کیا خدا ہے ؟
ایک شخص نائی کی دوکان بال اور داڑھی بنانے کے لئے گیا۔ جیسا کہ عموماً ہوتا ہے نائی اور گاہک کے درمیان گفتگو شروع ہو گئی۔ بات جب اللہ کے موضوع پر آئی تو نائی نے کہا؛
’’مجھے (نعوذباللہ) اللہ کے وجود پر یقین نہیں ہے.‘‘
گاہک نے پوچھا کہ وہ کیوں؟
نائی نے کہا؛ ’’اِس کے لئے باہر سڑک پر ایک نظر ڈالنا ہی کافی ہے۔ اگر خدا ہوتا تو کیا اِتنے لوگ بیمار ہوتے؟ اِتنی اولادیں یتیم ہوتیں؟ دنیا میں اِتنا رنج و غم ہوتا؟ مجھے یقین ہے کہ اگر رحیم و کریم اللہ کا وجود ہوتا تو وہ ہرگز اِس کی اجازت نہیں دیتا کہ دنیا اتنے مسائل سے بھرا ہو۔‘‘
گاہک نے کچھ دیر سوچا لیکن اُس سے کوئی جواب نہ بن پڑا، ویسے بھی وہ بحث کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔
نائی نے اُس کے بال اور داڑھی بنائے اور وہ پیسے دے کر دوکان سے باہر نکل آیا۔ اُسی وقت اُس کے سامنے سے ایک شخص گزرا جس کے بال اور داڑھی لمبے اور بے ترتیب تھے اور لگ رہا تھا کہ بہت عرصہ وہ نہایا بھی نہیں ہے۔
گاھک واپس دوکان میں داخل ہُوا اور نائی سے کہنے لگا؛
’’جانتے ہو کیا؟ میرے خیال میں دنیا میں نائیوں کا بھی کوئی وجود نہیں ہے۔‘‘
نائی نے کہا کہ کیسی بات کر رہے ہو۔ میں نائی ہوں اور تمہارے سامنے موجود ہوں، ابھی ابھی تمہاری داڑھی اور بالوں کی حجامت کی ہے۔
’’میں نے کہا نا کہ کوئی وجود نہیں ہے نائیوں کا، اگر ہوتا تو ایسے لوگ ہرگز نظر نہ آتے جیسا میں نے ابھی ابھی تمہاری دوکان کے سامنے سے گزرتے دیکھا ہے، لمبے اور الجھے بالوں اور داڑھی کے ساتھ۔‘‘
’’نہیں جناب نائی تو موجود ہیں اب اگر ایسے لوگ ہمارے پاس نہ آئیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟‘‘
’’بالکل یہی بات ہے۔ اللہ بھی ہر جگہ اور ہر زمانے میں موجود ہے، اب اگر لوگ اُسے نہ ڈھونڈیں، اُس سے رابطہ نہ کریں اور سچّے دل سے اُس کی پیروی اور اطاعت کر کے اُس سے نہ مانگیں تو یہ اللہ کا تو نعوذ باللہ قصور نہیں ہے۔‘‘
Saturday, June 10, 2017
کیا خدا موجود ہے ؟
Wednesday, June 7, 2017
خانہ کعبہ کی چابیاں
خانہ کعبہ کی چابیاں سعودی شاہی خاندان کے پاس کیوں نہیں رکھی جاتیں ؟جانئے مقدس ترین مقام کی چابیوں کے پیچھے چھپی وہ معجزاتی تاریخ جو آپ کا بھی ایمان تازہ کر ديگي.
اگرچہ سعودی فرماں روا کو خادمین حرمین شریفین کہا جاتا ہے لیکن درحقیقت خانہ کعبہ کی چابیاں ان کے پاس نہیں ہوتیں۔ یہ چابیاں صدیوں سے شیبی خاندان کے پاس ہیں اور اس کے پیچھے ایسی کہانی ہے کہ سن کر آپ کا ایمان تازہ ہو جائے گا۔ بیت اللہ کی چابیاں اس خاندان کے پاس اس لیے چلی آ رہی ہیں کہ خود اللہ سبحان تعالیٰ نے اس کام کے لیے اس خاندان کا انتخاب کیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے چابیاں ان کے حوالے کی تھیں۔
جب 8ہجری میں مسلمان مکہ پر غالب آئے اور اسے فتح کیا تو نبی کریم ﷺ نے خانہ کعبہ میں داخل ہونے کی خواہش ظاہر کی لیکن اس کا دروازہ مقفل تھا۔ لوگوں نے بتایا کہ اس کی چابیاں عثمان ابن طلحہٰ کے پاس ہیں۔ عثمان ابن طلحہٰ مسلمانوں کے مکہ مکرمہ فتح کر لینے پر خوفزدہ ہو کر خانہ کعبہ کی چھت پر چھپے ہوئے تھے۔ لوگوں کے بتانے پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حکم دیا کہ عثمان سے چابیاں لے کر دروازہ کھولو۔
جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے عثمان سے چابیاں طلب کیں تو اس نے دینے سے انکار کر دیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کا انکار نظرانداز کر دیا اور اس سے چابیاں چھین لیں اور دروازہ کھول دیا اور رسول اللہﷺ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہو گئے۔ بیت اللہ کے اندر رسول اللہ ﷺ نماز ادا کر رہے تھے کہ حضرت جبریل ؑ اللہ کا پیغام لے کر آ گئے۔ اس وقت قرآن کریم کی آیت نازل ہوئی
إنّ الله يأ مُرٓكم أن تؤدُ الأمانات إليّ أهلها
جس کا ترجمہ ہے ”بے شک اللہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو پہنچا دو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو، بے شک اللہ آپ کو اچھی نصیحت کرتا ہے، بے شک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔“
رسول اللہ ﷺ کو جیسے ہی جبریل ؑ نے اللہ کا یہ پیغام پہنچایا انہوں نے فوری طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حکم دیا کہ عثمان کے پاس واپس جاﺅ اور چابیاں اس کے حوالے کر دو اور اس سے اپنے روئیے پر معذرت کرو۔ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جا کر عثمان ابن طلحہٰ کو چابیاں واپس کیں اور ان سے معذرت چاہی تو عثمان ششدر رہ گئے کہ ایک عظیم فاتح نے انہیں چابیاں واپس بھجوا دی ہیں۔ تب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آیت کریمہ کے نزول کا واقعہ اسے سنایا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ چابیاں عثمان کو واپس کر دو۔ یہ سن کر عثمان ابن طلحہٰ نے فوراً کہا ”میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں“ اور مشرف بہ اسلام ہو گئے۔حضرت عثمان ابن طلحہٰ کے اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت جبریل ؑ واپس رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور چابیوں کے متعلق اللہ کا حکم سنایا کہ ”آج کے بعد تاقیامت خانہ کعبہ کی چابیاں عثمان ابن طلحہٰ کے خاندان کے پاس رہیں گی۔“ اس دن کے بعد سے آج تک خانہ کعبہ کی چابیاں اسی خاندان کے پاس ہیں۔
Saturday, June 3, 2017
بڑھیا کے پاس امانت
دو آدمی ایک قریشی خاتون کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے پاس 100 دینا بطور امانت رکھ کر کہا ۔۔ "جب تک ہم دونوں اکھٹے ہو کر اپنا مال طلب نہ کریں ، تب تک آپ یہ امانت واپس نہیں کریں گی۔۔ ہم دونوں کی موجودگی امانت واپس کرتے وقت ضروری ہے۔۔"
اس عورت نے ان کی امانت رکھ لی اور اس پر ایک سال کا وقفہ گزر گیا۔۔ ایک سال کے بعد ان دونوں میں سے ایک شخص اس خاتون کے پاس آیا اور کہنے لگا۔۔ "میرے ساتھی کا انتقال ہو گیا ہے اس لیے جو 100 دینار ہم نے تمہارے پاس امانت رکھے ہیں ، مجھے دے دو۔۔"
خاتون نے امانت حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور کہنے لگی۔۔"تم دونوں ساتھیوں نے میرے امانت رکھتے ہوئے یہ شرط رکھی تھی کہ میں تم میں سے ایک کی غیر موجودگی میں مال دوسرے کے حوالے نہ کروں , اس لیے میں امانت تیرے سپرد نہیں کر سکتی۔۔"
اس آدمی نے خاتون کے اہلِ خانہ اور پڑوسیوں سے مدد طلب کی۔۔ اُن لوگوں نے اس خاتون سے سفارش کی کہ اس کو امانت دے دو کیونکہ اس کے ساتھی کا انتقال ہوگیا ہے۔۔ لوگوں کے بےحد اصرار اور سفارش پر اس عورت نے امانت اس شخص کو دے دی۔۔
ادھر اس بات کو ایک سال اور گزر گیا تو دوسرا شخص جس کو اس کے دوست نے مرا ہوا ظاہر کیا تھا ، اس عورت کے پاس آیا اور آ کر امانت طلب کی.. خاتون نے بتایا۔۔ "تمہارا دوسرا ساتھی آیا تھا اور اس نے بتایا کہ تمہاری وفات ہوچکی ہے اس لیے میں نے امانت اس کےحوالے کر دی۔۔"
وہ شخص اس عورت سے جھگڑنے لگا اور کہا.. "میں تو زندہ سلامت ہوں۔۔ میری امانت واپس کرو۔۔"
عورت نے کہا۔۔ "میں تو رقم تمہارے ساتھی کو دے چکی ہوں۔۔"
اب اس آدمی نے عورت کے خلاف مقدمہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش کر دیا۔۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دونوں کا مقدمہ سنا اور چاہا کہ اس کا فیصلہ اس آدمی کے حق میں کر دیں۔۔ اچانک انہوں نے کچھ سوچا اور پھر فرمایا۔۔ "اس مقدمہ کو ہم علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) کے سپرد کرتے ہیں۔۔ " اور ایک روایت کے مطابق خود دونوں کو لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔۔!!
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دونوں کے بیانات سنے اور معاملہ کو بھانپ گئے کہ اس عورت کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔۔ چنانچہ اس آدمی سے فرمایا۔۔ "کیا تم نے اس خاتون سے یہ شرط نہیں رکھی تھی کہ مال ایک کی غیر موجودگی میں دوسرے کے حوالے مت کرنا۔۔؟"
اس آدمی نے جواب دیا.. "ہاں۔۔ یہ شرط تو رکھی گئی تھی۔۔"
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔۔" تمہارا مال ہمارے پاس موجود ہے۔۔ اپنے ساتھی کو بلا لاؤ تاکہ میں تم دونوں کا مال تمہارے سپرد کر دوں۔۔"
یہ بات سن کر وہ آدمی اپنا سا منہ لے کر رہ گیا اور خاموشی سے واپس چلا گیا۔۔
الطرق الحكمية
ابن جوزی رحمہ اللہ ..!!
Wednesday, May 31, 2017
ایک آخری ملاقات کی خواہش
ایک آخری ملاقات کی خواہش
شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ نے اپنے خطبات میں ایک واقعہ نقل فرمایا ہے کہ ایک لڑکے کو ایک لڑکی سے محبت ہوگئی مگر اس لڑکی کی کسی اور جگہ شادی ہو گئی ، لڑکا بڑا پریشان ہوا لڑکی کو خط لکھا کہ بی بی !میں تمہارے ساتھ شادی کی کوشش میں تھا مگر قسمت میں نہیں تھا ۔ اب آپ میرے ساتھ ایک مرتبہ ملاقات کر لیں اس کے لئے جو بھی فرمائش ہوگی میں پوری کروں گا ۔ لڑکی نیک تھی اس نے کہا حضرت فاروق اعظمؓ کے پیچھے چالیس دن تک نماز با جماعت پڑھ لو پھر جہاں بلائیں گے حاضر ہو جاؤں گی ۔۔۔ لڑکا پہلے لڑکی کے مکان کی طرف چکر لگاتا تھا مگر چالیس دن بعد اس نے جانا ختم کردیا ۔۔۔لڑکی نے پیغام بھجوایا کہ اگر میری فرمائش پوری کی ہے تو میں حاضر ہوں ۔۔۔ لڑکے نے کہا پہلے میرے دل میں آپ کی محبت تھی مگر اب اللہ تعالیٰ کی محبت بیٹھ گئی ہے اب آپ کا اور میرا راستہ جدا ہے ۔۔۔ لڑکی نے خاوند کو یہ بات بتلادی اس کے خاوند نے فاروق اعظمؓ کو یہ بات بتلائی تو آپ نے فرمایا کہ اللہ نے سچ فرمایا : ’’بے شک نماز لوگوں کو بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے ۔‘‘ (خطبات مدنی)
Tuesday, May 30, 2017
آخری سہارا
ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺴﯽ ﻣﮩﻠﮏ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﻥ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺟﺐ ﺍﺳﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻃﺒﯿﺒﻮﮞ ﻧﮯ ﺻﻼﺡ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﺻﺮﻑ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺘﮯ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺘﮯ ﺳﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﯾﮧ ﺧﺎﺹ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﻮﮞ۔ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺣﮑﯿﻤﻮﮞ ﻧﮯ ﻭﮦ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺷﺎﮨﯽ ﭘﯿﺎﺩﮮ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﮐﺮ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﻮﮞ ﺍﺳﮯ ﻟﮯ ﺁﺋﯿﮟ۔ ﭘﯿﺎﺩﻭﮞ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺗﻼﺵ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ۔ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﯼ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻞ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﭘﯿﺎﺩﻭﮞ ﻧﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﭘﺘﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻟﮯ ﻟﮯ ۔ ﮐﺴﺎﻥ ﺑﮩﺖ ﻏﺮﯾﺐ ﺗﮭﺎ۔ ﮈﮬﯿﺮ ﺳﺎﺭﺍ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺁﻣﺎﺩﮦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ۔ ﺧﺎﺹ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﻭﺍﻻ ﻟﮍﮐﺎ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺏ ﻗﺎﺿﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﭘﺘﺎ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﻮﮔﺎ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ! ﻗﺎﺿﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻓﺘﻮﯼٰ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﻥ ﮐﻮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔ ﻗﺎﺿﯽ ﮐﮯ ﻓﺘﻮﮮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻟﮍکے ﮐﻮ ﺟﻼّﺩ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ پتا ﻧﮑﺎﻝ ﻟﮯ ﻟﮍﮐﺎ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺑﮯ ﺑﺲ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯾﺎﮞ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺗﮭﺎ۔ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺟﻼﺩ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺁ ﮔﺌﯽ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ۔ ﺟﻼّﺩ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻧﻨﮕﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺗﻮ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﮐﺎﻧﭙﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻼّﺩ ﮐﻮ ﺭﮐﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻟﮍﮐﮯ۔ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﺘﺎ، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﺗﮭﺎ؟ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ، ﺣﻀﻮﺭ ﻭﺍﻻ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﮯ ﻻﻟﭻ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻗﺎﺿﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻇﺎﻟﻢ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺳﺘﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﮐﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺎﺿﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﺍ ﺁﺧﺮ ﯼ ﺳﮩﺎﺭ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﻼّﺩ ﻧﻨﮕﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺮﭘﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﺑﮭﯽ ﻇﺎﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ۔ ﺑﺲ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﻨﺴﯽ ﺁ ﮔﺌﯽ۔ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﯽ ﺗﻮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮں ﺁ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ۔ ﮨﻢ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﻟﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﺍُﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﭩﮭﺎ ﮐﺮ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺗﺤﻔﮯ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﯿﺎ۔ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮔﮭﭩﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻭﮦ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺗﻨﺪﺭﺳﺖ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔
ﺟﺎﻥ ﺧﻮﺍﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﯽ، ﻗﺪﺭ ﻭ ﻗﯿﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﯿﮟ۔ ﻧﯿﺰ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﻏﺮﺽ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﭘﺎﻣﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺗﻨﮯ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﻴﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﻧﻔﻊ ﻣﯿﮟ ﺧﻠﻖ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﺭﺣﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ۔ ۔ ۔ !!
.... .... ﺣﮑﺎﯾﺎﺕ ﺳﻌﺪﯼؒ
Wednesday, May 24, 2017
دروازہ کھلا رکھنا
امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں: ایک بار راہ چلتے ہوئے میں نے دیکھا، ایک ڈاکو لوگوں کو لوٹ رہا ہے۔ کچھ دنوں بعد مجھے وہی شخص مسجد میں نماز پڑھتا نظر آیا۔ میں اس کے پاس گیا اور اسے سمجھایا کہ تمہاری یہ کیا نماز ہے۔ خدا کے ساتھ معاملہ یوں نہیں کیا جاتا کہ ایک طرف تم لوگوں کو لوٹو اور دوسری طرف تمہاری نماز خدا کو قبول اور پسند آتی رہے۔ ڈاکو بولا: امام صاحب! میرے اور خدا کے مابین تقریباً سب دروازے بند ہیں۔ میں چاہتا ہوں کوئی ایک دروازہ میرے اور خدا کے مابین کھلا رہے۔
کچھ عرصہ بعد میں حج پر گیا۔ طواف کے دوران دیکھتا ہوں ایک شخص کعبہ کے غلاف سے چمٹ کر کھڑا کہتا جا رہا ہے: میری توبہ، مجھے معاف کردے۔ میں اس نافرمانی کی طرف کبھی پلٹنے والا نہیں۔ میں نے دیکھنا چاہا اس بےخودی کے عالم میں آہیں بھر بھر کر رونے والا کون خوش قسمت ہے۔ کیا دیکھتا ہوں، یہ وہی شخص ہے جسے میں نے بغداد میں ڈاکے ڈالتے دیکھا تھا!!!
تب میں نے دل میں کہا: خوش قسمت تھا، جس نے خدا کی طرف جانے والے سب دروازے بند نہیں کر ڈالے؛ خدا مہربان تھا جس نے وہ سبھی دروازے آخر کھول ڈالے!
تو کیسے بھی برے حال میں ہو، کتنے ہی گناہگار ہو… خدا کے ساتھ اپنے سب دروازے بند مت کر لینا۔ جتنے دروازے کھلے رکھ سکتے ہو انہیں کھلے رکھنے کےلیے شیطان کے مقابلے پر مسلسل زور مارتے رہنا… اور کبھی ہار مت ماننا۔ کوئی ایک بھی دروازہ یہاں کھلا مل گیا تو کچھ بعید نہیں وہ سب دوروازے ہی کھل جائیں، جن کے بارے میں تمہیں کبھی آس نہ تھی کہ خدا کی جانب سفر میں ان سب خوبصورت راہوں سے تمہارا کبھی گزر ہو گا!!!
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ (الزمر:)
کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے! خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔ رجوع کر لو اپنے پروردگار سے اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو…
خیال رکھنا… خدا کی جانب کبھی پشت مت کرنا!
ShareTuesday, May 16, 2017
شاہِ مرداں، شیرِ یزداں قوتِ پروردگار
اسکا نام عمرو بن عبدود تھا یہ اگرچہ نوے برس کا خرانٹ بڈھا تھا۔ مگر ایک ہزار سواروں کے برابر بہادر مانا جاتا تھا۔ کٹر یہودی تھا جنگ بدر میں زخمی ہوکر بھاگ نکلا تھا اور اس نے یہ قسم کھا رکھی تھی کہ جب تک مسلمانوں سے بدلہ نہ لے لوں گا بالوں میں تیل نہ ڈالوں گا۔ جی بھر کے کھانا نہیں کھاؤنگا۔ جنگ خندق میں یہ آگے بڑھا اور چلا چلا کر مقابلہ کی دعوت دینے لگا تین مرتبہ اس نے کہا کہ کون ہے جو میرے مقابلہ کو آتا ہے؟ تینوں مرتبہ حضرت علی شیر خدا نے اُٹھ کر جواب دیا کہ ” میں ” حضور ﷺ نے روکا کہ اے علی ! یہ عمرو بن عبدود ہے۔ حضرت علی شیر خدا نے عرض کیا کہ جی ہاں میں جانتا ہوں کہ یہ عمرو بن عبدود ہے ۔۔ لیکن میں اس سے لڑوں گا۔ یہ سن کر تاجدار نبوت ﷺ نے اپنی خاص تلوار ذوالفقار اپنے دست مبارک سے حیدر کرار کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے مقدس ہاتھ میں دے دی اور اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کے سر انور پر عمامہ باندھا اور یہ دعا فرمائی کہ یا اللہ ! عزوجل تو علی کی مدد فرما۔ حضرت اسد ﷲ الغالب علی بن ابی طالب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ مجاہدانہ شان سے اس کے سامنے کھڑے ہو گئے اور دونوں میں اس طرح مکالمہ شروع ہوا حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ : اے عمرو بن عبدود ! تو مسلمان ہوجا بہتر یہ ہی ہے تیرے لیے ! عمرو بن عبدود : یہ مجھ سے ہرگز نہیں ہو سکتا !
حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ : لڑائی سے واپس چلا جا ! عمرو بن عبدود : یہ مجھے منظور نہیں حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ : تو پھر مجھ سے جنگ کر! عمرو بن عبدود : ہنس کر کہا کہ میں کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دنیا میں کوئی مجھ کو جنگ کی دعوت دے گا۔ حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ : لیکن میں تجھ سے لڑنا چاہتا ہوں۔ عمرو بن عبدود : آخر تو ہے کون کس کا بچہ ہے اور تمہارا نام کیا ہے؟ حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ : علی بن ابی طالب عمرو بن عبدود : اوہ اے بھتیجے! تم ابھی بہت ہی کم عمر ہو میں تمہارا خون بہانا پسند نہیں کرتا۔ حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ : لیکن میں تمہارا خون بہانے کو بے حد پسند کرتا ہوں۔چناچہ عبدود خون کھولا دینے والے یہ گرم گرم جملے سن کر مارے غصہ کے آپے سے باہر ہو گیا ۔۔ حضرت شیر خدا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم پیدل تھے اور یہ سوار تھا اس پر جو غیرت سوار ہوئی تو گھوڑے سے اتر پڑا اور اپنی تلوار سے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے اور ننگی تلوار لے کر آگے بڑھا اور حضرت شیر خدا پر تلوار کا بھر پور وار کیا ۔۔۔ حضرت شیر خدا نے تلوار کے اس وار کو اپنی ڈھال پر روکا ۔۔ یہ وار اتنا سخت تھا کہ تلوار ڈھال اور عمامہ کو کاٹتی ہوئی پیشانی پر لگی گو بہت گہرا زخم نہیں لگا مگر پھر بھی زندگی بھریہ طغریٰ آپ کی پیشانی پر یادگار بن کر رہ گیا حضرت علی شیر خدا رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے تڑپ کر للکارا کہ اے عمرو ! سنبھل جا اب میری باری ہے یہ کہہ کر اسد ﷲ الغالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے ذوالفقار کا ایسا جچاتلا ہاتھ اور اتنا زبردست وار مارا کیا تلوار دشمن کے شانے کو کاٹتی ہوئی کمر سے پار ہو گئی مگر اسے احساس تک نہ ہوا کہ یہ ہوا کیا ہے ۔۔ اور بولا اور کوشش کرو یہ کہتے ہوئے تھوڑا پیچھے ہٹا۔۔ تو دو ٹکڑے ہوئے اور وہ تلملا کر زمین پر گرا اور دم زدن میں مر کر فی النار ہو گیا ۔۔ اور میدان کار زار زبان حال سے پکار اٹھا کہ
شاہِ مرداں، شیرِ یزداں قوتِ پروردگار
لَا فَتٰي اِلَّا عَلِي لَا سَيْفَ اِلَّا ذُوالْفِقَار
حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کو قتل کیا اور منہ پھیر کر چل دیئے حضرت عمررضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے علی ! آپ نے عمرو بن عبدود کی زرہ کیوں نہیں اتار لی ؟ سارے عرب میں اس سے اچھی کوئی زرہ نہیں ہے آپ نے فرمایا کہ اے عمر ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ ذوالفقار کی مار سے وہ اس طرح بے قرار ہو کر زمین پر گرا کہ اس کی شرمگاہ کھل گئی اس لئے حیاء کی وجہ سے میں نے منہ پھیر لیا ۔۔۔
📚 ابن کثیر بحوالہ البدایہ والنھایہ ج ٤ صفحہ ١٠٦
کشف الباری ج ٨صفحہ ٢٧٩
Share