Tuesday, September 2, 2014

بغداد کے سوداگر کا سچّا خواب

بغداد کے سوداگر کا سچّا خواب


پرانے زمانے کی بات ہے کہ بغداد میں ایک سوداگر رہا کرتا تھا جو بہت ہی دولت مند تھا لیکن اپنی دولت لٹا کروہ اتنا غریب ہوگیا تھا کہ محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالنے پر مجبور ہوگیا ۔ اپنے پچھلے وقت کی عیش و عشرت والی زندگی کو یاد کرکے وہ اکثر غمزدہ ہوجایا کرتا تھا۔ ایک رات وہ بہت ہی اداس اور غمزدہ حالت میں سویا تو اس نے خواب دیکھا کہ ایک بزرگ اس سے کہہ رہے ہیں کہ تمہاری قسمت کا ستارہ مصر کے شہر قاہرہ میں جگمگا رہا ہے۔ وہاں جاﺅ اور اسے تلاش کرو۔

دوسرے دن صبح جب وہ بیدار ہوا تو اسے خواب والے بزرگ کی بات یاد آئی ، اس نے فوراََ قاہرہ جانے کی تیاری کی اور قاہرہ کیلئے روانہ ہوگیا ۔ کئی ہفتوں کی تکلیف اور مشقت اٹھاکر وہ اس شہر میں پہنچ گیا رات ہوچکی تھی اور اس کے پاس کسی سرائے میں قیام کے لئے کوئی رقم موجود نہ تھی۔ لہٰذا وہ ایک مسجد میں گیا اور اس کے صحن میں ایک کونے میں جاکر سوگیا۔

اتفاق سے چوروں کا ایک گرو ہ مسجد کے صحن میں آیا اور چوری کے ارادے سے مسجد کے برابر والے مکان میں داخل ہوا ہی تھا کہ کسی آہٹ کی وجہ سے مکان میں رہنے والے افراد جاگ گئے اور مدد کے لئے پکارنے لگے۔ چوروں نے جب یہ چیخ و پکار سنی تو گھبراکر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ تھوڑی ہی دیر میں علاقے کا داروغہ اپنے سپاہیوں کے ہمراہ وہاں پہنچا ۔ جب یہ سپاہی مسجد کے صحن میں پہنچے تو یہ سوداگر انھیں صحن میں سویا ہوا نظر آیا لہٰذا سپاہیوں نے اسے پکڑلیا اور چور سمجھ کر اس کی خوب پٹائی کی اور اس کو قید خانے میں بند کردیا۔

تین چار دن کے بعد داروغہ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس اجنبی کو پیش کریں۔ جب یہ سوداگرپیش کیا گیا تو داروغہ نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو ؟ سوداگر نے جواب دیا ، میں بغداد سے آیا ہوں ، داروغہ نے سوال کیا، تم بغداد سے قاہرہ کس لئے آئے ہو؟ سوداگر نے جواب دیا کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس میں ایک بزرگ مجھ سے کہہ رہے تھے ” تمہاری قسمت کا ستارہ قاہرہ میں جگمگا رہا ہے۔ وہاں جاﺅ اور اسے تلاش کرو“۔ میں اسی کی تلاش میں یہاں آیا تھا لیکن آپ کے سپاہیوں نے مجھے پکڑ لیا اور میری پٹائی کردی۔

داروغہ نے جب یہ داستان سنی تو بہت ہی ہنسا اور کہنے لگا اے بے وقوف انسان میں نے بھی کئی مرتبہ خواب میں کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ بغداد جاﺅ اور پتھریلی گلی کے فلاں مکان میں ایک صحن ہے جس کے آخر میں ایک باغ ہے جہاں پر ایک فوارہ ہے اس کے حوض کے نیچے بہت سا خزانہ دفن ہے۔ لہٰذا وہاں جاﺅ اور اسے کھود کر نکال لو۔ کیا میں بغداد گیا ؟ ایک تم بے وقوف ہو جو اتنی دور سے یہاں قاہرہ چلے آئے اور صرف ایک خواب دیکھ کر ۔داروغہ نے اس سوداگر کو کچھ رقم دی اور کہا یہ رقم لو اور اپنے گھر واپس جاﺅ۔

قاہرہ کے داروغہ نے سوداگر کو جس مکان کے بارے میں بتایا تھا وہ دراصل اس سوداگر کا اپنا مکان تھا ۔ داروغہ کی ساری باتیں سن کر سوداگر سارے معاملے کی تہہ تک پہنچ چکا تھا وہ فوراََ واپس بغداد اپنے گھر پہنچا اس نے باغ میں فوارے کے نیچے کھودنا شروع کردیا ابھی تھوڑی ہی زمیں کھودی تھی کہ اسے وہاں سے ایک بہت ہی بڑا خزانہ مل گیا۔ اس طرح اس کا خواب حیرت انگیز طور پر سچ ثابت ہوگیا اور وہ دوبارہ پھر سے مالا مال ہوگیا۔

Saturday, July 12, 2014

کہانی ایک عید کی

بہتر طریقہ سے پڑھنے کے لیے pdf فائل یہاں سے ڈاون لوڈ کریں

کہانی ایک عید کی  ۔۔۔۔۔۔۔ منشی پریم چند

رمضان کے پورے تیس روزوں کے بعد آج عید آئی ہے۔ کتنی سہانی اور رنگین صبح ہے۔ بچے کی طرح پُرتبسم۔ درختوں پر کچھ عجیب ہریاول ہے۔ کھیتوں میں عجیب رونق ہے۔ آسمان پر کچھ عجیب فضا ہے۔ آج کا آفتاب دیکھو کتنا پیارا ہے، گویا دنیا کو عید کی خوشی پر مبارک باد دے رہا ہو۔ گائوں میںکتنی چہل پہل ہے۔ عیدگاہ جانے کی دھوم ہے۔ کسی کے کرتے میں بٹن نہیں ہیں، سوئی دھاگہ لینے جارہا ہے۔ کسی کے جوتے سخت ہوگئے ہیں اسے تیل اور پانی سے نرم کررہا ہے۔ جلدی جلدی بیلوں کو پانی دے دیں۔ عیدگاہ سے لوٹتے لوٹتے دوپہر ہوجائے گی۔ تین کوس کا پیدل راستہ پھر سینکڑوں رشتے، قرابت والوں سے ملنا ملانا۔ دوپہر سے پہلے لوٹنا غیر ممکن ہے۔ بچے سب سے زیادہ خوش ہیں، کسی نے ایک روزہ رکھا، وہ بھی دوپہر تک، کسی نے وہ بھی نہیں، لیکن عیدگاہ جانے کی خوشی ان کا حصہ ہے۔ روزے بڑے بوڑھوں کے لیے ہوں گے بچوں کے لیے تو عید ہے۔ روز عید کا نام رٹتے رہتے تھے۔ آ ج وہ آہی گئی۔ اب جلدی پڑی ہوئی ہے کہ عیدگاہ کیوں نہیں چلتے۔
انہیں گھر کی فکروں سے کیا واسطہ؟ سوّیوں کے لیے گھر میں دودھ اور شکر میوے ہیں یا نہیں، انہیں کیا فکر۔ وہ کیا جانیں ابا جان کیوں بدحواس اس گائوں کے مہاجن (بڑا آدمی) چوہدری قاسم علی کے گھر دوڑے جارہے ہیں۔ ان کی اپنی جیبوں میں تو قارون کا خزانہ رکھا ہوا ہے۔ بار بار جیب سے اپنا خزانہ نکال کر گنتے ہیں۔ انہی دو چار پیسوں میں دنیا کی ساری نعمتیں لائیں گے۔ کھلونے اور مٹھائیاں اور بگل اور خدا جانے کیا کیا۔
اور سب سے زیادہ خوش ہے ’’حامد‘‘۔ وہ سات آٹھ سال کا غریب صورت بچہ ہے، جس کا باپ پچھلے سال ہیضہ کی نذر ہوگیا اور ماں نہ جانے کیوں زرد ہوتی ہوتی ایک دن مرگئی۔ کسی کو پتا نہ چلا کہ کیا بیماری ہے۔ کہتی کس سے؟ کون سننے والا تھا؟ دل پر جو کچھ گزرتی تھی، سہتی تھی، اور جب نہ سہا گیا دنیا سے رخصت ہوگئی۔ اب حامد اپنی بوڑھی دادی امینہ کی گود میں سوتا ہے اور اتنا ہی خوش ہے۔ اس کی دادی اسے کہتی ہے کہ اس کے ابا جان بڑی دور روپے کمانے گئے ہیں۔ بہت سی تھیلیاں لے کر آئیں گے، امی جان اللہ میاں کے گھر مٹھائی لینے گئی ہیں۔ اس لیے حامد خوش ہے۔ امید تو بڑی چیز ہے۔ پھر بچوں کی امید… ان کا تخیْل (تصور)… تو رائی کے پربت بنالیتا ہے۔
حامد کے پائوں میں جوتے نہیں ہیں۔ سر پر ایک پرانی ٹوپی ہے جس کا گوٹا سیاہ ہوگیا ہے۔ پھر بھی وہ خوش ہے۔ جب اس کے ابا جان تھیلیاں اور اماں جان نعمتیں لے کر آئیں گی تب وہ دل کے ارمان نکالے گا۔ تب دیکھے گا محمود اور محسن، نوری اور سمیع کہاں سے اتنے پیسے لاتے ہیں۔ دنیا اپنی مصیبتوں کی ساری فوج لے کر آئے، اس کی ایک نگاہِ معصوم اسے پامال کرنے کے لیے کافی ہے۔
حامد اندر جاکر امینہ سے کہتا ہے:
’’تم ڈرنا نہیں اماں! میں گائوں والوں کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، بالکل نہ ڈرنا۔‘‘ لیکن امینہ کا دل نہیں مانتا۔
گائوں کے بچے اپنے اپنے باپ کے ساتھ جارہے ہیں۔ حامد کیا اکیلا ہی جائے گا! اس بھیڑبھاڑ میں کہیں کھو جائے تو کیا ہوگا؟ نہیں امینہ اسے تنہا نہ جانے دے گی۔ ننھی سی جان تین کوس چلے گا پائوں میں چھالے نہ پڑجائیں گے!
مگر وہ چلی جائے تو یہاں سوئیاں کون پکائے گا؟ بھوکا پیاسا دوپہر کو لوٹے گا، کیا اس وقت سوئیاں پکانے بیٹھے گی؟ رونا تو یہ ہے کہ امینہ کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اس دن فہیمن کے کپڑے سیے تھے، آٹھ آنے پیسے ملے تھے۔ اس اٹھنِّی (آدھا روپیہ) کو ایمان کی طرح بچاتی چلی آئی تھی… اس عید کے لیے۔ لیکن کل گھر میں آٹا نہ تھا اور گوَالَن (دودھ بیچنے والی)کے پیسے چڑھ گئے تھے۔ دینے پڑے۔ حامد کے لیے دو پیسے کا روز دودھ تو لینا ہی پڑتا ہے۔ اب کل آٹھ پیسے بچ رہے ہیں۔ تین پیسے حامد کی جیب میں اور پانچ امینہ کے بٹوے میں، یہی بساط ہے۔ اللہ ہی بیڑا پار کرے۔
دھوبن، مِہتَرَانِی (بھنگن) اور نَائِن (نائی کی بیوی) سب ہی تو آئیں گی۔ سب کو سوئیاں چاہئیں۔ کس کس سے منہ چھپائے گی، اور منہ کیوں چھپائے؟ سال بھر کا تہوار ہے۔ زندگی خیریت سے رہے۔ ان کی تقدیر بھی تو اس کے ساتھ ہے۔ بچے کو خدا سلامت رکھے۔ یہ دن بھی یوں ہی کٹ جائیں گے۔
گائوں سے لوگ چلے، اور بچوں کے ساتھ حامد بھی تھا۔ سب کے سب دوڑ کر آگے نکل جاتے۔ پھر کسی درخت کے نیچے کھڑے ہوکر ساتھ والوں کا انتظار کرتے۔ یہ لوگ کیوں اتنے آہستہ آہستہ چل رہے ہیں۔ شہر کا سَوَاد (آس پاس) شروع ہوگیا۔ سڑک کے دونوں اطراف امیروں کے باغ میں پختہ چہار دیواری بنی ہوئی ہے۔ درختوں میں آم لگے ہوئے ہیں۔ حامد نے کنکری اُٹھاکر ایک آم پر نشانہ لگایا۔ مالی اندر سے شور مچاتا ہوا باہر آیا۔ بچے وہاں سے ایک فَرلَانگ (220 گز کا فاصلہ) دوڑ کر چلے گئے۔ خوب ہنس رہے ہیں۔ مالی کو کیسا اُلّو بنایا! بڑی بڑی عمارتیں آنے لگیں۔
’’یہ عدالت ہے۔‘‘
’’یہ مدرسہ ہے۔‘‘
’’اتنے بڑے مدرسے میں کتنے سارے لڑکے پڑھتے ہوں گے۔‘‘
’’لڑکے نہیں ہیں جی۔ بڑے آدمی ہیں۔‘‘
پھر آگے چلے۔ حلوائیوں کی دکانیں شروع ہوئیں۔ آج خوب سجی ہوئی تھیں۔
’’اتنی مٹھائیاں کون کھاتا ہے؟‘‘
’’دیکھو نا ایک ایک دکان پر منوں ہوں گی۔‘‘
’’سنا ہے رات کو آدمی ہر ایک دکان پر جاتا ہے اور جتنا مال بچا ہوتا ہے وہ سب خرید لیتا ہے۔ اور سچ مچ کے روپے دیتا ہے۔ بالکل ایسے ہی چاندی کے روپے۔‘‘
محمود کو یقین نہ آیا۔ ’’ایسے روپے جنات کو کہاں سے مل جائیں گے؟‘‘
محسن: ’’جنات کو روپوں کی کیا کمی، جس خزانہ میں چاہیں چلے جائیں، کوئی انہیں دیکھ نہیں سکتا۔ لوہے کے دروازے تک نہیں روک سکتے۔‘‘
’’جناب! آپ ہیں کس خیال میں؟ ہیرے جواہرات ان کے پاس رہتے ہیں۔ جس سے خوش ہوگئے اسے ٹوکروں جواہرات دے دیے۔ پانچ منٹ میں کہو ’’کابل‘‘ پہنچ جائیں۔‘‘
حامد: ’’جنات بہت بڑے ہوتے ہوں گے؟‘‘
محسن: ’’اور کیا، ایک ایک آسمان کے برابر ہوتا ہے۔ زمین پر کھڑا ہوجائے تو اس کا سر آسمان سے جالگے۔ مگر چاہے تو ایک لوٹے میں گھس جائے۔‘‘
سمیع: ’’سنا ہے چوہدری صاحب کے قبضے میں بہت سے جنات ہیں۔ کوئی چیز چوری ہوجائے، چوہدری صاحب اس کا پتا بتادیں گے اور چور کا نام تک بتادیں گے۔ جمعراتی کا بچھڑا اس دن کھو گیا تھا۔ تین دن حیران ہوئے، کہیں نہیں ملا۔ تب جھک مارکر چوہدری کے پاس گئے۔ چوہدری نے کہا: مویشی خانہ میں ہے۔ اور وہیں ملا۔ جنات آکر انہیں خبریں دے جایا کرتے ہیں۔‘‘
اب ہر ایک کی سمجھ میں آگیا کہ چوہدری قائم علی کے پاس اس قدر دولت ہے اور کیوں وہ قرب وجوار کے مَوَاضِعَات (کئی گائوں) کے مہاجن ہیں۔ جنات آکر انہیں روپے دے جاتے ہیں۔
آگے چلیے… یہ پولیس لائن ہے۔ یہاں پولیس والے قواعد کرتے ہیں۔ رائٹ لپ، رائٹ لپ۔ پھام پھو، پھام پھو!
بستی گھنی ہونے لگی۔ عیدگاہ جانے والوں کا مجمع نظر آنے لگا۔ ایک سے ایک زرق برق پوشاک پہنے ہوئے۔ کوئی تانگے پر سوار، کوئی موٹر سائیکل پر، چلتے تھے تو کپڑوں سے عطر کی خوشبو اڑتی تھی۔
دَہقَانوں (کسانوں) کی یہ مختصر سی ٹولی اپنی بے سروسامانی سے بے حس اپنی خستہ حالی میں مگن، صابر و شاکر چلی جارہی تھی۔ جس چیز کی طرف تاکتے، تاکتے رہ جاتے… پیچھے سے گاڑی کے بار بار ہارن کی آواز ہونے پر بھی خبر نہ ہوتی۔ محسن تو موٹر کے نیچے جاتے جاتے بچا۔
وہ عیدگاہ نظر آئی۔ جماعت شروع ہوگئی ہے۔ اوپر املی کے درختوں کا سایہ ہے۔ نیچے کھلا ہوا پختہ فرش ہے جس پر جَاجَم (وہ چادر جو دری کے اوپر بچھاتے ہیں) بچھا ہوا ہے اور نمازیوں کی قطاریں ایک کے پیچھے دوسری، خدا جانے کہاں تک چلی گئی ہیں۔ پختہ فرش کے نیچے جاجم بھی نہیں۔ کئی قطاریں کھڑی ہیں۔ جو آتے جاتے ہیں پیچھے کھڑے ہوتے جاتے ہیں۔ آگے اب جگہ نہیں رہی، یہاں کوئی رتبہ اور عہدہ نہیں دیکھتا، اسلام کی نگاہ میں سب انسان برابر ہیں۔ دہقانوں نے بھی وضو کیا اور جماعت میں شامل ہوگئے۔ کتنی باقاعدہ منظم جماعت ہے۔ لاکھوں آدمی ایک ساتھ جھکتے ہیں۔ ساتھ دو زانوں بیٹھ جاتے ہیں، اور یہ عمل بار بار ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہورہا تھا کہ گویا بجلی کی لاکھوں بتیاں ایک ساتھ روشن ہوجائیں اور ایک ساتھ بجھ جائیں۔
کتنا پُراحترام، رعب انگیز نظارہ ہے، جس کی ہم آہنگی (ساتھ) اور وسعت اور تعداد دلوں پر ایک وجدانی کیفیت پیدا کردیتی ہے۔ گویا اُخوّت کا ایک رشتہ ان تمام روحوں کو منسلک کیے ہوئے ہے۔
نماز ختم ہوگئی ہے۔ لوگ باہم گلے مل رہے ہیں۔ کچھ لوگ محتاجوں اور سائلوں کو خیرات کررہے ہیں جو آج یہاں ہزاروں جمع ہوگئے ہیں۔ دہقانیوں نے مٹھائی اور کھلونوں کی دکانوں پر یُورَش (دھاوا) کی۔ بوڑھے ان دل چسپیوں میں بچوں سے کم محظوظ نہیں ہیں۔ یہ دیکھو ’’ہِنڈَولَا‘‘ (جھولا) ہے۔ ایک پیسہ دے کر کبھی آسمان پر جاتے معلوم ہوںگے، کبھی زمین پر گرتے… یہ ’’چرخی‘‘ ہے۔ لکڑی کے گھوڑے، اونٹ، ہاتھی مَیخوں (کیلوں) کے لٹکے ہوئے ہیں۔ ایک پیسہ دے کر بیٹھ جائو پچیس چکروں کا مزہ لو۔ محمود اور محسن ہنڈولے پر بیٹھے ہیں۔ نوری اور سمیع گھوڑوں پر۔ ان کے بزرگ اتنے ہی طفلانہ اشتیاق سے چرخی پر بیٹھے ہیں۔ حامد دور کھڑا ہے، تین ہی پیسے تو اس بے چارے کے پاس ہیں۔ ذرا سا چکر کھانے کے لیے وہ اپنے خزانے کا ثُلُث (تیسرا حصہ) نہیں صرف کرسکتا۔ محسن کا باپ اسے بار بار چرخی پر بلاتا ہے لیکن وہ راضی نہیں ہوتا۔ بوڑھے کہتے ہیں اس لڑکے میں ابھی سے اپنا پرایا آگیا۔ حامد سوچتا کیوں کسی کا احسان لوں۔ عسرت نے ضرورت سے زیادہ ذَکِیْ الحِس (بہت حساس) بنادیا ہے۔
سب لوگ چرخی سے اترتے ہیں۔ کھلونوں کی خریداری شروع ہوتی ہے۔ سپاہی اور گجریا اور راجہ رانی اور وکیل اور دھوبی اور بِھشتی (پانی پلانے والا) اور سپاہی بے امتیاز ران سے ران ملائے بیٹھے ہیں۔ دھوبی راجا رانی کی بغل میں ہے اور بھشتی وکیل صاحب کی بغل میں۔ واہ کتنے خوب صورت، بولا ہی چاہتے ہیں۔
محمود سپاہی پر لٹو ہوجاتا ہے۔ خاکی وردی اور لال پگڑی، کندھے پر بندوق، معلوم ہوتا ہے ابھی قواعد کے لیے چلا آرہا ہے۔ محسن کو بھشتی پسند آیا۔ کمر جھکی ہوئی ہے۔ اس پر مشک ہے۔ مشک کا دہانہ ایک ہاتھ سے پکڑا ہوا ہے۔ دوسرے ہاتھ میں رسّی ہے۔ کتنا بشاش چہرہ ہے۔ شاید کوئی گیت گارہا ہے۔ مشک سے پانی ٹپکتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ نوری کو وکیل سے مناسبت ہے۔ کتنی عالمانہ صورت ہے۔ سیاہ چغہ، نیچے سفید اُچکن (شیروانی سے ملتا جُلتا لباس)… اُچکن کے سینہ کی جیب میں سنہری زنجیر، ایک ہاتھ میں قانون کی کوئی کتاب لیے ہوئے ہے۔ معلوم ہوتا ہے ابھی کسی عدالت سے جَرح (کسی حقیقت کو جاننے کے لیے سوالات کرنا) یا بحث کرکے چلے آرہے ہیں۔ یہ سب دو دو پیسے کے کھلونے ہیں۔
حامد کے پاس کل تین پیسے ہیں۔ اگر دو کا ایک کھلونا لے لے تو کیا لے گا؟ نہیں نہیں کھلونا فضول ہے، کہیں ہاتھ سے گرپڑا تو… سارا چور چور ہوجائے۔ ذرا پانی پڑجائے تو… سارا رنگ دھل جائے۔ ان کھلونوں کو لے کر وہ کیا کرے گا؟ کس مصرف کے ہیں؟
محسن کہتا ہے: ’’میرا بھشتی روز پانی دے جائے گا صبح و شام۔‘‘
محمود: ’’اور میرا سپاہی گھر کا پہرہ دے گا۔ کوئی چور آئے تو فوراً بندوق سے فائر کردے گا۔‘‘
نوری: ’’اور میرا وکیل روز مقدمے لڑے گا اور روز روپے لائے گا۔‘‘
حامد کھلونوں کی مذمت کرتا ہے۔ مٹی ہی کے تو ہیں، گریں تو چکناچور ہوجائیں۔ لیکن ہر چیز کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ذرا دیر کے لیے انہیں ہاتھ میں لے سکتا۔
یہ بِسَاطِی (چادر پر چیزیں رکھ کر بیچنے والا) کی دکان ہے۔ طرح طرح کی ضروری چیزیں ایک چادر پر بچھی ہوئی ہیں۔ گیند اور سیٹیاں اور بِگَل (منہ سے بجانے کا ایک باجا) اور بھونرے اور ربر کے کھلونے اور ہزاروں چیزیں۔ محسن ایک سیٹی لیتا ہے۔ محمود گیند۔ نوری ربر کا بَط (بطخ) جو چوں چوں کرتا ہے اور سمیع ایک خَنجَرِی (چھوٹی ڈفلی)۔
حامد کھڑا ہر ایک چیز کو حسرت سے دیکھ رہا ہے۔ جب اس کے رفیق کوئی چیز خرید لیتے ہیں تو وہ بڑے اشتیاق سے ایک بار اسے ہاتھ میں لے کر دیکھنے کے لیے لپکتا ہے۔ لیکن بچے اتنے دوست نواز نہیں ہوتے۔ خاص کر جب ابھی دل چسپی تازہ ہے۔ بے چارہ یوں مایوس ہوکر رہ جاتا ہے۔
کھلونوں کے بعد مٹھائیوں کا نمبر آیا۔ کسی نے ریوڑیاں لی ہیں، کسی نے گلاب جامن، کسی نے سوہن حلوہ، مزے سے کھا رہے ہیں۔ حامد ان کی برادری سے خارج ہے۔ کم بخت کی جیب میں تین پیسے تو ہیں۔ کیوں نہیں کچھ لے کر کھاتا۔ حریص نگاہوں سے سب کی طرف دیکھتا ہے۔
محسن نے کہا: ’’حامد یہ ریوڑی لے جا، کتنی خوشبودار ہیں۔‘‘ یہ محض شرارت ہے۔ محسن اتنا فیاض طبع نہ تھا پھر بھی وہ اس کے پاس گیا، محسن نے دو میں سے دو تین ریوڑیاں نکالیں۔ حامد کی طرف بڑھائیں، حامد نے ہاتھ پھیلایا۔ محسن نے ہاتھ کھینچ لیا اور ریوڑیاں اپنے منہ میں رکھ لیں۔ محمود اور نوری اور سمیع خوب شور مچا مچا کر ہنسنے لگے۔ حامد کھسیانا ہوگیا۔
محسن نے کہا: ’’اچھا اب ضرور دیں گے۔ یہ لے جائو حامد اللہ کی قسم!‘‘
حامد نے کہا: ’’رکھیے رکھیے… کیا میرے پاس پیسے نہیں ہیں؟‘‘
سمیع: ’’تین ہی تو پیسے ہیں، کیا کیا لو گے؟‘‘
محمود: ’’تم اس سے مت بولو حامد۔ میرے پاس آئو۔ یہ گلاب جامن لے لو۔‘‘
حامد: ’’مٹھائی کون سی بڑی نعمت ہے۔ کتاب میں اس کی برائیاں لکھی ہیں۔‘‘
محسن: ’’لیکن جی میں کہہ رہے ہوں گے کہ کچھ مل جائے تو کھالیں، اپنے پیسے کیوں نہیں نکالتے؟‘‘
محمود: ’’میں اس کی ہوشیاری سمجھتا ہوں۔ جب ہمارے سارے پیسے خرچ ہوجائیں گے تب یہ مٹھائی لے گا اور ہمیں چِڑَھا چِڑَھا کر کھائے گا۔‘‘
حلوائیوں کی دکانوں کے آگے کچھ دکانیں لوہے کی چیزوں کی تھیں۔ کچھ گِلٹ (ظاہری خوبصورتی) اور ملمع کے زیورات کی۔ بچوں کے لیے یہاں دل چسپی کا کوئی سامان نہ تھا۔ حامد لوہے کی دکان پر اک لمحہ کے لیے رک گیا۔ دست پناہ رکھے ہوئے تھے۔ وہ دَست پَنَاہ (چمٹا) خریدے گا۔ اماں کے پاس دست پناہ نہیں ہے۔ توے سے روٹیاں اتارتی ہیں تو ہاتھ جل جاتا ہے۔ اگر وہ دست پناہ لے جاکر ماں کو دے دے تو وہ کتنی خوش ہوں گی۔ پھر ان کی انگلیاں کبھی نہ جلیں گی۔ گھر میں ایک کام کی چیز ہوجائے گی۔ کھلونوں سے کیا فائدہ۔ مفت کے پیسے خراب ہوتے ہیں۔ ذرا دیر ہی تو خوشی ہوتی ہے۔ پھر تو انہیں کوئی آنکھ اٹھاکر بھی نہیں دیکھتا، یا تو گھر پہنچتے پہنچتے ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہوجائیں گے یا چھوٹے بچے جو عیدگاہ نہیں جاسکے ہیں ضد کرکے لے لیںگے اور توڑ ڈالیں گے۔ دست پناہ کتنے فائدے کی چیز ہے…! روٹیاں توے سے اتارلو… چولہے میں سینک لو… کوئی آگ مانگنے آئے چولہے سے آگ نکال کر دے دو… اماں کو کہاں فرصت ہے کہ بازار آئیں، اور پھر اتنے پیسے کہاں ملتے ہیں۔ روز ہاتھ جلا لیتی ہیں۔
اس کے ساتھی آگے بڑھ گئے ہیں۔ سبیل پر سب کے سب پانی پی رہے ہیں۔ کتنے لالچی ہیں۔ سب نے اتنی مٹھائیاں لیں۔ کسی نے مجھے ایک بھی نہ دی۔ اس پر کہتے ہیں میرے ساتھ کھیلو۔ میری تختی دھولائو۔ اب اگر میاں محسن نے کوئی کام کرنے کو کہا تو خوب خبر لوں گا۔ کھائیں مٹھائیاں۔ آپ منہ سڑے گا۔ پھوڑے پھنسیاں نکلیں گی۔ آپ ہی چَٹَورِی زَبَان (لذیذ چیزیں کھانے کی عادت) ہوجائے گی۔ تب پیسے چرائیں گے اور مار کھائیں گے۔ میری زبان کیوں خراب ہوگی۔
اس نے پھر سوچا: ’’اماں دست پناہ دیکھتے ہی دوڑ کر میرے ہاتھ سے لے لیں گی اور کہیں گی: میرا بیٹا اپنی ماں کے لیے دست پناہ لایا ہے۔ ہزاروں دعائیں دیں گی۔ پھر اسے پڑوسنوں کو دکھائیں گی۔ سارے گائوں میں واہ واہ مچ جائے گی۔ ان لوگوں کے کھلونوں پر کون انہیں دعائیں دے گا۔ بزرگوں کی دعائیں سیدھی خدا کی دَرگَاہ (دربار) میں پہنچتی ہیں اور فوراً قبول ہوتی ہیں۔ میرے پاس بہت سے پیسے نہیں ہیں جب ہی تو محسن اور محمود یوں مزاج دکھاتے ہیں۔ میں بھی ان کو مزاج دکھائوں گا۔ وہ کھلونے کھیلیں اور مٹھائیاں کھائیں۔ میں غریب سہی، کسی سے کچھ مانگنے تو نہیں جاتا۔ آخر ابا جان کبھی نہ کبھی تو آئیں گے ہی… پھر ان لوگوں سے پوچھوں گا کتنے کھلونے لوگے؟ ایک ایک کو ایک ٹوکری دوں گا اور دکھائوں گا کہ دوستوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔ جتنے غریب لڑکے ہیں سب کو اچھے اچھے کرتے دلوا دوں گا اور کتابیں دے دوں گا۔ یہ نہیں کہ ایک پیسہ کی ریوڑیاں لیں تو چِڑَھا چِڑَھا کر کھانے لگے۔ دست پناہ دیکھ کر سب کے سب خوب ہنسیں گے۔ احمق تو ہیں ہی سب۔ اس نے دکان دار سے ڈرتے ڈرتے پوچھا: ’’یہ دست پناہ بیچو گے؟‘‘
دکان دار نے اس کی طرف دیکھا اور ساتھ کوئی آدمی نہ دیکھ کر کہا: ’’وہ تمہارے کام کا نہیں ہے؟‘‘
’’بکائو ہے یا نہیں؟‘‘
’’بکائو ہے جی! اور یہاں کیوں لادکر لائے ہیں۔‘‘
’’تو بتلا تے کیوں نہیں، کتنے پیسے کا دو گے۔‘‘
’’چھے پیسے لگیں گے!‘‘
حامد کا دل بیٹھ گیا۔ کلیجہ مضبوط کرکے بولا: ’’تین پیسے لوگے؟‘‘
اور آگے بڑھا کہ دُکان دار کی گُھرکِیَاں (ڈانٹ ڈپٹ) نہ سنے، مگر دکان دار نے گھرکیاں نہ دیں۔ دست پناہ اس کی طرف بڑھادیا اور پیسے لے لیے۔
حامد نے دست پناہ کندھے پر رکھ لیا، گویا بندوق ہے اور شان سے اکڑتا ہوا اپنے رفیقوں کے پاس آیا۔
محسن نے ہنستے ہوئے کہا: ’’یہ دست پناہ لایا ہے۔ احمق! اس کا کیا کرے گا؟‘‘
حامد نے دست پناہ کو زمین پر ٹیک کر کہا: ’’ذرا اپنا بھشتی زمین پر گرادو۔ ساری پسلیاں چور چور ہوجائیں گی بچے کی۔‘‘
محمود: ’’تو یہ دست پناہ کوئی کھلونا ہے؟‘‘
حامد: ’’کھلونا کیوں نہیں ہے۔ ابھی کندھے پر رکھا بندوق ہوگیا۔ ہاتھ میں لے لیا تو فقیر کا چمٹا ہوگیا۔ چاہوں تو اس سے تمہاری ناک پکڑ لوں۔ ایک چمٹا جمادوں تو تم لوگوں کے سارے کھلونوں کی جان نکل جائے… تمہارے کھلونے کتنا ہی زور لگائیں اس کا بال بیکا نہیں کرسکتے۔ میرا بہادر شیر ہے یہ دست پناہ!‘‘
سمیع متاثر ہوکر بولا: ’’میری خنجری سے بدلو گے؟ دو آنے کی ہے۔‘‘
حامد نے خنجری کی طرف حقارت سے دیکھ کر کہا: ’’میرا دست پناہ چاہے تو تمہاری خنجری کا پیٹ پھاڑ ڈالے۔ بس ایک چمڑی کی جھلی لگا دی۔ ڈھب ڈھب بولنے لگی۔ ذرا سا پانی لگے تو ختم ہوجائے۔ میرا بہادر دست پناہ آگ میں، پانی میں، آندھی میں، طوفان میں برابر ڈٹا کھڑا رہے گا۔‘‘
میلہ بہت دور پیچھے چھوٹ چکا تھا۔ دس بج رہے تھے۔ گھر پہنچنے کی جلدی تھی۔ اب دست پناہ نہیں مل سکتا۔ اب کسی کے پاس پیسے بھی تو نہیں رہے۔ حامد ہے بڑا ہوشیار!
اب دو فریق ہوگئے۔ محمود اور محسن اور نوری ایک طرف۔ حامد یکہ و تنہا (اکیلا) دوسری طرف۔ سمیع غیر جانب دار رہے گا۔ جس کی فتح دیکھے گا اس کی طرف جا ملے گا۔ مناظرہ شروع ہوگیا۔ آج حامد کی زبان بڑی صفائی سے چل رہی تھی۔ اتحادِ ثَلَاثَہ (تین) اس کے جارحانہ عمل سے پریشان ہورہا ہے۔ ثلاثہ کے پاس تعداد کی طاقت ہے۔ حامد کے پاس حق اور اخلاق کی۔ ایک طرف مٹی، ربر، لکڑی کی چیزیں ہیں۔ دوسری جانب اکیلا لوہا، جو اس وقت اپنے کو فولاد کہہ رہا ہے۔ وہ رُوئَیں تَن (جس کے جسم پر ہتھیار کا اثر نہ ہو) ہے۔ صف شکن ہے۔ اگر کہیں شیر کی آواز کان میں آجائے تو میاں بھشتی کے اوسان خطا ہوجائیں۔ میاں سپاہی مٹی کی بندوق چھوڑ کر بھاگیں… وکیل صاحب کا سارا قانون پیٹ میں سما جائے۔ چغے میں منہ چھپا کر زمین پر لیٹ جائیں… مگر بہادر، یہ رستم ہند لپک کر شیر کی گردن پر سوار ہوجائے گا اور اس کی آنکھیں نکال لے گا۔
محسن نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر کہا: ’’اچھا تمہارا دست پناہ پانی تو نہیں بھر سکتا؟‘‘
حامد نے دست پناہ کو سیدھا کرکے کہا: ’’یہ بھشتی کو ایک ڈانٹ بتائے گا تو وہ دوڑا ہوا پانی لاکر اس کے دروازے پر چھڑکنے لگے گا۔ جناب پھر اس سے چاہے گھڑے، مٹکے، کُونڈَے (آٹا گوندھنے کا برتن) بھر والو۔‘‘ محسن کا ناطقہ بند (بولنے کی ہمت نہ رہی) ہوگیا۔ نوری نے کمک پہنچائی:
’’بَچَّا (حقارت کے طور پر بولتے ہیں) گرفتار ہوجائیں تو عدالت میں بندھے بندھے پھریں گے۔ تب تو ہمارے وکیل صاحب ہی پیروی کریں گے۔ بولیے جناب!‘‘
حامد کے پاس اس وار کا دفعیہ اتنا آسان نہ تھا۔ دفعتاً اس نے ذرا مہلت پاجانے کے ارادے سے پوچھا:
’’اسے پکڑنے کو کون آئے گا؟‘‘
محمود نے کہا: ’’یہ سپاہی بندوق والا!‘‘
حامد نے منہ چڑھا کر کہا: ’’یہ بے چارے اس رستم ہند کو پکڑیں گے؟ اچھا لائو ابھی ذرا مقابلہ ہوجائے۔ اس کی صورت دیکھتے ہی بچے کی ماں مر جائے گی۔ پکڑیں گے کیا بے چارے۔‘‘
محسن نے تازہ دم ہوکر وار کیا: ’’تمہارے دست پناہ کا منہ روز آگ میں جلے گا۔‘‘
حامد کے پاس جواب تیار تھا: ’’آگ میں بہادر کودتے ہیں جناب! تمہارے یہ وکیل اور سپاہی، بھشتی ڈرپوک ہیں۔ سب گھر میں گھس جائیں گے۔ آگ میں کودنا وہ کام ہے جو رستم ہی کرسکتا ہے۔‘‘
نوری نے انتہائی جَودَت (ذہانت) سے کام لیا: ’’تمہارا دست پناہ باورچی خانہ میں زمین پر پڑا رہے گا۔ میرا وکیل شان سے میز کرسی لگا کر بیٹھے گا۔‘‘
اس حملے نے مُردوں میں بھی جان ڈال دی۔ سمیع بھی جیت گیا۔ بے شک معرکے کی بات کہی، دست پناہ تو باورچی خانے میں پڑا رہے گا۔ حامد نے دھاندلی کی: ’’میرا دست پناہ باورچی خانے میں نہیں رہے گا۔ وکیل صاحب کی کرسی پر بیٹھے گا تو جاکر انہیں زمین پر پٹخ دے گا اور سارا قانون ان کے پیٹ میں ڈال دے گا۔‘‘
اس جواب میں بالکل جان نہ تھی۔ بالکل بے تکی سی بات تھی، لیکن قانون پیٹ میں ڈالنے والی بات چھا گئی۔ ایسی چھا گئی کہ تینوں سْورمَا (دلیر) منہ تکتے رہ گئے۔ حامد نے میدان جیت لیا۔ گو ثلاثہ کے پاس ابھی گیند اور سیٹی اور بطخ ریزرو (Reserve) میں تھے مگر ان مشین گنوں کے سامنے ان پٹاخوں کو کون پوچھتا۔ دست پناہ رستم ہند ہے، اس میں کسی کو چوں چرا کی گنجائش نہیں۔
فاتح کو مفتوحوں سے وقار اور خوشامد کا خَرَاج (ٹیکس) ملتا ہے۔ وہ حامد کو ملنے لگا، اوروں نے تین تین آنے خرچ کیے اور کوئی کام کی چیز نہ لے سکے۔ حامد نے تین ہی پیسوں میں رنگ جما لیا۔ کھلونوں کا کیا اعتبار، دو ایک دن میں ٹوٹ جائیں گے۔ حامد کا دست پناہ تو فاتح رہے گا ہمیشہ۔
صلح کی شرطیں طے ہونے لگیں۔ محسن نے کہا: ’’ذرا اپنا چمٹا دو، ہم بھی دیکھیں۔ تم چاہو تو ہمارا وکیل دیکھو۔‘‘
حامد کو اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ وہ فَیّاض طَبع (مزاجاً سخی ہونا) فاتح ہے۔ دست پناہ باری باری سے محسن، محمود، نوری اور سمیع سب کے ہاتھوں میں گیا اور ان کے کھلونے باری باری سے حامد کے ہاتھ میں آئے۔
کتنے خوبصورت کھلونے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے بولا ہی چاہتے ہیں، مگر ان کھلونوں کے لیے انہیں دعا کون دے گا؟ کون کون ان کھلونوں کو دیکھ کر خوش ہوگا جتنا اماں جان دست پناہ کو دیکھ کر ہوں گی۔ اسے اپنے طرزعمل پر مُطلَق (بالکل) پچھتاوا نہیں ہے۔ پھر اب تو دست پناہ رستم ہے اور سب کھلونوں کا بادشاہ۔
   راستے میں محمود نے ایک پیسے کی ککڑیاں لیں۔ اس میں حامد کو بھی خراج ملا، حالاں کہ وہ انکار کرتا رہا۔ محسن اور سمیع نے ایک ایک پیسے کے فالسے لیے ، حامد کو بھی خراج ملا۔ یہ رستم ہند کی برکت تھی۔ گیارہ بجتے بجتے سارے گائوں میں چہل پہل ہوگئی۔ میلے والے آگئے۔
محسن کی چھوٹی بہن نے دوڑ کر بھشتی اس کے ہاتھ سے چھین لیا اور مارے خوشی کے جو اچھلی تو میاں بھشتی نیچے آرہے اور عَالَمِ جَاوِدَانِی (آخرت) کو سدھارے۔ اس پر بھائی بہن میں مار پیٹ ہوئی۔ دونوں خوب روئے۔ ان کی اماں جان یہ کہرام سن کر اور بگڑیں۔ دونوں کو اوپر سے دو دو چانٹے اور رسید کیے۔
میاں نوری کے وکیل کا حشر اس سے بھی بدتر ہوا۔ وکیل زمین پر یا طاق پر تو نہیں بیٹھ سکتا۔ اس کی پوزیشن کا لحاظ تو کرنا ہی ہوگا۔ دیوار میں دو کھونٹیاں گاڑی گئیں۔ ان پر ایک چیڑ کا پرانا پٹرا رکھا گیا۔ پٹرے پر سرخ رنگ کا ایک چیتھڑا بچھا دیا گیا جو بمنزلہ قالین تھا۔
وکیل صاحب عالم بالا پر جلوہ افروز ہوئے۔ یہیں سے قانونی بحث کریں گے۔ نوری ایک پنکھا لے کر جھلنے لگا۔ معلوم نہیں پنکھے کی ہوا سے یا پنکھے کی چوٹ سے وکیل صاحب عالم بالا سے دنیائے فانی میں آرہے اور ان کے جسد خاکی کے پرزے ہوگئے۔ پھر بڑے زور و شور کا ماتم ہوا اور وکیل صاحب کی میت پارسی دستور کے مطابق گھور پر پھینک دی گئی تاکہ بے کار نہ جاکر زَاغ و زَغَن (کوّا اور چیل) کے کام آجائے۔
اب رہے میاں محمود کے سپاہی۔ محترم اور ذی رعب ہستی ہے۔ اپنے پیروں پر چلنے کی ذلت اسے گوارہ نہیں۔ محمود نے اپنا بکری کا بچہ پکڑا اور اس پر سپاہی کو سوار کیا۔ محمود کی بہن ایک ہاتھ سے سپاہی کو پکڑے ہوئے تھی اور محمود بکری کے بچہ کا کان پکڑ کر اسے دروازے پر چلا رہا تھا اور اس کے دونوں بھائی سپاہی کی طرف سے ’’چھونے والے واگتے لہو‘‘ پکارتے چلتے تھے۔ معلوم نہیں کیا ہوا میاں سپاہی اپنے گھوڑے کی پیٹھ سے گر پڑے اور اپنی بندوق لیے زمین پر آرہے۔ ایک ٹانگ مَضرُوب (ٹوٹ) ہوگئی۔ مگر کوئی مضائقہ نہیں۔ محمود ہوشیار ڈاکٹر ہے۔ ڈاکٹر نگم اور بھاٹیا اس کی شاگردی کرسکتے ہیں اور یہ ٹوٹی ہوئی ٹانگ کو آناً فاناً جوڑ دے گا۔ صرف گُولَر (پیپل کے درخت کا پھل) کا دودھ چاہیے۔ گولر کا دودھ آتا ہے۔ ٹانگ جوڑی جاتی ہے۔ سپاہی جوں ہی کھڑا ہوتا ہے ٹانگ پھر الگ ہوجاتی ہے۔ عمل جراحی ناکام ہوجاتا ہے۔ تب محمود اس کی دوسری ٹانگ بھی توڑ دیتا ہے۔ اب وہ آرام سے ایک جگہ بیٹھ سکتا تھا۔ اب وہ گوشہ میں بیٹھ کر بانس سے بنے چھپر کی آڑ میں شکار کھیلے گا۔
اب میاں حامد کا قصہ سنیے۔ امینہ اس کی آواز سنتے ہی دوڑی اور اسے گود میں اٹھاکر پیار کرنے لگی۔ دفعتاً اس کے ہاتھ میں چمٹا دیکھ کر وہ چونک پڑی۔
’’یہ دست پناہ کہاں تھا بیٹا؟‘‘
’’میں نے مول لیا ہے تین پیسے میں۔‘‘
امینہ نے چھاتی پیٹ لی۔ ’’یہ کیسا بے سمجھ لڑکا ہے کہ دوپہر ہوگئی۔ نہ کچھ کھایا نہ پیا، لایا کیا… یہ دست پناہ… سارے میلے میں تجھے کوئی اور چیز ہی نہ ملی۔‘‘
حامد نے خطا ورانہ انداز سے کہا: ’’تمہاری انگلیاں توے سے جل جاتی تھیں کہ نہیں؟‘‘
امینہ کا غصہ فوراً شفقت میں تبدیل ہوگیا اور شفقت بھی وہ جو پُر بیان ہوتی ہے اور اپنی ساری تاثیر لفظوں میں منتشر کردیتی ہے۔ یہ بے زبان شفقت تھی۔ درد اور التجا میں ڈوبی ہوئی۔
اْف! کتنی نَفس کُشِی (نفسانی خواہش کُچلنا) ہے! کتنی جَاں سَوزی (جان جلانا) ہے! غریب نے اپنے طِفلَانَہ اِشتِیَاق (بچکانہ شوق) کو روکنے کے لیے کتنا ضبط کیا ہوگا! جب دوسرے بچے کھلونے لے رہے ہوں گے، مٹھائیاں کھا رہے ہوں گے… اس کا دل کتنا لہراتا ہوگا۔ اتنا ضبط اس سے ہوا کیوں کر! اپنی بوڑھی اماں کی یاد اسے وہاں بھی… میرا لال میری کتنی فکر کرتا ہے، اس کے دل میں ایک ایسا عُلوِی جذبہ (بلند حوصلہ) پیدا ہوا کہ اس کے ہاتھ میں دنیا کی بادشاہت آجائے اور وہ اسے حامد کے اوپر نثار کردے، اور تب ایک بڑی دل چسپ بات ہوئی۔ بڑھیا امینہ ننھی سی امینہ بن گئی، وہ رونے لگی۔ دامن پھیلا کر حامد کو دعائیں دیتی جاتی تھی اور آنکھوں سے آنسو کی بڑی بڑی بوندیں گراتی جاتی تھی۔ حامد اس کا راز کیا سمجھتا، اور نہ شاید ہمارے بعض قارئین ہی سمجھ سکیں گے۔

Sunday, June 22, 2014

حضرت ابو ذر رضی اللہ کی ضمانت اور حضرت عمر رضی اللہ کا انصاف، ایک قصہ بلاحوالہ

یہ قصہ بعض کتابوں میں ، اور انٹرنیٹ پر عربی و اردو میں عام ہے، کہیں قصہ کے بعض حصوں میں کچھ تبدیلی، رنگ آمیزی اور افسانویت پیدا کی گئی  ہے 

البتہ یہ قصہ کسی معبتر کتاب میں موجود نہیں۔ اور انٹرنیٹ پر بہت سارے علما نے اس کو موضوع اور من گھڑت بتایا ہے۔ 
قصہ درج ذیل ہے : 
دو نوجوان سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسکی طرف انگلی کا اشارہ کر کے کہتے ہیں یا عمر یہ ہے وہ شخص!

سیدنا عمر ان سے پوچھتے ہیں ، کیا کیا ہے اس شخص نے؟

یا امیر المؤمنین، اس نے ہمارے باپ کو قتل کیا ہے۔

کیا کہہ رہے ہو، اس نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے؟

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں، کیا تو نے ان کے باپ کو قتل کیا ہے؟

وہ شخص کہتا ہے : ہاں امیر المؤمنین، مجھ سے قتل ہو گیا ہے انکا باپ۔

کس طرح قتل کیا ہے؟

یا عمر، انکا باپ اپنے اونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہو گیا تھا، میں نے منع کیا، باز نہیں آیا تو میں نے ایک پتھر دے مارا۔ جو سیدھا اس کے سر میں لگا اور وہ موقع پر مر گیا۔

پھر تو قصاص دینا پڑے گا، موت ہے اسکی سزا۔

نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت،اور فیصلہ بھی ایسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہیں ۔

نہ ہی اس شخص سے اسکے کنبے کے بارے میں کوئی سوال کیا گیا ہے، نہ ہی یہ پوچھا گیا ہے کہ تعلق کس قدر شریف خاندان سے ہے، نہ ہی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کی تعلق کسی معزز قبیلے سے تو نہیں، معاشرے میں کیا رتبہ یا مقام ہے؟

ان سب باتوں سے بھلا سیدنا عمر کو مطلب ہی کیا ہے!!

 کیوں کہ معاملہ اللہ کے دین کا ہو تو عمر رضی اللہ عنہ پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمر رضی اللہ عنہ کو روک سکتا ہے۔ حتی کہ سامنے عمر کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ قاتل کی حیثیت سے آ کھڑا ہو، قصاص تو اس سے بھی لیا جائے گا۔

 وہ شخص کہتا ہے ا ے امیر المؤمنین: اس کے نام پر جس کے حکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں مجھے صحراء میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس جانے دیجیے تاکہ میں ان کو بتا آؤں کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے، میں اسکے بعد واپس آ جاؤں گا۔

 سیدنا عمر کہتے ہیں: کون تیری ضمانت دے گا کہ تو صحراء میں جا کر واپس بھی آ جائے گا؟

 مجمع پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو اسکا نام تک بھی جانتا ہو۔ 

اسکے قبیلے، خیمےیا گھر وغیرہ کے بارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے۔

کون ضمانت دے اسکی؟

کیا یہ دس درہم کے ادھار یا زمین کے ٹکڑے یا کسی اونٹ کے سودے کی ضمانت کا معاملہ ہے؟

 ادھر تو ایک گردن کی ضمانت دینے کی بات ہے جسے تلوار سے اڑا دیا جانا ہے۔

اور کوئی ایسا بھی تو نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمر سے اعتراض کرے، یا پھر اس شخص کی سفارش کیلئے ہی کھڑا ہو جائے۔ اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے۔

محفل میں موجود صحابہ پر ایک خاموشی سی چھا گئی ہے، اس صورتحال سے خود عمر رضی اللہ عنہ بھی متأثر ہیں۔ کیوں کہ اس شخص کی حالت نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔

کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کیلئے چھوڑ دیئے جائیں؟

یا پھر اسکو بغیر ضمانتی کے واپس جانے دیا جائے؟

اور اگروہ  واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا!

خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں ہیں اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں،

 معاف کر دو اس شخص کو۔

نہیں امیر المؤمنین، جو ہمارے باپ کو قتل کرے اسکو چھوڑ دیں، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، نوجوان اپنا آخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتے ہیں۔

عمر رضی اللہ عنہ ایک بار پھر مجمع کی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہیں ، اے لوگو ، ہے کوئی تم میں سے جو اس کی ضمانت دے؟

ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہیں میں ضمانت دیتا ہوں اس شخص کی!

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ابوذر ، اس نے قتل کیا ہے۔

چاہے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو، ابوذر رضی اللہ عنہ اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہیں۔

عمر: جانتے ہو اسے؟

ابوذر: نہیں جانتا اسے۔ عمر: تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو؟

ابوذر: میں نے اس کے چہرے پر مومنوں کی صفات دیکھی ہیں، اور مجھے ایسا لگتا ہے یہ جھوٹ نہیں بول رہا، انشاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا۔

عمر: ابوذر دیکھ لو اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تیری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا۔

امیر المؤمنین، پھر اللہ مالک ہے۔ ابوذر اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے، کچھ ضروری تیاریوں کیلئے، بیوی بچوں کو الوداع کہنے، اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے، اور اس کے قصاص کی ادئیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سے لوٹ کر واپس آنے کیلئے۔

اور پھر تین راتوں کے بعد،

عمررضی اللہ عنہ بھلا کیسے اس امر کو بھلا پاتے،

انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا،

 عصر کے وقت شہر میں (الصلاۃ جامعہ) کی منادی پھر جاتی ہے، نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے۔

ابو ذر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لاتے ہیں اور آ کر عمر کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔

کدھر ہے وہ آدمی؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں۔

مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین، ابوذر رضی اللہ عنہ مختصر جواب دیتے ہیں۔

ابوذر: آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں معمول سے سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

محفل میں ہو کا عالم ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے؟

یہ سچ ہے کہ ابوذر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں بستے ہیں، عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے جسم کا ٹکڑا مانگیں تو عمررضی اللہ عنہ دیر نہ کریں کاٹ کر ابوذر رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیں، لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے، اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے، کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا، نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے، حالات و واقعات کے مطابق نہیں اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔

مغرب سے چند لمحات پہلےوہ شخص آ جاتا ہے، بے ساختہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے، ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے۔

عمر رضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں اے شخص، اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتا تو ہم نے تیرا کیا کر لینا تھا، نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا!

امیر المؤمنین، اللہ کی قسم، بات آپکی نہیں ہے بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے، دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں، اپنے بچوں کو پرندوں کے چوزوں کی طرح صحراء میں تنہا چھوڑ کر، جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں۔ مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کر کے پوچھا ابوذر، تو نے کس بنا پر اسکی ضمانت دے دی تھی؟

ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا،

اے عمر، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے۔

سید عمر رضی اللہ عنہ نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دو نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا کہتے ہو اب؟ نوجوانوں نے روتے ہوئے جواب دیا، اے امیر المؤمنین، ہم اس کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں،

ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے۔

 سیدنا عمر اللہ رضی اللہ عنہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو انکی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گر رہے تھے۔۔۔۔

اے نوجوانو! تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔

اے ابو ذراللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے۔

اور اے شخص، اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خیر دے۔

اور اے امیر المؤمنین، اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے۔

 

Thursday, June 12, 2014

اندھیری نگری اور چوپٹ راج، لوٹ کھسوٹ میں مبتلا موجودہ دنیا کی صحیح منظر کشی

اندھیری نگری اور چوپٹ راج
پرانے وقتوں میں ایک آدمی کو کاروبار میں نقصان ہوا۔ اُس نے سن رکھا تھا کہ ہجرت یا سفر وسیلۂ ظفر ہوتا ہے، لہٰذا اُس نے ہجرت کی اور اپنے ملک کو چھوڑ کر کسی دوسرے ملک چلا گیا۔ اس کے پاس نقدی میں صرف بچی ہوئی ایک اشرفی تھی، جس کے ساتھ وہ پردیس میں کاروبار کرنا چاہتا تھا۔ جب وہ نئی مملکت میں پہنچا اسے وہاں کے کاروباری حالات اچھے نظر آئے۔ زندہ رہنے کے لیے اسے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا۔ رات تو اس نے کسی نہ کسی طرح بسر کی۔ صبح صبح وہ اٹھا، نہایا دھویا، نماز ادا کی اور سیدھا اللہ اللہ کرتا ہوا فروٹ مارکیٹ پہنچا۔ وہاں اس نے ایک دلال کے ذریعے ایک چاندی کی اشرفی کے عوض بارہ عدد حلوہ کدو یا پیٹھے خرید لیے۔
دلال نے اس سے وعدہ لیا کہ وہ سودا فروخت ہوجانے کی صورت میں برائے نام کچھ منافع شام کو اسے بھی دے گا۔ اجنبی شخص جو اس ملک میں پہلی بار آیا تھا، نہ تو اس کے پاس کوئی دکان تھی نہ ہی سودا سلف فروخت کرنے کے لیے کوئی اڈہ۔ بازار میں لوگوں کا خریدوفروخت کے لیے آنا جانا شروع ہوگیا۔ اس نے جلدی جلدی حلوے پیٹھے بارہ عدد وہاں سے اٹھائے اور قریب ہی ایک درخت کے نیچے جاکر رکھ دیے اور ساتھ خود بھی بیٹھ گیا۔ گویا یہ ایک طرح سے اس کی دکان تھی۔
تھوڑا ہی وقت گزرا، ایک سفید پوش باریش آدمی آیا۔ سلام دعا کی، خوشی خوشی ایک پیٹھا یعنی حلوہ کدو ڈھیر سے اٹھایا، اپنی بغل میں دباکر چلتا بنا۔ اجنبی شخص نے سمجھا کہ شاید بعد میں پیسے  بھجوا دے گا‘ لیکن ایسا نہ ہوا۔ اس کے تھوڑی دیر بعد ایک اور شخص گھوڑے پر سوار آیا، گھوڑے سے نیچے اترا، بغیر کچھ کہے اور بغیر رقم ادا کیے ایک پیٹھا اٹھایا اور چل دیا۔ اس طرح تقریباً ایک گھنٹے کے اندر اندر بارہ آدمی آئے اور بغیر رقم ادا کیے باری باری بارہ پیٹھے اٹھاکر چلے گئے۔
اب اجنبی حیران ہو کر رہ گیا اور سوچنے لگا: یااللہ یہ کیسا ملک ہے! اسی اثناء میں دلال بھی فارغ ہوکر اس کے پاس پہنچا۔ اجنبی سے پوچھا: شریف آدمی سنائو مال سارا بک گیا اور کتنا منافع ہوا؟
اجنبی شخص سخت غصے کی حالت میں تھا، کہا: منافع دو اشرفیوں کا ہوا ہے۔ دلال بہت حیران ہوا۔ ’’اتنا زیادہ منافع! تو لائو پھر میرا حصہ یا منافع‘‘۔
دلال کو دینے کے لیے اجنبی کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ دلال کو جلد ہی یہ بھی پتا چل گیا کہ لوگ اس کا مال مفت میں اٹھا کر لے گئے ہیں اور اجنبی شخص سخت پریشانی اور غصے کے عالم میں ہے۔
دلال بھی تو اسی قوم کا فرد تھا۔ وہ بھی اجنبی کی دکان سے خالی ہاتھ جانا نہیں چاہتا تھا۔ اسے وہاں کوئی چیز نظر نہ آئی۔ دلال نے اجنبی کے سر سے پگڑی اتاری اور اپنے ہاتھ میں پکڑ کر چل دیا۔ دلال دل ہی دل میں کہنے لگا: چلو کچھ تو مجھے بھی ملا۔
اب اجنبی کے ذہن میں یہ بات آگئی کہ اس ملک میں قانون نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ ہر شخص اپنی من مانی کررہا ہے۔ لہٰذا وہ اگر اس ملک میں رہے گا تو پھر اس کو بھی ایسا ہی کرنا ہوگا۔ دن تو اجنبی نے اسی سوچ و فکر میں گزارا۔ دوسرے دن جنگل میں گیا۔ ایک مضبوط سی چھڑی یا پھر اسے دوسری زبان میں ’’سوٹا‘‘ کہہ لیں‘ لے آیا اور شہر سے کچھ دوری پر قبرستان میں ایک جھونپڑی بنا کر رہنے لگا۔ تقریباً ایک ہفتہ گزرا ہوگا کہ شہر کے لوگ مردے کو دفنانے قبرستان آگئے۔ اجنبی نے سوٹا ہاتھ میں پکڑا اور قبرستان کے صدر دروازے پر کھڑا ہوگیا۔ لوگ جب قبرستان میں داخل ہونے لگے تو اجنبی شخص نے کہا: رک جائو… لوگ جنازہ اٹھائے ہوئے تھے فوراً رک گئے اور اجنبی سے پوچھنے لگے کہ کیا بات ہے؟
اجنبی شخص نے جواباً کہا کہ پہلے مردہ دفنانے کی فیس مبلغ ایک اشرفی ادا کرو ورنہ مردہ دفنانے کی اجازت نہیں، سمجھے!
لوگوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ یہ کس کا حکم ہے؟ پہلے تو اس قسم کی کوئی فیس نہ تھی۔
اجنبی نے کہا: ہاں اب فیس ادا کرنا ہوگی۔ میں رانی جان کا سالا ہوں۔ لوگ حیران ہوئے، ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگے: راجائوں کے سالے بھی تو سینکڑوں کے حساب سے ہوتے ہیں، یقینا یہ بھی ان میں سے ایک ہوگا۔ لہٰذا اس کو دے دو۔ اب اجنبی کو روز ایک دو اشرفیاں بغیر محنت مشقت کیے مل جاتیں۔
اسی طرح دو ڈھائی سال میں اجنبی کے پاس ایک معقول رقم جمع ہوگئی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اجنبی نے روزمرہ کا یہ بھی معمول بنا رکھا تھا کہ وہ ہر شام غروب آفتاب کے وقت قبرستان سے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹی سی مسجد تھی وہاں جاکر چراغ میں تیل ڈال کر روشن کر آتا۔ مسجد کے امام صاحب اس کے اس عمل پر بہت خوش ہوتے‘ لیکن ساتھ ساتھ اسے یہ بھی تلقین کرتے کہ جو اس نے ذریعہ معاش بنا رکھا ہے، مناسب نہیں۔ یعنی جبر کے ساتھ کسی کے ساتھ لین دین کرنا مناسب نہیں، مذہب اس چیز کی اجازت نہیں دیتا۔ اجنبی نے امام صاحب کو جواباً کہا کہ وہ مجبوری کی حالت میں اور انتقاماً ایسا کرتا ہے کیوںکہ یہاں کے لوگوں نے اس کے ساتھ اس قسم کا یعنی جبر اور سینہ زوری کا سلوک کیا ہے۔ لہٰذا وہ بھی ایسا کرتا ہے۔ امام صاحب کہتے کہ یہ غلط ہے، اگر لوگوں نے تمہارے ساتھ غلط سلوک روا رکھا ہے، تو کم از کم تم ایسا نہ کرو، اپنے اخلاق سے انہیں متاثر کرو۔ امام صاحب نے یہ بھی کہا کہ اگر کتا تمہیں کاٹ لے تو کیا جواب میں تم بھی اسے کاٹ لوگے؟ نہیں، تم ایسا نہیں کروگے۔ یہ مت دیکھو کہ کوئی کیا کررہا ہے، یہ دیکھو تم کیا کررہے ہو۔
’’لیکن امام صاحب! یہ راجے، مہاراجے، حکمران… یہ بھی تو رعایا پر جبر کرتے رہتے ہیں، انہیں کوئی نہیں پوچھتا‘‘۔ اجنبی نے پوچھا۔
’’اے اجنبی شخص! مت بھولو قیامت کے دن سب اللہ کے حضور جواب دہ ہوں گے۔ حلال کی روزی کمائو اور اللہ کو یاد رکھو۔‘‘ امام صاحب نے نصیحت آمیز لہجے میں کہا۔
اس دوران اتفاق سے ایک دن راجے کا عزیز رشتہ دار وفات پاگیا اور ریاست کے راجے کو بھی قبرستان جنازے کے ساتھ آنا پڑا۔ اب اجنبی کو یہ خبر نہ تھی کہ ریاست کا راجہ بھی آج جنازے میں شامل ہے۔ اجنبی نے حسب معمول جنازے کو روکا اور فیس ادا کرنے کو کہا۔ راجے کو جب خبر ہوئی تو وہ خاموش رہا اور پوچھا: تم کون ہو؟ اجنبی نے فوراً بڑی دیدہ دلیری سے جواب دیا کہ وہ رانی جان کا سالا ہے۔ اب راجا سوچنے لگا کہ کوئی ہوگا، کیونکہ راجائوں کی بیویاں بھی تو بہت ساری ہوتی ہیں اور سالے بھی تو سینکڑوں میں ہوں گے۔ لہٰذا راجے نے فیس ادا
کرنے کو کہا۔ دوسرے ہی دن راجے نے اجنبی کو اپنے محل میں بلایا۔ درباری اسے پکڑ کر راجے کے حضور لے جارہے تھے۔ امام صاحب کا ادھر سے گزر ہوا۔ دیکھا اجنبی مشکل میں ہے۔ امام صاحب کو دیکھ کر فوراً زارو قطار رونے لگا، ان کے پائوں پڑگیا۔ امام صاحب نے اجنبی کو حوصلہ دیا ’’جائو تمہیں کچھ نہیں ہوگا، تم نے اللہ کے گھر کو روشن رکھا، میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں، لیکن راجے کے سامنے جھوٹ مت بولنا، سچ سچ بات کرنا اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا، اللہ بخشنے والا اور غفورالرحیم ہے۔‘‘ اجنبی نے امام صاحب سے کہا ’’امام صاحب جا تو رہا ہوں، دیکھ لینا کہیں مروا نہ دینا، سنا ہے راجہ بہت ظالم ہے‘‘۔ اجنبی کو حکم کے مطابق راجے کے سامنے پیش کیا گیا۔
راجے نے اجنبی سے پوچھا ’’بتائو تم کس قسم کے سالے ہو اور تمہارا کیا حدود اربعہ ہے‘‘۔ اجنبی اب سمجھ گیا کہ معاملہ گڑبڑ ہے، اس نے معذرت کے ساتھ ہاتھ جوڑے اور عرض کیا ’’حضورِ والا جان کی سلامتی چاہتا ہوں۔ پہلے آپ میرے ایک سوال کا جواب دیں۔ حضور! آپ کا درجہ بلند ہو، کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ بارہ پیٹھے اور تیرہواں دلال بھی ہوا کرتا ہے۔
راجا نے کہاکہ وہ پوری طرح بات کو سمجھا نہیں، وضاحت کی جائے۔ اجنبی نے اپنی ساری کہانی راجے کو سنائی۔ حضور میں نے آپ کی ریاست میں ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔ میں نے ایک اشرفی کے عوض سبزی منڈی سے بارہ پیٹھے خریدے اور فروخت کرنے لگا، لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ میرا مال مفت میں لوٹا۔ مال لٹنے کے بعد تیرہواں آدمی دلال آیا۔ اسے کچھ نہ مل سکا۔ وہ میرے سر کی پگڑی زبردستی اتار کر لے گیا۔ میں نے اندازہ لگایا کہ اس ملک میں کوئی قانون ہے ہی نہیں۔ بس اندھیر نگری ہے۔ لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے یہاں رہنا ہے تو مجھے بھی ایسا ہی کرنا ہوگا۔
راجا بات کی حقیقت کو سمجھ گیا۔ اجنبی کی گفتگو سے بہت محظوظ ہوا اور اجنبی کو حکم دیا کہ وہ آج سے ایک کے بجائے لوگوں سے دو اشرفیاں وصول کیا کرے، ایک اشرفی خود رکھے اور دوسری اشرفی راجے کو ادا کرنے کا پابند ہوگا۔

امام شافعی رحمہ اللہ کا سفر نامہ

امام شافعی رحمة اللہ علیہ کا یہ سفر نامہ ان کے مشہور شاگرد ربیع بن سلیمان نے روایت کیا ہے
 اور یہاں ابن حجہ کی کتاب ثمرات الأوراق طبع مصر سے ترجمہ کیا گیا ہے۔

امام شافعی نے فرمایا:مکہ سے جب میں روانہ ہوا تو میری عمر چودہ برس کی تھی، منہ پر ابھی سبزہ نمودار نہیں ہوا تھا، دویمنی چادریں میرے جسم پر تھیں ۔ ذی طویٰ پہنچا توایک پڑاؤ دکھائی دیا، میں نے صاحب سلامت کی۔ ایک بڑے میاں ، میری طرف بڑھے اور لجاجت سے کہنے لگے: ''تمہیں خدا کا واسطہ،ہمارے کھانے میں ضرور شریک ہو۔''مجھے معلوم نہ تھا کہ کھانا نکل چکا ہے۔ بڑی بے تکلفی سے میں نے دعوت قبول کرلی۔ وہ لوگ پانچوں انگلیوں سے کھاتے تھے ۔میں نے بھی ان کی ریس کی ،تاکہ میرے کھانے سے اُنہیں گھن نہ آئے۔ کھانے کے بعد پانی پیا ، اور شکر ِخداوندی کے ساتھ اپنے بوڑھے میزبان کابھی شکریہ ادا کیا۔

اب بڑے میاں نے سوال کیا: تم مکی ہو؟ میں نے جواب دیا،جی ہاں ، مکی ہوں ۔کہنے لگا: قریشی ہو ؟ میں نے کہا:ہاں ، قریشی ہوں ۔ پھر خود میں نے پوچھا: چچا ! یہ آپ نے کیسے جانا کہ میں مکی اورقریشی ہوں ؟بوڑھے نے جواب دیا:''شہری ہونا تو تمہارے لباس سے ہی ظاہر ہے، اور قریشی ہونا تمہارے کھانے سے معلوم ہوگیا۔ جوشخص دوسروں کا کھانابے تکلفی سے کھالیتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ لوگ اس کا کھانا بھی دل کھول کے کھائیں ، تو یہ خصلت صرف قریش کی ہی ہے۔''

میں نے پوچھا:آپ کہاں کے رہنے والے ہیں ؟ بوڑھے نے جواب دیا:رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاشہر' یثرب' میرا وطن ہے۔ میں نے پوچھا: مدینے میں کتاب اللہ کا عالم اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ دینے والا مفتی کون ہے ؟ بوڑھے نے جواب دیا: بنی اَصبح کا سردار مالک بن انس (امام مالک )۔ میں نے کہا: آہ! اللہہی جانتا ہے، امام مالک سے ملنے کا مجھے کتنا شوق ہے ! بوڑھے نے جواب دیا: خو ش ہوجائو، اللہ نے تمہارا شوق پورا کردیا۔ اس بھورے اونٹ کو دیکھو، یہ ہمارا سب سے اچھا اونٹ ہے، اسی پر تم سوار ہوگے۔ ہم اب جا ہی رہے ہیں ، رستے بھر تمہاری ہر طرح کی خاطر کریں گے۔ کوئی تکلیف ہونے نہ دیں گے اور مدینے میں مالک بن انس کے پاس تمہیں پہنچا دیں گے۔''

جلد اونٹ قطار میں کھڑے کر دیے گئے مجھے اسی بھورے اونٹ پر بٹھایا گیا اور قافلہ چل پڑا۔ میں نے تلاوت شروع کردی، مکہ سے مدینے تک سولہ بار قرآن کریم ختم ہوگیا۔ ایک دن میں ختم کرلیتا اور دوسرا رات میں ۔

امام مالک سے ملاقات
آٹھویں دن نمازِ عصر کے بعد مدینے میں ہمارا داخلہ ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھی، پھر قبر شریف کے قریب حاضر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ یہیں امام مالک دکھائی دیے۔ ایک چادر کی تہ بند باندھے تھے، دوسر ی چادر اوڑھے تھے اور بلند آواز سے حدیث روایت کر رہے تھے: ''مجھ سے نافع نے ابن عمرؓ کے واسطے سے اس قبر کے مکین سے روایت کیا ...''یہ کہہ کر اُنہوں نے زور سے اپنا ہاتھ پھیلا دیا اور قبر شریف کی طرف اشارہ کیا۔

یہ نظارہ دیکھ کر امام مالک بن انس کی ہیبت مجھ پر چھاگئی اور جہاں جگہ ملی، میں وہیں بیٹھ گیا۔ امام مالک حدیث روایت کرنے لگے۔ میں نے جلدی سے زمین پر پڑا ہوا ایک تنکا اُٹھا لیا۔ مالک جب کوئی حدیث سناتے تو میں اسی تنکے کو اپنے لعابِ دہن سے تر کرکے اپنی ہتھیلی پر لکھ لیتا۔ امام مالک میر ی حرکت دیکھ رہے تھے مگر مجھے خبر نہ تھی۔ آخر مجلس ختم ہوگئی اور امام مالک دیکھنے لگے کہ سب کی طرح میں بھی اُٹھ جاتا ہوں یا نہیں ۔ میں بیٹھا رہا تو امام مالک نے اشارے سے مجھے بلایا۔ میں قریب پہنچا تو کچھ دیر بڑے غور سے مجھے دیکھتے رہے۔ پھر فرمایا:''تم حرم کے رہنے والے ہو؟'' میں نے عرض کیا: جی ہاں حرم کا باشندہ ہوں ۔ پوچھا: ''مکی ہو۔'' میں نے کہا :جی ہاں ، کہنے لگے :''قریشی ہو ؟ ''میں نے کہا ،جی ہاں ۔

فرمانے لگے: ''سب اوصاف پورے ہیں ، مگر تم میں ایک بے ادبی ہے۔'' میں نے عرض کیا: آپ نے میری کون سی بے ادبی دیکھی ہے؟ کہنے لگے: '' میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات طیبات سنا رہا تھا اورتم تنکالئے اپنے ہاتھ پر کھیل رہے تھے!'' میں نے جواب دیا: کاغذ پاس نہیں تھا ، اس لئے آپ سے کچھ سنتا تھا ، اسے لکھتا جاتا تھا۔ اس پر امام مالک نے میرا ہاتھ کھینچ کر دیکھا اور فرمایا: ہاتھ پر تو کچھ بھی لکھا نہیں ہے! '' میں نے عرض کیا ، ہاتھ پر لعاب باقی نہیں رہتا ،لیکن آپ نے جتنی حدیثیں سنائی ہیں ،مجھے سب یاد ہو چکی ہیں ۔ امام مالک کو تعجب ہوا کہنے لگے: ''سب نہیں ، ایک ہی حدیث سنا دو۔'' میں نے فوراً کہا: ہم سے امام مالک نے، نافع اور ابن عمرؓ کے واسطے سے اس قبر کے مکین سے روایت کیا ہے۔ '' اور مالک ہی کی طرح میں نے ہاتھ پھیلا کر قبر شریف کی طرف اشارہ کیا پھر وہ پور ی پچیس حدیثیں سنادیں جو اُنہوں نے اپنے بیٹھنے کے وقت سے مجلس کے خاتمے تک سنائی تھیں ۔

امام مالک کے گھر میں
اب سورج ڈوب چکا تھا، امام مالک نے نمازپڑھی پھر میری طرف اشارہ کرکے غلام سے کہا: ''اپنے آقا کا ہاتھ تھام''اور مجھ سے فرمایا:''اُٹھو، غلام کے ساتھ میرے گھر جاؤ۔ '' میں نے ذرا انکار نہ کیا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔ امام مالک جو مہربانی مجھ سے کرنا چاہتے تھے میں نے بخوشی قبول کر لی۔ جب گھر پہنچا توغلام ایک کوٹھڑی میں مجھے لے گیا اور کہنے لگا: گھر میں قبلے کا رخ یہ ہے۔ پانی کا لوٹا بھی یہ رکھاہے اور بیت الخلا ادھر ہے۔

تھوڑی دیر بعد خود امام مالک آگئے۔ غلام بھی ساتھ تھا، اس کے ہاتھ پر ایک خوان تھا۔ مالک نے خوان لے کر فرش پر رکھ دیا۔ پھر مجھے سلام کیا اور غلام سے کہا: ہاتھ دھلا، غلام برتن لئے میری طرف بڑھا، مگر مالک نے ٹوکا: ''جانتا نہیں ، کھانے سے پہلے میزبان کو ہاتھ دھونا چاہیے اورکھانے کے بعد مہمان کا۔'' مجھے یہ بات پسند آئی اور اس کی وجہ دریافت کی۔ امام مالک نے جواب دیا: ''میزبان کھانے پر مہمان کو بلاتا ہے ، اس لئے پہلے ہاتھ بھی میزبان ہی کو دھونا چاہئے اورکھانے کے بعد آخر میں اس لئے ہاتھ دھوتا ہے کہ شاید اورکوئی مہمان آجائے تو کھانے میں میزبان اس کا بھی ساتھ دے سکے!''

اب امام مالک نے خوان کھولا تو اس میں دو برتن تھے۔ ایک میں دودھ تھا اوردوسرے میں کھجوریں ۔ امام مالک نے بسم اللہ کہی میں نے بھی بسم اللہ کہی اورہم نے کھانا ٹھکانے لگا دیا۔ مگر مالک بھی جانتے تھے کہ کھانا کافی نہیں ہے۔ کہنے لگے''ابو عبد اللہ! ایک مفلس قلاش فقیر ، دوسرے فقیر کے لئے جوکچھ پیش کرسکتا تھا، یہی تھا!''میں نے عرض کیا: ''وہ معذرت کیوں کرے جس نے احسان کیا ہے؟ معذرت کی توقصور وار کو ضرورت ہوتی ہے!''

امام مالک کا اخلاق
کھانے کے بعد امام مالک مکہ والوں کے حالات پوچھتے رہے اور جب رات زیادہ ہوگئی تواُٹھ کھڑے ہوئے اورفرمایا: ''مسافر کو لیٹ لوٹ کر تھکن کم کرنا چاہیے، اب تم آرام کرو۔ '' میں تھکا ہوا تو تھا ہی، لیٹتے ہی بے خبر سوگیا ۔پچھلے پہر کو کوٹھڑی پر دستک پڑی اورآوازآئی: اللہ کی رحمت ہو تم پر... نماز!'' میں اُٹھ بیٹھا ۔کیا دیکھتا ہوں کہ خود امام مالک ہاتھ میں لوٹا لئے کھڑے ہیں !مجھے بڑی شرمندگی ہوئی۔ مگر وہ کہنے لگے: ''ابو عبد اللہ! کچھ خیال نہ کرو۔مہمان کی خدمت فرض ہے!''

میں نماز کے لئے تیار ہوگیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں امام مالک کے ساتھ فجر کی نمازادا کی ۔اندھیرا بہت تھا، کوئی کسی کو پہچان نہیں سکتا تھا۔ سب اپنی اپنی جگہ بیٹھ کر تسبیح وذکر الٰہی میں مصروف ہوگئے یہاں تک کہ پہاڑیوں پر دھوپ نمودار ہوگئی۔ امام مالک جس جگہ کل بیٹھے تھے، اسی جگہ آج بھی جا بیٹھے اور اپنی کتاب موطأ میرے ہاتھ میں دے دی۔ میں نے کتاب سنانا شروع کی اورلوگ لکھنے لگے۔

میں امام مالک کے گھر آٹھ مہینے رہا ۔پوری موطأ مجھے حفظ ہوگئی، مجھ میں اور امام مالک میں اس قدر محبت اور بے تکلفی ہوگئی تھی کہ اَن جان دیکھ کر کہہ نہیں سکتا تھا کہ مہمان کون ہے اور میزبان کون؟

عراق کو قافلہ
حج کے بعد زیارت کرنے اورموطأ سننے کے لئے مصر کے لوگ مدینے آئے اور امام مالک کی خدمت میں پہنچے۔
 میں نے مصریوں کو پوری موطأ زبانی سنا دی۔
اس کے بعد عراق والے مسجد ِنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کو حاضر ہوئے۔ قبر اورمنبر کے درمیان مجھے ایک نوجوان دکھائی دیا ۔خوبصورت تھا، صاف ستھرے کپڑے پہنے تھا ۔اس کی نماز بھی اچھی تھی۔ قافیہ بتا رہا تھا کہ بھلا آدمی ہے اور بھلائی کی اُمید اس سے باندھی جاسکتی ہے۔ میں نے نام پوچھا، بتا دیا۔ میں نے وطن پوچھا،کہنے لگا: عراق۔ میں نے سوال کیا: عراق کا کونسا علاقہ؟ اس نے جواب دیا: کوفہ۔ میں نے کہا: کوفے میں کتاب اللہ اورسنت ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عالم اور مفتی کون ہے ؟کہنے لگا: ابو یوسف اورمحمد بن حسن ،جو امام ابوحنیفہ کے شاگرد ہیں ۔ میں نے پوچھا : عراق کو تمہاری واپسی کب ہوگی؟ اس نے جواب دیا :کل صبح تڑکے۔

یہ سن کر امام مالک کے پا س آیا اورعرض کیا: ''مکے سے طلب ِعلم میں نکلا ہوں ۔ بوڑھی (والدہ) سے اجازت بھی نہیں لی ہے، اب فرمائیے کیا کروں ؟بڑھیا کے پاس لوٹ جاؤں یا علم کی جستجو میں آگے بڑھوں ؟''

امام مالک نے جواب دیا: 
''علم کے فائدے کبھی ختم نہیں ہوتے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ طالب ِعلم کے لئے فرشتے اپنے پر پھیلادیتے ہیں ؟''

میں نے سفر کا اِرادہ پکا کر لیا اور امام مالک نے راستے کے لئے میرے کھانے کا بندوبست کر دیا۔ صبح تڑکے امام مالک مجھے پہنچانے بقیع تک آئے اور زور سے پکارنے لگے۔ ''کوفے کے لئے کون اپنا اونٹ کرائے پر دیتا ہے؟''یہ سن کر مجھے بہت تعجب ہوا اورعرض کیا ''یہ کیا کر ر ہے آپ؟ نہ میرے پاس کوئی پیسہ ہے، نہ خود آپ ہی کی حالت کسی قابل ہے۔ پھر یہ کرائے کا اونٹ کیسا؟'' امام مالک مسکرا ئے اور کہنے لگے: ''نمازِ عشاء کے بعد جب تم سے رخصت ہوا تو دروازے پردستک پڑی باہر نکلا 'تو عبد الرحمن بن قاسم کھڑے تھے۔ ہدیہ لائے تھے، منتیں کرنے لگے کہ قبول کر لوں ۔ ہاتھ میں ایک تھیلی تھمادی ۔تھیلی میں سودینار نکلے، پچاس میں نے اپنے بال بچوں کے لئے رکھ لئے ہیں اور پچاس تمہارے واسطے لے آیا ہوں !'' پھر امام مالک نے چار دینا ر میں اونٹ طے کردیا۔ باقی رقم میرے حوالے کی اورمجھے خداحافظ کہا۔

کوفے میں آمد
حاجیوں کے اس قافلے کے ساتھ میں روانہ ہوگیا۔ چوبیسویں دن ہم کوفے پہنچے اور عصر کے بعد میں مسجد میں داخل ہوا ۔نماز پڑھی اور بیٹھ گیا۔ اسی دوران ایک لڑکا دکھائی دیا۔ نماز پڑھ رہا تھا، مگر اس کی نماز ٹھیک نہیں تھی۔ مجھ سے رہا نہ گیا اورنصیحت کر نے اُٹھ کھڑا ہوا ۔ میں نے کہا: میاں صاحبزادے! نماز اچھی طرح پڑھا کرو،تاکہ خدا تمہارے اس حسین مکھڑے کو عذابِ دوزخ میں مبتلا نہ کرے!''

لڑکے کو میری بات بری لگی اور کہنے لگا:'' معلوم ہوتا ہے تم حجازی ہو، یہ سختی وخشکی حجازیوں ہی میں ہوتی ہے۔ عراقیوں جیسی نرمی وشگفتگی بھلا ان میں کہاں ۔ میں پندرہ برس سے اسی مسجد میں محمد بن حسن اور ابویوسف کے سامنے نماز پڑھ رہا ہوں ۔ ان اماموں نے تو کبھی ٹوکا نہیں ۔ اب آئے ہو تم اعترا ض کرنے!''یہ کہہ کر لڑکے نے اپنی چادر ، غصے اورحقارت سے میرے منہ پرچادر جھاڑ دی اور اینٹھتا بررتا چلا گیا...!

امام محمد اورامام یوسف سے ملاقات
اتفاق سے مسجد کے دروازے ہی پر لڑکے کو محمد بن حسن اور ابویوسف مل گئے ۔لڑکا ان سے کہنے لگا: ''آپ حضرات نے میر ی نمازمیں کبھی کوئی خرابی دیکھی ہے۔'' اُنہوں نے جواب دیا''خدا یا، کبھی نہیں !'' لڑکا کہنے لگا: ''مگر ہماری مسجد میں ایک ایسا شخص بیٹھا ہے جس نے میری نماز پر اعتراض کیا ہے !'' دونوں اماموں نے کہا:'' تم اس شخص کے پاس جائو اور سوال کرو کہ نماز میں کس طرح داخل ہوتے ہو؟'' لڑکا لوٹ آیا اور مجھ سے کہنے لگا: '' اے وہ! جس نے میری نمازپر حرف گیر ی کی ہے، ذرا یہ تو بتائو کہتم نماز میں کس طرح داخل ہوتے ہو؟'' میں نے جواب دیا: ''دو فرض اور ایک سنت کے ساتھ نماز میں داخل ہوتا ہوں ۔ '' لڑکا یہ سن کر چلاگیا اور محمد بن قاسم اور ابو یوسف کو میرا جواب پہنچا دیا۔ اس پر وہ سمجھ گئے کہ جواب ایسے آدمی کا ہے جس کی علم پر نظر ہے مگر اُنہوں نے کہا: ''پھر جاکے پوچھو، وہ دونوں فرض کون ہیں اور سنت کیا ہے؟ لڑکے نے آکر مجھ سے یہی سوال کیا: میں نے جواب دیا: ''پہلا فرض نیت ہے دوسرا فرض تکبیرۂ اِحرام ہے اور سنت دونوں ہاتھوں کا اُٹھانا ہے۔''لڑکے نے میرا یہ جواب بھی دونوں صاحبوں کو سنا دیا۔

اب وہ مسجد میں داخل ہوئے، مجھے غور سے دیکھا اور میرا خیال ہے کہ حقیر ہی سمجھا۔ وہ ایک طرف بیٹھ گئے اور لڑکے سے کہا: '' جائو اور اس شخص سے کہو کہ مشائخ کے روبرو آئے۔ '' پیغام سن کر میں سمجھ گیا کہ علمی مسائل میں میرا امتحان لیں گے۔ میں نے لڑکے کو جواب دیا:
''لوگ علم کے پاس آتے ہیں اور علم ان کے پاس نہیں جاتا۔ 
پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ تمہارے مشائخ سے ملنے کی مجھے ضرورت ہی کیا ہے!''

میرا یہ جواب پاتے ہی محمد بن حسن اور ابو یوسف اُٹھ کھڑے ہوئے اور میری طرف بڑھے جب اُنہوں نے مجھے سلام کیا تو میں بھی اُٹھ کھڑا ہوگیا اور بشاشت ظاہر کی۔ وہ بیٹھ گئے میں بھی اُن کے سامنے بیٹھ گیا۔ محمد بن حسن نے گفتگو شروع کی: کہنے لگے'' حرم کے رہنے والے ہو ؟'' میں نے جواب دیا: جی ہاں ! کہنے لگے: ''عر ب ہو یا عجم کی اولاد؟''میں نے کہا عر ب ہوں ۔ کہنے لگے: '' کون عرب ہو؟ ''میں نے جواب دیا: مطلب کی اولاد سے ہوں ۔ کہنے لگے مطلب کی کس اولاد سے؟ میں نے شافع کا نام لیا توکہنے لگے: '' امام مالک کو تم نے دیکھا ہے؟'' میں نے کہا کہ جی ہاں ! امام مالک ہی کے پاس سے آرہا ہوں ۔ کہنے لگے ''موطأ ٔبھی دیکھی ہے ؟'' میں نے کہا، موطأ کودیکھنا کیا ، حفظ بھی کرچکاہوں !

محمد بن حسن کویہ بات بڑی معلوم ہوئی، یقین نہ آیا اور اسی وقت لکھنے کا سامان طلب کیا اور ابوابِ فقہ کا ایک مسئلہ لکھا۔ ہر دومسئلوں کے درمیان کافی جگہ خالی رکھی اورکاغذ میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا:''ان مسائل کا جواب موطأ سے لکھ دو۔'' میں نے کتاب اللہ، سنت ِرسول اللہ اوراجماعِ اُمت کے مطابق سب مسئلوں کے جواب لکھے اورکاغذ محمد بن حسن کے سامنے رکھ دیا۔ اُنہوں نے بغور میر ی تحریر پڑھی پھر مڑ کر غلام کو حکم دیا: '' اپنے آقا کو گھر لے جا!''

امام محمد بن حسن شیبانی کے ساتھ
اس کے بعد محمد بن حسن نے مجھ سے کہا: غلام کے ساتھ جائو '' میں ذرا ہچکچایا اوربے تکلف اُٹھ کھڑا ہوا۔ مسجد کے دروازے پر پہنچا تو غلام نے کہا: مالک کاحکم ہے کہ آپ ان کے گھر سواری پر جائیں ۔ میں نے جواب دیا: تو سواری حاضر کرلو۔ غلام نے ایک خوب سجا سجایا خچر میرے سامنے کھڑا کردیا، مگر جب میں سوار ہوا تو تن کے پرانے کپڑے جنھیں چیتھڑے کہناچاہیے، نگاہوں میں بری طرح کھٹکے اوراپنی حالت پر افسوس ہوا۔ غلام، کوفے کے گلی کوچوں سے ہوتا ہوا محمد بن حسن کے گھر لایا۔ یہاں دروازوں پر ، ڈیوڑھیوں پر نقش ونگار دیکھے اور اہل حجاز کی قابل رحم مفلسی بے اختیار یاد آگئی۔ آنکھیں بہہ نکلیں اور میں کہہ پڑا:
''وائے حسرت! عراق والے تو اپنے گھر سونے چاندی سے آراستہ کریں اورحجاز کی مخلوق گھٹیا گوشت کھائے اورسوکھی گٹھلیاں چوستی رہے!''

میں رورہا تھا کہ محمد بن حسن آگئے، کہنے لگے:''بندئہ خدا ،یہ جوکچھ تمہاری آنکھیں دیکھ رہی ہیں ، اس سے کوئی برا اثر نہ لینا، یہ سب حلال کمائی کا ہے ، اوراس کی فرض زکوٰة میں کوتاہی کا خدا مجھ سے جواب نہیں طلب کرے گا ۔سالانہ پوری زکوٰة نکالتا ہوں ۔ دوست دیکھ کرخوش ہوتے ہیں اوردشمنوں کے سینے پر سانپ لوٹتے ہیں !''

پھر محمد بن حسن نے ایک ہزار درہم کا قیمتی جوڑا مجھے پہنایا اوراپنے کتب خانے سے امام ابوحنیفہ کی تالیف الکتاب الأوسط نکال لائے۔ میں نے کتاب اُلٹ پلٹ کے دیکھی اور رات کو اسے یاد کرنا شروع کردیا۔ صبح ہونے سے پہلے ہی پور ی کتاب حفظ تھی ، مگر محمد بن حسن کو اس کی ذرا خبر نہ ہوئی ...!

محمد بن حسن کوفے میں سب سے بڑے مفتی تھے۔ ایک دن میں ان کے دائیں طرف بیٹھا تھا کہ ایک مسئلے کا فتویٰ پوچھا گیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ امام ابوحنیفہ نے یہ یہ کہا ہے۔میں بول اُٹھا:'' آپ سے سہو ہوگیا ہے۔ اس مسئلے میں امام ابوحنیفہ کا قول وہ نہیں ، یہ ہے۔ اور امام ابوحنیفہ نے اپنی کتاب میں اس مسئلے کا ذکر فلاں مسئلے کے نیچے اورفلاں مسئلے کے اوپر کیا ہے!'' محمد بن حسن نے فوراًکتاب منگوا کر دیکھی، تومیری بات بالکل ٹھیک نکلی۔ اُنہوں نے اسی وقت اپنے جواب سے رجوع کیا ، لیکن اس واقعہ کے بعد اورکوئی کتاب مجھے نہ دی!

کچھ دن بعد میں نے سفر کی اجازت چاہی توفرمانے لگے: '' میں اپنے کسی مہمان کو جانے کی اجازت نہیں دیتا۔'' پھر کہا:'' میرے پاس جو مال ودولت موجود ہے ، اس میں سے آدھا تم لے لو!''میں نے جواب دیا: ''یہ بات میرے مقاصد و اِرادے کے خلاف ہے۔ میر ی خوشی صرف سفر میں ہے۔'' اس پر اُنہوں نے اپنے صندوق کی سب نقدی منگائی۔ تین ہزار درہم نکلے۔ سب میرے حوالے کردیے اورمیں نے بلادِ عراق و فارس کی سیاحت شروع کردی۔ لوگوں سے ملتا جلتا رہا ، یہاں تک کہ میری عمر اکیس برس ہو گئی۔

خلیفہ ہارون الرشید سے ملاقات
پھر میں ہارون الرشید کے زمانے میں دوبارہ عراق آیا ۔بغداد کے پھاٹک میں قدم رکھاہی تھا کہ ایک شخص نے مجھے روکا اور نرمی سے کہنے لگا: آپ کا نام ؟ میں نے کہا: محمد۔ کہنے لگا، باپ کا نام ؟ میں نے کہا: ادریس شافعی۔ کہنے لگا :آپ ُمطلبی ہیں ؟ میں نے اقرار کیا ، توجیب سے ایک تختی نکالی اور میرا بیان اس میں قلم بند کرکے مجھے چھوڑ دیا۔

میں ایک مسجد میں پہنچا اور سوچنے لگا، اس آدمی نے جو کچھ لکھا ہے،دیکھنا چاہیے۔ اس کا انجام کیاہو گا؟ آدھی رات کے بعد پولیس نے مسجد پر چھاپہ مارا اورہر ہر آدمی کوروشنی میں دیکھنا شروع کیا۔ آخر میری باری آئی ، اورپولیس نے پکار کر لوگوں سے کہا: '' ڈرنے کی بات نہیں ، جس آدمی کی تلاش تھی ، مل گیا ہے!'' پھر مجھ سے کہا:'' امیر المؤمنین کے حضور چلو!''

میں نے پس وپیش نہں کیا اور فوراً اُٹھ کھڑا ہوا اورجب شاہی محل میں امیر المؤمنین پر میری نظر پڑی توصاف مضبوط آواز میں اُنہیں سلام کیا: امیر المؤمنین کو میرا انداز پسند آیا۔ سلام کا جواب دیا اور فرمایا: تم کہتے ہو کہ ہاشمی ہو؟ میں نے جواب دیا:'' امیر المؤمنین!ہر دعویٰ کتاب اللہ میں باطل ہے !'' امیر المؤمنین نے میرا نسب پوچھا ۔ میں نے بیان کردیا بلکہ آدم ؑتک پہنچا دیا۔ اس پر امیر المؤمنین کہنے لگے: ''بے شک یہ فصاحت وبلاغت ، اولادِ مطلب ہی کا حصہ ہے! بتاؤ کیا تم پسند کروگے مسلمانوں کا قاضی بناکر تمہیں اپنی سلطنت میں شریک کر لوں اور تم سنت ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوراجماعِ اُمت کے مطابق اپنا اور میرا حکم چلایا کرو؟۔ '' میں نے جواب دیا: سلطنت میں شرکت کے ساتھ صبح سے شام تک بھی قاضی بننا مجھے منظور نہیں !'' یہ سن کر امیر المؤمنین رو پڑے پھر فرمایا: ''دنیا کی اورکوئی چیز قبول کرو گے ؟'' میں نے کہا: جوکچھ جلد مل جائے، قبول کروں گا۔''اس پر خلیفہ نے ایک ہزار درہم کا حکم دیا اور یہ رقم مجھے رخصت ہونے سے پہلے ہی مل بھی گئی۔

واپسی پر خلیفہ کے غلام اور پیش خدمت دوڑپڑے۔ مجھے گھیر لیا اور کہنے لگے: '' اپنے انعام میں سے ہمیں بھی کچھ دیجئے ۔ مروّت نے اجازت نہ دی کہ خدا کا فضل مجھ پر ہوا تھا ، اس میں دوسروں کو شریک نہ کروں ۔ میں نے رقم کے برابر برابر اتنے حصے کیے ، جتنے آدمی تھے ۔سب کو بانٹنے کے بعد مجھے بھی اتنا ہی ملا، جتنا ہر ایک کو میں نے دیا تھا...!

'کتاب الزعفران' کی تالیف
میں پھر اسی مسجد میں لوٹ آیا جس میں اُترا تھا ۔ صبح کو ایک نوجوان نے نماز کی امامت کی۔ اس کی قراء ت تو اچھی تھی مگر علم کم تھا۔ نماز میں سہو ہوگیا، مگر اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کرے ۔ میں نے کہا: بھائی! تم نے ہماری اوراپنی، سب کی نماز خراب کردی ۔ نوجوان نے پھر سے نماز پڑھائی۔ اب میں نے اس سے کہا : کاغذ اورقلم دوات لے آؤ ۔ میں تمہارے لئے باب السہو لکھ دوں ، وہ فوراً سب سامان لے آیا ۔ اللہ تعالیٰ نے میرا ذہن کھول دیا اورمیں نے کتاب وسنت اوراجماعِ اُمت کے مطابق ایک کتاب لکھ دی۔کتاب کا نام اسی شخص کے نام پر ' کتاب الزعفران' رکھا۔ یہ کتاب چالیس جز میں پوری ہوئی ہے۔

اب مجھے تین برس اور ہوچکے تھے۔ ہارون الرشید نے اصرار کیا اور مجھے نجران کی زکوٰةکا تحصیل دار بنا دیا تھا۔ اسی اثنا میں حاجی حجازسے لوٹے، میں ان سے امام مالک اور اپنے وطن کے حالات معلوم کرنے چلا۔ ایک نوجوان دکھائی دیا۔ وہ اونٹ پر قبے میں بیٹھا تھا۔ میں نے اشارے سے سلام کیا ۔اس نے شتربان کو اونٹ روکنے کا حکم دیا اورمجھ سے مخاطب ہوگیا ۔ میں نے امام مالک اورحجاز کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ کہنے لگا: سب ٹھیک ہے، میں نے امام مالک کے بارے میں دوبارہ سوال کیا، کہنے لگا:''تفصیل کروں یا مختصر جواب دوں ؟'' میں نے کہا: اختصار ہی میں بلاغت ہوتی ہے۔ کہنے لگے: تو سنو ''امام مالک تندرست اور بہت دولت مند ہوگئے ہیں !''یہ سن کر مجھے شوق ہواکہ فقروفاقے میں تودیکھ چکا ہوں ، اب امام مالک کومال ودولت میں بھی دیکھنا چاہیے۔ میں نے نوجوان سے کہا: کیا تمہارے پاس اتنا روپیہ ہے کہ میرے سفر کی ضرورتیں پوری ہوجائیں ؟'' اس نے جواب دیا: '' آپ کی جدائی ، عراق والوں پر عام طور سے اور مجھ پر خاص طور سے بہت شاق ہو گی، مگر میرے پاس جو کچھ ہے، اسے اپنا ہی سمجھ کے لے لیجئے !'' میں نے کہا: سب مجھے دے دو گے ، تو تم خود کس طرح زندگی بسر کروگے ؟ کہنے لگے: '' اپنی حاجت واثر سے'' یہ کہہ کر اس نے مجھے بڑے غور سے دیکھا اورکہا: ''سب نہیں لیتے تو جتنا چاہیے، لے لیجئے !'' میں نے ضرورت بھر لے لیا اورعلاقہ ربیعہ کی راہ لی۔

حجام کی بدسلوکی
جمعہ کے دن میں حران پہنچا اورفضیلت ِغسل یاد آگئی ، حمام گیا ، مگر جب پانی اُنڈیلا تو خیال آیا ، سرکے بال چپک کراُ لجھ گئے ہیں ۔ حجام کو طلب کیا ۔ تھوڑے بال کاٹنے پایا تھا کہ حمام میں شہر کا کوئی امیر آدمی آگیا اورحجام کو اس خدمت کے لئے یاد کیا گیا۔ حجام نے مجھے وہیں چھوڑ دیا اورامیر آدمی کے پاس دوڑ گیا۔ پھر جب اس سے چھٹی پائی تو میرے پاس واپس آیا۔ میں نے حجامت درست کرانے سے انکار کر دیا، مگر جب حمام سے جانے لگا تو میرے پاس جو دینا ر موجود تھے، ان میں سے اکثر حجام کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا: یہ لے لو، مگر خبر دار! کبھی کسی پردیسی کو حقیر نہ سمجھنا!'' حجام نے بڑی حیرت سے مجھے دیکھا۔ فوراً حمام کے دروازے پر ایک بھیڑ لگی گئی اور لوگ مجھے ملامت کرنے لگے کہ اتنی بڑی رقم حجام کو کیوں دے دی!

یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ شہر کا ایک اور امیر آدمی ، حمام سے نکلا۔ اس کے سامنے سواری حاضر کی گئی، مگر میں بھیڑ کے سامنے تقریر کر رہاتھا ، اس کے کان میں بھی پڑ گئی۔ سوار ہو چکا تھا ، لیکن اُتر پڑا اور مجھ سے کہنے لگا: '' آپ شافعی ہیں ؟'' میں نے اقرار کیا تو امیر آدمی نے سواری کی رکاب میرے قریب کر دی اور عاجزی سے کہنے لگا:'' براے خدا ، سوار ہوجائیے!'' میں سوار ہوگیا۔ غلام سر جھکائے آگے آگے چل رہا تھا ، یہاں تک کہ امیر کا گھر آ گیا۔

امیرنے دولت پیش کردی
تھوڑی دیر میں خود امیر بھی آپہنچا اوربڑی سعادت ظاہر کی۔ پھر دستر خوان بچھ گیا اورہمارے ہاتھ دھلائے گئے ، مگر میں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا۔ امیر کہنے لگا : کیوں کیا بات ہیـ؟ میں نے جواب دیا : کھانا مجھ پر حرام ہے، جب تک یہ نہ بتا دو کہ تم نے مجھے پہچانا کیسے؟ امیرنے کہا :'' بغداد میں آپ نے جوکتاب لکھ کر سنائی تھی، اس کے سننے والوں میں ایک میں بھی تھا، اس طرح آپ میرے اُستاد ہیں ۔ '' یہ سن کر میں نے کہا:، علم دانشمندوں کا کبھی نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہے۔ پھر میں نے ایسی خوش دلی سے کھانا کھایا کہ خدا جانتا ہے ، اپنے جیسے اہل علم کے ساتھ کھانے ہی میں وہ خوشی نصیب ہو سکتی ہے!

میں تین دن اس شخص کا مہمان رہا۔ چوتھے دن اس نے کہا: '' حران کے اطراف میں میرے چار گائوں موجود ہیں اور یہ گائوں ایسے ہیں کہ پورے علاقے میں ان کی نظیر نہیں ۔ خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ آپ یہاں رہ جائیں ، توسب گاؤں آپ کی خدمت میں ہدیہ ہیں !'' میں نے جواب دیا: سب گاؤں مجھے دے دو گے توخود تمہاری بسر کیسے ہوگی ؟ کہنے لگا:''آپ وہ صندوق دیکھتے ہیں ( اور اس نے صندوقوں کی طرف اشارہ کیا)۔ ان میں چالیس ہزار درہم موجود ہیں ، اس رقم سے میں کوئی تجارت کر لوں گا!'' میں نے کہا:لیکن خود مجھے یہ منظور نہیں ۔ میں نے اپنا وطن محض تحصیل علم کے لئے چھوڑا ہے، نہ کہ دولت کمانے کے لئے ! وہ کہنے لگا: یہ تو سچ ہے، مگر مسافر کو روپیہ کی ضرورت ہوتی ہی ہے، گاؤں نہ سہی ، نقد ہی قبول کر لیجئے!''

اس پر میں نے چالیس ہزار کی وہ پور ی رقم لے لی۔ اسے خدا حافظ کہا اورحران سے اس حال میں روانہ ہوا کہ آگے پیچھے اونٹ لدے جا رہے تھے۔ رستے میں اصحابِ حدیث ملے، ان میں امام احمد بن حنبل ، سفیان بن عیینہ اور اوزاعی بھی تھے۔ میں نے ہر ایک کو اس قدر دیا ، جتنا اس کے مقدر میں تھا۔

امام مالک کی امارت
جب میں شہر رملہ پہنچا تو میرے پاس اس چالیس ہزا ر میں سے صرف دس دینار باقی تھے۔ میں نے کرائے پر سواری لی اورحجاز کو روانہ ہوگیا۔ منزلوں پر منز لیں طے کرتا ہوا آخر ستائیسویں دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر ( مدینہ) پہنچ گیا۔ نمازِ عصر کے بعدمیرا داخلہ ہوا تھا۔مسجد میں نماز پڑھی۔ اب کیا دیکھتا ہوں کہ لوہے کی ایک کرسی مسجد میں رکھی ہے۔ کرسی پر بیش بہا قباطی مصر کا تکیہ جما ہواہے اورتکیے پر لکھا ہے:'' لا إلہ إلا اﷲ محمد رسو ل اﷲ''!

میں ابھی یہ دیکھ ہی رہا تھا کہ مالک بن انس باب النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آتے دکھائی دئیے۔ پوری مسجد عطر سے مہک اُٹھی۔ امام مالک کے ساتھ چار سو یا اس سے بھی زیادہ کا مجمع تھا۔ چار آدمی ان کے جبے کے دامن اُٹھائے چل رہے تھے۔ امام مالک اپنی مجلس پرپہنچے تو بیٹھے ہوئے سب آدمی کھڑے ہو گئے۔

امام مالک کرسی پربیٹھ گئے اورجراحِ عمد کا ایک مسئلہ پیش کیا۔ مجھ سے رہا نہ گیا اورمیں نے قریب کے آدمی کے کان میں کہا: اس مسئلے کا یہ جواب ہے۔اس شخص نے میرا بتایا ہوا جواب اونچی آواز سے سنا دیا، مگر امام مالک نے اس کی طرف مطلق توجہ نہ کی اور شاگردوں سے جواب کے طالب ہوئے۔ شاگردوں کے سب جواب غلط تھے۔ امام مالک نے کہا: تم غلطی پر ہو۔ پہلے ہی آدمی کا جواب صحیح ہے! یہ سن کر وہ جاہل بہت خوش ہوا کہ امام مالک نے دوسرا مسئلہ پیش کیا۔ جاہل میری طرف دیکھنے لگا ۔ میں نے پھر جواب بتا دیا۔ اس دفعہ بھی امام مالک کے شاگرد صحیح جواب نہ دے سکے اور اس جاہل کی زبانی میرا ہی جواب ٹھیک نکلا!

تب تیسرے مسئلے پر بھی یہی صورت پیش آئی تو امام مالک اس جاہل کی طرف متوجہ ہوئے اورکہا: یہاں آئو وہ جگہ تمہاری نہیں ہے! ''آدمی ، امام مالک کے پاس پہنچا ، تو اُنہوں نے سوال کیا :'' تم نے موطأ پڑھی ہے ؟'' جاہل نے جواب دیا: نہیں ۔ امام مالک نے پوچھا: '' ابن جریج کے علم پر تمہاری نظر ہے؟'' اس نے پھرکہا: نہیں ۔ امام مالک نے پوچھا: جعفر بن محمد صادق سے ملے ہو۔ کہنے لگا: نہیں اب تو امام مالک کو تعجب ہوا۔ کہنے لگے: '' پھر یہ علم تمہیں کہاں سے ملا۔'' جاہل نے جواب دیا:'' میری بغل میں ایک نوجوان بیٹھا تھا اور وہی مجھے ہر مسئلے کا جواب بتا رہا تھا!''

اب تو امام مالک نے میری طرف گردن پھیری دوسروں کی گردنیں بھی اُٹھ گئیں اور امام مالک نے اس جاہل سے کہا: جائو اورنوجوان کو میرے پاس بھیج دو۔ '' میں امام مالک کے پاس پہنچا اور اسی جگہ بیٹھ گیا جہاں سے جاہل اٹھا تھا ۔ وہ بڑے غور سے مجھے دیکھتے رہے۔ پھر فرمایا ''شافعی ہو؟'' میں نے عرض کیا ، جی ہاں شافعی ہوں ! امام مالک نے مجھے گھسیٹ کر سینے سے لگایا۔ پھر کرسی سے اُتر پڑے اورکہا:'' علم کا جو باب ہم شروع کر چکے ہیں ، تم اسے پورا کر و۔'' میں نے حکم کی تعمیل کی اورجراحِ عمد کے چار سو مسئلے پیش کئے، مگر کوئی بھی جواب نہ دے سکا !

امام مالک کی سیر چشمی
اب سورج ڈوب ہوچکا تھا، ہم نے مغرب کی نماز پڑھی اور امام مالک نے میر ی طرف پیٹھ ٹھونکی ۔ پھر اپنے گھر لے گئے ، پرانے کھنڈر کی جگہ اب نئی عمارت کھڑی تھی۔ میں بے اختیار رونے لگا۔ یہ دیکھ کر امام مالک نے کہا: '' ابوعبد اللہ! تم روتے کیوں ہو؟ شاید سمجھ رہے ہو کہ میں نے دنیا کے چلتے آخرت تج دی ہے!'' میں نے جواب دیا:'' جی ہاں یہی اندیشہ دل میں پیدا ہوا تھا۔'' کہنے لگے: '' تمہارا دل مطمئن رہے ! تمہاری آ نکھیں ٹھنڈی ہوں ! یہ کچھ جو دیکھ رہے ہو ہدیہ ہے خراسان سے، مصر سے، دنیا کے دور دور گوشوں سے ہدیوں پر ہدیے چلے آرہے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرمالیتے تھے اورصدقہ ردّ کر دیتے تھے۔ میرے پاس اس وقت خراسان اورمصر کے اعلیٰ سے اعلیٰ کپڑوں کے تین سو خلعت موجود ہیں ۔ غلام بھی اتنے ہی ہیں اور معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ اب یہ سب میری طرف سے تمہارے لئے ہدیہ ہے! صندوقوں میں پانچ ہزار دینار رکھے ہیں ، اس کی سالانہ زکوٰة نکالتا ہوں ۔ اس میں سے بھی آدھی رقم تمہاری ہے!''

میں نے کہا:'' دیکھئے، آپ کے بھی وارث موجود ہیں اور میرے بھی وارث زندہ ہیں ۔ آپ نے جو کچھ دینے کا وعدہ کیا ہے ، اس کی تحریر ہوجانا چاہئے۔ تحریر سے میری ملکیت مسلم ہوجائے گی۔ اگر میں مر گیا تو اس سب کو آپ کے وارث نہ لے سکیں گے بلکہ میرے وارثوں کو مل جائے گا۔ اسی طرح خدا نخواستہ آپ کی وفات ہوگئی ، تو بھی یہ آپ کی وارثوں کا نہیں ، میرا ہوجائے گا!''

یہ سن کر امام مالک مسکرائے اور فرمایا: یہاں بھی علم ہی سے کام لیتے ہو؟میں نے جواب دیا: علم کے استعمال کا اس سے بہتر موقعہ اورکیاہوسکتا ہے! امام مالک نے رات ہی میں تحریر مکمل کر دی۔

امام مالک کا تقویٰ
صبح میں نے نماز جماعت سے پڑھی اورمسجد سے ہم اس حال سے گھر لوٹے کہ میرا ہاتھ امام مالک کے ہاتھ میں تھا اورامام مالک کا ہاتھ میرے ہاتھ میں ۔ دروازے پر کیا دیکھتاہوں کہ خراسانی گھوڑے اورمصر ی خچر کھڑے ہیں ، گھوڑوں کی کونچیں ،کیا بتائوں کیسی حسین تھیں کہ میرے منہ سے نکل گیا: '' ایسے خوبصورت پائوں تو میں نے کبھی دیکھے نہیں !'' امام مالک نے فوراً جواب دیا: '' یہ سب سواریاں بھی تمہارے لئے ہدیہ ہیں !'' میں نے عرض کیا: '' کم سے کم ایک جانور تو اپنے لئے رہنے دیجئے۔ اس پر امام مالک نے جواب دیا '' مجھے خدا سے شرم آتی ہے کہ اس زمین کو میری سواری اپنی ٹاپوں سے روندے جس کے نیچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہیں !'' یہ سن کر مجھے یقین ہوگیا کہ دولت کی اس بہتات میں بھی امام مالک کا تقویٰ بدستور باقی ہے!

وطن کو واپسی
تین دن امام مالک کے گھر قیام رہا۔ پھر میں مکہ کو روانہ ہوگیا، مگر اس حال سے کہ خدا کی بخشی ہوئی خیر وبرکت اورمال ومتاع سے بوجھ آگے آگے جار ہے تھے۔ میں نے ایک آدمی پہلے سے مکے بھیج دیا تھا کہ واپسی کی خبر پہنچا دے۔ اسی لئے جب حدودِ حرم پر پہنچا تو بوڑھی والدہ کچھ عورتوں کے ساتھ دکھائی دیں ۔ والدہ نے مجھے گلے لگایا۔ پھر ایک اور بڑھیا نے یہی کہا۔ میں اس بی بی سے مانوس تھا اور اسے خالہ کہا کرتا تھا ۔ بڑھیا نے مجھے چمٹاتے ہوئے یہ شعر پڑھا:
ما أمک اجتاحت المنایا کــل فــؤاد علیــک أمّ
''موت تیری ماں کو بہا نہیں لے گئی۔ مامتا میں ہر دل تیرے لئے ماں ہی ہے''

یہ پہلا بول تھا جو مکے کی سرزمین پر میرے کانوں نے سنا۔ پھر میں نے آگے بڑھنا چاہا مگر والدہ کہنے لگیں :'' کہاں ؟'' میں نے کہا: گھر چلیں ۔ والدہ نے جواب دیا:'' ہیہات! کل تو مکے سے فقیر کی صورت گیا تھا اور آج امیر بن کے لوٹا ہے۔ تاکہ اپنے چچیرے بھائیوں پر گھمنڈ کرے!''میں نے کہا: پھر آپ ہی بتائیں کیا کروں ؟ کہنے لگیں :'' منادی کر دے کہ بھوکے آئیں اورکھائیں ،پیدل آئیں اورسواری لے جائیں ! ننگے آئیں اورکپڑا پہن جائیں ! اس طرح دنیامیں بھی تیر ی آبرو بڑھے گی اورآخرت کا ثواب اپنی جگہ رہے گا!''

میں نے اماں کے حکم پر عمل کیا، اس واقعہ کی شہرت دور دور پھیلی ۔ امام مالک نے بھی سنا اور میری ہمت افزائی کی، کہلا بھیجا '' جتنا دے چکا ہوں ، اتنا ہی ہر سال تمہں بھیجتا رہوں گا!''

مکے میں میرا داخلہ اس حال میں ہوا کہ ایک خچر اورپچاس دینار کے سوا اس دولت میں سے میرے پاس کچھ باقی نہ تھا جو ساتھ آئی تھی۔ راہ میں اتفاق سے کوڑا میرے ہاتھ سے گرپڑا۔ ایک کنیز نے جس کی پیٹھ پر مشک تھی، لپک کے اُٹھا لیا اورمیر ی طرف بڑھایا ۔ میں نے اس کے لئے پانچ دینار نکالے۔ یہ دیکھ کر والدہ نے کہا'' یہ تو کیا کر رہاہے ؟'' میں نے کہا: '' عورت کو انعام دینا چاہتا ہوں ۔ ماں نے کہا: '' جوکچھ تیرے پاس ہے ، سب دے دے!''

میں نے یہی کیا اورمکے میں پہلی رات بسر کرنے سے پہلے ہی میں مقروض ہو گیا۔''لیکن امام مالک میرے پاس وہ سب بھیجتے رہے جو مدینے میں اُنہوں نے مجھے دیا تھا۔ گیارہ برس یہ سلسلہ جاری رہا۔ پھر جب امام مالک کا انتقال ہو گیا توحجاز کی سرزمین مجھ پرتنگ ہوگئی اورمیں مصر چلا آیا۔ یہاں خدا نے عبد اللہ بن حکم کو میرے لئے کھڑا کر دیا اور وہ میری تمام ضرورتوں کے کفیل ہو گئے۔

یہ ہے سب میرے سفر کی روداد، اے ربیع تو اسے اچھی طرح سمجھ...!
جامع بیان العلم وفضلہ
 مترجم: مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی:
صفحہ 264 تا 279 طبع ادارئہ اسلامیات، لاہور