Thursday, May 8, 2014

ہارون رشید کا نصرانی طبیب

ہارون رشید کا نصرانی طبیب
دار الخلافہ بغداد میں ہارون رشید کا خصوصی ڈاکٹر ایک نَصْرانی طَبِیب تھا۔جو بہت ہی عقلمنداور خوبصورت آدمی تھا اور بادشاہ اس کے کمالِ سیرت وجمالِ صورت پر دل سے فریفتہ (فَ۔رِیفْ۔تہ)تھا۔
ایک دن ہارون رشید نے اس سے کہا :کاش تم مسلمان ہوجاتے تو میں تم کو اپنے دربار کا سب سے بڑا اعزاز عطا کرتا۔طبیب نے جواب دیا کہ امیر المؤمنین !آپ کے قرآن کی ایک آیت مجھے ا سلام قبول کرنے سے مَنْعْ کرتی ہے ورنہ میں ضرور مسلمان ہوجاتا۔ہارون رشید نے حیران ہوکر دریافت کیا کہ وہ کون سی آیت ہے؟طبیب نے کہا :وَکَلِمَتُہ اَلْقٰیہَآ اِلٰی مَرْیَمَ وَرُوْحٌ مِّنْہُ : اور اس کا ایک کلمہ کہ مریم کی طرف بھیجا اور اس کے یہاں کی ایک روح۔(پارہ ٦،النسائ،آیت١٧١)یعنی حضرت عیسٰی علیہ السلام اللہ کا کلمہ ہیں جس کو اللہ نے بی بی مریم کی طرف ڈال دیا اور وہ اللہ کی روح ہیں۔ دیکھیے اس میں ''رُوْحٌ مِّنْہُ''کا لفظ آیا ہے اور یہ مِنْ تبعیض کیلئے ہے جس کا حاصل یہ ہوا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام خدا کا جزو اور اس کا ایک ٹکڑا ہیں۔طبیب کی یہ تقریر سن کر ہارون رشید کو بڑا رنْجْ وصَدْمَہ ہوا اور اس نے اپنے دربار کے تمام علماء کو طلب کیاتاکہ طبیب کے اس شبہ کا اِزالہ کریں مگر درباری علماء اس کا جواب دینے سے قاصر رہے اور ہارون الرشید رَنْجْ وقلق (قَ۔لَقْ)سے بے قرار ہوگیا۔
اتنے میں پتہ چلا کہ مفسر علی بن الحسین مروزی حج سے واپس ہوتے ہوئے بغداد میں ٹھرے ہوئے ہیں۔ ہارون الرشید نے فوراً ہی انہیں بھی دربار میں بلایا۔وہ بھی ناگہاں یہ سوال سن کر چکراگئے اور فوراً جواب نہ دے سکے ۔مگر انہوں نے فرمایا کہ اے امیر المؤمنین !اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے کہ یہ خبیث نَصْرانی آپ کے دربار میں مجھ سے یہ سوال کرے گا۔لہٰذا میرا ایمان ہے کہ ضرور اس نے اپنی مُقَدَّسْ کتاب میں اس شبہ کا جواب دیا ہوگا جو اس وقت میرے خیال میں نہیں آرہا ہے مگر میں ان شاء اللہ تعالٰی جب تک اس کا جواب قرآن ہی سے نہ دوں گا خدا کی قسم!میرے لئے کچھ کھانا پینا حرام ہے۔یہ کہہ کر وہ ایک اندھیری کوٹھڑی میں منتقل ہوگئے اور دَرْوازہ بند کرکے قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگے یہا ں تک کہ سورہ جاثیہ کی آیت وَ سَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ ۔(پارہ٢٥،الجاثیہ،آیت١٣)زبان پر آئی تو مارے خوشی کے اچھل پڑے اور فوراًدَرْوازہ کھول کر باہر نکلے اور دَرْبار میں جاکر ہارون رشید کے سامنے نَصْرانی طَبِیب کو یہ آیت پڑھ کر سنائی اور فرمایا کہ دیکھ لے،یہاں بھی ''رُوْحٌ مِّنْہُ'' کی طرح ''جَمِیْعًا مِّنْہ''آیا ہے ۔اگر اسمِنْکو تبعیض کیلئے مانا جائے تو یہ لازم آئے گا کہ زمین وآسمان بھی خدا کے جزو قرار پائیں۔لہٰذا تم خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ ''رُوْحٌ مِّنْہُ'' میں مِنْ تبعیض کیلئے نہیں ہے اور حضرت سیدنا عیسی علیہ السلام ہر گز ہرگز خدا کے جزو نہیں ہیں بلکہ وہ زمین وآسمان کی طرح خدا کی مخلوق ہیں۔علی بن الحسین کی یہ نورانی تقریر سن کر نصرانی طبیب کا سینہ کھُل گیا اور اس کا شُبہ بالکل رَفَعْ ہوگیا اور وہ اسی مجلس میں کلمہ پڑھ کرمُشَرَُفْ بہ اسلام ہوگیا ۔ہارون الرشید کو اس قدر خوشی ہوئی کہ اس نے علی بن الحسین مروزی کو بڑے گراں قدر اِنعام سے مالا مال کردیا ۔
علی بن الحسین مروزی نے اپنے وَطَن پہنچ کر نہایت عَرَقْ رِیزی اور محنت کے ساتھ اسی موضوع پر''النظائر فی القرآن''کے نام سے ایک ایسی کتاب تصنیف کردی کہ تمام روئے زمین میں اس کی مثال نہیں ۔اس کتاب میں اس فاضلِ جلیل نے مخالفینِ اسلام کی طرف سے اس قسم کے پیش ہونے والے تمام شبہات کا قلع قمع کردیا اور کسی کی مجال نہیں کہ قیامت تک قرآنِ کریم پر کوئی اس قسم کا اعتراض نہ کرسکے۔(تفسیر روح البیان ج٢ ص٢٨)

Thursday, May 1, 2014

تم چاند سے زیادہ خوب صورت ہو

بغداد کے رہنے والے ایک شخص موسیٰ بن عیسیٰ نے فرط محبت میں اپنی بیوی کو کہہ دیا کہ اگر تم چاند سے زیادہ خوبصورت نہیں ہو تو تمہیں تین طلاق۔ بیوی سن کر پریشان ہوگئی اور سمجھا کہ طلاق ہوگئی ہے اور خاوند کے سامنے آنا چھوڑ دیا۔ خاوند بھی بہت پریشان ہوا کہ جذبات میں غلط بات کہہ دی۔
اس شخص نے خلیفہ منصور کے پاس جاکر سارا ماجرا بیان کیا ۔ خلیفہ نے بغداد کے بڑے بڑے علماء اور فقہا کو بلایا اور ان سے یہ مسلئہ پوچھا تو انہوں نے بھی کہا کہ طلاق ہوگئ،۔ وہ آدمی اور زیادہ پریشان ہوگیا ۔ کسی نے جاکر ایک اور عالم سے یہ مسلئہ بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ جاؤ اس آدمی سے کہہ دو پریشان نہ ہو، طلاق نہیں ہوئی۔
خلیفہ منصور تک بھی یہ بات پہنچی تو وہ بہت حیران ہوا کہ سب فقہاء نے تو کہا ہے طلاق ہوگئی جبکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ طلاق نہیں ہوئی۔ انہوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کس طرح ایسے کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اس کی دلیل قران سے ہے ۔ اللہ قران میں فرماتے ہیں:
لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم 
بے شک ہم نے انسان کو بہترین قوام کے ساتھ پیدا کیا ۔
اس لیے انسان سب سے خوبصورت ہے۔ خلیفہ انکے جواب سےبہت خوش ہوا اور موسیٰ کو کہہ دیا کہ طلاق نہیں ہوئی۔
یہ عالم اپنے وقت کے مشہور محدث امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ تھے جو امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے شاگردوں میں سے تھے۔
حیات الحیوان جلد اول

Thursday, April 10, 2014

ابو القاسم بغدادی کا جوتا؛ ایک دلچسپ سبق آموز قصہ

کہتے ہیں کہ بغداد میں ایک آدمی جس کا نام ابوالقاسم تھا‘ اپنے ایک جوتے کی وجہ سے مشہور تھا۔ وہ سات سال سے ایک ہی جوتا پہنتا تھاجس کی وجہ سے پیوند لگالگاکر جوتی بہت بھاری ہوچکی تھی۔ گاؤں کے تمام لوگ اُس کے جوتوں کو جانتے تھے۔؎
ایک دن وہ نہانے کےلئے حمام کی طرف نکلے۔
راستے میں اِس کا ایک دوست ملا۔ دوست نے اُس سے کہا’ارے بھائی آپ مالدار آدمی ہے اپنے لئے نئے جوتے کیوں نہیں لیتے ہو؟ پھر اُس کے دوست نے کہا کہ اللہ نے چاہا تو وہ اُس کو لیکر دیں گے۔
 ابوالقاسم بہت خوش تھا۔ وہ حمام میں نہانے کے بعد جب باہر نکلا تو حمام میں اُس کے پُرانے جوتوں کے ساتھ ایک نیا جوڈا پڑا تھا۔ وہ اُن کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور یہ سمجھ کر کہ شاید اُس کے دوست نے لیکر یہاں رکھا ہے‘ پہن کر اپنے گھر چلے گئے۔
 چند دن بعد پتہ چلا کہ وہ جوتے قاضی صاحب کے ہیں۔ وہاں پر موجود لوگوں نے قاسم کے جوتے کو پہچان لیا پولیس کو اطلاع دی اور پولیس اُن کے جوتے لیکراُن کے گھر میںداخل ہوگئی۔ اُن کو جوتا چرانے کی جرم میں سزا ملی اور جرمانہ بھی ہوا۔
ایک عرصے کے بعد وہ قید سے رہا ہوئے اور اپنے جوتے کو غصے سے قریبی دریا میں پھینک دیا۔
کچھ دن بعد ایک شکاری دریا میں مچھلی پکرنے گیا اور جھال میں جوتے نکل آئے۔ شکاری نے قاسم کے جوتے پہچان لئے اور اُن کو لیکر اُن کی گھر کی جانب گئے۔ ابوالقاسم گھرمیں نہیں تھے شکاری نے اُن کے جوتوں کو کھڑکی سے اندر پھنکا۔ جوتے اندر سیدھے شیشے کے صندوق پر گرے اور وہ ٹوٹ گیا وہاں موجود کچھ شیشے کے سامان بھی ٹوٹ گئے۔
 جب وہ واپس آیا تو اُس کی صندوق ٹوٹی ہوئی تھی۔سامان بکھڑا پڑا تھا اور جوتا اس کے سامنے گویا ہنس رہا تھا،اُس کو بہت غصہ آیا اور وہ رات کو ہمسائے کے گھر کے قریب ایک گھڑا کھود کر وہاں اُن کو دفن کردی۔ اُس دوران ہمسائے نے قاسم کو دیکھ لیا اور اِس شک میں شاید وہ اُس کا مکان کوگرانے کی کوشش کر رہے تھے یا کوئی تعویز دفن کررہے تھے۔ ہمسائے نے جوتہ دیکھ کر ابوقاسم کوپہچان لیا اور حاکم کی عدالت میں لے گئے۔ عدالت میں قاضی نے آپ کو دوبارہ سزا دی اور جرمانہ کیا۔
 اِس دفعہ سزا کے بعد گھر آئے اور جوتے کو غصے سے چھت پر پھینگ دیا۔ کچھ دن بعد ایک کتّا چھت پر گیا اور جوتے کو منہ سے گرایا جو سیدھے نیچے ایک راہ گیر کے سر پر لگی۔ راہ گیر زخمی ہوا اور ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ لوگوں نے ابوالقاسم کے جوتے کو پہچان لیا اور اُن کو پکڑکر پھر عدالت کے حوالے کیا۔ عدالت نے سخت سزا دی اور جرمانہ کیا اور اُن کو سخت تنبیہ کی۔
سزا کاٹنے کے بعد ابوقاسم گھر آئے اور وہی جوتے لیکر شہرکے قاضی کے پاس گئے اور حلف نامہ پیش کیا جس میں انہوں نے جوتوں کا ”عاق نامہ“ تحریر کیا تھا۔ قاضی کو انہوں عرض پیش کی آئندہ میں اِن جوتوں کا میںکوئی ذمہ دار نہیں اور نہ ہی یہ میرے ہیں میں اِن سے لا تعلقی کا اظہار کرتا ہوں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا کبھی آپ نے اس بارے میں سوچا ہے؟ اگر آپ کے پاس اللہ کی دی ہوئی دولت ہے تو ضرور اپنے لئے اور اپنے اہل وعیال کے ساتھ ضرورت مندوں کا بھی خیال رکھیں اس سے پہلے کہ دولت آپ کے لئے گلے کا کانٹا یا طوق ثابت ہو۔


Friday, April 4, 2014

بغداد کا نانبائی

 بغداد میں ایک نانبائی تھا، وہ بہت اچھے نان کلچی لگاتا تھا اور بڑی دور دور سے دنیا اس کے گرم گرم نان خریدنے کے لئے آتی تھی۔ کچھ لوگ بعض اوقات اسے معاوضے کے طور پر کھوٹہ سکہ دے کے چلے جاتے جیسے ہمارے یہاں بھی ہوتے ہیں۔
 وہ نانبائی کھوٹہ سکہ لینے کے بعد اسے جانچنے اور آنچنے کے بعد اپنے “گلے“ (پیسوں والی صندوقچی ) میں ڈال لیتا تھا۔ کبھی واپس نہیں کرتا تھا اور کسی کو آواز دے کر نہیں کہتا تھا کہ تم نے مجھے کھوٹہ سکہ دیا ہے۔ بے ایمان آدمی ہو وغیرہ بلکہ محبت سے وہ سکہ بھی رکھ لیتا۔
 جب اس نانبائی کا آخری وقت آیا تو اس نے پکار کر اللہ سے کہا
 (دیکھئے یہ بھی دعا کا ایک انداز ہے ) “ اے اللہ تو اچھی طرح سے جانتا ہے کہ میں تیرے بندوں سے کھوٹے سکے لے کر انہیں اعلٰی درجے کے خوشبودار گرم گرم صحت مند نان دیتا رہا اور وہ لے کر جاتے رہے۔
آج میں تیرے پاس جھوٹی اور کھوٹی عبادت لے کر آرہا ہوں ، وہ اس طرح سے نہیں جیسا تو چاہتا ہے۔ میری تجھ سے یہ درخواست ہے کہ جس طرح سے میں نے تیری مخلوق کو معاف کیا تو بھی مجھے معاف کردے۔ میرے پاس اصل عبادت نہیں ہے۔
 بزرگ بیان کرتے ہیں کہ کسی نے اس کو خواب میں دیکھا تو وہ اونچے مقام پر فائز تھا اور اللہ نے ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جس کا وہ متمنی تھا۔ “ -

Tuesday, April 1, 2014

خلیفہ ہارون رشید کی انسانیت دوستی

خلیفہ ہارون رشید کے دربار میں ایک فنکار کو پیش کیا گیا که یه بہترین فنکار هے اس کا فن ملاحظہ هو . اسے موقع دیا گیا ، اس نے قد آدم (پانچ فٹ کی دوری پر) ایک سوئی گاڑ دی اور کهڑے ہوکر (پانچ فٹ کی دوری سے) تاک کر دوسری سوئی اس طرح پهینکی کہ اس کی نوک ،کهڑی هوئی سوئی کے ناکے میں گڑ گئی سب نے داد وتحسین ے ڈونگرے برسادیے .
 اس شخص کو لانے والے کو امید تهی کہ اسے خاطر خواه انعام ملے گا .لیکن خلیفہ نے اسے ایک درهم انعام دینے کا حکم دیا
اور اس کے ساتھ ساتھ دس کوڑے لگانے کا بهی حکم دے دیا .
درباریوں نے حیران هو کر پوچها کہ یہ کیا ؟
 اتنے بڑے فنکار کو ایک درہم انعام اور دس کوڑے ؟خلیفہ نے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ واقعی باکمال شخص ہے، اس لیے اسے ایک درهم انعام دیا جائے
اور دس کوڑے اس لیے کہ 
اس نے اپنا وقت اور دماغ ایک فضول کام پر صرف کیا ہے ، جس سے انسانیت کو کوئی فائده نہیں.

بغداد کے تاجر کا طوطا

کہتے ہیں بغداد میں ایک متمول تاجر رہتا تھا۔۔ اس تاجر نے ایک طوطا پالا ہوا تھا جس سے یہ بہت محبت کرتا۔۔ طوطے کو بھی اپنے مالک سے بہت محبت تھی ۔۔لیکن غم صرف ایک تھا اور وہ غم تھا پنجرے کی قید۔۔۔ ایک دن تاجر کہیں جا رہا تھا ۔۔اور راستے میں طوطے کا آبائی علاقہ بھی آتا تھا۔۔وہی علاقہ جہان سے اس طوطے کو پکڑا گیا تھا۔۔
 سوداگر نے طوطے سے پوچھا کہ وہ اس کے علاقے سے گزرے گا۔۔اگر طوطا چاہے تو وہ کوئی پیغام اپنے عزیز رشتہ دارون تک۔۔ اس کے ہاتھ بھیج سکتا ہے۔۔
 طوطے نے سوداگر کی اس پیشکش کو  قبول کرتے ہوئے سوداگر سے کہا ۔۔۔ مالک میرے علاقے میں جا کر میرا نام لے کر میرے عزیزوں کو آواز دینا۔۔ جب وہ آ جائیں تو انھیں بتانا کہ میں آپ کے پاس بہت خوش ہوں ۔۔۔لیکن۔۔ صرف ایک تکلیف ہے۔۔ اور وہ تکلیف ہے پنجرے کی قید۔۔۔ پھر میرے عزیزوں کو میرے لئے دعا کا کہنا۔۔۔ اور جو پیغام وہ میرے لئے دیں وہ مجھے آ کر بتا دینا۔۔۔ سوداگر نے طوطے سے پیغام پہنچانے کا وعدہ کیا ۔۔ اور رخت سفر باندھا۔۔۔
 جس روز وہ اپنے پیارے طوطے کے علاقے میں پہنچا اس دن طوطے کے بتائے طریقے کے مطابق طوطے کا نام لے کر اس کے عزیزوں کو آواز دی۔۔
 کچھ ہی دیر میں درجنوں طوطے قریب کے درختوں پر آ کر بیٹھ گئے۔۔ سوداگر نے طوطے کا پورا پیغام  سنایا ۔۔ طوطے کے لئےدعا کی درخواست کی۔۔۔  ابھی وہ بات پوری کر ہی رہا تھا کہ یکا یک تمام طوطے اپنی ڈالیون سے گرنا شروع ہو گئے۔۔ اور کچھ ہی دیر میں تمام طوطے گر کے مر گئے۔۔۔سوداگر کو بہت افسوس ہوا۔۔خیر کام ختم کیا اور واپس بغداد پہنچا۔۔۔ طوطے نے جب پوچھا کہ میرے رشتہ دارون نے کیا نصیحت کی ۔۔ تو  سوداگر  نے پورا واقعہ بیان کر دیا۔۔۔
طوطے نے واقعہ سنا اور غش کھا کر گرا اور وہ بھی جیسے مر گیا۔
تاجر  کو بہت افسوس ہوا ۔۔مگر کیا کر سکتا تھا۔۔ مردہ طوطے کو اٹھایا اور باہر پھینک دیا۔۔۔پھینکنے کی دیر تھی ۔۔طوطا اڑا ۔۔اور اڑ  کر سامنے کی دیوار پر بیٹھ گیا۔۔۔ تاجر نے حیرت سے پوچھا کہ یہ سب کیا ہے۔۔
طوطا بولا ۔۔۔گو کہ آپ نے ہمیشہ میرا خیال رکھا اور مجھے خوش رکھنے کی کوشش کی ۔۔لیکن میں قید تھا۔۔۔  اور اس قید نے  مجھے اندر سے ختم کر دیا تھا۔۔میں اپنی نہیں بلکہ آپ کی مرضی کی زندگی جی رہا تھا۔۔۔ میرے عزیزوں نے آپ کے ذریعے مجھے یہ ہی پیغام بھیجا کہ اگر میں مر جاوں تو آپ کی قید سے آزاد ہو جاون گا۔۔ کیونکہ جب تک زندہ رہوں گا آپ مجھے کبھی آزاد نہیں کریں گے۔۔۔ میں نے اپنے عزیزوں کی نصیحت کےمطابق عمل کیا اور اب دیکھیں میں آ زاد ہوں ۔۔۔ اب جتنی باقی زندگی رہ گئی ہے، انشاء اللہ وہ آزادی سے ہی گزرے گی۔۔۔
انسان زمان و مکان کی قید میں زندگی گزارتا ہے۔۔ یہ قید اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ  زندگی کے ڈرامے کو سمجھنے کی بجائے  ۔۔۔۔ اس میں اس قدر کھو جائے کہ اسے یہ یاد  ہی نا رہے کہ اسے ایک دن ختم ہونا ہے۔۔ لیکن ایسا ہر ایک کے ساتھ نہیں ہوتا۔۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ایک مقام پر پہنچ کر انھیں سمجھ آ جاتی ہے کہ ان کا رول بھی ایک دن ختم ہو جائے گا۔۔  لیکن زمان و مکان کی یہ قید اتنی سہانی  لگتی ہے۔۔۔ کہ  جانتے ہوئے بھی ۔۔۔۔۔ وہ اس قید کی، اپنے لئے بقا مانگتے ہیں۔۔


ہارون رشید اور بہلول

ہارون الرشید کے دور میں بغداد میں ایک درویش رہتا تھا۔اس درویش کا نام بہلول دانا تھا ۔
بہلول دانا بیک وقت ایک فلاسفر اور ایک تارک الدنیا درویش تھا ۔اس کا کوئی گھر ،کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔وہ عموما شہر میں ننگے پاؤں پھرتا رہتا تھا اور جس جگہ تھک جاتا تھا وہیں ڈیرہ ڈال لیتا تھا۔ لوگ اس کے پیچھے پیچھے پھرتے رہتے تھے ۔ وہ جب کسی جگہ بیٹھ جاتا تھا تو لوگ اس کےگرد گھیرا ڈال لیتے تھے جس کے بعد بہلول دانا بولتا رہتا تھا اور لوگ اس کے اقوال لکھتے رہتے تھے ۔اگر کسی دن اس کا موڈ ذرا سا خوشگوار ہوتا تو وہ لوگوں کو سوال کرنے کی اجازت بھی دے دیتا تھا اور اس کے بعد لوگ اس سے مختلف قسم کے سوال پوچھتے رہتے تھے ۔
ہارون الرشید بھی اس کابہت بڑا فین تھا۔ جب کبھی بہلول دانا کا موڈ ذرا سا بہتر ہوتا تھا تو وہ بھی اس کی محفل میں شریک ہوجاتا تھا ۔ایک دن بہلول دانا محل کے پاس آگیا۔ ہارون الرشید کو اطلاع ملی تو وہ اس کے پاس حاضر ہوگیا ۔
 بہول نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور غصے سے پوچھا :ہاں !بتاؤ کیامسئلہ ہے ؟ہارون الرشید نے عرض کیا :حضور !جب اﷲتعالی کسی حکمران سے خوش ہوتا ہے تو وہ اس کو کیا تحفہ دیتا ہے ؟بہلول دانا نے غور سے اس کی طرف دیکھا اور بولا :اﷲ اسے درست اور بروقت فیصلے کی قوت دیتاہے ۔
ہارون الرشید نے پوچھا :حضور ! اگر اﷲکسی حکمران سے ناراض ہوجائے تو وہ اس سے کون سی چیز چھین لیتا ہے؟بہلول دانا نے چند لمحے سوچا اور ہنس کربولا :فیصلہ کرنے کی قوت ۔ہارون الرشید نے پھر پوچھا :حضور! بادشاہ کوکیسے پتہ چلے گا کہ اﷲاس سے خوش ہے یاناراض ؟
اس سوال پربہلول دانا چند لمحے خاموش رہا ۔اس نے آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں اورہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا :ہارون الرشید! جب اﷲتعالی کسی شخص سے خوش ہوتا ہے تو وہ اس کو عزت اورمرتبے سے نوازتا ہے لیکن جب اﷲکسی سے ناراض ہوتا ہے تو وہ اس شخص کو نفرت کی علامت بنا دیتا ہے ۔خلق خدا اس سے پناہ مانگنے لگتی ہے اور اس کی زندگی عبرت کا نشان بن جاتی ہے۔
ہارون الرشید کے ماتھے کے شکنین گہری ہوگئیں ۔اس نے ایک لمبی آہ بھری ۔اس کے بعد بہلول سے عرض کیا :اورحضور! جب اﷲکسی بادشاہ سے ناراض ہوجائے تو اس کا انجام کیا ہوتاہے۔بہلول دانا نے غور سے بادشاہ کی طرف دیکھا ،پھر مسکرایا اور بولا : جب کوئی شخص قدرت کے انجام کا شکار ہوتا ہے تو
·  درد رکی ٹھوکریں اس کا مقدر بن جاتی ہیں ۔
·  وہ سونے میں ہاتھ ڈالتا ہے تو ریت اس کی مٹھی میں آتی ہے ۔
·  وہ اپنے تئیں اچھا فیصلہ کرنا چاہتا ہے لیکن قدرت اسے بے عزت کردیتی ہے ۔
·  اس کے اپنے بھی پرائے ہو جاتے ہیں
·  اور وہ اپنی زندگی سے تنگ آآکر اپنا گلہ خود ہی گھونٹ دیتا ہے ۔