Friday, October 3, 2014

قاضی ابوبکر بغدادی

قاضی ابوبکر بغدادی

آج سے سات سو سال پہلے بغداد میں ایک بڑے پائے کے عالم رہائش پذیر تھے۔ اُن کا نام تھا قاضی ابو بکر بغدادی۔ وہ قاضی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایۂ محدث اور مقرر بھی تھے۔ دن کے وقت وہ عدالت میں مقدمات سنتے جبکہ رات کو قرآن و حدیث کے طلبہ کو تعلیم دیتے۔ یہ طلبہ نہایت کثیر تعداد میں تھے جن کے قیام و طعام کی ذمہ داری قاضی ابو بکر کے کندھوں پر تھی۔ وہ نہ صرف اِن طلبہ کو دو وقت کا کھانا مہیا فرماتے بلکہ ان کی رہائش کا بندوبست بھی ان کے ذمے تھا۔
ایک دن اُن کے شاگردوں نے اُن سے پوچھا’’حضرت! آپ کی تنخواہ تو معمولی ہے تو پھر یہ اتنے ڈھیر سارے اخراجات کہاں سے پورے کرتے ہیں؟‘‘
طلبہ کا سوال سن کر قاضی صاحب مسکرائے پھر کہا ’’یہ ایک راز ہے۔ اس راز پر سے پردہ تب تک نہیں اُٹھ سکتا جب تک کہ میں تمھیں اپنے ماضی کے چند عجیب و غریب واقعات نہ سنادوں۔اِس لیے بہتر ہے کہ فی الحال تم اِس راز کو راز ہی رہنے دو۔‘‘
شاگرد سمجھے کہ شاید اِس وقت اُن کا کچھ بتانے کا اِرادہ نہیں لہٰذاوہ چپ ہورہے۔ لیکن تھوڑے عرصے بعد شاگردوں نے ایک مرتبہ پھر عرض کی’’اُستادِ محترم! آپ نیک کاموں میں اس قدر خرچ کرتے ہیں۔ بظاہر آپ کی آمدنی کا بھی کوئی خاص ذریعہ نہیں، پھر یہ درہم و دینار آپ کے پاس کہاں سے آتے ہیں؟‘‘
اُستاد نے انھیں ایک مرتبہ پھر طرح دی اور مال کی نسبت اللہ تعالیٰ کے غیبی خزانوں کی طرف اشارہ کیا۔ لیکن اس بار شاگرد اس راز کو جاننے پر بضد تھے۔ شاگردوں کا اصرار دیکھتے ہوئے اُستاد نے بالآخر ان سے کہا ’’اِس مال کے ساتھ میری جوانی کا ایک نہایت اہم واقعہ وابستہ ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے انسان کو ایسے ایسے عجائبات دکھاتا ہے کہ اس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ میرے ساتھ بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔
لو سنو! یہ آج سے تیس بتیس سال پہلے کی بات ہے۔ میں اُن دنوں جوان تھا اور علمِ دین کے حصول میں ہمہ وقت مشغول رہتا۔ میرے ساتھ میرے چند دوست بھی تھے۔ ہماری دن رات کی مصروفیت یہی تھی کہ قرآن و حدیث پڑھتے اور باقی وقت تکرار یا مطالعے میں صرف کرتے۔ میں اُن دنوں یہیں بغداد میںمقیم تھا۔ شہر کے علمی حلقوں میں اُن دنوں مکہ معظمہ کے ایک عرب عالم کا بہت شہرہ تھا جن کا نام شیخ عبداللہ عزام تھا۔ وہ علمِ حدیث میں یکتائے روزگار تھے اور دور دور سے طالبانِ علم آکر اُن کے درس میں شریک ہوتے۔
میں محدثین کی محفلوں میں بیٹھنے کا بڑا حریص تھا۔ چناںچہ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مکہ جا کر شیخ عبداللہ عزام کی صحبت سے فیض یاب ہونا چاہتا ہوں۔ آپ لوگوں کو اگر منظور ہو تو میرے ساتھ چلیں ورنہ آپ لوگوں کی مرضی۔ میرے تینوں ساتھی شاید کم ہمت تھے ،اُنھوں نے میرے ساتھ اتنی دورجانے سے صاف انکار کردیا۔
چناںچہ رختِ سفر باندھا اور تنہا ہی منزلوں پر منزلیں مارتا ہوا مکہ معظمہ جاپہنچا۔ وہاں معلوم ہوا کہ شیخ عبداللہ عزام صاحبِ فراش ہیں اور فی الحال درسِ حدیث کا سلسلہ موقوف ہے۔
یہ سن کر اگرچہ مجھے بہت مایوسی ہوئی، تاہم یہ جان کر کچھ سکون محسوس ہوا کہ مکہ میں اُن دنوں بہت سے جلیل القدر علما موجود ہیں جو مسجدِ حَرم میں درس دیتے تھے۔ اگر شیخ عزام سے استفادہ نہیں ہوسکتا تو کم از کم اُن بزرگوں سے علم حاصل کرنا ممکن تھا۔ چناںچہ میں واپس بغداد جانے کے بجائے وہیں ٹھہرگیا اور حرم کی علمی مجالس سے اپنی پیاس بجھانے لگا۔
اُن دنوں میرے ساتھ ایک بدقسمتی یہ ہوئی کہ میرا زادِ راہ ختم ہوگیا لیکن میں نے اِس کی چنداں پروا نہ کی۔ میرے پاس کچھ کھجوریں اور ستو موجود تھے، تھوڑا سا زیتون کا تیل بھی مل گیا۔ میں نے اِنہی چیزوں کو غنیمت جانا اور روکھی سوکھی کھا کر تحصیلِ علم میں مشغول رہنے لگا۔ چند ہی دنوںبعد میرا ذخیرۂ خوراک ختم ہوگیا اور ایک دن ایسا آیا کہ میرے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ رہا اور فاقوں تک نوبت آن پہنچی۔
اس حالت میں یہ سوچ کر گھر سے نکلا کہ شاید باہر سے کوئی چیز کھانے کی مل جائے اور اگر کچھ بھی نہ ملا تو حرم جا کر اپنے رب سے مانگوں گا۔ میں گھر سے نکل کر گلی میں آگیا۔ اتفاق سے مجھے سامنے ہی ایک ریشم کی تھیلی پڑی ملی۔ دوپہر کا وقت اور ہو کا عالم تھا۔ گلی بالکل سنسان تھی اور کوئی شخص بھی آس پاس نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں نے وہ تھیلی اُٹھائی اور گھر لے آیا۔
گھر آکر تھیلی کھولی‘ تو اُس میں سفید رنگ کے خوبصورت موتیوں والا ایک ہار نکلا۔ میں نے اُسے الٹ پلٹ کردیکھا۔ ہار کے موتی ہر زاویے سے اس طرح چمکتے تھے کہ اُنھیں دیکھ کر آنکھیں چندھیا جاتی تھیں۔ مجھے یہ سمجھنے میں ذرا بھی دشواری نہ ہوئی کہ یہ ایک بہت قیمتی ہار ہے۔ میں نے اُسے تھیلی میں ڈال کر بستر کے نیچے چھپا دیا۔
ظہر سے عصر تک کا وقت اِسی ادھیڑ بن میں گزر گیا۔ میںیہ سوچتا رہا کہ یہ تھیلی گلی میں کیوں پڑی تھی اور اتنا بیش قیمت ہار کس کا ہوسکتا ہے؟ اِسی دوران عصر کی اذان بلند ہوئی اور میں نماز کی ادائی کے لیے حرم شریف چلا گیا۔ عصر کی نماز پڑھ کر آیا اور دوبارہ یہ سوچنے لگا کہ یااللہ‘ خبر نہیں اِس ہار کا مالک کون ہے اور میں اب اِسے اُس تک کیسے پہنچائوں؟‘‘
اِسی دوران گلی میں کچھ شور بلند ہوا۔ میں نے دروازے سے باہر جھانکا تو دیکھا کہ ایک اونٹ پر کوئی بوڑھا آدمی سوار ہے۔ اونٹ کے آگے چند آدمی دَف بجاتے چل رہے ہیں۔ وہ بوڑھا تھوڑی تھوڑی دیر بعد یہ اعلان کرتا کہ مکہ والو! میری ایک تھیلی گم ہوگئی ہے۔ اُس میں ایک ہار تھا۔ وہ ہماری خاندانی میراث ہے۔ تم سب اللہ کے ہمسائے اور قابلِ تعریف لوگ ہو جس کو وہ تھیلی ملے براہِ مہربانی مجھے واپس کردے میں تھیلی واپس کرنے والے کو پانچ سو دینار انعام دوں گا۔ خدا تم پر رحم کرے مکہ والو!‘‘
یہ کہہ کر وہ اپنے دائیں ہاتھ کو ہوا میں لہراتا جس میںایک پھٹے پرانے کپڑے میں دینار واضح نظر آرہے تھے۔ میں یہ اعلان سُن کر حیران رہ گیا۔ دل میں سوچا کہ شاید یہی بوڑھا اِس تھیلی کا حقیقی مالک ہے۔ مجھے ضرور یہ اُس تک پہنچانی چاہیے۔ میں ابھی اسی شش و پنج میں تھا کہ اعلان کرنے والا اور اس کے ساتھی میرے گھر کے سامنے سے گزرنے لگے۔ میں لپک کر باہر نکلا اور اونٹ کی لگام تھام کر کہا’’بڑے میاں! ذرا میری بات سنیے۔‘‘
’’کہو نوجوان‘‘ بوڑھے آدمی نے جھک کر کہا’’کیا بات ہے؟‘‘

’’آپ ذرا نیچے اُتر کر میرے گھر آئیے۔‘‘ میں نے کہا’’آپ کی تھیلی میرے پاس ہے۔‘‘

بوڑھا جلدی سے نیچے اُتر آیا۔ میں نے اُسے بٹھایا‘ بستر کے نیچے سے ریشمی تھیلی نکال کر اُسے دی اور پوچھا ’’کیا یہی وہ تھیلی ہے جس کی آپ کو تلاش ہے؟‘‘
بوڑھے نے میرے ہاتھ سے تھیلی جھپٹی اور تیزی سے اُسے کھولا۔ اُس میں وہ ہار جوں کا توں موجود تھا۔ بوڑھے نے ہار نکال کر اُسے چُوما اور پھر مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا’’نوجوان!یہ ہار سفر کے دوران مجھ سے کہیں کھو گیا تھا،میں اِس کی وجہ سے سخت پریشان تھا۔ خدا تمھیں جزا ئے خیر دے‘ تم بہت دیانت دار ہو۔ لو اپنا انعام سنبھالو۔‘‘
یہ کہہ کر اُس نے دینار میرے آگے کر دیے۔ میں نے کہا:’’بڑے میاں! یہ ہار مجھے گلی میں پڑا ملا تھا‘ میں اسے اندر اُٹھا لایا۔یہ میرے پاس آپ کی امانت تھا۔ میرا تو یہ فرض تھا کہ میں اِسے آپ کو واپس کروں۔ مجھے انعام کی ضرورت نہیں، میں اپنی نیکی فروخت نہیں کرتا۔‘‘ میری بات کا بوڑھے پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ بدستور اِس پر بضد رہا کہ میں دینار قبول کرلوں۔ اُس نے بہت اِصرار کیا لیکن ادھر میں بھی اپنی بات پر جما رہا۔ آخر وہ بوڑھا نہ مانا اور دینار میرے پاس چھوڑ کر چلا گیا۔
میرے پاس کچھ نہ تھا اور میں بہت بھوکا تھا لہٰذا میں نے چار و ناچار اُن دیناروں سے اپنی غذا کا بندوبست کیا اور مکان کے مالک کو کرایہ بھی ادا کیا۔ اِسی دوران شیخ عبداللہ عزام نے حرم شریف میں دوبارہ درسِ حدیث کا سلسلہ شروع کر دیا۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور روزانہ شیخ کی خدمت میں حاضر ہونے لگا۔میں کافی عرصے تک تحصیلِ علم میں مشغول رہا اور اِس دوران مالی ضرورتوں کے لیے وہی دینار کفالت کرتے رہے۔
آخر وہ دن بھی آگیا جب میں نے جو کچھ سیکھنا تھا سیکھ لیا اور واپس بغداد جانے کے لیے ’’جدہ‘‘ کی بندرگاہ پرپہنچا۔ وہاں سے میں نے بحری سفر شروع کیا۔ کشتی کا ملاح اناڑی تھا۔ وہ ہمیں کسی غلط سمت لے گیا۔ ہم سب اتنے ڈرے سہمے بیٹھے تھے کہ کوئی کسی سے بات نہ کرتا۔ تھوڑی ہی دیر بعد اندھیرا چھا گیا اور بارش ہونے لگی۔ ملاح موسم کی شدت پر لعنت کرنے لگا۔ اِسی دوران کشتی ہچکولے لینے لگی اور آخر کار ٹوٹ گئی۔
اُس وقت ہم جس مصیبت سے دوچار تھے‘ اُس کا اندازہ لگاناآسان نہیں۔ آسمان پر بجلی کڑک رہی تھی اور نیچے سمندر کی طوفانی لہروں کا شور اور ایسے میں خوفزدہ مسافروں کی چیخ پکار جاری تھی۔ میں اس سارے وقت میں آنکھیں بند کیے کشتی کے ایک تختے سے چمٹا رہا۔ سارا دن وہ تختہ سمندر میںتیرتا رہا۔ مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ میں کس طرف جارہا ہوں اور باقی مسافروں کا کیا بنا؟
آخرکار خدا خدا کرکے وہ تختہ ایک جزیرے کے ساحل سے جا لگا۔ میں ساحل کی ریت پر جا لیٹا۔ جب ذرا حالت سنبھلی تو اُٹھ کر آگے بڑھا اور جنگلی پھلوں سے اپنی بھوک مٹائی۔ جب حواس بحال ہوئے تو دیکھا کہ جزیرے کے وسط میں ایک مسجد ہے اور کچھ دور آبادی بھی ہے۔ میں مسجد میں چلا گیا ۔وہاں قرآن پاک کے کچھ اوراق رکھے تھے۔ میں انھیں پڑھنے لگا۔ مجھے قرآن پڑھتے دیکھ کر آبادی میں سے کچھ مرد اور عورتیں میرے پاس آئے اور کہنے لگے:’’اے شیخ! کیا آپ عالم ہیں؟‘‘
’’میں ایک طالبِ علم ہوں۔‘‘ میں نے عاجزی سے کہا۔

وہ کہنے لگے ’’اے شیخ ہم مسلمان ہیں‘ لیکن قرآن پڑھنا نہیں جانتے۔‘‘ آپ مہربانی فرما کر ہمیں تلاوت سکھا دیں اور اگر ہوسکے تو کچھ لکھنے پڑھنے کی بھی مشق کروا دیں۔‘‘
چناںچہ میں نے یہ پیش کش قبول کر لی اور اُن کے بچوں کو قرآن و کتابت سکھلانے لگا۔ اِس کے بدلے مجھے صبح و شام کھانا مل جاتا۔ رفتہ رفتہ وہ لوگ مجھ سے بہت مانوس ہو گئے۔ وہ میری قدر کرتے تھے اور بڑے ادب سے ’’حضرت الاستاذ‘‘ کہہ کر مجھے پکارتے۔ میری زندگی کے دن یونہی گزر رہے تھے۔ مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ میں کہاں ہوں اور کن لوگوں کے درمیان ہوں؟
ایک دن اُن کے ایک بزرگ میرے پاس آئے اور بولے ’’یا شیخ! یہاں ایک یتیم بچی ہے، خاصی مالدار ہے اور سلیقہ شعار بھی ہے۔ آپ شریف النفس ہیں اور تنہا بھی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اُس بچی سے نکاح کر لیں‘ اِس طرح آپ کی گزر بسر آسانی سے ہوسکے گی۔‘‘
میں نے انکار کر دیا۔ لیکن وہ لوگ مسلسل اِصرار کرتے رہے اور مجھے اتنا مجبور کیا کہ آخر کار میں نے اُن کی بات مان لی۔چناںچہ میرے نکاح کے انتظامات ہوئے۔ نکاح کی رات جب میں نے اپنی دلھن کو دیکھا تو اُس کے گلے میں وہی ہار تھا جو میں نے مکہ میں اُس بوڑھے کو واپس کیا تھا۔
میں ہار دیکھ کر بہت حیران ہوا اور گھر سے باہر آکر لوگوں کو سارا ماجرا سنایا۔ میری بات سن کر لوگوں نے اِس زور سے نعرہ لگایا کہ اُن کی آواز پورے جزیرے میں گونج گئی۔ میری حیرانی ہنوز باقی تھی بلکہ اِس بات سے مجھے مزید حیرت ہوئی۔
مجھے پریشان دیکھ کر جزیرے والوں نے بتایا ’’وہ بڑے میاں جنھیں آپ نے مکہ میں ہار واپس کیا تھا‘ اس بچی کے والد تھے۔ آپ سے پہلے وہی اِس مسجد کے امام بھی تھے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ مجھے زندگی میں سچے و ایمان دار لوگ کم ہی ملے۔ ان میں وہ مسلمان نوجوان بھی شامل ہے جس نے مجھے میرا خاندانی ہار واپس کیا تھا۔ یااللہ!میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے اُس سے دوبارہ ملادے تاکہ اپنی بیٹی کا نکاح اُس سے کردوں۔ اور اب ایسا ہو بھی گیا۔ ہم سب قدرت کے اِس اتفاق پر حیران ہیں اور اِسی خوشی میں ہم نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا ہے۔‘‘
اُن کی بات سن کر مجھے بھی بہت خوشی ہوئی اور میں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ میں پھر اپنی بیوی کے ساتھ مدت تک اِس جزیرے میں رہا اور بہت خوش گوار زندگی گزاری۔ بعدازاںجب میری رفیقۂ حیات کا انتقال ہوا‘تو میں پھر تنہا ہوگیا۔ کچھ عرصہ تو میں اُس جزیرے میں رہا پھر اُن لوگوں سے اجازت لے کر بغداد واپس آگیا۔وہ ہار ابھی تک میرے پاس تھا۔ جزیرے والوں نے بخوشی اُسے مجھے اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت دے دی۔
بغداد میں وہ ہار ایک تاجر کو پسند آگیا۔ اُس نے کئی لاکھ دینار میں وہ مجھ سے خرید لیا۔ میں نے دینار اپنے پاس سنبھال رکھے ہیں۔ انہی سے میں تم لوگوں کے اخراجات پورے کرتا ہوں۔ چونکہ میں اسے نیکی کے کاموں میں خرچ کرتا ہوں‘ اِس وجہ سے برکت ہی برکت ہے۔ یہ داستان بیان کرنے کے بعد شیخ ابو بکر بغدادی خاموش ہوگئے اور پھر اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے لگے۔شاگرد بھی یہ جان کر مطمئن ہوئے کہ ان کے استاذ کو رب کائنات کی طرف سے دولت عطا ہوئی ہے_

Tuesday, September 2, 2014

بغداد کے سوداگر کا سچّا خواب

بغداد کے سوداگر کا سچّا خواب


پرانے زمانے کی بات ہے کہ بغداد میں ایک سوداگر رہا کرتا تھا جو بہت ہی دولت مند تھا لیکن اپنی دولت لٹا کروہ اتنا غریب ہوگیا تھا کہ محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالنے پر مجبور ہوگیا ۔ اپنے پچھلے وقت کی عیش و عشرت والی زندگی کو یاد کرکے وہ اکثر غمزدہ ہوجایا کرتا تھا۔ ایک رات وہ بہت ہی اداس اور غمزدہ حالت میں سویا تو اس نے خواب دیکھا کہ ایک بزرگ اس سے کہہ رہے ہیں کہ تمہاری قسمت کا ستارہ مصر کے شہر قاہرہ میں جگمگا رہا ہے۔ وہاں جاﺅ اور اسے تلاش کرو۔

دوسرے دن صبح جب وہ بیدار ہوا تو اسے خواب والے بزرگ کی بات یاد آئی ، اس نے فوراََ قاہرہ جانے کی تیاری کی اور قاہرہ کیلئے روانہ ہوگیا ۔ کئی ہفتوں کی تکلیف اور مشقت اٹھاکر وہ اس شہر میں پہنچ گیا رات ہوچکی تھی اور اس کے پاس کسی سرائے میں قیام کے لئے کوئی رقم موجود نہ تھی۔ لہٰذا وہ ایک مسجد میں گیا اور اس کے صحن میں ایک کونے میں جاکر سوگیا۔

اتفاق سے چوروں کا ایک گرو ہ مسجد کے صحن میں آیا اور چوری کے ارادے سے مسجد کے برابر والے مکان میں داخل ہوا ہی تھا کہ کسی آہٹ کی وجہ سے مکان میں رہنے والے افراد جاگ گئے اور مدد کے لئے پکارنے لگے۔ چوروں نے جب یہ چیخ و پکار سنی تو گھبراکر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ تھوڑی ہی دیر میں علاقے کا داروغہ اپنے سپاہیوں کے ہمراہ وہاں پہنچا ۔ جب یہ سپاہی مسجد کے صحن میں پہنچے تو یہ سوداگر انھیں صحن میں سویا ہوا نظر آیا لہٰذا سپاہیوں نے اسے پکڑلیا اور چور سمجھ کر اس کی خوب پٹائی کی اور اس کو قید خانے میں بند کردیا۔

تین چار دن کے بعد داروغہ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس اجنبی کو پیش کریں۔ جب یہ سوداگرپیش کیا گیا تو داروغہ نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو ؟ سوداگر نے جواب دیا ، میں بغداد سے آیا ہوں ، داروغہ نے سوال کیا، تم بغداد سے قاہرہ کس لئے آئے ہو؟ سوداگر نے جواب دیا کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس میں ایک بزرگ مجھ سے کہہ رہے تھے ” تمہاری قسمت کا ستارہ قاہرہ میں جگمگا رہا ہے۔ وہاں جاﺅ اور اسے تلاش کرو“۔ میں اسی کی تلاش میں یہاں آیا تھا لیکن آپ کے سپاہیوں نے مجھے پکڑ لیا اور میری پٹائی کردی۔

داروغہ نے جب یہ داستان سنی تو بہت ہی ہنسا اور کہنے لگا اے بے وقوف انسان میں نے بھی کئی مرتبہ خواب میں کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ بغداد جاﺅ اور پتھریلی گلی کے فلاں مکان میں ایک صحن ہے جس کے آخر میں ایک باغ ہے جہاں پر ایک فوارہ ہے اس کے حوض کے نیچے بہت سا خزانہ دفن ہے۔ لہٰذا وہاں جاﺅ اور اسے کھود کر نکال لو۔ کیا میں بغداد گیا ؟ ایک تم بے وقوف ہو جو اتنی دور سے یہاں قاہرہ چلے آئے اور صرف ایک خواب دیکھ کر ۔داروغہ نے اس سوداگر کو کچھ رقم دی اور کہا یہ رقم لو اور اپنے گھر واپس جاﺅ۔

قاہرہ کے داروغہ نے سوداگر کو جس مکان کے بارے میں بتایا تھا وہ دراصل اس سوداگر کا اپنا مکان تھا ۔ داروغہ کی ساری باتیں سن کر سوداگر سارے معاملے کی تہہ تک پہنچ چکا تھا وہ فوراََ واپس بغداد اپنے گھر پہنچا اس نے باغ میں فوارے کے نیچے کھودنا شروع کردیا ابھی تھوڑی ہی زمیں کھودی تھی کہ اسے وہاں سے ایک بہت ہی بڑا خزانہ مل گیا۔ اس طرح اس کا خواب حیرت انگیز طور پر سچ ثابت ہوگیا اور وہ دوبارہ پھر سے مالا مال ہوگیا۔

Saturday, July 12, 2014

کہانی ایک عید کی

بہتر طریقہ سے پڑھنے کے لیے pdf فائل یہاں سے ڈاون لوڈ کریں

کہانی ایک عید کی  ۔۔۔۔۔۔۔ منشی پریم چند

رمضان کے پورے تیس روزوں کے بعد آج عید آئی ہے۔ کتنی سہانی اور رنگین صبح ہے۔ بچے کی طرح پُرتبسم۔ درختوں پر کچھ عجیب ہریاول ہے۔ کھیتوں میں عجیب رونق ہے۔ آسمان پر کچھ عجیب فضا ہے۔ آج کا آفتاب دیکھو کتنا پیارا ہے، گویا دنیا کو عید کی خوشی پر مبارک باد دے رہا ہو۔ گائوں میںکتنی چہل پہل ہے۔ عیدگاہ جانے کی دھوم ہے۔ کسی کے کرتے میں بٹن نہیں ہیں، سوئی دھاگہ لینے جارہا ہے۔ کسی کے جوتے سخت ہوگئے ہیں اسے تیل اور پانی سے نرم کررہا ہے۔ جلدی جلدی بیلوں کو پانی دے دیں۔ عیدگاہ سے لوٹتے لوٹتے دوپہر ہوجائے گی۔ تین کوس کا پیدل راستہ پھر سینکڑوں رشتے، قرابت والوں سے ملنا ملانا۔ دوپہر سے پہلے لوٹنا غیر ممکن ہے۔ بچے سب سے زیادہ خوش ہیں، کسی نے ایک روزہ رکھا، وہ بھی دوپہر تک، کسی نے وہ بھی نہیں، لیکن عیدگاہ جانے کی خوشی ان کا حصہ ہے۔ روزے بڑے بوڑھوں کے لیے ہوں گے بچوں کے لیے تو عید ہے۔ روز عید کا نام رٹتے رہتے تھے۔ آ ج وہ آہی گئی۔ اب جلدی پڑی ہوئی ہے کہ عیدگاہ کیوں نہیں چلتے۔
انہیں گھر کی فکروں سے کیا واسطہ؟ سوّیوں کے لیے گھر میں دودھ اور شکر میوے ہیں یا نہیں، انہیں کیا فکر۔ وہ کیا جانیں ابا جان کیوں بدحواس اس گائوں کے مہاجن (بڑا آدمی) چوہدری قاسم علی کے گھر دوڑے جارہے ہیں۔ ان کی اپنی جیبوں میں تو قارون کا خزانہ رکھا ہوا ہے۔ بار بار جیب سے اپنا خزانہ نکال کر گنتے ہیں۔ انہی دو چار پیسوں میں دنیا کی ساری نعمتیں لائیں گے۔ کھلونے اور مٹھائیاں اور بگل اور خدا جانے کیا کیا۔
اور سب سے زیادہ خوش ہے ’’حامد‘‘۔ وہ سات آٹھ سال کا غریب صورت بچہ ہے، جس کا باپ پچھلے سال ہیضہ کی نذر ہوگیا اور ماں نہ جانے کیوں زرد ہوتی ہوتی ایک دن مرگئی۔ کسی کو پتا نہ چلا کہ کیا بیماری ہے۔ کہتی کس سے؟ کون سننے والا تھا؟ دل پر جو کچھ گزرتی تھی، سہتی تھی، اور جب نہ سہا گیا دنیا سے رخصت ہوگئی۔ اب حامد اپنی بوڑھی دادی امینہ کی گود میں سوتا ہے اور اتنا ہی خوش ہے۔ اس کی دادی اسے کہتی ہے کہ اس کے ابا جان بڑی دور روپے کمانے گئے ہیں۔ بہت سی تھیلیاں لے کر آئیں گے، امی جان اللہ میاں کے گھر مٹھائی لینے گئی ہیں۔ اس لیے حامد خوش ہے۔ امید تو بڑی چیز ہے۔ پھر بچوں کی امید… ان کا تخیْل (تصور)… تو رائی کے پربت بنالیتا ہے۔
حامد کے پائوں میں جوتے نہیں ہیں۔ سر پر ایک پرانی ٹوپی ہے جس کا گوٹا سیاہ ہوگیا ہے۔ پھر بھی وہ خوش ہے۔ جب اس کے ابا جان تھیلیاں اور اماں جان نعمتیں لے کر آئیں گی تب وہ دل کے ارمان نکالے گا۔ تب دیکھے گا محمود اور محسن، نوری اور سمیع کہاں سے اتنے پیسے لاتے ہیں۔ دنیا اپنی مصیبتوں کی ساری فوج لے کر آئے، اس کی ایک نگاہِ معصوم اسے پامال کرنے کے لیے کافی ہے۔
حامد اندر جاکر امینہ سے کہتا ہے:
’’تم ڈرنا نہیں اماں! میں گائوں والوں کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، بالکل نہ ڈرنا۔‘‘ لیکن امینہ کا دل نہیں مانتا۔
گائوں کے بچے اپنے اپنے باپ کے ساتھ جارہے ہیں۔ حامد کیا اکیلا ہی جائے گا! اس بھیڑبھاڑ میں کہیں کھو جائے تو کیا ہوگا؟ نہیں امینہ اسے تنہا نہ جانے دے گی۔ ننھی سی جان تین کوس چلے گا پائوں میں چھالے نہ پڑجائیں گے!
مگر وہ چلی جائے تو یہاں سوئیاں کون پکائے گا؟ بھوکا پیاسا دوپہر کو لوٹے گا، کیا اس وقت سوئیاں پکانے بیٹھے گی؟ رونا تو یہ ہے کہ امینہ کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اس دن فہیمن کے کپڑے سیے تھے، آٹھ آنے پیسے ملے تھے۔ اس اٹھنِّی (آدھا روپیہ) کو ایمان کی طرح بچاتی چلی آئی تھی… اس عید کے لیے۔ لیکن کل گھر میں آٹا نہ تھا اور گوَالَن (دودھ بیچنے والی)کے پیسے چڑھ گئے تھے۔ دینے پڑے۔ حامد کے لیے دو پیسے کا روز دودھ تو لینا ہی پڑتا ہے۔ اب کل آٹھ پیسے بچ رہے ہیں۔ تین پیسے حامد کی جیب میں اور پانچ امینہ کے بٹوے میں، یہی بساط ہے۔ اللہ ہی بیڑا پار کرے۔
دھوبن، مِہتَرَانِی (بھنگن) اور نَائِن (نائی کی بیوی) سب ہی تو آئیں گی۔ سب کو سوئیاں چاہئیں۔ کس کس سے منہ چھپائے گی، اور منہ کیوں چھپائے؟ سال بھر کا تہوار ہے۔ زندگی خیریت سے رہے۔ ان کی تقدیر بھی تو اس کے ساتھ ہے۔ بچے کو خدا سلامت رکھے۔ یہ دن بھی یوں ہی کٹ جائیں گے۔
گائوں سے لوگ چلے، اور بچوں کے ساتھ حامد بھی تھا۔ سب کے سب دوڑ کر آگے نکل جاتے۔ پھر کسی درخت کے نیچے کھڑے ہوکر ساتھ والوں کا انتظار کرتے۔ یہ لوگ کیوں اتنے آہستہ آہستہ چل رہے ہیں۔ شہر کا سَوَاد (آس پاس) شروع ہوگیا۔ سڑک کے دونوں اطراف امیروں کے باغ میں پختہ چہار دیواری بنی ہوئی ہے۔ درختوں میں آم لگے ہوئے ہیں۔ حامد نے کنکری اُٹھاکر ایک آم پر نشانہ لگایا۔ مالی اندر سے شور مچاتا ہوا باہر آیا۔ بچے وہاں سے ایک فَرلَانگ (220 گز کا فاصلہ) دوڑ کر چلے گئے۔ خوب ہنس رہے ہیں۔ مالی کو کیسا اُلّو بنایا! بڑی بڑی عمارتیں آنے لگیں۔
’’یہ عدالت ہے۔‘‘
’’یہ مدرسہ ہے۔‘‘
’’اتنے بڑے مدرسے میں کتنے سارے لڑکے پڑھتے ہوں گے۔‘‘
’’لڑکے نہیں ہیں جی۔ بڑے آدمی ہیں۔‘‘
پھر آگے چلے۔ حلوائیوں کی دکانیں شروع ہوئیں۔ آج خوب سجی ہوئی تھیں۔
’’اتنی مٹھائیاں کون کھاتا ہے؟‘‘
’’دیکھو نا ایک ایک دکان پر منوں ہوں گی۔‘‘
’’سنا ہے رات کو آدمی ہر ایک دکان پر جاتا ہے اور جتنا مال بچا ہوتا ہے وہ سب خرید لیتا ہے۔ اور سچ مچ کے روپے دیتا ہے۔ بالکل ایسے ہی چاندی کے روپے۔‘‘
محمود کو یقین نہ آیا۔ ’’ایسے روپے جنات کو کہاں سے مل جائیں گے؟‘‘
محسن: ’’جنات کو روپوں کی کیا کمی، جس خزانہ میں چاہیں چلے جائیں، کوئی انہیں دیکھ نہیں سکتا۔ لوہے کے دروازے تک نہیں روک سکتے۔‘‘
’’جناب! آپ ہیں کس خیال میں؟ ہیرے جواہرات ان کے پاس رہتے ہیں۔ جس سے خوش ہوگئے اسے ٹوکروں جواہرات دے دیے۔ پانچ منٹ میں کہو ’’کابل‘‘ پہنچ جائیں۔‘‘
حامد: ’’جنات بہت بڑے ہوتے ہوں گے؟‘‘
محسن: ’’اور کیا، ایک ایک آسمان کے برابر ہوتا ہے۔ زمین پر کھڑا ہوجائے تو اس کا سر آسمان سے جالگے۔ مگر چاہے تو ایک لوٹے میں گھس جائے۔‘‘
سمیع: ’’سنا ہے چوہدری صاحب کے قبضے میں بہت سے جنات ہیں۔ کوئی چیز چوری ہوجائے، چوہدری صاحب اس کا پتا بتادیں گے اور چور کا نام تک بتادیں گے۔ جمعراتی کا بچھڑا اس دن کھو گیا تھا۔ تین دن حیران ہوئے، کہیں نہیں ملا۔ تب جھک مارکر چوہدری کے پاس گئے۔ چوہدری نے کہا: مویشی خانہ میں ہے۔ اور وہیں ملا۔ جنات آکر انہیں خبریں دے جایا کرتے ہیں۔‘‘
اب ہر ایک کی سمجھ میں آگیا کہ چوہدری قائم علی کے پاس اس قدر دولت ہے اور کیوں وہ قرب وجوار کے مَوَاضِعَات (کئی گائوں) کے مہاجن ہیں۔ جنات آکر انہیں روپے دے جاتے ہیں۔
آگے چلیے… یہ پولیس لائن ہے۔ یہاں پولیس والے قواعد کرتے ہیں۔ رائٹ لپ، رائٹ لپ۔ پھام پھو، پھام پھو!
بستی گھنی ہونے لگی۔ عیدگاہ جانے والوں کا مجمع نظر آنے لگا۔ ایک سے ایک زرق برق پوشاک پہنے ہوئے۔ کوئی تانگے پر سوار، کوئی موٹر سائیکل پر، چلتے تھے تو کپڑوں سے عطر کی خوشبو اڑتی تھی۔
دَہقَانوں (کسانوں) کی یہ مختصر سی ٹولی اپنی بے سروسامانی سے بے حس اپنی خستہ حالی میں مگن، صابر و شاکر چلی جارہی تھی۔ جس چیز کی طرف تاکتے، تاکتے رہ جاتے… پیچھے سے گاڑی کے بار بار ہارن کی آواز ہونے پر بھی خبر نہ ہوتی۔ محسن تو موٹر کے نیچے جاتے جاتے بچا۔
وہ عیدگاہ نظر آئی۔ جماعت شروع ہوگئی ہے۔ اوپر املی کے درختوں کا سایہ ہے۔ نیچے کھلا ہوا پختہ فرش ہے جس پر جَاجَم (وہ چادر جو دری کے اوپر بچھاتے ہیں) بچھا ہوا ہے اور نمازیوں کی قطاریں ایک کے پیچھے دوسری، خدا جانے کہاں تک چلی گئی ہیں۔ پختہ فرش کے نیچے جاجم بھی نہیں۔ کئی قطاریں کھڑی ہیں۔ جو آتے جاتے ہیں پیچھے کھڑے ہوتے جاتے ہیں۔ آگے اب جگہ نہیں رہی، یہاں کوئی رتبہ اور عہدہ نہیں دیکھتا، اسلام کی نگاہ میں سب انسان برابر ہیں۔ دہقانوں نے بھی وضو کیا اور جماعت میں شامل ہوگئے۔ کتنی باقاعدہ منظم جماعت ہے۔ لاکھوں آدمی ایک ساتھ جھکتے ہیں۔ ساتھ دو زانوں بیٹھ جاتے ہیں، اور یہ عمل بار بار ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہورہا تھا کہ گویا بجلی کی لاکھوں بتیاں ایک ساتھ روشن ہوجائیں اور ایک ساتھ بجھ جائیں۔
کتنا پُراحترام، رعب انگیز نظارہ ہے، جس کی ہم آہنگی (ساتھ) اور وسعت اور تعداد دلوں پر ایک وجدانی کیفیت پیدا کردیتی ہے۔ گویا اُخوّت کا ایک رشتہ ان تمام روحوں کو منسلک کیے ہوئے ہے۔
نماز ختم ہوگئی ہے۔ لوگ باہم گلے مل رہے ہیں۔ کچھ لوگ محتاجوں اور سائلوں کو خیرات کررہے ہیں جو آج یہاں ہزاروں جمع ہوگئے ہیں۔ دہقانیوں نے مٹھائی اور کھلونوں کی دکانوں پر یُورَش (دھاوا) کی۔ بوڑھے ان دل چسپیوں میں بچوں سے کم محظوظ نہیں ہیں۔ یہ دیکھو ’’ہِنڈَولَا‘‘ (جھولا) ہے۔ ایک پیسہ دے کر کبھی آسمان پر جاتے معلوم ہوںگے، کبھی زمین پر گرتے… یہ ’’چرخی‘‘ ہے۔ لکڑی کے گھوڑے، اونٹ، ہاتھی مَیخوں (کیلوں) کے لٹکے ہوئے ہیں۔ ایک پیسہ دے کر بیٹھ جائو پچیس چکروں کا مزہ لو۔ محمود اور محسن ہنڈولے پر بیٹھے ہیں۔ نوری اور سمیع گھوڑوں پر۔ ان کے بزرگ اتنے ہی طفلانہ اشتیاق سے چرخی پر بیٹھے ہیں۔ حامد دور کھڑا ہے، تین ہی پیسے تو اس بے چارے کے پاس ہیں۔ ذرا سا چکر کھانے کے لیے وہ اپنے خزانے کا ثُلُث (تیسرا حصہ) نہیں صرف کرسکتا۔ محسن کا باپ اسے بار بار چرخی پر بلاتا ہے لیکن وہ راضی نہیں ہوتا۔ بوڑھے کہتے ہیں اس لڑکے میں ابھی سے اپنا پرایا آگیا۔ حامد سوچتا کیوں کسی کا احسان لوں۔ عسرت نے ضرورت سے زیادہ ذَکِیْ الحِس (بہت حساس) بنادیا ہے۔
سب لوگ چرخی سے اترتے ہیں۔ کھلونوں کی خریداری شروع ہوتی ہے۔ سپاہی اور گجریا اور راجہ رانی اور وکیل اور دھوبی اور بِھشتی (پانی پلانے والا) اور سپاہی بے امتیاز ران سے ران ملائے بیٹھے ہیں۔ دھوبی راجا رانی کی بغل میں ہے اور بھشتی وکیل صاحب کی بغل میں۔ واہ کتنے خوب صورت، بولا ہی چاہتے ہیں۔
محمود سپاہی پر لٹو ہوجاتا ہے۔ خاکی وردی اور لال پگڑی، کندھے پر بندوق، معلوم ہوتا ہے ابھی قواعد کے لیے چلا آرہا ہے۔ محسن کو بھشتی پسند آیا۔ کمر جھکی ہوئی ہے۔ اس پر مشک ہے۔ مشک کا دہانہ ایک ہاتھ سے پکڑا ہوا ہے۔ دوسرے ہاتھ میں رسّی ہے۔ کتنا بشاش چہرہ ہے۔ شاید کوئی گیت گارہا ہے۔ مشک سے پانی ٹپکتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ نوری کو وکیل سے مناسبت ہے۔ کتنی عالمانہ صورت ہے۔ سیاہ چغہ، نیچے سفید اُچکن (شیروانی سے ملتا جُلتا لباس)… اُچکن کے سینہ کی جیب میں سنہری زنجیر، ایک ہاتھ میں قانون کی کوئی کتاب لیے ہوئے ہے۔ معلوم ہوتا ہے ابھی کسی عدالت سے جَرح (کسی حقیقت کو جاننے کے لیے سوالات کرنا) یا بحث کرکے چلے آرہے ہیں۔ یہ سب دو دو پیسے کے کھلونے ہیں۔
حامد کے پاس کل تین پیسے ہیں۔ اگر دو کا ایک کھلونا لے لے تو کیا لے گا؟ نہیں نہیں کھلونا فضول ہے، کہیں ہاتھ سے گرپڑا تو… سارا چور چور ہوجائے۔ ذرا پانی پڑجائے تو… سارا رنگ دھل جائے۔ ان کھلونوں کو لے کر وہ کیا کرے گا؟ کس مصرف کے ہیں؟
محسن کہتا ہے: ’’میرا بھشتی روز پانی دے جائے گا صبح و شام۔‘‘
محمود: ’’اور میرا سپاہی گھر کا پہرہ دے گا۔ کوئی چور آئے تو فوراً بندوق سے فائر کردے گا۔‘‘
نوری: ’’اور میرا وکیل روز مقدمے لڑے گا اور روز روپے لائے گا۔‘‘
حامد کھلونوں کی مذمت کرتا ہے۔ مٹی ہی کے تو ہیں، گریں تو چکناچور ہوجائیں۔ لیکن ہر چیز کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ذرا دیر کے لیے انہیں ہاتھ میں لے سکتا۔
یہ بِسَاطِی (چادر پر چیزیں رکھ کر بیچنے والا) کی دکان ہے۔ طرح طرح کی ضروری چیزیں ایک چادر پر بچھی ہوئی ہیں۔ گیند اور سیٹیاں اور بِگَل (منہ سے بجانے کا ایک باجا) اور بھونرے اور ربر کے کھلونے اور ہزاروں چیزیں۔ محسن ایک سیٹی لیتا ہے۔ محمود گیند۔ نوری ربر کا بَط (بطخ) جو چوں چوں کرتا ہے اور سمیع ایک خَنجَرِی (چھوٹی ڈفلی)۔
حامد کھڑا ہر ایک چیز کو حسرت سے دیکھ رہا ہے۔ جب اس کے رفیق کوئی چیز خرید لیتے ہیں تو وہ بڑے اشتیاق سے ایک بار اسے ہاتھ میں لے کر دیکھنے کے لیے لپکتا ہے۔ لیکن بچے اتنے دوست نواز نہیں ہوتے۔ خاص کر جب ابھی دل چسپی تازہ ہے۔ بے چارہ یوں مایوس ہوکر رہ جاتا ہے۔
کھلونوں کے بعد مٹھائیوں کا نمبر آیا۔ کسی نے ریوڑیاں لی ہیں، کسی نے گلاب جامن، کسی نے سوہن حلوہ، مزے سے کھا رہے ہیں۔ حامد ان کی برادری سے خارج ہے۔ کم بخت کی جیب میں تین پیسے تو ہیں۔ کیوں نہیں کچھ لے کر کھاتا۔ حریص نگاہوں سے سب کی طرف دیکھتا ہے۔
محسن نے کہا: ’’حامد یہ ریوڑی لے جا، کتنی خوشبودار ہیں۔‘‘ یہ محض شرارت ہے۔ محسن اتنا فیاض طبع نہ تھا پھر بھی وہ اس کے پاس گیا، محسن نے دو میں سے دو تین ریوڑیاں نکالیں۔ حامد کی طرف بڑھائیں، حامد نے ہاتھ پھیلایا۔ محسن نے ہاتھ کھینچ لیا اور ریوڑیاں اپنے منہ میں رکھ لیں۔ محمود اور نوری اور سمیع خوب شور مچا مچا کر ہنسنے لگے۔ حامد کھسیانا ہوگیا۔
محسن نے کہا: ’’اچھا اب ضرور دیں گے۔ یہ لے جائو حامد اللہ کی قسم!‘‘
حامد نے کہا: ’’رکھیے رکھیے… کیا میرے پاس پیسے نہیں ہیں؟‘‘
سمیع: ’’تین ہی تو پیسے ہیں، کیا کیا لو گے؟‘‘
محمود: ’’تم اس سے مت بولو حامد۔ میرے پاس آئو۔ یہ گلاب جامن لے لو۔‘‘
حامد: ’’مٹھائی کون سی بڑی نعمت ہے۔ کتاب میں اس کی برائیاں لکھی ہیں۔‘‘
محسن: ’’لیکن جی میں کہہ رہے ہوں گے کہ کچھ مل جائے تو کھالیں، اپنے پیسے کیوں نہیں نکالتے؟‘‘
محمود: ’’میں اس کی ہوشیاری سمجھتا ہوں۔ جب ہمارے سارے پیسے خرچ ہوجائیں گے تب یہ مٹھائی لے گا اور ہمیں چِڑَھا چِڑَھا کر کھائے گا۔‘‘
حلوائیوں کی دکانوں کے آگے کچھ دکانیں لوہے کی چیزوں کی تھیں۔ کچھ گِلٹ (ظاہری خوبصورتی) اور ملمع کے زیورات کی۔ بچوں کے لیے یہاں دل چسپی کا کوئی سامان نہ تھا۔ حامد لوہے کی دکان پر اک لمحہ کے لیے رک گیا۔ دست پناہ رکھے ہوئے تھے۔ وہ دَست پَنَاہ (چمٹا) خریدے گا۔ اماں کے پاس دست پناہ نہیں ہے۔ توے سے روٹیاں اتارتی ہیں تو ہاتھ جل جاتا ہے۔ اگر وہ دست پناہ لے جاکر ماں کو دے دے تو وہ کتنی خوش ہوں گی۔ پھر ان کی انگلیاں کبھی نہ جلیں گی۔ گھر میں ایک کام کی چیز ہوجائے گی۔ کھلونوں سے کیا فائدہ۔ مفت کے پیسے خراب ہوتے ہیں۔ ذرا دیر ہی تو خوشی ہوتی ہے۔ پھر تو انہیں کوئی آنکھ اٹھاکر بھی نہیں دیکھتا، یا تو گھر پہنچتے پہنچتے ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہوجائیں گے یا چھوٹے بچے جو عیدگاہ نہیں جاسکے ہیں ضد کرکے لے لیںگے اور توڑ ڈالیں گے۔ دست پناہ کتنے فائدے کی چیز ہے…! روٹیاں توے سے اتارلو… چولہے میں سینک لو… کوئی آگ مانگنے آئے چولہے سے آگ نکال کر دے دو… اماں کو کہاں فرصت ہے کہ بازار آئیں، اور پھر اتنے پیسے کہاں ملتے ہیں۔ روز ہاتھ جلا لیتی ہیں۔
اس کے ساتھی آگے بڑھ گئے ہیں۔ سبیل پر سب کے سب پانی پی رہے ہیں۔ کتنے لالچی ہیں۔ سب نے اتنی مٹھائیاں لیں۔ کسی نے مجھے ایک بھی نہ دی۔ اس پر کہتے ہیں میرے ساتھ کھیلو۔ میری تختی دھولائو۔ اب اگر میاں محسن نے کوئی کام کرنے کو کہا تو خوب خبر لوں گا۔ کھائیں مٹھائیاں۔ آپ منہ سڑے گا۔ پھوڑے پھنسیاں نکلیں گی۔ آپ ہی چَٹَورِی زَبَان (لذیذ چیزیں کھانے کی عادت) ہوجائے گی۔ تب پیسے چرائیں گے اور مار کھائیں گے۔ میری زبان کیوں خراب ہوگی۔
اس نے پھر سوچا: ’’اماں دست پناہ دیکھتے ہی دوڑ کر میرے ہاتھ سے لے لیں گی اور کہیں گی: میرا بیٹا اپنی ماں کے لیے دست پناہ لایا ہے۔ ہزاروں دعائیں دیں گی۔ پھر اسے پڑوسنوں کو دکھائیں گی۔ سارے گائوں میں واہ واہ مچ جائے گی۔ ان لوگوں کے کھلونوں پر کون انہیں دعائیں دے گا۔ بزرگوں کی دعائیں سیدھی خدا کی دَرگَاہ (دربار) میں پہنچتی ہیں اور فوراً قبول ہوتی ہیں۔ میرے پاس بہت سے پیسے نہیں ہیں جب ہی تو محسن اور محمود یوں مزاج دکھاتے ہیں۔ میں بھی ان کو مزاج دکھائوں گا۔ وہ کھلونے کھیلیں اور مٹھائیاں کھائیں۔ میں غریب سہی، کسی سے کچھ مانگنے تو نہیں جاتا۔ آخر ابا جان کبھی نہ کبھی تو آئیں گے ہی… پھر ان لوگوں سے پوچھوں گا کتنے کھلونے لوگے؟ ایک ایک کو ایک ٹوکری دوں گا اور دکھائوں گا کہ دوستوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔ جتنے غریب لڑکے ہیں سب کو اچھے اچھے کرتے دلوا دوں گا اور کتابیں دے دوں گا۔ یہ نہیں کہ ایک پیسہ کی ریوڑیاں لیں تو چِڑَھا چِڑَھا کر کھانے لگے۔ دست پناہ دیکھ کر سب کے سب خوب ہنسیں گے۔ احمق تو ہیں ہی سب۔ اس نے دکان دار سے ڈرتے ڈرتے پوچھا: ’’یہ دست پناہ بیچو گے؟‘‘
دکان دار نے اس کی طرف دیکھا اور ساتھ کوئی آدمی نہ دیکھ کر کہا: ’’وہ تمہارے کام کا نہیں ہے؟‘‘
’’بکائو ہے یا نہیں؟‘‘
’’بکائو ہے جی! اور یہاں کیوں لادکر لائے ہیں۔‘‘
’’تو بتلا تے کیوں نہیں، کتنے پیسے کا دو گے۔‘‘
’’چھے پیسے لگیں گے!‘‘
حامد کا دل بیٹھ گیا۔ کلیجہ مضبوط کرکے بولا: ’’تین پیسے لوگے؟‘‘
اور آگے بڑھا کہ دُکان دار کی گُھرکِیَاں (ڈانٹ ڈپٹ) نہ سنے، مگر دکان دار نے گھرکیاں نہ دیں۔ دست پناہ اس کی طرف بڑھادیا اور پیسے لے لیے۔
حامد نے دست پناہ کندھے پر رکھ لیا، گویا بندوق ہے اور شان سے اکڑتا ہوا اپنے رفیقوں کے پاس آیا۔
محسن نے ہنستے ہوئے کہا: ’’یہ دست پناہ لایا ہے۔ احمق! اس کا کیا کرے گا؟‘‘
حامد نے دست پناہ کو زمین پر ٹیک کر کہا: ’’ذرا اپنا بھشتی زمین پر گرادو۔ ساری پسلیاں چور چور ہوجائیں گی بچے کی۔‘‘
محمود: ’’تو یہ دست پناہ کوئی کھلونا ہے؟‘‘
حامد: ’’کھلونا کیوں نہیں ہے۔ ابھی کندھے پر رکھا بندوق ہوگیا۔ ہاتھ میں لے لیا تو فقیر کا چمٹا ہوگیا۔ چاہوں تو اس سے تمہاری ناک پکڑ لوں۔ ایک چمٹا جمادوں تو تم لوگوں کے سارے کھلونوں کی جان نکل جائے… تمہارے کھلونے کتنا ہی زور لگائیں اس کا بال بیکا نہیں کرسکتے۔ میرا بہادر شیر ہے یہ دست پناہ!‘‘
سمیع متاثر ہوکر بولا: ’’میری خنجری سے بدلو گے؟ دو آنے کی ہے۔‘‘
حامد نے خنجری کی طرف حقارت سے دیکھ کر کہا: ’’میرا دست پناہ چاہے تو تمہاری خنجری کا پیٹ پھاڑ ڈالے۔ بس ایک چمڑی کی جھلی لگا دی۔ ڈھب ڈھب بولنے لگی۔ ذرا سا پانی لگے تو ختم ہوجائے۔ میرا بہادر دست پناہ آگ میں، پانی میں، آندھی میں، طوفان میں برابر ڈٹا کھڑا رہے گا۔‘‘
میلہ بہت دور پیچھے چھوٹ چکا تھا۔ دس بج رہے تھے۔ گھر پہنچنے کی جلدی تھی۔ اب دست پناہ نہیں مل سکتا۔ اب کسی کے پاس پیسے بھی تو نہیں رہے۔ حامد ہے بڑا ہوشیار!
اب دو فریق ہوگئے۔ محمود اور محسن اور نوری ایک طرف۔ حامد یکہ و تنہا (اکیلا) دوسری طرف۔ سمیع غیر جانب دار رہے گا۔ جس کی فتح دیکھے گا اس کی طرف جا ملے گا۔ مناظرہ شروع ہوگیا۔ آج حامد کی زبان بڑی صفائی سے چل رہی تھی۔ اتحادِ ثَلَاثَہ (تین) اس کے جارحانہ عمل سے پریشان ہورہا ہے۔ ثلاثہ کے پاس تعداد کی طاقت ہے۔ حامد کے پاس حق اور اخلاق کی۔ ایک طرف مٹی، ربر، لکڑی کی چیزیں ہیں۔ دوسری جانب اکیلا لوہا، جو اس وقت اپنے کو فولاد کہہ رہا ہے۔ وہ رُوئَیں تَن (جس کے جسم پر ہتھیار کا اثر نہ ہو) ہے۔ صف شکن ہے۔ اگر کہیں شیر کی آواز کان میں آجائے تو میاں بھشتی کے اوسان خطا ہوجائیں۔ میاں سپاہی مٹی کی بندوق چھوڑ کر بھاگیں… وکیل صاحب کا سارا قانون پیٹ میں سما جائے۔ چغے میں منہ چھپا کر زمین پر لیٹ جائیں… مگر بہادر، یہ رستم ہند لپک کر شیر کی گردن پر سوار ہوجائے گا اور اس کی آنکھیں نکال لے گا۔
محسن نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر کہا: ’’اچھا تمہارا دست پناہ پانی تو نہیں بھر سکتا؟‘‘
حامد نے دست پناہ کو سیدھا کرکے کہا: ’’یہ بھشتی کو ایک ڈانٹ بتائے گا تو وہ دوڑا ہوا پانی لاکر اس کے دروازے پر چھڑکنے لگے گا۔ جناب پھر اس سے چاہے گھڑے، مٹکے، کُونڈَے (آٹا گوندھنے کا برتن) بھر والو۔‘‘ محسن کا ناطقہ بند (بولنے کی ہمت نہ رہی) ہوگیا۔ نوری نے کمک پہنچائی:
’’بَچَّا (حقارت کے طور پر بولتے ہیں) گرفتار ہوجائیں تو عدالت میں بندھے بندھے پھریں گے۔ تب تو ہمارے وکیل صاحب ہی پیروی کریں گے۔ بولیے جناب!‘‘
حامد کے پاس اس وار کا دفعیہ اتنا آسان نہ تھا۔ دفعتاً اس نے ذرا مہلت پاجانے کے ارادے سے پوچھا:
’’اسے پکڑنے کو کون آئے گا؟‘‘
محمود نے کہا: ’’یہ سپاہی بندوق والا!‘‘
حامد نے منہ چڑھا کر کہا: ’’یہ بے چارے اس رستم ہند کو پکڑیں گے؟ اچھا لائو ابھی ذرا مقابلہ ہوجائے۔ اس کی صورت دیکھتے ہی بچے کی ماں مر جائے گی۔ پکڑیں گے کیا بے چارے۔‘‘
محسن نے تازہ دم ہوکر وار کیا: ’’تمہارے دست پناہ کا منہ روز آگ میں جلے گا۔‘‘
حامد کے پاس جواب تیار تھا: ’’آگ میں بہادر کودتے ہیں جناب! تمہارے یہ وکیل اور سپاہی، بھشتی ڈرپوک ہیں۔ سب گھر میں گھس جائیں گے۔ آگ میں کودنا وہ کام ہے جو رستم ہی کرسکتا ہے۔‘‘
نوری نے انتہائی جَودَت (ذہانت) سے کام لیا: ’’تمہارا دست پناہ باورچی خانہ میں زمین پر پڑا رہے گا۔ میرا وکیل شان سے میز کرسی لگا کر بیٹھے گا۔‘‘
اس حملے نے مُردوں میں بھی جان ڈال دی۔ سمیع بھی جیت گیا۔ بے شک معرکے کی بات کہی، دست پناہ تو باورچی خانے میں پڑا رہے گا۔ حامد نے دھاندلی کی: ’’میرا دست پناہ باورچی خانے میں نہیں رہے گا۔ وکیل صاحب کی کرسی پر بیٹھے گا تو جاکر انہیں زمین پر پٹخ دے گا اور سارا قانون ان کے پیٹ میں ڈال دے گا۔‘‘
اس جواب میں بالکل جان نہ تھی۔ بالکل بے تکی سی بات تھی، لیکن قانون پیٹ میں ڈالنے والی بات چھا گئی۔ ایسی چھا گئی کہ تینوں سْورمَا (دلیر) منہ تکتے رہ گئے۔ حامد نے میدان جیت لیا۔ گو ثلاثہ کے پاس ابھی گیند اور سیٹی اور بطخ ریزرو (Reserve) میں تھے مگر ان مشین گنوں کے سامنے ان پٹاخوں کو کون پوچھتا۔ دست پناہ رستم ہند ہے، اس میں کسی کو چوں چرا کی گنجائش نہیں۔
فاتح کو مفتوحوں سے وقار اور خوشامد کا خَرَاج (ٹیکس) ملتا ہے۔ وہ حامد کو ملنے لگا، اوروں نے تین تین آنے خرچ کیے اور کوئی کام کی چیز نہ لے سکے۔ حامد نے تین ہی پیسوں میں رنگ جما لیا۔ کھلونوں کا کیا اعتبار، دو ایک دن میں ٹوٹ جائیں گے۔ حامد کا دست پناہ تو فاتح رہے گا ہمیشہ۔
صلح کی شرطیں طے ہونے لگیں۔ محسن نے کہا: ’’ذرا اپنا چمٹا دو، ہم بھی دیکھیں۔ تم چاہو تو ہمارا وکیل دیکھو۔‘‘
حامد کو اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ وہ فَیّاض طَبع (مزاجاً سخی ہونا) فاتح ہے۔ دست پناہ باری باری سے محسن، محمود، نوری اور سمیع سب کے ہاتھوں میں گیا اور ان کے کھلونے باری باری سے حامد کے ہاتھ میں آئے۔
کتنے خوبصورت کھلونے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے بولا ہی چاہتے ہیں، مگر ان کھلونوں کے لیے انہیں دعا کون دے گا؟ کون کون ان کھلونوں کو دیکھ کر خوش ہوگا جتنا اماں جان دست پناہ کو دیکھ کر ہوں گی۔ اسے اپنے طرزعمل پر مُطلَق (بالکل) پچھتاوا نہیں ہے۔ پھر اب تو دست پناہ رستم ہے اور سب کھلونوں کا بادشاہ۔
   راستے میں محمود نے ایک پیسے کی ککڑیاں لیں۔ اس میں حامد کو بھی خراج ملا، حالاں کہ وہ انکار کرتا رہا۔ محسن اور سمیع نے ایک ایک پیسے کے فالسے لیے ، حامد کو بھی خراج ملا۔ یہ رستم ہند کی برکت تھی۔ گیارہ بجتے بجتے سارے گائوں میں چہل پہل ہوگئی۔ میلے والے آگئے۔
محسن کی چھوٹی بہن نے دوڑ کر بھشتی اس کے ہاتھ سے چھین لیا اور مارے خوشی کے جو اچھلی تو میاں بھشتی نیچے آرہے اور عَالَمِ جَاوِدَانِی (آخرت) کو سدھارے۔ اس پر بھائی بہن میں مار پیٹ ہوئی۔ دونوں خوب روئے۔ ان کی اماں جان یہ کہرام سن کر اور بگڑیں۔ دونوں کو اوپر سے دو دو چانٹے اور رسید کیے۔
میاں نوری کے وکیل کا حشر اس سے بھی بدتر ہوا۔ وکیل زمین پر یا طاق پر تو نہیں بیٹھ سکتا۔ اس کی پوزیشن کا لحاظ تو کرنا ہی ہوگا۔ دیوار میں دو کھونٹیاں گاڑی گئیں۔ ان پر ایک چیڑ کا پرانا پٹرا رکھا گیا۔ پٹرے پر سرخ رنگ کا ایک چیتھڑا بچھا دیا گیا جو بمنزلہ قالین تھا۔
وکیل صاحب عالم بالا پر جلوہ افروز ہوئے۔ یہیں سے قانونی بحث کریں گے۔ نوری ایک پنکھا لے کر جھلنے لگا۔ معلوم نہیں پنکھے کی ہوا سے یا پنکھے کی چوٹ سے وکیل صاحب عالم بالا سے دنیائے فانی میں آرہے اور ان کے جسد خاکی کے پرزے ہوگئے۔ پھر بڑے زور و شور کا ماتم ہوا اور وکیل صاحب کی میت پارسی دستور کے مطابق گھور پر پھینک دی گئی تاکہ بے کار نہ جاکر زَاغ و زَغَن (کوّا اور چیل) کے کام آجائے۔
اب رہے میاں محمود کے سپاہی۔ محترم اور ذی رعب ہستی ہے۔ اپنے پیروں پر چلنے کی ذلت اسے گوارہ نہیں۔ محمود نے اپنا بکری کا بچہ پکڑا اور اس پر سپاہی کو سوار کیا۔ محمود کی بہن ایک ہاتھ سے سپاہی کو پکڑے ہوئے تھی اور محمود بکری کے بچہ کا کان پکڑ کر اسے دروازے پر چلا رہا تھا اور اس کے دونوں بھائی سپاہی کی طرف سے ’’چھونے والے واگتے لہو‘‘ پکارتے چلتے تھے۔ معلوم نہیں کیا ہوا میاں سپاہی اپنے گھوڑے کی پیٹھ سے گر پڑے اور اپنی بندوق لیے زمین پر آرہے۔ ایک ٹانگ مَضرُوب (ٹوٹ) ہوگئی۔ مگر کوئی مضائقہ نہیں۔ محمود ہوشیار ڈاکٹر ہے۔ ڈاکٹر نگم اور بھاٹیا اس کی شاگردی کرسکتے ہیں اور یہ ٹوٹی ہوئی ٹانگ کو آناً فاناً جوڑ دے گا۔ صرف گُولَر (پیپل کے درخت کا پھل) کا دودھ چاہیے۔ گولر کا دودھ آتا ہے۔ ٹانگ جوڑی جاتی ہے۔ سپاہی جوں ہی کھڑا ہوتا ہے ٹانگ پھر الگ ہوجاتی ہے۔ عمل جراحی ناکام ہوجاتا ہے۔ تب محمود اس کی دوسری ٹانگ بھی توڑ دیتا ہے۔ اب وہ آرام سے ایک جگہ بیٹھ سکتا تھا۔ اب وہ گوشہ میں بیٹھ کر بانس سے بنے چھپر کی آڑ میں شکار کھیلے گا۔
اب میاں حامد کا قصہ سنیے۔ امینہ اس کی آواز سنتے ہی دوڑی اور اسے گود میں اٹھاکر پیار کرنے لگی۔ دفعتاً اس کے ہاتھ میں چمٹا دیکھ کر وہ چونک پڑی۔
’’یہ دست پناہ کہاں تھا بیٹا؟‘‘
’’میں نے مول لیا ہے تین پیسے میں۔‘‘
امینہ نے چھاتی پیٹ لی۔ ’’یہ کیسا بے سمجھ لڑکا ہے کہ دوپہر ہوگئی۔ نہ کچھ کھایا نہ پیا، لایا کیا… یہ دست پناہ… سارے میلے میں تجھے کوئی اور چیز ہی نہ ملی۔‘‘
حامد نے خطا ورانہ انداز سے کہا: ’’تمہاری انگلیاں توے سے جل جاتی تھیں کہ نہیں؟‘‘
امینہ کا غصہ فوراً شفقت میں تبدیل ہوگیا اور شفقت بھی وہ جو پُر بیان ہوتی ہے اور اپنی ساری تاثیر لفظوں میں منتشر کردیتی ہے۔ یہ بے زبان شفقت تھی۔ درد اور التجا میں ڈوبی ہوئی۔
اْف! کتنی نَفس کُشِی (نفسانی خواہش کُچلنا) ہے! کتنی جَاں سَوزی (جان جلانا) ہے! غریب نے اپنے طِفلَانَہ اِشتِیَاق (بچکانہ شوق) کو روکنے کے لیے کتنا ضبط کیا ہوگا! جب دوسرے بچے کھلونے لے رہے ہوں گے، مٹھائیاں کھا رہے ہوں گے… اس کا دل کتنا لہراتا ہوگا۔ اتنا ضبط اس سے ہوا کیوں کر! اپنی بوڑھی اماں کی یاد اسے وہاں بھی… میرا لال میری کتنی فکر کرتا ہے، اس کے دل میں ایک ایسا عُلوِی جذبہ (بلند حوصلہ) پیدا ہوا کہ اس کے ہاتھ میں دنیا کی بادشاہت آجائے اور وہ اسے حامد کے اوپر نثار کردے، اور تب ایک بڑی دل چسپ بات ہوئی۔ بڑھیا امینہ ننھی سی امینہ بن گئی، وہ رونے لگی۔ دامن پھیلا کر حامد کو دعائیں دیتی جاتی تھی اور آنکھوں سے آنسو کی بڑی بڑی بوندیں گراتی جاتی تھی۔ حامد اس کا راز کیا سمجھتا، اور نہ شاید ہمارے بعض قارئین ہی سمجھ سکیں گے۔

Sunday, June 22, 2014

حضرت ابو ذر رضی اللہ کی ضمانت اور حضرت عمر رضی اللہ کا انصاف، ایک قصہ بلاحوالہ

یہ قصہ بعض کتابوں میں ، اور انٹرنیٹ پر عربی و اردو میں عام ہے، کہیں قصہ کے بعض حصوں میں کچھ تبدیلی، رنگ آمیزی اور افسانویت پیدا کی گئی  ہے 

البتہ یہ قصہ کسی معبتر کتاب میں موجود نہیں۔ اور انٹرنیٹ پر بہت سارے علما نے اس کو موضوع اور من گھڑت بتایا ہے۔ 
قصہ درج ذیل ہے : 
دو نوجوان سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسکی طرف انگلی کا اشارہ کر کے کہتے ہیں یا عمر یہ ہے وہ شخص!

سیدنا عمر ان سے پوچھتے ہیں ، کیا کیا ہے اس شخص نے؟

یا امیر المؤمنین، اس نے ہمارے باپ کو قتل کیا ہے۔

کیا کہہ رہے ہو، اس نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے؟

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں، کیا تو نے ان کے باپ کو قتل کیا ہے؟

وہ شخص کہتا ہے : ہاں امیر المؤمنین، مجھ سے قتل ہو گیا ہے انکا باپ۔

کس طرح قتل کیا ہے؟

یا عمر، انکا باپ اپنے اونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہو گیا تھا، میں نے منع کیا، باز نہیں آیا تو میں نے ایک پتھر دے مارا۔ جو سیدھا اس کے سر میں لگا اور وہ موقع پر مر گیا۔

پھر تو قصاص دینا پڑے گا، موت ہے اسکی سزا۔

نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت،اور فیصلہ بھی ایسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہیں ۔

نہ ہی اس شخص سے اسکے کنبے کے بارے میں کوئی سوال کیا گیا ہے، نہ ہی یہ پوچھا گیا ہے کہ تعلق کس قدر شریف خاندان سے ہے، نہ ہی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کی تعلق کسی معزز قبیلے سے تو نہیں، معاشرے میں کیا رتبہ یا مقام ہے؟

ان سب باتوں سے بھلا سیدنا عمر کو مطلب ہی کیا ہے!!

 کیوں کہ معاملہ اللہ کے دین کا ہو تو عمر رضی اللہ عنہ پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمر رضی اللہ عنہ کو روک سکتا ہے۔ حتی کہ سامنے عمر کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ قاتل کی حیثیت سے آ کھڑا ہو، قصاص تو اس سے بھی لیا جائے گا۔

 وہ شخص کہتا ہے ا ے امیر المؤمنین: اس کے نام پر جس کے حکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں مجھے صحراء میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس جانے دیجیے تاکہ میں ان کو بتا آؤں کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے، میں اسکے بعد واپس آ جاؤں گا۔

 سیدنا عمر کہتے ہیں: کون تیری ضمانت دے گا کہ تو صحراء میں جا کر واپس بھی آ جائے گا؟

 مجمع پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو اسکا نام تک بھی جانتا ہو۔ 

اسکے قبیلے، خیمےیا گھر وغیرہ کے بارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے۔

کون ضمانت دے اسکی؟

کیا یہ دس درہم کے ادھار یا زمین کے ٹکڑے یا کسی اونٹ کے سودے کی ضمانت کا معاملہ ہے؟

 ادھر تو ایک گردن کی ضمانت دینے کی بات ہے جسے تلوار سے اڑا دیا جانا ہے۔

اور کوئی ایسا بھی تو نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمر سے اعتراض کرے، یا پھر اس شخص کی سفارش کیلئے ہی کھڑا ہو جائے۔ اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے۔

محفل میں موجود صحابہ پر ایک خاموشی سی چھا گئی ہے، اس صورتحال سے خود عمر رضی اللہ عنہ بھی متأثر ہیں۔ کیوں کہ اس شخص کی حالت نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔

کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کیلئے چھوڑ دیئے جائیں؟

یا پھر اسکو بغیر ضمانتی کے واپس جانے دیا جائے؟

اور اگروہ  واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا!

خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں ہیں اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں،

 معاف کر دو اس شخص کو۔

نہیں امیر المؤمنین، جو ہمارے باپ کو قتل کرے اسکو چھوڑ دیں، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، نوجوان اپنا آخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتے ہیں۔

عمر رضی اللہ عنہ ایک بار پھر مجمع کی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہیں ، اے لوگو ، ہے کوئی تم میں سے جو اس کی ضمانت دے؟

ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہیں میں ضمانت دیتا ہوں اس شخص کی!

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ابوذر ، اس نے قتل کیا ہے۔

چاہے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو، ابوذر رضی اللہ عنہ اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہیں۔

عمر: جانتے ہو اسے؟

ابوذر: نہیں جانتا اسے۔ عمر: تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو؟

ابوذر: میں نے اس کے چہرے پر مومنوں کی صفات دیکھی ہیں، اور مجھے ایسا لگتا ہے یہ جھوٹ نہیں بول رہا، انشاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا۔

عمر: ابوذر دیکھ لو اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تیری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا۔

امیر المؤمنین، پھر اللہ مالک ہے۔ ابوذر اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے، کچھ ضروری تیاریوں کیلئے، بیوی بچوں کو الوداع کہنے، اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے، اور اس کے قصاص کی ادئیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سے لوٹ کر واپس آنے کیلئے۔

اور پھر تین راتوں کے بعد،

عمررضی اللہ عنہ بھلا کیسے اس امر کو بھلا پاتے،

انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا،

 عصر کے وقت شہر میں (الصلاۃ جامعہ) کی منادی پھر جاتی ہے، نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے۔

ابو ذر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لاتے ہیں اور آ کر عمر کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔

کدھر ہے وہ آدمی؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں۔

مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین، ابوذر رضی اللہ عنہ مختصر جواب دیتے ہیں۔

ابوذر: آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں معمول سے سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

محفل میں ہو کا عالم ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے؟

یہ سچ ہے کہ ابوذر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں بستے ہیں، عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے جسم کا ٹکڑا مانگیں تو عمررضی اللہ عنہ دیر نہ کریں کاٹ کر ابوذر رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیں، لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے، اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے، کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا، نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے، حالات و واقعات کے مطابق نہیں اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔

مغرب سے چند لمحات پہلےوہ شخص آ جاتا ہے، بے ساختہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے، ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے۔

عمر رضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں اے شخص، اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتا تو ہم نے تیرا کیا کر لینا تھا، نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا!

امیر المؤمنین، اللہ کی قسم، بات آپکی نہیں ہے بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے، دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں، اپنے بچوں کو پرندوں کے چوزوں کی طرح صحراء میں تنہا چھوڑ کر، جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں۔ مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کر کے پوچھا ابوذر، تو نے کس بنا پر اسکی ضمانت دے دی تھی؟

ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا،

اے عمر، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے۔

سید عمر رضی اللہ عنہ نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دو نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا کہتے ہو اب؟ نوجوانوں نے روتے ہوئے جواب دیا، اے امیر المؤمنین، ہم اس کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں،

ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے۔

 سیدنا عمر اللہ رضی اللہ عنہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو انکی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گر رہے تھے۔۔۔۔

اے نوجوانو! تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔

اے ابو ذراللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے۔

اور اے شخص، اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خیر دے۔

اور اے امیر المؤمنین، اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے۔