Monday, September 19, 2016

جھنڈا اچھا کہ پردہ

جھنڈا اچھا کہ پردہ ؟

یہ کہانی بھی سنو! ایک بار شہر بغداد میں ایک جھنڈے اور پردے پر بحث چھڑ گئی۔ جھنڈا گرد غبار اور سفر کی تھکن سے بہت پریشان تھا۔ اس نے غصّہ کے ساتھ پردے سے کہا کہ ہم تم دونوں ایک آقا کے غلام ہیں ایک بادشاہ کے خدمت گزار ہیں۔ لیکن مجھے ذرا دیر کے لیے بھی آرام کا موقع نہیں ملتا ہے اور برابر وقت بے وقت سفر میں رہتا ہوں اور تو نے نہ لڑائی کا مزہ چھکا نہ قلعوں اور جنگلوں میں پھرا نہ ہوا اور گردو غبار کی تکلیف اٹھائی اور میں محنت کرنے میں تجھ سے بہت آگے ہوں۔ پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ تیری عزت مجھ سے زیادہ کیوں کی جاتی ہے۔ تو خوبصورت ملازموں اور چمیلی کے پھولوں جیسی حسین خادماؤں کے پاس رہتا ہے اور میں نوکروں کے ہاتھوں میں رہتا ہوں اور سفر میں دوسروں کا پابند ہوں لوگ جہاں چاہتے ہیں مجھے لے جاتے ہیں۔

پردے نے جواب دیا کہ میں اپنے مالک کی چوکھٹ پر سر جھکاتا ہوں۔ تیری طرح اپنا سر آسمان کی طرف بلند نہیں کرتا۔ جو شخص بے فائدہ گردن اونچی کر کے چلتا ہے وہ اپنے کو سر کے بل گراتا ہے۔

مطلب یہ ہے کہ جو شخص عاجزی اور انکساری کرتا ہے اس کو عزت حاصل ہوتی ہے اور جو غرور سے سر اٹھا کر چلتا ہے وہ ایک دن ذلیل ہوتا ہے۔

*۔۔۔*۔۔۔*

Sunday, September 18, 2016

پرندوں جیسا توکل

مئی ۱۹۸۶ء تک کا زمانہ مسقط (عمان) کی فوج میں بطور ایک اکائونٹنٹ گزرا، وہاں ہمارے ساتھ ایک رشید صاحب بھی ہوا کرتے تھے، وہ حافظ آباد کے قریب واقع کسی گائوں کے رہنے والے تھے، وہ وقتاً فوقتاً گائوں کا چکر لگاتے رہتے تھے، وہ اکثر ایک حکیم صاحب کا ذکر کرتے، ان حکیم صاحب کی باتیں کچھ عجیب سی تھیں۔ مجھے بھی آج تک یاد ہیں۔ حکیم صاحب کا گائوں گکھڑ سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر تھا۔

حکیم صاحب کا بچپن اپنے دادا کی گود میں گزرا تھا، ان کے والد اُن کی پیدائش سے قبل انتقال فرما گئے تھے، دادا نے بچپن ہی سے عبدالحکیم کو یہ سبق پڑھانا شروع کر دیا کہ اللہ کہتا ہے میں نے انسانوں اور جنوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ عبادت میں سے صرف وہ وقت اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا جو اس کے دیے ہوئے رزق کی تلاش کرنے میں لگے گا اور جو وقت انسان کے بس سے باہر ہے جیسے سونا، آرام کرنا، وغیرہ وغیرہ۔

گائوں میں گھر کا کافی بڑا صحن تھا۔ مزے کی بات یہ تھی کہ گھر کے گرد کوئی چار دیواری بھی نہ تھی۔ گھر میں ایک طرف بڑے بڑے درختوں کا ایک جھنڈ تھا۔ صبح شام دنیا جہان کی چڑیاں وہاں آ کر جمع ہوجاتیں اور چیں چیں کرکے آسمان سر پر اُٹھا لیتیں۔ صبح فجر ادا کرکے آپ ننھے حکیم کو گود میں لٹا کر ایک چارپائی پر بیٹھ جاتے اور چڑیوں کی آواز سے آواز ملانے کی کوشش کرتے۔ کہا کرتے یہ کہہ رہی ہیں ’’رازق، رازق، تو ہی رازق۔‘‘ گھر میں اکثر کہا کرتے کہ یہ اپنے دل میں دعا مانگ سکتی تھیں جیسے دنیا کے باقی سیکڑوں ہزاروں جانور مانگتے ہیں۔ لیکن انسان کو احساس دلانے کے لیے اللہ نے ان کو بآواز بلند روز کا رزق روز صبح مانگنے کا حکم دیا۔

عبدالحکیم کو سمجھاتے رہتے کہ ہمارے بزرگوں نے اور ہم نے تو خدا سے چڑیوں کی طرح رزق مانگ کر زندگی گزار لی اور بڑے سکھی رہے۔ تم بھی یہ راہ اختیار کرو گے تو زندگی بڑے سکون سے گزر جائے گی۔

شام کو داداجان عصر کی نماز کے بعد پھر چڑیوں کے ساتھی بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے۔ وہ کہا کرتے غور کرو وہ کیا کہہ رہی ہیں۔ مجھے تو یہی سمجھ آتا ہے کہ کہہ رہی ہوں ’’شکر شکر مولا تیرا شکر‘‘ یعنی تو نے ہماری صبح کی دعائوں کو شرفِ قبولیت بخشا اور ہمیں اتنا رزق دیا کہ ہم کھا بھی نہ سکے۔

عبدالحکیم صاحب کا گکھڑ میں جی ٹی روڈ پر مطب ایک پرانی سی عمارت میں ہوتا تھا۔ گرمیوں میں ۸ بجے اور سردیوں میں ۹ بجے دکان لازماً کھل جاتی تھی لیکن دکان بند ہونے کا کوئی مقررہ وقت نہیں تھا۔ کہا کرتے تھے جب کھاتہ مکمل ہوگیا، دنیاداری کا وقت ختم ہوگیا۔

رشید بتاتا کہ کھاتے کا بھی بڑا دلچسپ چکر تھا۔ حکیم صاحب صبح بیوی کو کہتے کہ جو کچھ آج کے دن کے لیے تم کو درکار ہے ایک چٹ پر لکھ کر دے دو۔ بیوی لکھ کر دے دیتی۔ آپ دکان پر آ کر سب سے پہلے وہ چٹ کھولتے۔ بیوی نے جو چیزیں لکھی ہوتیں۔ اُن کے سامنے اُن چیزوں کی قیمت درج کرتے، پھر اُن کا ٹوٹل کرتے۔ پھر اللہ سے دعا کرتے کہ یااللہ! میں صرف تیرے ہی حکم کی تعمیل میں تیری عبادت چھوڑ کر یہاں دنیا داری کے چکروں میں آ بیٹھا ہوں۔ جوں ہی تو میری آج کی مطلوبہ رقم کا بندوبست کر دے گا۔ میں اُسی وقت یہاں سے اُٹھ جائوں گا اور پھر یہی ہوتا۔ کبھی صبح کے ساڑھے نو، کبھی دس بجے حکیم صاحب مریضوں سے فارغ ہو کر واپس اپنے گائوں چلے جاتے۔

ایک دن حکیم صاحب نے دکان کھولی۔ رقم کا حساب لگانے کے لیے چِٹ کھولی تو وہ چِٹ کو دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے۔ ایک مرتبہ تو ان کا دماغ گھوم گیا۔ اُن کو اپنی آنکھوں کے سامنے تارے چمکتے ہوئے نظر آ رہے تھے لیکن جلد ہی انھوں نے اپنے اعصاب پر قابو پا لیا۔ آٹے دال وغیرہ کے بعد بیگم نے لکھا تھا، بیٹی کے جہیز کا سامان۔ کچھ دیر سوچتے رہے پھر باقی چیزوں کی قیمت لکھنے کے بعد جہیز کے سامنے لکھا ’’یہ اللہ کا کام ہے اللہ جانے۔‘‘

ایک دو مریض آئے ہوئے تھے۔ اُن کو حکیم صاحب دوائی دے رہے تھے۔ اسی دوران ایک بڑی سی کار اُن کے مطب کے سامنے آ کر رکی۔ حکیم صاحب نے کار یا صاحبِ کار کو کوئی خاص توجہ نہ دی کیونکہ کئی کاروں والے ان کے پاس آتے رہتے تھے۔

دونوں مریض دوائی لے کر چلے گئے۔ وہ سوٹڈبوٹڈ صاحب کار سے باہر نکلے اور سلام کرکے بنچ پر بیٹھ گئے۔ حکیم صاحب نے کہا کہ اگر آپ نے اپنے لیے دوائی لینی ہے تو ادھر سٹول پر آجائیں تاکہ میں آپ کی نبض دیکھ لوں اور اگر کسی مریض کی دوائی لے کر جانی ہے تو بیماری کی کیفیت بیان کریں۔

وہ صاحب کہنے لگے حکیم صاحب میرا خیال ہے آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔ لیکن آپ مجھے پہچان بھی کیسے سکتے ہیں؟ کیونکہ میں ۱۵، ۱۶ سال بعد آپ کے مطب میں داخل ہوا ہوں۔ آپ کو گزشتہ ملاقات کا احوال سناتا ہوں پھر آپ کو ساری بات یاد آجائے گی۔ جب میں پہلی مرتبہ یہاں آیا تھا تو وہ میں خود نہیں آیا تھا۔ خدا مجھے آپ کے پاس لے آیا تھا کیونکہ خدا کو مجھ پر رحم آگیا تھا اور وہ میرا گھر آباد کرنا چاہتا تھا۔ ہوا اس طرح تھا کہ میں لاہور سے میرپور اپنی کار میں اپنے آبائی گھر جا رہا تھا۔ عین آپ کی

دکان کے سامنے ہماری کار پنکچر ہو گئی۔

ڈرائیور کار کا پہیہ اتار کر پنکچر لگوانے چلا گیا۔ آپ نے دیکھا کہ میں گرمی میں کار کے پاس کھڑا ہوں۔ آپ میرے پاس آئے اور آپ نے مطب کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ادھر آ کر کرسی پر بیٹھ جائیں۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ میں نے آپ کا شکریہ ادا کیا اور کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔
ڈرائیور نے کچھ زیادہ ہی دیر لگا دی تھی۔ ایک چھوٹی سی بچی بھی یہاں آپ کی میز کے پاس کھڑی تھی اور بار بار کہہ رہی تھی ’’چلیں ناں، مجھے بھوک لگی ہے۔ آپ اُسے کہہ رہے تھے بیٹی تھوڑا صبر کرو ابھی چلتے ہیں۔

میں نے یہ سوچ کر کہ اتنی دیر سے آپ کے پاس بیٹھا ہوں۔ مجھے کوئی دوائی آپ سے خریدنی چاہیے تاکہ آپ میرے بیٹھنے کو زیادہ محسوس نہ کریں۔ میں نے کہا حکیم صاحب میں ۵،۶ سال سے انگلینڈ میں ہوتا ہوں۔ انگلینڈ جانے سے قبل میری شادی ہو گئی تھی لیکن ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم ہوں۔ یہاں بھی بہت علاج کیا اور وہاں انگلینڈ میں بھی لیکن ابھی قسمت میں مایوسی کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا۔

آپ نے کہا میرے بھائی! توبہ استغفار پڑھو۔ خدارا اپنے خدا سے مایوس نہ ہو۔ یاد رکھو! اُس کے خزانے میں کسی شے کی کمی نہیں۔ اولاد، مال و اسباب اور غمی خوشی، زندگی موت ہر چیز اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ کسی حکیم یا ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفا نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی دوا میں شفا ہوتی ہے۔ شفا اگر ہونی ہے تو اللہ کے حکم سے ہونی ہے۔ اولاد دینی ہے تو اُسی نے دینی ہے۔

مجھے یاد ہے آپ باتیں کرتے جا رہے اور ساتھ ساتھ پڑیاں بنا رہے تھے۔ تمام دوائیاں آپ نے ۲  حصوں میں تقسیم کر کے ۲  لفافوں میں ڈالیں۔ پھر مجھ سے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ میرا نام محمد علی ہے۔ آپ نے ایک لفافہ پر محمدعلی اور دوسرے پر بیگم محمدعلی لکھا۔ پھر دونوں لفافے ایک بڑے لفافہ میں ڈال کر دوائی استعمال کرنے کا طریقہ بتایا۔ میں نے بے دلی سے دوائی لے لی کیونکہ میں تو صرف کچھ رقم آپ کو دینا چاہتا تھا۔ لیکن جب دوائی لینے کے بعد میں نے پوچھا کتنے پیسے؟ آپ نے کہا بس ٹھیک ہے۔ میں نے زیادہ زور ڈالا، تو آپ نے کہا کہ آج کا کھاتہ بند ہو گیا ہے۔

میں نے کہا مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آئی۔ اسی دوران وہاں ایک اور آدمی آچکا تھا۔ اُس نے مجھے بتایا کہ کھاتہ بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آج کے گھریلو اخراجات کے لیے جتنی رقم حکیم صاحب نے اللہ سے مانگی تھی وہ اللہ نے دے دی ہے۔ مزید رقم وہ نہیں لے سکتے۔ میں کچھ حیران ہوا اور کچھ دل میں شرمندہ ہوا کہ میرے کتنے گھٹیا خیالات تھے اور یہ سادہ سا حکیم کتنا عظیم انسان ہے۔ میں نے جب گھر جا کربیوی کو دوائیاں دکھائیں اور ساری بات بتائی تو بے اختیار اُس کے منہ سے نکلا وہ انسان نہیں کوئی فرشتہ ہے اور اُس کی دی ہوئی ادویات ہمارے من کی مراد پوری کرنے کا باعث بنیں گی۔ حکیم صاحب آج میرے گھر میں تین پھول اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔

ہم میاں بیوی ہر وقت آپ کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ جب بھی پاکستان چھٹی آیا۔ کار اِدھر روکی لیکن دکان کو بند پایا۔ میں کل دوپہر بھی آیا تھا۔ آپ کا مطب بند تھا۔ ایک آدمی پاس ہی کھڑا ہوا تھا۔ اُس نے کہا کہ اگر آپ کو حکیم صاحب سے ملنا ہے تو آپ صبح ۹ بجے لازماً پہنچ جائیں ورنہ اُن کے ملنے کی کوئی گارنٹی نہیں۔ اس لیے آج میں سویرے سویرے آپ کے پاس آگیا ہوں۔
محمدعلی نے کہا کہ جب ۱۵ سال قبل میں نے یہاں آپ کے مطب میں آپ کی چھوٹی سی بیٹی دیکھی تھی تو میں نے بتایا تھا کہ اس کو دیکھ کر مجھے اپنی بھانجی یاد آرہی ہے۔

حکیم صاحب ہمارا سارا خاندان انگلینڈ سیٹل ہو چکا ہے۔ صرف ہماری ایک بیوہ بہن اپنی بیٹی کے ساتھ پاکستان میں رہتی ہے۔ ہماری بھانجی کی شادی اس ماہ کی ۲۱ تاریخ کو ہونا تھی۔ اس بھانجی کی شادی کا سارا خرچ میں نے اپنے ذمہ لیا تھا۔ ۱۰ دن قبل اسی کار میں اسے میں نے لاہور اپنے رشتہ داروں کے پاس بھیجا کہ شادی کے لیے اپنی مرضی کی جو چیز چاہے خرید لے۔ اسے لاہور جاتے ہی بخار ہوگیا لیکن اس نے کسی کو نہ بتایا۔ بخار کی گولیاں ڈسپرین وغیرہ کھاتی اور بازاروں میں پھرتی رہی۔ انارکلی میں پھرتے پھرتے اچانک بے ہوش ہو کر گری۔ وہاں سے اسے میوہسپتال لے گئے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ اس کو ۱۰۶ ڈگری بخار ہے اور یہ گردن توڑ بخار ہے۔ وہ بے ہوشی کے عالم ہی میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئی۔

اُس کے فوت ہوتے ہی نجانے کیوں مجھے اور میری بیوی کو آپ کی بیٹی کا خیال آیا۔ ہم میاں بیوی نے اور ہماری تمام فیملی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنی بھانجی کا تمام جہیز کا سامان آپ کے ہاں پہنچا دیں گے۔ شادی جلد ہو تو اس کا بندوبست خود کریں گے اور اگر ابھی کچھ دیر ہے تو تمام اخراجات کے لیے رقم آپ کو نقد پہنچا دیں گے۔ آپ نے ناں نہیں کرنی۔ آپ اپنا گھر دکھا دیں تاکہ سامان کا ٹرک وہاں پہنچایا جا سکے۔

حکیم صاحب حیران و پریشان یوں گویا ہوئے ’’محمدعلی صاحب آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں مجھے سمجھ نہیں آرہا، میرا اتنا دماغ نہیں ہے۔ میں نے تو آج ص

بح جب بیوی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی چِٹ یہاں آ کر کھول کر دیکھی تو مرچ مسالہ کے بعد جب میں نے یہ الفاظ پڑھے ’’بیٹی کے جہیز کا سامان‘‘ تو آپ کو معلوم ہے میں نے کیا لکھا۔ آپ خود یہ چِٹ ذرا دیکھیں۔ محمدعلی صاحب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ’’بیٹی کے جہیز‘‘ کے سامنے لکھا ہوا تھا ’’یہ کام اللہ کا ہے، اللہ جانے۔‘‘

محمد علی صاحب یقین کریں، آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ بیوی نے چِٹ پر چیز لکھی ہو اور مولا نے اُس کا اسی دن بندوبست نہ کردیا ہو۔ واہ مولا واہ۔ تو عظیم ہے تو کریم ہے۔ آپ کی بھانجی کی وفات کا صدمہ ہے لیکن اُس کی قدرت پر حیران ہوں کہ وہ کس طرح اپنے معجزے دکھاتا ہے۔

حکیم صاحب نے کہا جب سے ہوش سنبھالا ایک ہی سبق پڑھا کہ صبح ورد کرنا ہے ’’رازق، رازق، تو ہی رازق‘‘ اور شام کو ’’شکر، شکر مولا تیرا شکر۔‘‘

Wednesday, August 31, 2016

ظلم کا انجام بد


کسی پر کبھی ظلم نہ کرنا______!!

ایک شخص نے کہا میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کا ہاتھ کاندھے سے کٹا ہوا تھا اور وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا ” مجھے دیکھ کر عبرت حاصل کرو‘ اور کسی پر ہرگز ظلم نہ کرو“۔ میں نے آگے بڑھ کر اس سے پوچھا:"میرے بھائی تیرا کیا قصہ ہے؟"اس شخص نے جواب دیابھائی میرا قصہ عجیب و غریب ہے۔ دراصل میں ظلم کرنے والوں کا ساتھ دیا کرتا تھا۔ ایک دن کا ذکر ہے میں نے ایک مچھیرے کو دیکھا جس نے کافی بڑی مچھلی پکڑ رکھی تھی۔ مچھلی مجھے پسند آئی۔ میں اس کے پاس پہنچا اور کہا مجھے یہ مچھلی دے دو‘ اس نے جواب دیا میں یہ مچھلی تمہیں نہیں دوں گا کیونکہ اسے فروخت کر کے اس کی قیمت سے مجھے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالنا ہے۔ میں نے اسے مارا پیٹا اور اس سے زبردستی مچھلی چھین لی اور اپنی راہ لی..جس وقت میں مچھلی کو اٹھائے جا رہا تھا‘ اچانک مچھلی نے میرے انگوٹھے پر زور سے کاٹ لیا۔ میں مچھلی لے کر گھر آیا اور اسے ایک طرف ڈال دیا۔ اب میرے انگوٹھے میں ٹیس اور درد اٹھا اور اتنی تکلیف ہونے لگی کہ اس کی شدت سے میری نیند اڑ گئی۔ پھر میرا پورا ہاتھ سوج گیا۔ جب صبح ہوئی تو میں طبیب کے پاس آیا اور اس سے درد کی شکایت کی..طبیب نے کہا یہ انگوٹھا سڑنا شروع ہو گیا ہے۔ لہٰذا بہتر ہے کہ اس کو کٹوا دو‘ ورنہ پورا ہاتھ سڑ جائے گا۔ میں نے انگوٹھا کٹوا کر نکلوا دیا۔ لیکن اس کے بعد سڑاند ہاتھ میں شروع ہوئی اور درد کی شدت سے میں سخت بے چین ہو گیا اور سو نہ سکا۔ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ ہتھیلی کاٹ کر نکلوا دو میں نے ایسا ہی کیا‘ اب درد بڑھ کر کہنی تک پہنچ گیا..میرا چین اور نیند سب اڑ گئی اور میں درد کی شدت سے رونے اور فریاد کرنے لگا۔ ایک شخص نے مشورہ دیا کہ کہنی سے ہاتھ الگ کر دو۔ میں نے ایسا ہی کیا لیکن اب درد مونڈھے تک پہنچ گیا اور سرانڈ وہاں تک پہنچ گئی۔ لوگوں نے کہا کہ اب تو پورا بازو کٹوا دینا ہو گا ورنہ تکلیف پورے بدن میں پھیل جائے گی۔ اب لوگ مجھ سے پوچھنے لگے کہ آخر یہ تکلیف تمہیں کیوں کر شروع ہوئی۔ میں نے مچھلی کا قصہ انہیں سنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم ابتداء میں مچھلی والے کے پاس جا کر اس سے معافی مانگتے‘ اسے کہہ سن کر راضی کر لیتے اور کسی صورت میں مچھلی کو اپنے لئے حلال کر لیتے تو تمہارا ہاتھ یوں کاٹا نہ جاتا۔ اس لئے اب بھی جاﺅ اور اس کو ڈھونڈ کر اسے خوش کرو ورنہ تکلیف پورے بدن میں پھیل جائے گی۔ اس شخص نے کہا میں نے یہ سنا تو مچھلی والے کو پورے شہر میں ڈھونڈنے لگا‘ آخر ایک جگہ اس کو پالیا۔ میں اس کے پیروں پر گر پڑا اور انہیں چوم کر رو رو کر کہا:"میرے بھائی تمہیں اللہ کا واسطہ مجھے معاف کردو۔""اس نے مجھ سے پوچھا تم کون ہو؟"میں نے بتایا میں وہ شخص ہوں جس نے تم سے مچھلی چھین لی تھی۔ پھر میں نے اس سے اپنی کہانی بیان کی اور اسے اپنا ہاتھ دکھایا۔ وہ دیکھ کر رو پڑا اور کہا :"میرے بھائی میں نے اس مچھلی کو تمہارے لئے حلال کیا، کیونکہ تمہارا حشر میں نے دیکھ لیا۔"میں نے اس سے کہا میرے آقا ‘خدا کا واسطہ دے کر میں تم سے پوچھتا ہوں کہ جب میں نے تمہاری مچھلی چھینی تو تم نے مجھے کوئی بد دعا دی تھی۔ اس شخص نے کہا..ہاں میں نے اس وقت یہ دعا مانگی کہ....!
"اے اللہ! یہ اپنی قوت اور زور کے گھمنڈ میں مجھ پر غالب آیا اور تو نے جو رزق دیا اس نے مجھ سے چھین لیا اور مجھ پر ظلم کیا اس لئے تو اس پر زور کا کرشمہ دکھا۔"میرے مالک اللہ نے اپنا زور تمہیں دکھا دیا۔ میں نے کہا: "اب میں اللہ کے حضور توبہ کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ نہ کسی پر ظلم کروں گا اور نہ ہی کسی ظالم کی مدد کروں گا۔ ان شاءاللہ جب تک زندہ رہوں گا اپنے وعدے پر قائم رہوں گا۔" (اس واقعہ کو علامہ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کتاب الزواجر میں نقل کیا ہے)

باسی روٹی پر توکل اور دلہن کی ضد

ایسی بھی ہوتی ہیں شادیاں

اگر وقت ملے تو ضرور پڑھیں۔۔۔
حضرت شیخ شاہ کرمانی رحمتہ اللہ علیہ کی صاجزادی کے لئے بادشاہ کرمان نے نکاح کا پیغام بھیجا۔ شیخ نے کہلا بھیجا کہ مجھے جواب کے لئے تین دن کی کی مہلت دیں۔۔۔۔۔۔۔۔اس دوران وہ مسجد مسجد گھوم کر کسی صالح انسان کو تلاش کرنے لگے۔ ایک لڑکے پران کی نگاہ پڑی جس نے اچھی طرح نماز ادا کی اور دعا مانگی۔ شیخ نے اس سے پوچھا تمھاری شادی ہو چکی ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے نفی میں جواب دیا۔ پھر پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔کیا نکاح کرنا چاہتے ہو؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لڑکی قرآن مجید پڑھتی ہے، نماز روزہ کی پابند ہے، خوبصورت پاکباز اور نیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے کہا بھلا میرے ساتھ کون رشتہ کرے گا۔ شیخ نے فرمایا۔ میں کرتا ہوں۔ لو یہ درہم، ایک درہم روٹی، ایک درہم کا سالن اور ایک درہم کی خوشبو، خرید لاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس طرح شاہ کرمانی نے اپنی دختر کا نکاح اس سے پڑھا دیا۔ لڑکی جب شوہر کے گھر آئی تو اس نے دیکھا پانی کی صراحی پر ایک روٹی رکھی ہوئی ہے۔ اس نے پوچھا یہ روٹی کیسی ہے؟
شوہر: یہ کل کی باسی روٹی ہے۔ میں نے افطار کے لئے رکھی ہے۔ یہ سن کر وہ غم زدہ ہونے لگی۔
شوہر: مجھے معلوم تھا کہ شیخ شاہ کرمانی کی دختر مجھ جیسے غریب گھر نہیں رک سکتی۔
لڑکی: میں تیری مفلسی کے باعث نہیں لوٹ رہی بلکہ اس لئے کہ خدا پر تمھارا یقین بہت کمزور نظر آ رہا ہے۔ بلکہ مجھے تو اپنے باپ پر حیرت ہے کہ انہوں نے تجھے پاکیزہ خصلت، عفیف اور صالح کیسے کہا جب کہ اللہ تعالٰی پر تمھارے اعتماد کا یہ حال ہے کہ روٹی بچا کر رکھتے ہو۔
نوجوان نے اس کی بات سنی تو کہا اس کمزوری پرمعذرت خواہ ہوں۔ لڑکی: اپنا عذر تم جانو! البتہ ایسے گھر میں میں تو نہیں رک سکتی جہاں ایک وقت کی خوراک جمع کر رکھی ہو۔ اب یا میں رہوں گی یا روٹی۔
نوجوان نے فوراً جا کر روٹی خیرات کر دی۔ اور ایسی درویش خصلت شہزادی کا شوہر بننے پر خدا کا شکر ادا کیا۔
(روض الریاحین)
ایک وہ وقت تھا جب بیٹی کی شادی کے لئے کسی صالح نوجوان کا انتحاب کیا جاتا تھا، اور اب وقت یہ آیا کہ اگر کسی نیک نوجوان کے لئے رشتہ جائے تو یہ کہہ کر رشتہ ٹھکرا دیا جاتا ہے کہ ”لڑکا مولوی ہے“۔ کیا آج ہم دنیا کو دوست نہیں رکھتے؟ کیا ہم آخرت کو ترک نہیں کیے دیتے؟ کیا آج رشتہ کے معاملہ میں ہماری ترجیحات بدل نہیں گئیں. . ...

Wednesday, August 24, 2016

ایک چونی کا بھروسہ

یہ ۱۹۵۹ء کی بات ہے.. میں انگریزی ادب میں آنرز کر رہا تھا.. سندھ یونیورسٹی میں ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر جمیل واسطی مرحوم تھے جو پنجاب سے ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر حیدرآباد آئے تھے..
ہماری کلاس میں تقریباً بیس سٹوڈنٹ تھے.. ان میں چھ کے قریب طالبات تھیں.. اس زمانہ میں طالبات انگریزی ادب فیشن کے طور پر پڑھا کرتی تھیں.. ہماری کلاس نے پکنک کا ایک پروگرام بنایا لیکن اس پر اختلاف ہوگیا کہ لڑکیاں اور لڑکے اکٹھے پکنک منانے جائیں یا الگ الگ..؟
یہ معاملہ پروفیسر جمیل واسطی کے علم میں آیا تو انہوں نے رائے دی کہ الگ الگ پکنک کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔
"مگر یہاں تو مخلوط تعلیم ہے واسطی صاحب.." ایک لڑکی نے اٹھ کر احتجاج بھری آواز میں کہا..
"میں نے کب کہا کہ میں مخلوط تعلیم کا حامی ہوں..؟" واسطی مرحوم بولے..
"سر ! یہ کیسی بات کر رہے ہیں آپ..؟ زمانہ بہت ترقی کر چکا ہے.." وہ بولی..
واسطی صاحب نے گھوم کر لڑکی کی طرف دیکھا جو ایک معروف , متمول اور فیشن ایبل خاندان سے تعلق رکھتی تھی.. پھر انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہا.. "غلام اکبر ! تمہاری جیب میں ایک چونّی ہوگی..؟"
اس عجیب وغریب سوال پر میں چونک پڑا اور جلدی سے جیب میں ہاتھ ڈالا.. واسطی صاحب فوراً ہی بولے.. "دروازے سے باہر جا کر چونی کاریڈور میں رکھ دو.."
پوری کلاس حیرت زدہ تھی.. میں بھی حیران ہو کر دروازے کی طرف مڑا تو واسطی صاحب بولے.. "سمجھ لو کہ تم چونّی کلاس کے باہر رکھ چکے ہو.. اب بیٹھ جاؤ.."
پھر واسطی صاحب اس لڑکی کی طرف مڑے اور بولے.. "جب ہم کلاس ختم کرکے باہر نکلیں گے تو کیا وہ چونی وہاں موجود ہو گی..؟"
لڑکی بدحواس سی ہو گئی , پھر سنبھل کر بولی.. "ہو سکتا ہے کہ اگر کسی کی نظر پڑے تو اٹھا لے.."
اس جواب پر واسطی صاحب مسکرائے اور سب سے مخاطب ہو کر بولے.. "دیکھ لیں کہ جن لوگوں پر ایک چونّی کے معاملے پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا وہ لڑکیوں کے معاملے میں کس قدر شریف ہیں , حالانکہ چونّی بچاری تو لپ سٹک بھی نہیں لگاتی.."
واسطی صاحب کی اس بات پر پوری کلاس کو سانپ سونگھ گیا..
میں آج تک وہ بات نہیں بھولا.. اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں دقیانوسی سوچ رکھتا ہوں یا واسطی صاحب بہت زیادہ قدامت پسند سوچ کے حامل تھے لیکن کیا اس بات میں کچھ سچ ایسے نہیں چھپے ہوئے جن کا تعلق براہ راست انسان کی فطرت اور ان جبلتوں سے ہے جنہیں سدھایا اور سدھارا نہ جائے تو ان کی رو میں تہذیب وتمدن کے تمام تقاضے بہہ جایا کرتے ہیں..؟
غلام اکبر صاحب.. (کالم) "حملہ ہو چکا ہے" (روزنامہ نوائے وقت)
منقول

Thursday, August 18, 2016

دنیا کی سچائی۔ دھوکا اور لذت

ایک مرتبہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیز کو آدھی سلطنت دینے کو کہا ، لیکن ساتھ میں کچھ شرائط بھی عائد کیں
وزیر نے لالچ میں آکر شرائط جاننے کی درخواست کی بادشاہ نے شرائط 3 سوالوں کی صورت میں بتائیں۔
سوال نمبر 1: دنیا کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟
سوال نمبر 2 : دنیا کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے؟
سوال نمبر 3 : دنیا کی سب سے میٹھی چیز کیا ہے ؟
بادشاہ نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ وہ ان تین سوالوں کے جواب ایک ہفتہ کے اندر اندر بتائے بصورت دیگر سزائے موت سنائی جائے گی۔وزیر نے سب پہلے دنیا کی بڑی سچائی جاننے کے لئے ملک کے تمام دانشوروں کو جمع کیا اور ان سے سوالات کے جواب مانگے ۔انہوں نے اپنی اپنی نیکیاں گنوائیں ۔لیکن کسی کی نیکی بڑی اور کسی کی چھوٹی نکلی لیکن سب سے بڑی سچائی کا پتہ نہ چل سکا۔اس کے بعد وزیر نے دنیا کا سب سے بڑا دھوکا جاننے کے لئے کہا تو تمام دانشور اپنے دئے ہوئے فریب کا تذکرہ کرتے ہوئے سوچنے لگے کہ کس نے کس کو سب سے بڑا دھوکا دیا لیکن وزیر اس سے بھی مطمئن نہیں ہوا اور سزائے موت کے خوف سے بھیس بدل کر وہاں سے فرار ہوگیا ۔چلتے چلتے رات ہوگئی ،اسی دوران اس کو ایک کسان نظر آیا جو کھرپی سے زمین کھود رہا تھا۔ کسان نے وزیر کو پہچان لیا ،وزیر نے اس کو اپنی مشکل بتائی جسے سن کر کسان نے اس کے سوالوں کی جواب کچھ یوں دئے
دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے ۔
دنیا کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے۔
تیسرے سوال کا جواب بتانے سے پہلے کسان نے کہا کہ میں اگر تمہارے سارے سوالوں کےجواب بتادوں تو مجھے کیا ملے گا ،سلطنت تو تمہارے ہاتھ آئے گی۔ یہ سن کر وزیر نے اسے بیس گھوڑوں کی پیشکش کی اور اسے ہی اصطبل کا نگران بنانے کی بھی پیشکش کی۔کسان نے یہ سن کر جواب دینے سے انکار کر دیا ۔وزیر نے سوچا کہ یہ تو آدھی سلطنت کا خواب دیکھ رہا ہے ۔وزیر جانے لگا تو کسان بولا کہ اگر بھاگ جاؤگے تو ساری زندگی بھاگتے رہو گے اور بادشاہ کے بندے تمہارا پیچھا کرتے رہیں گے اور اگر پلٹو گے تو جان سے مارے جاؤگے۔یہ سن کر وزیر رک گیا اور کسان کو آدھی سلطنت کی پیشکش کی لیکن کسان نے اسے لینے سے انکار کر دیا ۔اتنے میں ایک کتا آیا اور پیالے میں رکھے ہوئے دودھ میں سے آدھا پی کر چلا گیا ۔کسان نے وزیر سے کہا مجھے آدھی سلطنت نہیں چاہیے بس تم اس بچے ہوئے دودھ کو پی لوتو میں تمہارے تیسرے سوال کا جواب بتادوں گا ۔یہ سن کر وزیر تلملا گیا مگر اپنی موت اور جاسوسوں کے ڈر سے اس نے دودھ پی لیا۔وزیر نے دودھ پی کر کسان کی طرف دیکھا اور اپنے سوال کا جواب مانگا
تو کسان نے کہا کہ
دنیا کی سب سے میٹھی چیز انسان کی غرض ہے
جس کے لئے وہ ذلیل ترین کام بھی کر جاتا ہے