبات مدنی)
Wednesday, May 31, 2017
ایک آخری ملاقات کی خواہش
Tuesday, May 30, 2017
آخری سہارا
ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺴﯽ ﻣﮩﻠﮏ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﻥ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺟﺐ ﺍﺳﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻃﺒﯿﺒﻮﮞ ﻧﮯ ﺻﻼﺡ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﺻﺮﻑ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺘﮯ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺘﮯ ﺳﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﯾﮧ ﺧﺎﺹ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﻮﮞ۔ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺣﮑﯿﻤﻮﮞ ﻧﮯ ﻭﮦ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺷﺎﮨﯽ ﭘﯿﺎﺩﮮ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﮐﺮ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﻮﮞ ﺍﺳﮯ ﻟﮯ ﺁﺋﯿﮟ۔ ﭘﯿﺎﺩﻭﮞ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺗﻼﺵ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ۔ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﯼ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻞ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﭘﯿﺎﺩﻭﮞ ﻧﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﭘﺘﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻟﮯ ﻟﮯ ۔ ﮐﺴﺎﻥ ﺑﮩﺖ ﻏﺮﯾﺐ ﺗﮭﺎ۔ ﮈﮬﯿﺮ ﺳﺎﺭﺍ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺁﻣﺎﺩﮦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ۔ ﺧﺎﺹ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﻭﺍﻻ ﻟﮍﮐﺎ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺏ ﻗﺎﺿﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﭘﺘﺎ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﻮﮔﺎ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ! ﻗﺎﺿﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻓﺘﻮﯼٰ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﻥ ﮐﻮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔ ﻗﺎﺿﯽ ﮐﮯ ﻓﺘﻮﮮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻟﮍکے ﮐﻮ ﺟﻼّﺩ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ پتا ﻧﮑﺎﻝ ﻟﮯ ﻟﮍﮐﺎ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺑﮯ ﺑﺲ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯾﺎﮞ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺗﮭﺎ۔ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺟﻼﺩ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺁ ﮔﺌﯽ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ۔ ﺟﻼّﺩ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻧﻨﮕﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺗﻮ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﮐﺎﻧﭙﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻼّﺩ ﮐﻮ ﺭﮐﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻟﮍﮐﮯ۔ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﺘﺎ، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﺗﮭﺎ؟ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ، ﺣﻀﻮﺭ ﻭﺍﻻ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﮯ ﻻﻟﭻ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻗﺎﺿﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻇﺎﻟﻢ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺳﺘﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﮐﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺎﺿﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﺍ ﺁﺧﺮ ﯼ ﺳﮩﺎﺭ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﻼّﺩ ﻧﻨﮕﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺮﭘﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﺑﮭﯽ ﻇﺎﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ۔ ﺑﺲ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﻨﺴﯽ ﺁ ﮔﺌﯽ۔ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﯽ ﺗﻮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮں ﺁ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ۔ ﮨﻢ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﻟﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﺍُﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﭩﮭﺎ ﮐﺮ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺗﺤﻔﮯ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﯿﺎ۔ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮔﮭﭩﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻭﮦ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺗﻨﺪﺭﺳﺖ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔
ﺟﺎﻥ ﺧﻮﺍﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﯽ، ﻗﺪﺭ ﻭ ﻗﯿﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﯿﮟ۔ ﻧﯿﺰ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﻏﺮﺽ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﭘﺎﻣﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺗﻨﮯ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﻴﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﻧﻔﻊ ﻣﯿﮟ ﺧﻠﻖ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﺭﺣﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ۔ ۔ ۔ !!
.... .... ﺣﮑﺎﯾﺎﺕ ﺳﻌﺪﯼؒ
Wednesday, May 24, 2017
دروازہ کھلا رکھنا
امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں: ایک بار راہ چلتے ہوئے میں نے دیکھا، ایک ڈاکو لوگوں کو لوٹ رہا ہے۔ کچھ دنوں بعد مجھے وہی شخص مسجد میں نماز پڑھتا نظر آیا۔ میں اس کے پاس گیا اور اسے سمجھایا کہ تمہاری یہ کیا نماز ہے۔ خدا کے ساتھ معاملہ یوں نہیں کیا جاتا کہ ایک طرف تم لوگوں کو لوٹو اور دوسری طرف تمہاری نماز خدا کو قبول اور پسند آتی رہے۔ ڈاکو بولا: امام صاحب! میرے اور خدا کے مابین تقریباً سب دروازے بند ہیں۔ میں چاہتا ہوں کوئی ایک دروازہ میرے اور خدا کے مابین کھلا رہے۔
کچھ عرصہ بعد میں حج پر گیا۔ طواف کے دوران دیکھتا ہوں ایک شخص کعبہ کے غلاف سے چمٹ کر کھڑا کہتا جا رہا ہے: میری توبہ، مجھے معاف کردے۔ میں اس نافرمانی کی طرف کبھی پلٹنے والا نہیں۔ میں نے دیکھنا چاہا اس بےخودی کے عالم میں آہیں بھر بھر کر رونے والا کون خوش قسمت ہے۔ کیا دیکھتا ہوں، یہ وہی شخص ہے جسے میں نے بغداد میں ڈاکے ڈالتے دیکھا تھا!!!
تب میں نے دل میں کہا: خوش قسمت تھا، جس نے خدا کی طرف جانے والے سب دروازے بند نہیں کر ڈالے؛ خدا مہربان تھا جس نے وہ سبھی دروازے آخر کھول ڈالے!
تو کیسے بھی برے حال میں ہو، کتنے ہی گناہگار ہو… خدا کے ساتھ اپنے سب دروازے بند مت کر لینا۔ جتنے دروازے کھلے رکھ سکتے ہو انہیں کھلے رکھنے کےلیے شیطان کے مقابلے پر مسلسل زور مارتے رہنا… اور کبھی ہار مت ماننا۔ کوئی ایک بھی دروازہ یہاں کھلا مل گیا تو کچھ بعید نہیں وہ سب دوروازے ہی کھل جائیں، جن کے بارے میں تمہیں کبھی آس نہ تھی کہ خدا کی جانب سفر میں ان سب خوبصورت راہوں سے تمہارا کبھی گزر ہو گا!!!
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ (الزمر:)
کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے! خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔ رجوع کر لو اپنے پروردگار سے اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو…
خیال رکھنا… خدا کی جانب کبھی پشت مت کرنا!
ShareTuesday, May 16, 2017
شاہِ مرداں، شیرِ یزداں قوتِ پروردگار
اسکا نام عمرو بن عبدود تھا یہ اگرچہ نوے برس کا خرانٹ بڈھا تھا۔ مگر ایک ہزار سواروں کے برابر بہادر مانا جاتا تھا۔ کٹر یہودی تھا جنگ بدر میں زخمی ہوکر بھاگ نکلا تھا اور اس نے یہ قسم کھا رکھی تھی کہ جب تک مسلمانوں سے بدلہ نہ لے لوں گا بالوں میں تیل نہ ڈالوں گا۔ جی بھر کے کھانا نہیں کھاؤنگا۔ جنگ خندق میں یہ آگے بڑھا اور چلا چلا کر مقابلہ کی دعوت دینے لگا تین مرتبہ اس نے کہا کہ کون ہے جو میرے مقابلہ کو آتا ہے؟ تینوں مرتبہ حضرت علی شیر خدا نے اُٹھ کر جواب دیا کہ ” میں ” حضور ﷺ نے روکا کہ اے علی ! یہ عمرو بن عبدود ہے۔ حضرت علی شیر خدا نے عرض کیا کہ جی ہاں میں جانتا ہوں کہ یہ عمرو بن عبدود ہے ۔۔ لیکن میں اس سے لڑوں گا۔ یہ سن کر تاجدار نبوت ﷺ نے اپنی خاص تلوار ذوالفقار اپنے دست مبارک سے حیدر کرار کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے مقدس ہاتھ میں دے دی اور اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کے سر انور پر عمامہ باندھا اور یہ دعا فرمائی کہ یا اللہ ! عزوجل تو علی کی مدد فرما۔ حضرت اسد ﷲ الغالب علی بن ابی طالب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ مجاہدانہ شان سے اس کے سامنے کھڑے ہو گئے اور دونوں میں اس طرح مکالمہ شروع ہوا حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ : اے عمرو بن عبدود ! تو مسلمان ہوجا بہتر یہ ہی ہے تیرے لیے ! عمرو بن عبدود : یہ مجھ سے ہرگز نہیں ہو سکتا !
حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ : لڑائی سے واپس چلا جا ! عمرو بن عبدود : یہ مجھے منظور نہیں حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ : تو پھر مجھ سے جنگ کر! عمرو بن عبدود : ہنس کر کہا کہ میں کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دنیا میں کوئی مجھ کو جنگ کی دعوت دے گا۔ حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ : لیکن میں تجھ سے لڑنا چاہتا ہوں۔ عمرو بن عبدود : آخر تو ہے کون کس کا بچہ ہے اور تمہارا نام کیا ہے؟ حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ : علی بن ابی طالب عمرو بن عبدود : اوہ اے بھتیجے! تم ابھی بہت ہی کم عمر ہو میں تمہارا خون بہانا پسند نہیں کرتا۔ حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ : لیکن میں تمہارا خون بہانے کو بے حد پسند کرتا ہوں۔چناچہ عبدود خون کھولا دینے والے یہ گرم گرم جملے سن کر مارے غصہ کے آپے سے باہر ہو گیا ۔۔ حضرت شیر خدا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم پیدل تھے اور یہ سوار تھا اس پر جو غیرت سوار ہوئی تو گھوڑے سے اتر پڑا اور اپنی تلوار سے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے اور ننگی تلوار لے کر آگے بڑھا اور حضرت شیر خدا پر تلوار کا بھر پور وار کیا ۔۔۔ حضرت شیر خدا نے تلوار کے اس وار کو اپنی ڈھال پر روکا ۔۔ یہ وار اتنا سخت تھا کہ تلوار ڈھال اور عمامہ کو کاٹتی ہوئی پیشانی پر لگی گو بہت گہرا زخم نہیں لگا مگر پھر بھی زندگی بھریہ طغریٰ آپ کی پیشانی پر یادگار بن کر رہ گیا حضرت علی شیر خدا رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے تڑپ کر للکارا کہ اے عمرو ! سنبھل جا اب میری باری ہے یہ کہہ کر اسد ﷲ الغالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے ذوالفقار کا ایسا جچاتلا ہاتھ اور اتنا زبردست وار مارا کیا تلوار دشمن کے شانے کو کاٹتی ہوئی کمر سے پار ہو گئی مگر اسے احساس تک نہ ہوا کہ یہ ہوا کیا ہے ۔۔ اور بولا اور کوشش کرو یہ کہتے ہوئے تھوڑا پیچھے ہٹا۔۔ تو دو ٹکڑے ہوئے اور وہ تلملا کر زمین پر گرا اور دم زدن میں مر کر فی النار ہو گیا ۔۔ اور میدان کار زار زبان حال سے پکار اٹھا کہ
شاہِ مرداں، شیرِ یزداں قوتِ پروردگار
لَا فَتٰي اِلَّا عَلِي لَا سَيْفَ اِلَّا ذُوالْفِقَار
حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کو قتل کیا اور منہ پھیر کر چل دیئے حضرت عمررضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے علی ! آپ نے عمرو بن عبدود کی زرہ کیوں نہیں اتار لی ؟ سارے عرب میں اس سے اچھی کوئی زرہ نہیں ہے آپ نے فرمایا کہ اے عمر ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ ذوالفقار کی مار سے وہ اس طرح بے قرار ہو کر زمین پر گرا کہ اس کی شرمگاہ کھل گئی اس لئے حیاء کی وجہ سے میں نے منہ پھیر لیا ۔۔۔
📚 ابن کثیر بحوالہ البدایہ والنھایہ ج ٤ صفحہ ١٠٦
کشف الباری ج ٨صفحہ ٢٧٩
ShareMonday, May 8, 2017
فاتح عالم عمر فاروق رضی اللہ عنہ
ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﮐﺎ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ 20ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎ۔ 23 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﯾﻮﻧﺎﻥ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺗﺮﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ، ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ ﺩﯼ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺷﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﺮﻭﺷﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺑﻞ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﯿﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻣﺼﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﺍٓﯾﺎ، ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﺱ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﻟﮍﯼ، ﺍﭘﻨﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺍﺯ ﺟﺎﻥ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺎﻟﯿﮧ ﺷﮩﺮ ﺍٓﺑﺎﺩ ﮐﯿﺎ، ﻣﮑﺮﺍﻥ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ، ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭨﺎﺋﯿﻔﺎﺋﯿﮉ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ 323 ﻗﺒﻞ ﻣﺴﯿﺢ ﻣﯿﮟ 33 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺨﺖ ﻧﺼﺮ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ، ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﻭﮦ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﻋﻈﯿﻢ ﺟﺮﻧﯿﻞ، ﻓﺎﺗﺢ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺩﯼ ﮔﺮﯾﭧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍٓﺝ ﺍﮐﯿﺴﻮﯾﮟ ﺻﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﻮ ﺳﮑﻨﺪﺭﺍﻋﻈﻢ ﮐﮩﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﻮ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﺯﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍٓﭖ ﺑﮭﯽ ﺳﻮچیے
ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﮍﺳﻮﺍﺭﯼ ﺳﮑﮭﺎﺋﯽ، ﺍﺳﮯ ﺍﺭﺳﻄﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﻠﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﯿﺲ
ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺗﺨﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺝ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ 7 ﭘﺸﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺰﺭﺍ ﺗﮭﺎ، ﺍٓﭖ ﺑﮭﯿﮍ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺑﺎﺯﯼ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﮐﯿﮉﻣﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﯿﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ 17 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ 22 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺳﭙﺮ ﭘﺎﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﯿﮟ۔
ﺍٓﺝ ﮐﮯ ﺳﯿﭩﻼﺋﭧ، ﻣﯿﺰﺍﺋﻞ ﺍﻭﺭ ﺍٓﺑﺪﻭﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﺍﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻭ ﺍﻧﺼﺮﺍﻡ ﺑﮭﯽ ﭼﻼﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﻧﮯ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻞ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺍﺋﮯ، ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌﺍ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺑﻐﺎﻭﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺳﺮﺗﺎﺑﯽ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ.
ﻭﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻋﯿﻦ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺳﭙﮧ ﺳﺎﻻﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻣﻌﺰﻭﻝ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺣﮑﻢ ﭨﺎﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻭﻗﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﮐﻮﻓﮯ ﮐﯽ ﮔﻮﺭﻧﺮﯼ ﺳﮯ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺎﺭﺙ ﺑﻦ ﮐﻌﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮﯼ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﮯ ﻟﯽ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﻣﺎﻝ ﺿﺒﻂ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻤﺺ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﻼ ﮐﺮ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﻋﺪﻭﻟﯽ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔
ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭﻧﮯ 17 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻈﺎﻡ ، ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺴﭩﻢ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺳﮑﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﺴﭩﻢ ﺩﯾﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺋﺞ ﮨﯿﮟ،
✅ ﺳﻦ ﮨﺠﺮﯼ ﮐﺎ ﺍﺟﺮﺍ ﮐﯿﺎ۔
✅ ﺟﯿﻞ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺩﯾﺎ۔
✅ ﻣﻮٔﺫﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮨﯿﮟ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮟ
✅ ﻣﺴﺠﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺎ ﺑﻨﺪ ﻭ ﺑﺴﺖ ﮐﺮﺍﯾﺎ.
✅ﭘﻮﻟﺲ ﮐﺎ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔
✅ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﻤﻞ ﻋﺪﺍﻟﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ۔
✅ ﺍٓﺏ ﭘﺎﺷﯽ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﺍﯾﺎ۔
✅ ﻓﻮﺟﯽ ﭼﮭﺎﻭٔﻧﯿﺎﮞ ﺑﻨﻮﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺝ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎ۔
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﺘﮯ ﺑﭽﻮﮞ، ﻣﻌﺬﻭﺭﻭﮞ، ﺑﯿﻮﺍﻭٔﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍٓﺳﺮﺍﻭٔﮞ ﮐﮯ ﻭﻇﺎﺋﻒ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮯ۔
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ، ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﯾﺪﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻟﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﮯ ﮈﮐﻠﯿﺌﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎﺗﺼﻮﺭ ﺩﯾﺎ۔
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﺠﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ
ﮐﯿﺎ
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﻼﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺒﻠﭩﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ۔
✅ ﺍٓﭖ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﺠﺎﺭﺗﯽ ﻗﺎﻓﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﻮﮐﯿﺪﺍﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺍٓﭖ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﻋﺪﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﺳﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ ’’ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﭽﺎ ﺧﺎﺩﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔‘‘
ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻣﮩﺮ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ
’’ﻋﻤﺮ ! ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﺕ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ‘‘۔
◾ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺩﺳﺘﺮﺧﻮﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻭ ﺳﺎﻟﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺌﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﺮ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﯾﻨﭧ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﺳﻔﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺟﮩﺎﮞ ﻧﯿﻨﺪ ﺍٓﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍٓﭖ ﮐﺴﯽ ﺩﺭﺧﺖ ﭘﺮ ﭼﺎﺩﺭ ﺗﺎﻥ ﮐﺮ ﺳﺎﯾﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ
ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﻨﮕﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺩﺭﺍﺯ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﭘﺮ 14ﭘﯿﻮﻧﺪ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﯿﻮﻧﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﺥ ﭼﻤﮍﮮ ﮐﺎ ﭘﯿﻮﻧﺪ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔ ﺍٓﭖ ﻣﻮﭨﺎ ﮐﮭﺮﺩﺭﺍ ﮐﭙﮍﺍ ﭘﮩﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﻧﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﺗﮭﯽ۔
◾ ﺍٓﭖ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﮮ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺨﻤﯿﻨﮧ ﻟﮕﻮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﮮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺒﻠﭩﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺮﮐﯽ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﭘﺮ ﻧﮧ ﺑﯿﭩﮭﻨﺎ، ﺑﺎﺭﯾﮏ ﮐﭙﮍﮮ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﻨﺎ، ﭼﮭﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﭨﺎ ﻧﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ، ﺩﺭﺑﺎﻥ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ۔
◾ ﺍٓﭖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻇﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﯾﻨﺎ ﻣﻈﻠﻮﻣﻮﮞ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ.
◾ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻓﻘﺮﮦ ﺍٓﺝ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﭨﺮ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔ "ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺍٓﺯﺍﺩ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺐ ﺳﮯ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﺎﻟﯿﺎ۔"
◾ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ "ﻋﻤﺮ ﺑﺪﻝ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﯿﺎ۔‘‘
◾ ﺍٓﭖ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺗﮭﮯ، ﺟﻨﮩﯿﮟ ’’ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ‘‘ ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﮨﮯ ، *ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﻋﺪﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻭﮦ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﺍﺗﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻋﺪﻝ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﺪﻝ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻋﺪﻝِ ﻓﺎﺭﻭﻗﯽ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔
ﺍٓﭖ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﻘﺮﻭﺽ ﺗﮭﮯ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻭﺻﯿﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻭﺍﺣﺪ ﻣﮑﺎﻥ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻗﺮﺽ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻭﺍﺣﺪ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻓﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﺳﮯ ﻣﺮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻋﻤﺮ( ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ) ﮐﻮ ﺑﮭﮕﺘﻨﺎ ﮨﻮﮔﯽ۔
ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻋﺪﻝ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺗﮭﯽ۔ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺦ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ ’’ ﻟﻮﮔﻮ! ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔‘‘
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ﺗﻢ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺳﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﺎﻧﺤﮯ ﮐﯽ ﺍﻃﻼﻉ
ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ۔‘‘
ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﺑﻮﻻ ’’ﺟﺐ ﺗﮏ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺯﻧﺪﮦ ﺗﮭﮯ، ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯿﮍﯾﮟ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﻧﺪﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍٓﻧﮑﮫ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮞﺪﯾﮑﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍٓﺝ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯿﮍﯾﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯿﮍ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺍٓﺝ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔‘‘
ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﻮ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﻭﮦ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ
ﻓﺎﺭﻭﻕ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﻨﮑﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﮔﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ 5ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﺌﯽ*، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﺟﺲ ﺧﻄﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﮭﻨﮉﺍ ﺑﮭﺠﻮﺍﯾﺎ، ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﻭﮨﺎﮞ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮒ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺻﺮﻑ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻧﻈﺎﻡ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ 245 ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔
ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮈﺍﮎ ﺧﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻂ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ، ﭘﻮﻟﺲ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻭﺭﺩﯼ ﭘﮩﻨﺘﺎ ﮨﮯ، ﮐﻮﺋﯽ ﻓﻮﺟﯽ ﺟﻮﺍﻥ 6 ﻣﺎﮦ ﺑﻌﺪ ﭼﮭﭩﯽ ﭘﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺴﯽ ﺑﭽﮯ، ﻣﻌﺬﻭﺭ، ﺑﯿﻮﮦ ﯾﺎ ﺑﮯ ﺍٓﺳﺮﺍ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ، ﻭﮦ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ، ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻋﻈﯿﻢ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ، ﻣﺎﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﻤﺘﺮﯼ ﮐﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﺗﮏ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﮐﻮ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ’’ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﮮ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭼﻨﮕﯿﺰ ﺧﺎﻥ ﯾﺎﺩ ﺍٓﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔‘‘
ﺍﺱ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﮨﺮ ﻻﻝ ﻧﮩﺮﻭ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ’’ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺍٓﺝ ﭼﻨﮕﯿﺰ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ( ﺣﻀﺮﺕ ) ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ) ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔‘‘
جن کے بارے میں مستشرقین اعتراف کرتے ہیں کہ "اسلام میں اگر ایک عمر اور ہوتا تو آج دنیا میں صرف اسلام ہی دین ہوتا."
ﮨﻢ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻟﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ، ﺟﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ،
’’ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺒﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻋﻤﺮ ﮨﻮتا-`