Wednesday, February 24, 2016

خدا کے نام پر لوٹنا .. ایک دل خراش واقعہ

ھم تو اس جینے کے ھاتھوں مر چلے !!

اس نے ایک مانگنے والے کو جھٹ سے کچھ نکال کر دے دیا - میں نے کہا کہ بھائی دیکھ بھال کر دینا چاھئے یہ فراڈ لوگ ھوتے ھیں اور عام انسان کے جذبہ نیکی کو ایکسپلائٹ کرتے ھیں ! فرمانے لگے آپ نے بجا فرمایا میں پہلے ایسا ھی کیا کرتا تھا ،پھر ایک واقعے نے میری دنیا بدل کر رکھ دی -

میں دھرم پورہ لاھور میں اپنے گھر سے سائیکل پہ نکلا تھا کہ ٹھیکدار سے اپنے بقایا جات وصول کر لوں ،میں اسٹیل فکسر تھا اور ایک کوٹھی کے لینٹر کے پیسے باقی تھے مگر ٹھیکدار آج کل پر ٹرخا رھا تھا، میں سائیکل پہ جا رھا تھا کہ ایک شخص اپنا بچہ فٹ پاتھ کے کنارے لٹائے اسپتال پہنچانے کے لئے ٹیکسی کا کرایہ مانگتا پھر رھا تھا۔

وہ کبھی کسی پیدل کا بازو پکڑ کر ھاتھ جوڑ دیتا میرا بچہ بچا لیں ،مجھے ٹیکسی کا کرایہ دے دیں تو کبھی موٹر سائیکل والے کو ھاتھ دے کر روکتا ، کبھی کسی کار والے کے پیچھے بھاگتا کہ وہ کار میں اس کے بچے کو اسپتال پہنچا دے ،کوئی رکتا تو کوئی نہ رکتا ،، جو رُکتا وہ بھی اسے گھور کر دیکھتا اور آپ والی سوچ ،،، سوچ کر اسے ڈانٹتا ، کام کر کے کھانے کی نصیحت کرتا اور آگے نکل جاتا ۔

میں جو سائیکل سائڈ پہ روکے ایک پاؤں زمیں پر ٹیکے اس کا تماشہ دیکھ رھا تھا ، اچانک اس کی نظر مجھ پر بھی پڑی اور اس نے میری سائیکل کا ھینڈل پکڑ لیا ، بھائی جان خدا کے لئے میرے بچے کی زندگی بچا لیں اس کو سخت بخار ھے ۔ آپ نیچے اتر کر اس کو دیکھ تو لیں آپ کو یقین آ جائے گا ، آپ دیں گے تو شاید کسی اور کو بھی اعتبار آ جائے ۔

مگر میں بھی آپ کی طرح سوچ رھا تھا ،پھر جس جارحانہ انداز میں اس نے میری سائیکل کا ھینڈل پکڑ رکھا تھا لگتا تھا کہ ادھر میں سائیکل سے اترا اور ادھر وہ سائیکل پکڑ کے بھاگ جائے گا ،، میں نے بھی اسے کام کر کے کھانے کی تلقین کی اور پچھلے جمعے میں سنی ھوئی حدیث اس کو بھی سنا دی کہ ،الکاسب حبیب اللہ : کما کر کھانے والا اللہ کا دوست ھوتا ھے ، اور اپنا ھینڈل چھڑا کر بڑبڑاتا ھوا آگے چل پڑا " حرامخور ھمیں بے وقوف سمجھتے ھیں !!

دو تین گھنٹے کے بعد جب میں بقایا جات وصول کر کے واپس آیا تو وہ ابھی اسی جگہ کھڑا مانگ رھا تھا ،بچے کو اب وہ سڑک کے پاس لے آیا تھا ، اور اس کے چہرے سے کپڑا بھی اٹھا رکھا تھا ،، وہ دھاڑیں مار مار کر رو رھا تھا ۔ اب وہ بچے کے کفن دفن کے لئے مانگ رھا تھا۔

میں نے سائیکل کو روک کر پاؤں نیچے ٹیکا اور میت کے چہرے کی طرف دیکھا ،،، پھول کی طرح معصوم بچہ ،،، زندگی کی بازی ھار گیا تھا ، میرے رونگٹے کھڑے ھو گئے ،میں نے جیب میں جو کچھ تھا بقایا جات سمیت سب بغیر گنے نکال کر باھر پھینکا اور اس سے پہلے کہ اس کا باپ میری طرف متوجہ ھو ،سائیکل اس تیزی سے چلا کر بھاگا گویا سارے لاھور کی بلائیں میرے پیچھے لگی ھوئی ھیں۔

میں گھر پہنچا تو میرا برا حال تھا ، تھڑی دیر کے بعد مجھے بخار نے آ گھیرا ،، بخار بھی کچھ ایسا تھا گویا میرے سارے گناھوں کا کفارہ اسی بخار سے ھونا تھا۔ گھر والے مجھے ہسپتال کے لئے لے کر نکلتے اور میں چارپائی سے چھلانگ لگا دیتا ،مجھے اسپتال نہیں جانا تھا ، میں اسی بچے کی طرح ایڑیاں رگڑ کر مرنا چاھتا تھا۔

دو تین دن کے بعد بخار کو تو آرام آ گیا مگر میں ذھنی مریض بن گیا ،مجھے لگتا گویا میرا اپنا اکلوتا بیٹا جو تیسری کلاس میں پڑھتا تھا وہ اس بچے کے کفارے میں مر جائے گا۔ میں نے بچے کا اسکول جانا بند کر دیا ، بیوی کے بار بار اصرار کے باوجود میں بچے کو اسکول تو کیا دروازہ کھولنے بھی نہیں جانے دیتا تھا -

40 دن گزر گئے تھے اور بچے کا نام اسکول سے کٹ گیا تھا ، وائف نے اپنے بھائی سے بات کی جو دبئ ایک کمپنی میں کیشئر تھا اس نے مجھے باھر بلانے کے لئے پاسپورٹ بنانے کو کہا ،مگر ایک تو میں شناختی کارڈ بھی پیسوں کے ساتھ نکال کر بچے کی میت پر پھینک آیا تھا ،دوسرا میں خود بھی بچے کو اکیلا چھوڑ کر باھر نہیں جانا چاھتا تھا - وہ چالیس دن قیامت کے چالیس دن تھے ۔

چالیسویں دن دس بجے کے لگ بھگ ھمارے گھر کا دروازہ بجا ،، دروازہ میں نے خود ھی کھولا اور سامنے اس بچے کے باپ کو دیکھ کر مجھے چکر آگئے ۔ مجھے لگا جیسے ھم دونوں آمنے سامنے کھڑے خلا میں چکر کاٹ رھے ھیں ، درمیان میں بچے کا چہرہ بھی آ جاتا ۔ میری کیفیت سے بےخبر اس باپ نے مجھے دبوچ لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا ۔وہ کچھ کہنے کی بجائے میری ٹھوڑی کو ھاتھ لگاتا اور اسے چوم لیتا ، جبکہ میں پتھر کا بت بنے اس کی گرفت میں تھا ،، کہ اچانک مجھے جھٹکا لگا اور میری چیخ کچھ اس طرح نکلی جیسے کسی کو پانی پیتے وقت اچھو لگ جاتا ھے اور پانی اس کے منہ اور ناک سے بہہ نکلتا ھے ۔

میں اس بچے کے باپ کو سختی کے ساتھ سینے سے لگائے یوں رو رھا تھا گویا اس کا نہیں بلکہ میرا بچہ مر گیا ھے ،ھمارے رونے سے گھبرا کر پورا محلہ اکٹھا ھو گیا تھا ۔ آئستہ آئستہ 40 دنوں کا غبار نکلا ،، اس کو میں گھر میں لے کر آیا محلے والے بھی آگئے تھے جنہوں نے اس آدمی سے بہت افسوس کیا۔

کچھ دیر بعد اس نے اپنی جیب سے میرا شناختی کارڈ نکالا اور مجھے واپس کیا ،پھر جیب میں ھاتھ ڈال کر کچھ پیسے نکالے اور میرا شکریہ ادا کر کے کہنے لگا کہ آپ کے پیسے بڑے برکت والے تھے ۔شاید یہ آپ کے خلوص کی برکت تھی کہ میرے بہت سارے کام ھو گئے سارے اخراجات کے بعد کچھ پیسے بچ گئے تھے ان میں کچھ پیسے میں نے ادھار لے کر ڈالے ھیں ۔ یہ آپ قبول کر لیجئے ،باقی میں بہت جلد آپ کو واپس کر دونگا۔

میں نے پیسے واپس لینے سے سختی کے ساتھ انکار کر دیا ،، اور منت سماجت کر کے اسے پیسے رکھنے پر راضی کر لیا۔ اس کے بعد میں یہاں بطور اسٹیل فکسر آ گیا ، میں جی جان سے کام کرتا تھا چند ماہ میں ترقی کر کے فورمین بن گیا - تین سال بعد میں نے سالے کی مدد سے اپنی کمپنی بنا لی اور اس بچے کے والد کو بھی اپنی کمپنی میں بلا لیا ، آج وہ میری کمپنی میں فورمین ھے ، اس بچے کے بعد اللہ نے اسے دو بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا ھے !! میں اسے آپ سے ملواؤں گا مگر اس سے سائیکل والا قصہ مت بیان کیجئے گا ، وہ آج تک نہیں پہچانا کہ میری سائیکل روک کر اس نے مجھ سے سوال کیا تھا ! وہ مجھے ولی اللہ سمجھتا ھے جس نے اس کے بچے کی لاش دیکھ کر سب کچھ نکال کے دے دیا !!

قاری صاحب اس دن کے بعد میں کسی کا ھاتھ خالی نہیں لوٹاتا ،، تھوڑا سا دینے سے نہ وہ امیر ھوتا ھے اور نہ میں غریب ھوتا ھوں ،، بس دل کو تسلی ھوتی ھے کہ میں اس بچے کا خون بہا ادا کر رھا ھوں۔

رہ گئ لُوٹنے کی بات تو قاری صاحب ھمیں کون نہیں لُوٹتا ؟ جوتے والا ھمیں لوٹتا ھے ،کپڑے والا ھمیں لوٹتا ھے ، سبزی اور گوشت والا ھم کو لوٹتا ھے، اتنا لٹنے کے بعد اگر کوئی ھمیں اللہ کے نام پہ لوٹ لے تو شاید حشر میں ھماری نجات کا سامان ھو جائے کہ یہ بندہ میری خاطر، میرے نام پہ لُٹتا رھا ھے !!

.

Tuesday, February 23, 2016

دنیا کی ریل پیل تم.کو بدل نہ سکی ..

ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺟﺲ ﮐﻮ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺿﺮﻭﺭ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺑﻦ ﺟﺮﺍﺡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻤﺮ
ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺗﮭﮯ
ﺍﻭﺭ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺷﺎﻡ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﮐﺘﺮ
ﻋﻼﻗﮧ ﺍﻧﮭﻮ ﮞ ﻧﮯ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮬﯿﮟ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺭﺩﻥ،ﺷﺎﻡ ،ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ،ﻟﺒﻨﺎﻥ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﯾﮧ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻋﻼﻗﮧ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺻﻮﺑﮧ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺑﻦ ﺟﺮﺍﺡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﺳﮑﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﮐﺎ
ﺻﻮﺑﮧ ﺑﮍﺍ ﺯﺭﺧﯿﺰ ﺗﮭﺎ ﻣﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﯽ ﺭﯾﻞ ﭘﯿﻞ ﺍﻭﺭ
ﺭﻭﻡ ﮐﺎ ﺳﺮﺳﺒﺰ ﻭ ﺷﺎﺩﺍﺏ ﻋﻼﻗﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ
ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﮮ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ
ﮐﻤﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﻌﺎﺋﻨﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺷﺎﻡ ﺩﻭﺭﮦ ﭘﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﮮ ﺷﺎﻡ ﺩﻭﺭﮦ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮮ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﺎﺉ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮﻥ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﻢ ﺭﮬﺘﮯ ﮬﻮ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﺎ ﮐﮧ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﺗﻨﮯ ﺑﮍے ﺻﻮﺑﮧ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺑﻦ ﮔﯿﮯ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﯽ ﻓﺮﺍﻭﺍﻧﯽ ﮬﮯ ﺍﺱ ﻟﮯ ﺍﻧﮑﺎ ﮔﮭﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺘﻨﺎ ﻣﺎﻝ ﺟﻤﻊ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﯿﺴﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ
ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﯿﺮ
ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ
ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮯ ﺟﺐ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ
ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﭽﻮﮌﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮧ ﮬﻮ ﮔﺎ ﺗﻮ
ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ
ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﮬﻮﮞ
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﮐﻮ ﻟﮯ
ﮐﺮ ﭼﻠﮯ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ
ﺟﺐ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺧﺘﻢ ﮬﻮ ﮔﺊ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ
ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎﺭﮬﮯ ﮬﻮ ؟
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺑﺲ ﺍﺏ
ﺗﻮ ﻗﺮﯾﺐ ﮬﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﭘﻮﺭﺍ ﺩﻣﺸﻖ ﺷﮩﺮ ﺟﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ
ﻣﺎﻝ ﻭ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﺳﮯ ﺟﮓ ﻣﮕﺎ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ
ﻟﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﺎ ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﺍ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ
ﺳﻮﺍﮮ ﺍﯾﮏ ﻣﺼﻠّﮯ ﮐﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﻈﺮ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ .
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﮬﺘﮯ ﮬﻮ ؟ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺎﺯﻭﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺮﺗﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻧﮭﯽ ﮬﮯ ﺗﻢ ﯾﮭﺎ ﮞ ﮐﯿﺴﮯ ﺭﮬﺘﮯ ﮬﻮ؟
ﺍﻧﮭﻮﻥ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮯ ﺍﮮ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺍﻟﺤﻤﺪﺍﻟﻠﮧ
ﻣﯿﺮﯼ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻣﯿﺴﺮ ﮬﯿﮟ ﯾﮧ
ﻣﺼﻠﯽ ﮬﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺘﺎ ﮬﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ
ﺍﺱ ﭘﺮ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﻭﭘﺮ ﭼﮭﭙﺮ
ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﻧﮑﺎﻻ ﺟﻮ
ﻧﻈﺮ ﻧﮭﯽ ﺁ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎﯾﺎ ﮐﮧ
ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺑﺮﺗﻦ ﯾﮧ ﮬﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ
ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺍﺱ ﺑﺮﺗﻦ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﻦ ﭘﺎﻧﯽ
ﺑﮭﺮﺍ ﮬﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﮐﮭﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﺑﮭﯿﮕﮯ
ﮬﻮﮮ ﺗﮭﮯ
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺗﻮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻓﺮﺻﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺗﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﻮ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮬﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺳﻮﮐﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﻦ ﮈﺑﻮ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺳﻮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮬﻮﮞ
ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ
ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺁ ﮔﺌﮯ .
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮬﯽ ﮐﮩﮧ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﮑﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﭽﻮﮌﻧﮯ ﮐﺎﮮ ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮬﻮﮔﺎ -ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ
ﺍﮮ ﺍﺑﻮﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﺱ ﺩﯾﻨﺎ ﮐﯽ ﺭﯾﻞ ﭘﯿﻞ ﻧﮯ ﮬﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺗﻢ ﻭﯾﺴﮯ ﮬﯽ ﮬﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﻴﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻧﮯ ﺗﻢ ﭘﺮ ﮐﻮﺉ ﺍﺛﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺍﻻ
(منقول)

ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین

ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین ،،

سعید جدہ ائیر پورٹ پر بیٹھا ھوا اپنی فلائیٹ کا انتظار کر رھا تھا جبکہ اس کے ساتھ ھی اس کا ھم وطن دوسرا مصری حاجی بھی بیٹھا ھوا تھا ، جس کے چہرے سے آسودگی کی طراوت چھلک رھی تھی ، دونوں حج کے مناسک ادا کرنے کے بعد وطن واپس جانے والے حاجیوں میں شامل تھے ، اچانک سعید کے ساتھ بیٹھے حاجی نے ایک لمبی سی سانس لی اور اپنا تعارف کرایا ،، میں بزنس مین ھوں اور الحمد للہ یہ میرا دسواں حج ھے ، اللہ پاک کا میرے اوپر بڑا فضل ھے اور میں سمجھتا ھوں کہ ھر حج کے بعد مجھے رب کے زیادہ قریب ھونے کا موقع ملا ھے ،، اس کے بعد اس نے استفسارانہ نظروں سے سعید کی طرف دیکھا گویا جواباً اس کے تعارف کا منتظر ھو ،، سعید مسکرا دیا اور بولا بھائی میرے حج کا قصہ کچھ زیادہ ھے طویل اورگنجلک ھے  میں آپ کا سر کھانا نہیں چاھتا ،،، کوئی بات نہیں ایک تو ھم یہاں انتطار کے سوا کچھ کر نہیں رھے دوسرا یہاں کھانے کی ھر چیز باھر سے بیس گنا زیادہ مہنگی ھے ، بس ایک سر ھی تو کھانے کو فری میں ھے دوسرے حاجی عبدالباری نے ھنستے ھوا کہا ،،

سعید خیالوں میں کھو گیا گویا فیصلہ نہ کر پا رھا ھو کہ اپنی کہانی کو کہاں سے شروع کرے ،، میرے بھائی میں ایک پرائیویٹ اسپتال میں فزیوتھراپسٹ ھوں ،سعید نے آخرکار بولنا شروع کیا ،،میں نے 30 سال اپنی تنخواہ میں سے تھوڑی تھوڑی رقم کٹوا کر اس حج کی تیاری کی ھے ، اس سال میرے حج کے اخراجات پورے ھو گئے تھے جنہیں میں اسپتال کے فائنانس ڈیپارٹمنٹ سے لے کر نکلا ھی تھا کہ ایک خاتون کو دیکھا ،جس کا بیٹا ایکسیڈنٹ میں تقریباً معذور ھو گیا تھا ،مگر پچھلے چھ ماہ میں میری انتھک محنت اور پیار و شفقت کی وجہ سے وہ 50 فیصد ٹھیک ھو گیا تھا جبکہ امید تھی کہ مزید چھ ماہ کے بعد وہ مکمل صحتیاب ھو جائے گا ،، اس خاتون نے مجھے سلام کیا اور بجھے ھوئے لہجے میں بتایا کہ وہ لوگ اسپتال چھوڑ کر جا رھے ھیں ، ،، شاید پھر ھماری ملاقات نہ ھو لہذا میں آپ کو ڈھونڈ رھی تھی ، جس پر مجھے کافی اچھنبا ھوا- مجھے لگا جیسے وہ میرے علاج سے مطمئن نہ ھو ،، کیا آپ میرے طریقہ علاج سے مطمئن نہیں ھیں ؟ میں نے اس خاتون سے سوال کر ھی دیا ،، نہیں نہیں ڈاکٹر صاحب ایسی بات نہیں ھے ،آپ نے تو بچے کو  ڈاکٹر کی بجائے باپ بن کر سنبھالا ھے ،میرا تو رواں رواں آپ کو دعائیں دیتا ھے ، آپ نے میرے بچے میں نہ صرف جینے کی جوت جگا دی بلکہ اپنی ڈیوٹی سے ھٹ کر اس کو وزٹ کیا اور تحفے تحائف بھی دیئے جس کے لئے ھم میاں بیوی آپ کے بہت شکر گزار ھیں ،، پھر آپ اسپتال چھوڑ کر کیوں جا رھی ھیں ؟ میں نے حیرانی سے پوچھا ،، مگر وہ میری بات کا جواب دیئے بغیر مریض کے کمرے کی طرف چل دی ،،

میں سیدھا ایڈمن آفس کی طرف گیا اور بچے کا کمرہ نمبر بتا کر پوچھا کہ یہ لوگ اسپتال کیوں چھوڑ رھے ھیں ؟ وہ چھوڑ نہیں رھے بلکہ ان کو کمرہ خالی کرنے کا نوٹس دیا گیا ھے ،لڑکے کا والد جاب سے فارغ کر دیا گیا ھے جس کی وجہ سے وہ لوگ اسپتال کے چارجز دینے کے قابل نہیں ، لہذا ان کو کمرہ خالی کرنے کے لئے کہہ دیا گیا ھے ،، میں وھاں سے مینیجر صاحب کے آفس میں گیا اور ان سے درخواست کی کہ بچے کو علاج جاری رکھنے کی اجازت دی جائے مگر میری بات ابھی پوری بھی نہیں ھوئی تھی کہ مدیر نے نہایت رکھائی سے کہا کہ سعید یہ ایک پرائیویٹ اسپتال ھے کوئی چیریٹی ادارہ نہیں ھے ، یہاں وھی علاج کرا سکتا ھے جو اخراجات کی سکت رکھتا ھے ،، مدیر کا دوٹوک جواب سن کر جونہی میں مڑا تو میرا دائیاں ھاتھ میری جیب سے ٹکرایا جس میں میرے حج کے پیسے رکھے ھوئے تھے ،،

دفتر سے نکل کر میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا کہ" اے اللہ تو اچھی طرح جانتا ھے کہ مجھے تیرے گھر آنے کا کس قدر شوق ھے ، اور اب جبکہ میرا خواب ایک حقیقت بننے والا ھے تو اس بچے کی زندگی کا سوال کھڑا ھو گیا ھے ،، اے اللہ میں مجبور ھوں مگر تو بے نیاز ھے میں حج پہ نہ آ سکا تب بھی مجھے اپنے فضل سے محروم مت کرنا ، میں وھاں سے سیدھا اکاؤنٹنٹ  آفس میں آیا اور اس بچے کے اگلے چھ ماہ کے اخراجات جمع کرا کر اس کے ڈسچارج آرڈرز کینسل کرا دیئے ،،،،،

الحمد للہ میرا دل سکون سے بھر گیا تھا مگر حج پہ نہ جا سکنے کی کسک اپنی جگہ تھی، ،،،،
پھر آپ نے جب اپنے حج کے اخراجات اس عورت کے بچے کے علاج کے لئے دے دیئے تو آپ حج پر کیسے آگئے ؟ عبدالباری نے بےچینی سے سوال کیا ،،

میں جب گھر آکر لیٹا تو حج کے مناسک کا ایک ایک منظر میری نظروں میں گھوم رھا تھا ،میں نے کئ بار بیت اللہ کا خیالی طواف کیا تھا - کئ بار لبیک اللھم لبیک کہتے مجمعے کے ساتھ اپنی آواز ملا کر ان کا حصہ بن گیا تھا ،، پتہ نہیں کب میری آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ھو گئے اور میں بہتے آنسوؤں کے ساتھ ھی سو گیا ،، میں نے دیکھا کہ میں بیت کا طواف کر رھا ھوں اور لوگ مجھے میرا نام لے لے کر حج کی قبولیت کی بشارتیں دے رھے ھیں ۔۔ حجاً مبروراً یا حاج سعید ،لقد حججت فی السماء قبل ان تحج فی الارض ، دعواتک لنا یا حاج سعید ،، اے سعید اللہ نے تیرا حج قبول کر لیا ،تو نے زمین سے پہلے آسمان پر حج کیا ھے ،ھمارے حج کی قبولیت کے لئے بھی دعا کرو ،،

اسی کیفیت میں فون کی گھنٹی نے مجھے جگا دیا - فون پر اسپتال کا مینجر تھا جو کہہ رھا تھا کہ اسپتال کا مالک حج پر جا رھا ھے ، وہ اپنے خاص معالج کے بغیر کبھی نہیں جاتا ، مگر اس دفعہ اس کے معالج کی بیوی شدید بیمار ھو گئ ھے جو بیوی کو اس حال مین چھوڑ کر باس کے ساتھ حج پہ نہیں جا سکتا ،لہذا آپ کو ان کے ساتھ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ھے ، آپ اپنے ضروری کاغذات اسپتال کے ایڈمن آفس پہنچا دیں ،،،،،،،،،

میں نے سب سے پہلے تو شکرانے کے نفل ادا کیئے پھر کاغذات آفس والوں کے حوالے کیئے یوں اللہ پاک نے مجھے اپنے گھر بلانے کا انتظام کر دیا ،،حج کے بعد اسپتال کے مالک نے مجھے میری خدمات کا معاوضہ دینا چاھا تو میرے آنسو نکل پڑے اور میں نے اس کو بتایا کہ اس نے مجھے حج کرا کر مجھ پر اتنا بڑا احسان کیا ھے کہ مجھے اپنا خادم بنا لیا ھے ،لہذا میں نے جو بھی اس کی خدمت کی ھے وہ اس کے احسان کے مقابلے میں کچھ نہیں ھے لہذا وہ معاوضے کی بات کر کے مجھے گنہگار نہ کرے ،، پھر میں نے اس کو سارا واقعہ تفصیل کے ساتھ سنایا ،، جس پر اس نے مکے سے ھی فون کر کے اس بچے کے مکمل علاج تک اسے اسپتال میں بلا معاوضہ رکھنے کے احکامات جاری کر دیئے ، اس خاتون کے شوھر کو اپنی ایک فیکٹری میں سپروائزر کی پوسٹ پر رکھ لیا اور اسپتال انتظامیہ کو میرے سارے پیسے مجھے واپس کرنے کے لئے کہہ دیا ،، یوں اللہ پاک نے مجھے فری میں حج کرا دیا ،،،

عبدالباری کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، اس نے اٹھ کر سعید کا ماتھا چوما اور اسے مبارک دی اور کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ میں نے دس حج کر کے اللہ پاک کا بہت قرب حاصل کیا ھے مگر آج مجھے لگتا ھے کہ میرے ایسے ھزار حج بھی تیرے اس ایک حج کے برابر نہیں ،میں تو خود حج پر آتا رھا جبکہ تجھے تو اللہ خود ھی اٹھا کر اپنے گھر لایا ھے ،، حاج سعید ،  اللہ  پاک سے میرے حج کی قبولیت کی دعا بھی کر دو ،، اللہ تمہارے حج میں برکت دے ،،

Monday, February 22, 2016

یہودی نو مسلم جاد اللہ قرآنی. قبول اسلام کا ایمان افروز واقعہ


یہ تقریباً 1957ء کی بات ہے فرانس میں کہیں ایک رہائشی عمارت کی نکڑ میں ترکی کے ایک پچاس سالہ بوڑھے آدمی نے چھوٹی سی دکان بنا رکھی تھی۔ اردگرد کے لوگ اس بوڑھے کو "انکل ابراہیم" کے نام سے جانتے اور پکارتے تھے۔ انکل ابراہیم کی دکان میں چھوٹی موٹی گھریلو ضروریات کی اشیاء کے علاوہ بچوں کیلئے چاکلیٹ، آئسکریم اور گولیاں، ٹافیاں دستیاب تھیں۔
اسی عمارت کی ایک منزل پر ایک یہودی خاندان آباد تھا جن کا ایک سات سالہ بچہ (جاد) تھا۔ جاد تقریباً روزانہ ہی انکل ابراہیم کی دکان پر گھر کی چھوٹی موٹی ضروریات خریدنے کیلئے آتا تھا۔ دکان سے جاتے ہوئے انکل ابراہیم کو کسی اور کام میں مشغول پا کر جاد نے کبھی بھی ایک چاکلیٹ چوری کرنا نہ بھولی تھی۔
ایک بار جاد دکان سے جاتے ہوئے چاکلیٹ چوری کرنا بھول گیا۔ انکل ابراہیم نے جاد کو پیچھے سے آواز دیتے ہوئے کہا، "جاد! آج چاکلیٹ نہیں اُٹھاؤ گے کیا؟"
انکل ابراہیم نے یہ بات محبت میں کی تھی یا دوستی سے مگر جاد کیلئے ایک صدمے سے بڑھ کر تھی۔ جاد آج تک یہی سمجھتا تھا کہ اس کی چوری ایک راز تھی مگر معاملہ اس کے برعکس تھا۔ جاد نے گڑگڑاتے ہوئے انکل ابراہیم سے کہا کہ، "وہ اگر اسے معاف کر دے تو آئندہ وہ کبھی بھی چوری نہیں کرے گا۔"
مگر انکل ابراہیم نے جاد سے کہا: "اگر تم وعدہ کرو کہ اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی کی چوری نہیں کرو گے تو روزانہ کا ایک چاکلیٹ میری طرف سے تمہارا ہوا، ہر بار دکان سے جاتے ہوئے لے جایا کرنا۔" اور بالآخر اسی بات پر جاد اور انکل کا اتفاق ہو گیا۔
وقت گزرتا گیا اور اس یہودی بچے جاد اور انکل ابراہیم کی محبت گہری سے گہری ہوتی چلی گئی۔ بلکہ ایسا ہو گیا کہ انکل ابراہیم ہی جاد کیلئے باپ، ماں اور دوست کا درجہ اختیار کر چکا تھا۔
جاد کو جب کبھی کسی مسئلے کا سامنا ہوتا یا پریشانی ہوتی تو انکل ابراہیم سے ہی کہتا، ایسے میں انکل میز کی دراز سے ایک کتاب نکالتا اور جاد سے کہتا کتاب کو کہیں سے بھی کھول کر دو۔ جاد کتاب کھولتا اور انکل وہیں سے دو صفحے پڑھتا، جاد کو مسئلے کا حل بتاتا، جاد کا دل اطمینان پاتا اور وہ گھر کو چلا جاتا۔
اور اسی طرح ایک کے بعد ایک کرتے سترہ سال گزر گئے۔ سترہ سال کے بعد جب جاد چوبیس سال کا ایک نوجون بنا تو انکل ابرہیم بھی اس حساب سے سڑسٹھ سال کا ہوچکا تھا۔ داعی اجل کا بلاوا آیا اور انکل ابراہیم وفات پا گیا۔ اُس نے اپنے بیٹوں کے پاس جاد کیلئے ایک صندوقچی چھوڑی تھی، اُس کی وصیت تھی کہ "اس کے مرنے کے بعد یہ صندوقچی اس یہودی نوجوان جاد کو تحفہ میں دیدی جائے۔۔۔۔!"
جاد کو جب انکل کے بیٹوں نے صندوقچی دی اور اپنے والد کے مرنے کا بتایا تو جاد بہت غمگین ہوا، کیونکہ انکل ہی تو اسکا غمگسار اور مونس تھا۔ جاد نے صندوقچی کھول کر دیکھی تو اندر وہی کتاب تھی جسے کھول کر وہ انکل کو دیا کرتا تھا۔
جاد، انکل کی نشانی گھر میں رکھ کر دوسرے کاموں میں مشغول ہو گیا۔ مگر ایک دن اُسے کسی پریشانی نے آ گھیرا، "آج انکل ہوتا تو وہ اُسے کتاب کھول کر دو صفحے پڑھتا اور مسئلے کا حل سامنے آجاتا" جاد کے ذہن میں انکل کا خیال آیا اور اُس کے آنسوؤں نکل آئے۔
"کیوں ناں آج میں خود کوشش کروں۔۔!" کتاب کھولتے ہوئے وہ اپنے آپ سے مخاطب ہوا، لیکن کتاب کی زبان اور لکھائی اُس کی سمجھ سے بالا تر تھی۔ کتاب اُٹھا کر اپنے تیونسی عرب دوست کے پاس گیا اور اُسے کہا، "مجھے اس میں سے دو صفحے پڑھ کر سناؤ"، مطلب پوچھا اور اپنے مسئلے کا اپنے تئیں حل نکالا۔ واپس جانے سے پہلے اُس نے اپنے دوست سے پوچھا، "یہ کیسی کتاب ہے؟"
تیونسی نے کہا، "یہ ہم مسلمانوں کی کتاب قرآن ہے۔۔!"
جاد نے پوچھا، "مسلمان کیسے بنتے ہیں؟"
تیونسی نے کہا، "کلمہ شہادت پڑھتے ہیں اور پھر شریعت پر عمل کرتے ہیں۔"
جاد نے کہا، "تو پھر سن لو میں کہہ رہا ہوں
أشهد ان لا الا اللہ وا اشہد ان محمد الرسول اللہ۔
جاد مسلمان ہو گیا اور اپنے لئے "جاد اللہ القرآنی" کا نام پسند کیا۔ نام کا اختیار اس کی قرآن سے والہانہ محبت کا کھلا ثبوت تھا۔ جاد اللہ نے قرآن کی تعلیم حاصل کی، دین کو سمجھا اور اور اس کی تبلیغ شروع کی۔
یورپ میں اس کے ہاتھ پر چھ ہزار سے زیادہ لوگوں نے اسلام قبل کیا۔
ایک دن پرانے کاغذات دیکھتے ہوئے جاد اللہ کو انکل ابراہیم کے دیئے ہوئے قرآن میں دنیا کا ایک نقشہ نظر آیا جس میں براعظم افریقہ کے اردگرد لکیر کھینچی ہوئی تھی اور انکل کے دستخط کیئے ہوئے تھے۔ ساتھ میں انکل کے ہاتھ سے ہی یہ آیت کریمہ لکھی ہوئی تھی:
"ادع إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة"
"اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ۔۔۔!!"
جاد اللہ کو ایسا لگا جیسے یہ انکل کی اس کیلئے وصیت ہو۔ اور اسی وقت جاد اللہ نے اس وصیت پر عمل کرنے کی ٹھانی۔ جاد اللہ نے یورپ کو خیرباد کہہ کر کینیا، سوڈان، یوگنڈہ اور اس کے آس پاس کے ممالک کو اپنا مسکن بنایا، دعوت حق کیلئے ہر مشکل اور پرخطر راستے پر چلنے سے نہ ہچکچایا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھوں ساٹھ لاکھ انسانوں کو دین اسلام کی روشنی سے نوازا۔
جاد اللہ نے افریقہ کے کٹھن ماحول میں اپنی زندگی کے تیس سال گزار دیئے۔ سن 2003ء میں افریقہ میں پائی جانے والی بیماریوں میں گھر کر محض چون سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی کو جا ملے۔
جاد اللہ کی محنت کے ثمرات اس کی وفات کے بعد بھی جاری رہے۔ وفات کے ٹھیک دو سال بعد اس کی ماں نے ستر سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔
جاد اللہ اکثر یاد کیا کرتے تھے کہ انکل ابراہیم نے اس کے سترہ سالوں میں کبھی بھی اسے غیر مسلم محسوس نہیں ہونے دیا اور نہ ہی کبھی کہا کہ اسلام قبول کر لو۔ مگر اس کا رویہ ایسا تھا کہ جاد کا اسلام قبول کیئے بغیر چارہ نہ تھا۔
میرے دوستو! آخر میں صرف اتنا ہی کہونگا کہ جتنا ہو سکے ہم اپنے اچھے کردار کو اُجاگر کریں۔ کیونکہ ہماری زبان سے نکلی ہوئی بات سے ہو سکتا ہے کوئی انکار کر دے لیکن جس بات کو ہم اپنے کردار سے اور دل کی گہرائیوں سے استوار کریں گے اُسے کوئی نہیں جھٹلا سکتا۔