Wednesday, March 18, 2015

ہارون رشید نے اسے پھر آزاد کردیا.

خلیفہ ہارون الرشید کے سامنے ایک باغی کو ہتھکڑیوں سمیت پیش کیاگیا .
وہ ایک خطرناک شخص تھا اور سپاہیوں نے بہت محنت سے اسے گرفتارکیا تھا ، ہارون رشید بھی فیصلہ کر چکا تھا کہ اسے قتل کردے گا قتل کا حکم صادر کرنے سے پہلے ہاروں نے غضب ناک آواز میں باغی سے پوچھا :
تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ?
اس نے کہا وہی سلوک جو خدا آپ کے ساتھ کرے گا جب آپ اس کے سامنے جائیں گے.
ہارون کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا ، اس نے سر جھکا لیا اور چند لمحے بعد درباریوں نے خلیفہ کی تھکی ہوئی آواز سنی ، اسے آزاد کر دیا جائے .
سپاہیوں نےہتھکڑیاں کھول دی ، باغی دربار سے چلا گیا.
درباریوں میں سے کسی نے کہا امیر المومنین آپ نے باغی کا ایک جملہ سن کر ہی اسے آزاد کر دیا یہ بھی نہ سوچا کہ اس کی گرفتاری میں آپ کے سپاہیوں کو کتنی زحمت ہوئی تھی اور اس باغی کی رہائی سے شرپسندوں کو اور شہ مل سکتی ہے. 
ہارون نے بے ساختہ حکم دیا کہ باغی کو دوبارہ گرفتار کر لیا جائے.
سپاہیوں نے باغی کو دوبارہ گرفتار کرکے پھر بادشاہ کے سامنےپیش کر دیا .
باغی نے کہا حضور میرے متعلق دوسروں کی رائے پر کان نہ دھریئے، اگر اللہ پاک آپ کے متعلق دوسروں کی رائے سنتا تو آپ ایک لمحے بھی خلیفہ نہیں رہ سکتے تھے .
ہارون رشید نے اسے پھر آزاد کردیا.

Tuesday, March 17, 2015

ایثار و ہمدردی

ایثار و ہمدردی 

ایثارو ہمدردی یعنی دوسرے کو اپنے اوپر ترجیح دینا اور دوسرے کے غم اور دکھ درد میں شریک ہونا اسلام کی اہم معاشرتی تعلیمات کا حصہ ہے۔
معاشرہ کے اجتماعی نظام کے استحکام اور بقاء میں اس کا بڑا عمل دخل ہے۔
اسلامی معاشرہ کی تاریخ میں دور اول میں ایسے واقعات عام تھے، جن پر یقین کرنا بھی موجودہ مفاد پرستی کے دور مشکل معلوم ہوتا ہے ۔ دوور اول کے بعد بھی ایسے واقعات بکثرت تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں۔ 
ان میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو خطیب بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب تاریخ بغداد میں امام و اقدی کے حالات میں لکھا ہے۔
واقدی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ مجھے بڑی مالی پریشانی کا سامنا تھا۔ فاقوں تک نوبت پہنچی گھر سے اطلاع آئی کہ عید کی آمد آمد ہے اور گھر میں کچھ نہیں، بڑے تو صبر کرلیں گے ؛ لیکن بچے مفلسی کی عید کیسے گزاریں گے؟
یہ بات سن کر میں اپنے تاجر دوست کے پاس قرض لینے گیا۔ وہ مجھے دیکھتے ہی سمجھ  گیا اور بارہ سو درہم کی سربمہر ایک تھیلی میرے ہاتھ میں تھما دی۔ میں گھر آیا، ابھی بیٹھا ہی تھا کہ میرا ایک ہاشمی دوست آیا۔ اس کے گھر بھی افلاس اور غربت نے ڈیرہ ڈالا تھا وہ قرض کی رقم چاہتا تھا۔
میں نے گھر جاکر اہلیہ کو قصہ سنایا، کہنے لگی کتنی رقم دینے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا تھیلی کی رقم نصف تقسیم کرلیں گے۔ اس طرح دونوں کا کام چل جائے گا، کہنے لگی بڑی عجیب بات ہے ایک عام آدمی کے پاس گئے اس نے آپ کو بارہ سو درہم دئیے اور آپ اس جلالت مرتبت ک باوجود اسے ایک عام آدمی کے عطیہ کا بھی نصف دے رہے ہیں۔  آپ اسے پوری تھیلی دے دیں۔ چنانچہ میں نے تھیلی کھولے بغیر سربمہر اس کے حوالے کردی۔  وہ تھیلی لے کر گھر پہنچا تو میرا تاجر دوست اس کے پاس گیا۔ کہا عید کی آمد آمد ہے۔ گھر میں کچھ نہیں، کچھ رقم قرض چاہیے۔ ہاشمی دوست نے وہی تھیلی سربمہر اس کے حوالے کردی۔ اپنی ہی تھیلی دیکھ کراسے بڑی حیرت ہوئی کہ یہ کیا ماجرا ہے؟
وہ تھیلی ہاشمی دوست کے ہاں چھوڑ کر میرے پاس آیا تو میں نے اسے پورا قصہ سنایا۔
درحقیقت تاجر دوست کے پاس بھی اس تھیلی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ وہ سارا مجھے دے گیا تھا اور خود قرض لینے ہاشمی کے پاس جا پہنچا۔ ہاشمی نے جب وہ حوالے کرنا چاہی تو راز کھل گیا۔
ایثار وہمدردی کے اس انوکھے واقعے کی اطلاع جب وزیر یحییٰ بن خالد کے پاس پہنچی تو وہ دس ہزار دینار لے کر آئے کہنے لگے ان میں دو ہزار آپ اور دو ہزار ہاشمی دوست کے اور دو ہزار تاجر دوست کے اور چار ہزار آپ کی اہلیہ کے ہیں کیونکہ وہ تو سب میں زیادہ قابل قدر اور لائق اعزاز ہے۔
یہ تھے وہ لوگ جن میں اسلام کی اخلاقی قدریں آباد تھیں اور جنہیں دیکھ کر غیرمسلم اسلام قبول کرنے پر خودبخود آمادہ ہوجاتے تھے ۔

’اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر‘

Monday, March 9, 2015

اورنگزیب کی چونّی

اورنگ زیب کے مختصر حالات ملاحظہ ہو ؛
http://ur.wikipedia.org/wiki/اورنگزیب_عالمگیر
اورنگزیب کی چونّی
---------------
مُلا احمد جیون ہندوستان کے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے استاد تھے۔ اورنگزیب اپنے استاد کا بہت احترام کرتے تھے۔ اور استاد بھی اپنے شاگرد پر فخر کرتے تھے۔

جب اورنگزیب ہندوستان کے بادشاہ بنے تو انہوں نے اپنے غلام کے ذریعے استاد کو پیغام بھیجا کہ وہ کسی دن دہلی تشریف لائیں اور خدمت کا موقع دیں۔ اتفاق سے وہ رمضان کا مہینہ تھا اور مدرسہ کے طالب علموں کو بھی چھٹیاں تھی۔چنانچہ انہوں نے دہلی کا رُخ کیا۔

استاد اور شاگرد کی ملاقات عصر کی نماز کے بعد دہلی کی جامع مسجد میں ہوئی۔ استاد کو اپنے ساتھ لیکر اورنگزیب شاہی قلعے کی طرف چل پڑے۔رمضان کا سارا مہینہ اورنگزیب اور استاد نے اکھٹے گزارا۔۔ عید کی نماز اکھٹے ادا کرنے کے بعد مُلا جیون نے واپسی کا ارادہ ظاہر کیا۔ بادشاہ نے جیب سے ایک چونّی نکال کر اپنے استاد کو پیش کی۔ استاد نے بڑی خوشی سے نذرانہ قبول کیا اور گھر کی طرف چل پڑے۔

اس کے بعد اورنگزیب دکن کی لڑائیوں میں اتنے مصروف ہوئے کہ چودہ سال تک دہلی آنا نصیب نہ ہوا۔ جب وہ واپس آئے تو وزیر اعظم نے بتایا۔ مُلا احمد جیون ایک بہت بڑے زمیندار بن چکے ہیں۔اگر اجازت ہو تو اُن سے لگان وصول کیا جائے۔یہ سن کر اورنگزیب حیران رہ گئے۔ کہ ایک غریب استاد کس طرح زمیندار بن سکتا ہے۔انہوں نے استاد کو ایک خط لکھا اور ملنے کی خواہش ظاہر کی۔مُلا احمد جیون پہلے کی طرح رمضان کے مہینے میں تشریف لائے۔ اورنگزیب نے بڑی عزت کے ساتھ انہیں اپنے پاس ٹھرایا۔مُلا احمد کا لباس، بات چیت اور طور طریقے پہلے کی طرح سادہ تھے۔ اس لیے بادشاہ کو ان سے بڑا زمیندار بننے کے بارے میں پوچھنے کچھ حوصلہ نہ ہو سکا۔ایک دن مُلا صاحب خود کہنے لگے:
آپ نے جو چونّی دے تھی وہ بڑی بابرکت تھی۔ میں نے اس سے بنولہ خرید کر کپاس کاشت کی خدا نے اس میں اتنی برکت دی کہ چند سالوں میں سینکڑوں سے لاکھوں ہو گئے۔ اورنگزیب یہ سن کر خوش ہوئے اور مُسکرانے لگے اور فرمایا: اگر اجازت ہو تو چونّی کی کہانی سناؤں۔ ملا صاحب نے کہا ضرور سنائیں۔ اورنگزیب نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ چاندنی چوک کے سیٹھ "اتم چند" کو فلاں تاریخ کے کھاتے کے ساتھ پیش کرو۔سیٹھ اتم چند ایک معمولی بنیا تھا۔ اسے اورنگزیب کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ ڈر کے مارے کانپ رہا تھا۔ اورنگزیب نے نرمی سے کہا: آگے آجاؤ اور بغیر کسی گھبراہت کے کھاتہ کھول کے خرچ کی تفصیل بیان کرو۔
بادشاہ نے کہا : اجازت ہے۔ اس نے کہا: اے بادشاہِ وقت! ایک رات موسلا دھار بارش ہوئی میرا مکان ٹپکنے لگا۔ مکان نیا نیا بنا تھا۔ اور تما م کھاتے کی تفصیل بھی اسی مکان میں تھی۔ میں نے بڑی کوشش کی ، لیکن چھت ٹپکتا رہا۔ میں نے باہر جھانکا تو ایک آدمی لالٹین کے نیچے کھڑا نظر آیا۔ میں نے مزدور خیال کرتے ہوئے پوچھا، اے بھائی مزدوری کرو گے؟
سیٹھ اتم چند نے اپنا کھاتہ کھولا اور تاریخ اور خرچ کی تفصیل سنانے لگا۔ مُلا احمد جیون اور اورنگزیب خاموشی سے سنتے رہے ایک جگہ آ کے سیٹھ رُک گیا۔ یہاں خرچ کے طور پر ایک چونّی درج تھی لیکن اس کے سامنے لینے والے کا نام نہیں تھا۔ اورنگزیب نے نرمی سے پوچھا: ہاں بتاؤ یہ چونی کہاں گئی؟ اتم چند نے کھاتہ بند کیا اور کہنے لگا: اگر اجازت ہو تو درد بھری داستان عرض کروں؟ وہ بولا کیوں نہیں۔وہ آدمی کام پر لگ گیا۔اس نے تقریباً تین چار گھنٹے کام کیا، جب مکان ٹپکنا بند ہوگیا تو اس نے اندر آکر تمام سامان درست کیا۔ اتنے میں صبح کی آذان شروع ہو گئی۔ وہ کہنے لگا:
اس کے بعد اتم چند نے بادشاہ سے اجازت چاہی اور چلا گیا۔بادشاہ نے مُلا صاحب سے کہا:
سیٹھ صاحب! آپ کا کام مکمل ہو گیا مجھے اجازت دیجیے ،میں نے اسے مزدوری دینے کی غرض سے جیب میں ہاتھ ڈالا تو ایک چونّی نکلی۔ میں نے اس سے کہا: اے بھائی! ابھی میرے پاس یہی چونّی ہے یہ لے ،اور صبح دکان پر آنا تمہیں مزدوری مل جائے گی۔وہ کہنے لگا یہی چونّی کافی ہے میں پھر حاضر نہیں ہوسکتا۔ میں نے اور میری بیوی نے اس کی بہت منتیں کیں ۔لیکن وہ نہ مانا اور کہنے لگا دیتے ہو تو یہ چونّی دے دو ورنہ رہنے دو۔میں نے مجبور ہو کر چونّی اس دے دی اور وہ لے کر چلا گیا۔اور اس کے بعد سے آج تک نہ مل سکا۔آج اس بات کو پندرہ برس گئے۔ میرے دل نے مجھے بہت ملامت کی کہ اسے روپیہ نہ سہی اٹھنی دے دیتا۔
(بحوالہ:کتاب/تاریخِ اسلام کے دلچسپ واقعات
یہ وہی چونّی ہے۔کیونکہ میں اس رات بھیس بدل کر گیا تھا تا کہ رعایا کا حال معلوم کرسکوں۔سو وہاں میں نے مزدور کے طور پر کام کیا۔ مُلا صاحب خوش ہو کر کہنے لگے۔مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ چونّی میرے ہونہار شاگرد نے اپنے ہاتھ سے کمائی ہوگی۔ اورنگزیب نے کہا :ہاں واقعی اصل بات یہی ہے کہ میں نے شاہی خزانہ سے اپنے لیے کبھی ایک پائی بھی نہیں لی۔ہفتے میں دو دن ٹوپیاں بناتا ہوں۔ دو دن مزدوری کرتا ہوں۔ میں خوش ہوں کہ میری وجہ سے کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری ہوئی یہ سب آپ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔
------------------------------

عہد حکومت
31 جولائی 1658 - 3 مارچ 1707
تاج پوشی
15 جون 1659 بمقام لال قلعہ ، دہلی
پورا نام
ابوالمظفر محی‌الدین محمد اورنگزیب عالمگیر
پیدائش
4 نومبر 1618
جائے پیدائش
وفات
3 مارچ 1707 (عمر 88 سال)
جائے وفات
مدفن
پیشرو
جانشین
بیویاں
نواب راج بائی بیگم
دلرس بانو بیگم
ہیرا بائی زین آبادی محل
اورنگ آبادی محل
اُدے پوری محل
خاندانمغل
والدشاہجہان
والدہممتاز محل
مذہباسلام

Friday, March 6, 2015

~~حسن اخلاق کی قیمت~~

~~حسن اخلاق کی قیمت~~
بغداد میں ایک شخص ابوحمزہ رھتے تھے جو سکری کے لقب سے مشھور تھے...
انھیں "سکری" کہنے کی وجہ کیا تھی...
عربی میں "سکر" چینی کو کہتے ھیں... دراصل ان کے اخلاق اتنے میٹھے تھے... کہ ان کی ھر بات چینی کی طرح مزیدار لگتی تھی...
لھذا انکے اخلاق کی بدولت لوگوں نے انھیں "سکری" مشھور کردیا تھا...
ان کے بارے میں آتا ھے... کہ وہ ایک بار سخت مقروض ھوگۓ... چنانچہ اپنا گھر بیچ کر قرض ادا کرنا چاھا...
جب محلے والوں کو علم ھوا تو انھوں نے وجہ پوچھی؟... کہنے لگے... مجھ پر مشکل وقت آگیا ھے... اور معاشی طور پر کمزور ھوگیا ھوں...
لوگوں نے مشورہ کیا... اور اس بات پر متفق ھوۓ... کہ اگر ھم سب محلے والوں نے مل کران کا قرض ادا نہ کیا... اور "سکری" ھم سے چلے گۓ... تو ھمیں ان جیسا کبھی نھیں ملے گا...
تمام لوگوں نے مل کر قرض کی رقم ادا کی... اور سکری کو اپنے محلے سے نہ جانے دیا... اور نہ ھی ان کو مکان بیچنے دیا...
(کتاب البطن صفحہ 55)
اکثر دیکھنے میں یھی آیا ھے کہ جس شخص کے اخلاق اچھے ھوتے ھیں فطری طور پر اس سے ھر شخص دلی محبت رکھتا ھے اور ضرورت پڑنے پر اس شخص سے تعاون کرنے کو ھر جاننے والا اپنی سعادت سمجھتا ھے
اور اس کے برعکس جو شخص اخلاقی طور پر پست ھوتا ھے اس سے ھر شخص کتراتا ھے اور تو اور ایسے شخص کو جب کوئ تکلیف یا نقصان ھوتا ھے یا موت آجاتی ھے تو لوگ خوش ھوجاتے ھیں کہ جان چھوٹی..!
اس لیے اپنے اخلاق کو جتنا ممکن ھوسکے سنوارنے کی کوشش کیجۓ، اچھا برتاؤ کیجۓ،
اخلاق برتنے میں امیر اور غریب، میں فرق نہ کیجۓ،
کیونکہ ھم سب مسلمان اس عظیم الشان ھستی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے امتی ھیں جس کے اخلاق کے دین اسلام کے ازلی دشمن کفار بھی معترف ھیں....

بے ادب ہوگئی محفل ترے اٹھ جانے سے۔

بے ادب ہوگئی محفل ترے اٹھ جانے سے۔
حضرت مولانا علی میاں صاحب ؒ کی یک تقریر ہے جو انہوں نے اہل علم کے سامنے کی تھی، اس میں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ حیدرآباد میں ایک بزرگ تھے، ایک مرتبہ ان کے گھٹنوں میں درد ہوا۔
وہ اسی حال میں مجلس میںتشریف فرما تھے۔ مجلس میں سب مریدین اور معتقدین بھی بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے خادم سے دوا ملنے کو کہا، خادم نے دوا ملنا شروع کی تو اس نے دیکھا کہ بزرگ صاحب مجلس میں خاموش ہیں، مگر مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگ آپس میں کانا پھوسی کر رہے ہیںاورآپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت میں مشغول ہیں، جیسا کہ ہمارے طلبہ میں ہوتا ہے ۔اور اس کاناپھوسی کی وجہ سے ایک گونج سے مجلس میں پیدا ہو رہی ہے۔
اس خادم نے سوچا کہ حضرت کی مجلس کا یہ حال کبھی نہیں ہوا، ان کی مجلس میں جب بھی لوگوں کو دیکھا خاموش دیکھا، لیکن آج یہ کیا بات ہے ؟ کانا پھونسی کیوں ہو رہی ہے؟ وہ باربار بے چین ہو کر ادھر اُدھر دیکھتا ہے،مگر اس کی سجھ میں نہیں آرہا ہے، وہ بزرگ اس انتشارکو بھی سمجھ گئے تھے کہ یہ کیوں ہورہا ہے،اور خادم کی پریشانی بھی بھانپ گئے تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنے گھٹنے کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا۔ اس طرح وہ خادم کواس انتشار کی وجہ بتلانا چاہتے تھے، لیکن خادم یوں سمجھا کہ یہاں درد ہے، اس لیے وہ اور دبانے لگا۔ مجلس میں شور کی کیفیت ابھی بھی ختم نہ ہوئی تھی، اور وہ بے چین ادھر اُدھردیکھے جارہا ہے ۔آخرش ان بزرگ نے اپنا منہ اس کے کان کے قریب لے جاکر کہا کہ میںگھٹنے کے اس درد کی وجہ سے آج رات کے معمولات پورے ادا نہیں کر سکاہوں، اس کا یہ اثر ہے جو تم مجلس میں دیکھ رہے ہو۔ 
یہ واقعہ بیان کر کے حضرت مولانا علی صاحب ؒ نے ایک شعر پڑھا۔
رحم کر قوم کی حالت پر اے ذکر ِخدا
کہ بے ادب ہوگئی ہے محفل ترے اٹھ جانے سے
حضرت فرماتے ہیں کہ ایک اللہ والے کے اپنے معمولات چھوڑنے کا نتیجہ مجلس پر یہ ہو سکتا ہے تو تمام اہل علم اپنے معمولات چھوڑ دیں گے تو دنیا پر کیا اثر مرتب ہوگا؟ آپ اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
اہل علم کی جانب سے یہ بڑی غفلت ہے،اور اس کے اثرات آدمی کے ماتحت لوگوںمیں بھی نظر آتے ہیں۔

Saturday, January 24, 2015

بغداد کا سپیرا ..

ایک سپیرا دن رات نت نئے اور زہریلے سانپوں کی تلاش میں جنگل, بیابان, کوہ و صحرا میں مارا مارا پھرتا رہتا تھا.. ایک دفعہ سخت سردی کے موسم میں پہاڑوں میں سانپ تلاش کر رہا تھا کہ اس نے ایک مردہ اژدھا دیکھا, جو بھاری بھر کم اور قوی الجثہ تھا.. اژدھا کیا تھا ستون کا ستون تھا..
اسے خیال آیا اگر اس مردہ اژدھے کو کسی طریقے سے شہر لے جاؤں تو دیکھنے والوں کا ہجوم اکٹھا ہو جائے گا.. لوگوں کے جمع ہو جانے سے میں خوب مال کماؤں گا..
سپیرا اسے بڑی مشکل سے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر گھسیٹ کر شہر لے آیا.. سپیرے کے اس کارنامے سے شہر بغداد میں اودھم مچ گیا.. "تُو چل میں چل" جس کے کانوں میں یہ خبر پہنچی کہ سپیرا ایک نادر قسم کا اژدھا پکڑ کر لایا ہے وہی سب کام چھوڑ کر اسے دیکھنے چل پڑا.. سینکڑوں ہزاروں لوگ جمع ہو گئے..
بے پناہ سردی اور برف باری کی وجہ سے اژدھے کا جسم سُن ہو چکا تھا جس کے باعث وہ مردہ دکھائی دے رہا تھا.. سپیرے کے گھسیٹ کر لانے' ہجوم کی گرمی اور سورج کی روشنی سے اچانک اژدھے کے جسم میں تھرتھری پیدا ہوئی اور اس نے اپنا منہ کھول دیا..
اژدھے کا منہ کھولنا تھا کہ قیامت برپا ہو گئی.. بد حواسی اور خوف سے جس کا جدھر منہ اٹھا اسی طرف کو بھاگا.. جوں جوں آفتاب کی گرم دھوپ اژدھے پر پڑتی تھی توں توں اس کے جوڑ جوڑ اور بند بند میں زندگی نمودار ہونے لگی..
مارے دہشت کے سپیرے کے ہاتھ پاؤں پُھول گئے.. اس نے جی میں کہا یہ پہاڑ سے میں کس آفت کو اٹھا لایا.. اپنے ہاتھوں اپنی موت بلا لی.. ابھی وہ بھاگنے بھی نہ پایا تھا کہ اژدھے نے اپنا غار سا منہ کھول کر اس کو نگل لیا.. پھر وہ رینگتا ہوا آگے بڑھا اور ایک بلند عمارت کے ستون سے اپنے آپ کو لپیٹ کر ایسا بل کھایا کہ اس سپیرے کی ہڈیاں بھی سرمہ ہو گئیں..
(حکایاتِ رومی )
ہمارا نفس بھی اژدھے کی مانند ہے.. اسے مردہ مت سمجھو.. ذرائع اور وسائل نہ ہونے کے باعث سُن نظر آتا ہے.. اللہ تعالٰی کی عبادت سے غفلت اور دنیا داری کی حرارت سے وہ حرکت میں آجاتا ہے.. لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنا وقت عبادتِ الٰہی میں گزاریں تاکہ ہمارے نفس کو حرکت میں آنے کی ہمت نہ ہو اور یہ ہم پرحاوی نہ ہو سکے

Friday, October 3, 2014

قاضی ابوبکر بغدادی

قاضی ابوبکر بغدادی

آج سے سات سو سال پہلے بغداد میں ایک بڑے پائے کے عالم رہائش پذیر تھے۔ اُن کا نام تھا قاضی ابو بکر بغدادی۔ وہ قاضی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایۂ محدث اور مقرر بھی تھے۔ دن کے وقت وہ عدالت میں مقدمات سنتے جبکہ رات کو قرآن و حدیث کے طلبہ کو تعلیم دیتے۔ یہ طلبہ نہایت کثیر تعداد میں تھے جن کے قیام و طعام کی ذمہ داری قاضی ابو بکر کے کندھوں پر تھی۔ وہ نہ صرف اِن طلبہ کو دو وقت کا کھانا مہیا فرماتے بلکہ ان کی رہائش کا بندوبست بھی ان کے ذمے تھا۔
ایک دن اُن کے شاگردوں نے اُن سے پوچھا’’حضرت! آپ کی تنخواہ تو معمولی ہے تو پھر یہ اتنے ڈھیر سارے اخراجات کہاں سے پورے کرتے ہیں؟‘‘
طلبہ کا سوال سن کر قاضی صاحب مسکرائے پھر کہا ’’یہ ایک راز ہے۔ اس راز پر سے پردہ تب تک نہیں اُٹھ سکتا جب تک کہ میں تمھیں اپنے ماضی کے چند عجیب و غریب واقعات نہ سنادوں۔اِس لیے بہتر ہے کہ فی الحال تم اِس راز کو راز ہی رہنے دو۔‘‘
شاگرد سمجھے کہ شاید اِس وقت اُن کا کچھ بتانے کا اِرادہ نہیں لہٰذاوہ چپ ہورہے۔ لیکن تھوڑے عرصے بعد شاگردوں نے ایک مرتبہ پھر عرض کی’’اُستادِ محترم! آپ نیک کاموں میں اس قدر خرچ کرتے ہیں۔ بظاہر آپ کی آمدنی کا بھی کوئی خاص ذریعہ نہیں، پھر یہ درہم و دینار آپ کے پاس کہاں سے آتے ہیں؟‘‘
اُستاد نے انھیں ایک مرتبہ پھر طرح دی اور مال کی نسبت اللہ تعالیٰ کے غیبی خزانوں کی طرف اشارہ کیا۔ لیکن اس بار شاگرد اس راز کو جاننے پر بضد تھے۔ شاگردوں کا اصرار دیکھتے ہوئے اُستاد نے بالآخر ان سے کہا ’’اِس مال کے ساتھ میری جوانی کا ایک نہایت اہم واقعہ وابستہ ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے انسان کو ایسے ایسے عجائبات دکھاتا ہے کہ اس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ میرے ساتھ بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔
لو سنو! یہ آج سے تیس بتیس سال پہلے کی بات ہے۔ میں اُن دنوں جوان تھا اور علمِ دین کے حصول میں ہمہ وقت مشغول رہتا۔ میرے ساتھ میرے چند دوست بھی تھے۔ ہماری دن رات کی مصروفیت یہی تھی کہ قرآن و حدیث پڑھتے اور باقی وقت تکرار یا مطالعے میں صرف کرتے۔ میں اُن دنوں یہیں بغداد میںمقیم تھا۔ شہر کے علمی حلقوں میں اُن دنوں مکہ معظمہ کے ایک عرب عالم کا بہت شہرہ تھا جن کا نام شیخ عبداللہ عزام تھا۔ وہ علمِ حدیث میں یکتائے روزگار تھے اور دور دور سے طالبانِ علم آکر اُن کے درس میں شریک ہوتے۔
میں محدثین کی محفلوں میں بیٹھنے کا بڑا حریص تھا۔ چناںچہ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مکہ جا کر شیخ عبداللہ عزام کی صحبت سے فیض یاب ہونا چاہتا ہوں۔ آپ لوگوں کو اگر منظور ہو تو میرے ساتھ چلیں ورنہ آپ لوگوں کی مرضی۔ میرے تینوں ساتھی شاید کم ہمت تھے ،اُنھوں نے میرے ساتھ اتنی دورجانے سے صاف انکار کردیا۔
چناںچہ رختِ سفر باندھا اور تنہا ہی منزلوں پر منزلیں مارتا ہوا مکہ معظمہ جاپہنچا۔ وہاں معلوم ہوا کہ شیخ عبداللہ عزام صاحبِ فراش ہیں اور فی الحال درسِ حدیث کا سلسلہ موقوف ہے۔
یہ سن کر اگرچہ مجھے بہت مایوسی ہوئی، تاہم یہ جان کر کچھ سکون محسوس ہوا کہ مکہ میں اُن دنوں بہت سے جلیل القدر علما موجود ہیں جو مسجدِ حَرم میں درس دیتے تھے۔ اگر شیخ عزام سے استفادہ نہیں ہوسکتا تو کم از کم اُن بزرگوں سے علم حاصل کرنا ممکن تھا۔ چناںچہ میں واپس بغداد جانے کے بجائے وہیں ٹھہرگیا اور حرم کی علمی مجالس سے اپنی پیاس بجھانے لگا۔
اُن دنوں میرے ساتھ ایک بدقسمتی یہ ہوئی کہ میرا زادِ راہ ختم ہوگیا لیکن میں نے اِس کی چنداں پروا نہ کی۔ میرے پاس کچھ کھجوریں اور ستو موجود تھے، تھوڑا سا زیتون کا تیل بھی مل گیا۔ میں نے اِنہی چیزوں کو غنیمت جانا اور روکھی سوکھی کھا کر تحصیلِ علم میں مشغول رہنے لگا۔ چند ہی دنوںبعد میرا ذخیرۂ خوراک ختم ہوگیا اور ایک دن ایسا آیا کہ میرے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ رہا اور فاقوں تک نوبت آن پہنچی۔
اس حالت میں یہ سوچ کر گھر سے نکلا کہ شاید باہر سے کوئی چیز کھانے کی مل جائے اور اگر کچھ بھی نہ ملا تو حرم جا کر اپنے رب سے مانگوں گا۔ میں گھر سے نکل کر گلی میں آگیا۔ اتفاق سے مجھے سامنے ہی ایک ریشم کی تھیلی پڑی ملی۔ دوپہر کا وقت اور ہو کا عالم تھا۔ گلی بالکل سنسان تھی اور کوئی شخص بھی آس پاس نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں نے وہ تھیلی اُٹھائی اور گھر لے آیا۔
گھر آکر تھیلی کھولی‘ تو اُس میں سفید رنگ کے خوبصورت موتیوں والا ایک ہار نکلا۔ میں نے اُسے الٹ پلٹ کردیکھا۔ ہار کے موتی ہر زاویے سے اس طرح چمکتے تھے کہ اُنھیں دیکھ کر آنکھیں چندھیا جاتی تھیں۔ مجھے یہ سمجھنے میں ذرا بھی دشواری نہ ہوئی کہ یہ ایک بہت قیمتی ہار ہے۔ میں نے اُسے تھیلی میں ڈال کر بستر کے نیچے چھپا دیا۔
ظہر سے عصر تک کا وقت اِسی ادھیڑ بن میں گزر گیا۔ میںیہ سوچتا رہا کہ یہ تھیلی گلی میں کیوں پڑی تھی اور اتنا بیش قیمت ہار کس کا ہوسکتا ہے؟ اِسی دوران عصر کی اذان بلند ہوئی اور میں نماز کی ادائی کے لیے حرم شریف چلا گیا۔ عصر کی نماز پڑھ کر آیا اور دوبارہ یہ سوچنے لگا کہ یااللہ‘ خبر نہیں اِس ہار کا مالک کون ہے اور میں اب اِسے اُس تک کیسے پہنچائوں؟‘‘
اِسی دوران گلی میں کچھ شور بلند ہوا۔ میں نے دروازے سے باہر جھانکا تو دیکھا کہ ایک اونٹ پر کوئی بوڑھا آدمی سوار ہے۔ اونٹ کے آگے چند آدمی دَف بجاتے چل رہے ہیں۔ وہ بوڑھا تھوڑی تھوڑی دیر بعد یہ اعلان کرتا کہ مکہ والو! میری ایک تھیلی گم ہوگئی ہے۔ اُس میں ایک ہار تھا۔ وہ ہماری خاندانی میراث ہے۔ تم سب اللہ کے ہمسائے اور قابلِ تعریف لوگ ہو جس کو وہ تھیلی ملے براہِ مہربانی مجھے واپس کردے میں تھیلی واپس کرنے والے کو پانچ سو دینار انعام دوں گا۔ خدا تم پر رحم کرے مکہ والو!‘‘
یہ کہہ کر وہ اپنے دائیں ہاتھ کو ہوا میں لہراتا جس میںایک پھٹے پرانے کپڑے میں دینار واضح نظر آرہے تھے۔ میں یہ اعلان سُن کر حیران رہ گیا۔ دل میں سوچا کہ شاید یہی بوڑھا اِس تھیلی کا حقیقی مالک ہے۔ مجھے ضرور یہ اُس تک پہنچانی چاہیے۔ میں ابھی اسی شش و پنج میں تھا کہ اعلان کرنے والا اور اس کے ساتھی میرے گھر کے سامنے سے گزرنے لگے۔ میں لپک کر باہر نکلا اور اونٹ کی لگام تھام کر کہا’’بڑے میاں! ذرا میری بات سنیے۔‘‘
’’کہو نوجوان‘‘ بوڑھے آدمی نے جھک کر کہا’’کیا بات ہے؟‘‘

’’آپ ذرا نیچے اُتر کر میرے گھر آئیے۔‘‘ میں نے کہا’’آپ کی تھیلی میرے پاس ہے۔‘‘

بوڑھا جلدی سے نیچے اُتر آیا۔ میں نے اُسے بٹھایا‘ بستر کے نیچے سے ریشمی تھیلی نکال کر اُسے دی اور پوچھا ’’کیا یہی وہ تھیلی ہے جس کی آپ کو تلاش ہے؟‘‘
بوڑھے نے میرے ہاتھ سے تھیلی جھپٹی اور تیزی سے اُسے کھولا۔ اُس میں وہ ہار جوں کا توں موجود تھا۔ بوڑھے نے ہار نکال کر اُسے چُوما اور پھر مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا’’نوجوان!یہ ہار سفر کے دوران مجھ سے کہیں کھو گیا تھا،میں اِس کی وجہ سے سخت پریشان تھا۔ خدا تمھیں جزا ئے خیر دے‘ تم بہت دیانت دار ہو۔ لو اپنا انعام سنبھالو۔‘‘
یہ کہہ کر اُس نے دینار میرے آگے کر دیے۔ میں نے کہا:’’بڑے میاں! یہ ہار مجھے گلی میں پڑا ملا تھا‘ میں اسے اندر اُٹھا لایا۔یہ میرے پاس آپ کی امانت تھا۔ میرا تو یہ فرض تھا کہ میں اِسے آپ کو واپس کروں۔ مجھے انعام کی ضرورت نہیں، میں اپنی نیکی فروخت نہیں کرتا۔‘‘ میری بات کا بوڑھے پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ بدستور اِس پر بضد رہا کہ میں دینار قبول کرلوں۔ اُس نے بہت اِصرار کیا لیکن ادھر میں بھی اپنی بات پر جما رہا۔ آخر وہ بوڑھا نہ مانا اور دینار میرے پاس چھوڑ کر چلا گیا۔
میرے پاس کچھ نہ تھا اور میں بہت بھوکا تھا لہٰذا میں نے چار و ناچار اُن دیناروں سے اپنی غذا کا بندوبست کیا اور مکان کے مالک کو کرایہ بھی ادا کیا۔ اِسی دوران شیخ عبداللہ عزام نے حرم شریف میں دوبارہ درسِ حدیث کا سلسلہ شروع کر دیا۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور روزانہ شیخ کی خدمت میں حاضر ہونے لگا۔میں کافی عرصے تک تحصیلِ علم میں مشغول رہا اور اِس دوران مالی ضرورتوں کے لیے وہی دینار کفالت کرتے رہے۔
آخر وہ دن بھی آگیا جب میں نے جو کچھ سیکھنا تھا سیکھ لیا اور واپس بغداد جانے کے لیے ’’جدہ‘‘ کی بندرگاہ پرپہنچا۔ وہاں سے میں نے بحری سفر شروع کیا۔ کشتی کا ملاح اناڑی تھا۔ وہ ہمیں کسی غلط سمت لے گیا۔ ہم سب اتنے ڈرے سہمے بیٹھے تھے کہ کوئی کسی سے بات نہ کرتا۔ تھوڑی ہی دیر بعد اندھیرا چھا گیا اور بارش ہونے لگی۔ ملاح موسم کی شدت پر لعنت کرنے لگا۔ اِسی دوران کشتی ہچکولے لینے لگی اور آخر کار ٹوٹ گئی۔
اُس وقت ہم جس مصیبت سے دوچار تھے‘ اُس کا اندازہ لگاناآسان نہیں۔ آسمان پر بجلی کڑک رہی تھی اور نیچے سمندر کی طوفانی لہروں کا شور اور ایسے میں خوفزدہ مسافروں کی چیخ پکار جاری تھی۔ میں اس سارے وقت میں آنکھیں بند کیے کشتی کے ایک تختے سے چمٹا رہا۔ سارا دن وہ تختہ سمندر میںتیرتا رہا۔ مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ میں کس طرف جارہا ہوں اور باقی مسافروں کا کیا بنا؟
آخرکار خدا خدا کرکے وہ تختہ ایک جزیرے کے ساحل سے جا لگا۔ میں ساحل کی ریت پر جا لیٹا۔ جب ذرا حالت سنبھلی تو اُٹھ کر آگے بڑھا اور جنگلی پھلوں سے اپنی بھوک مٹائی۔ جب حواس بحال ہوئے تو دیکھا کہ جزیرے کے وسط میں ایک مسجد ہے اور کچھ دور آبادی بھی ہے۔ میں مسجد میں چلا گیا ۔وہاں قرآن پاک کے کچھ اوراق رکھے تھے۔ میں انھیں پڑھنے لگا۔ مجھے قرآن پڑھتے دیکھ کر آبادی میں سے کچھ مرد اور عورتیں میرے پاس آئے اور کہنے لگے:’’اے شیخ! کیا آپ عالم ہیں؟‘‘
’’میں ایک طالبِ علم ہوں۔‘‘ میں نے عاجزی سے کہا۔

وہ کہنے لگے ’’اے شیخ ہم مسلمان ہیں‘ لیکن قرآن پڑھنا نہیں جانتے۔‘‘ آپ مہربانی فرما کر ہمیں تلاوت سکھا دیں اور اگر ہوسکے تو کچھ لکھنے پڑھنے کی بھی مشق کروا دیں۔‘‘
چناںچہ میں نے یہ پیش کش قبول کر لی اور اُن کے بچوں کو قرآن و کتابت سکھلانے لگا۔ اِس کے بدلے مجھے صبح و شام کھانا مل جاتا۔ رفتہ رفتہ وہ لوگ مجھ سے بہت مانوس ہو گئے۔ وہ میری قدر کرتے تھے اور بڑے ادب سے ’’حضرت الاستاذ‘‘ کہہ کر مجھے پکارتے۔ میری زندگی کے دن یونہی گزر رہے تھے۔ مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ میں کہاں ہوں اور کن لوگوں کے درمیان ہوں؟
ایک دن اُن کے ایک بزرگ میرے پاس آئے اور بولے ’’یا شیخ! یہاں ایک یتیم بچی ہے، خاصی مالدار ہے اور سلیقہ شعار بھی ہے۔ آپ شریف النفس ہیں اور تنہا بھی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اُس بچی سے نکاح کر لیں‘ اِس طرح آپ کی گزر بسر آسانی سے ہوسکے گی۔‘‘
میں نے انکار کر دیا۔ لیکن وہ لوگ مسلسل اِصرار کرتے رہے اور مجھے اتنا مجبور کیا کہ آخر کار میں نے اُن کی بات مان لی۔چناںچہ میرے نکاح کے انتظامات ہوئے۔ نکاح کی رات جب میں نے اپنی دلھن کو دیکھا تو اُس کے گلے میں وہی ہار تھا جو میں نے مکہ میں اُس بوڑھے کو واپس کیا تھا۔
میں ہار دیکھ کر بہت حیران ہوا اور گھر سے باہر آکر لوگوں کو سارا ماجرا سنایا۔ میری بات سن کر لوگوں نے اِس زور سے نعرہ لگایا کہ اُن کی آواز پورے جزیرے میں گونج گئی۔ میری حیرانی ہنوز باقی تھی بلکہ اِس بات سے مجھے مزید حیرت ہوئی۔
مجھے پریشان دیکھ کر جزیرے والوں نے بتایا ’’وہ بڑے میاں جنھیں آپ نے مکہ میں ہار واپس کیا تھا‘ اس بچی کے والد تھے۔ آپ سے پہلے وہی اِس مسجد کے امام بھی تھے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ مجھے زندگی میں سچے و ایمان دار لوگ کم ہی ملے۔ ان میں وہ مسلمان نوجوان بھی شامل ہے جس نے مجھے میرا خاندانی ہار واپس کیا تھا۔ یااللہ!میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے اُس سے دوبارہ ملادے تاکہ اپنی بیٹی کا نکاح اُس سے کردوں۔ اور اب ایسا ہو بھی گیا۔ ہم سب قدرت کے اِس اتفاق پر حیران ہیں اور اِسی خوشی میں ہم نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا ہے۔‘‘
اُن کی بات سن کر مجھے بھی بہت خوشی ہوئی اور میں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ میں پھر اپنی بیوی کے ساتھ مدت تک اِس جزیرے میں رہا اور بہت خوش گوار زندگی گزاری۔ بعدازاںجب میری رفیقۂ حیات کا انتقال ہوا‘تو میں پھر تنہا ہوگیا۔ کچھ عرصہ تو میں اُس جزیرے میں رہا پھر اُن لوگوں سے اجازت لے کر بغداد واپس آگیا۔وہ ہار ابھی تک میرے پاس تھا۔ جزیرے والوں نے بخوشی اُسے مجھے اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت دے دی۔
بغداد میں وہ ہار ایک تاجر کو پسند آگیا۔ اُس نے کئی لاکھ دینار میں وہ مجھ سے خرید لیا۔ میں نے دینار اپنے پاس سنبھال رکھے ہیں۔ انہی سے میں تم لوگوں کے اخراجات پورے کرتا ہوں۔ چونکہ میں اسے نیکی کے کاموں میں خرچ کرتا ہوں‘ اِس وجہ سے برکت ہی برکت ہے۔ یہ داستان بیان کرنے کے بعد شیخ ابو بکر بغدادی خاموش ہوگئے اور پھر اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے لگے۔شاگرد بھی یہ جان کر مطمئن ہوئے کہ ان کے استاذ کو رب کائنات کی طرف سے دولت عطا ہوئی ہے_