Thursday, April 10, 2014

ابو القاسم بغدادی کا جوتا؛ ایک دلچسپ سبق آموز قصہ

کہتے ہیں کہ بغداد میں ایک آدمی جس کا نام ابوالقاسم تھا‘ اپنے ایک جوتے کی وجہ سے مشہور تھا۔ وہ سات سال سے ایک ہی جوتا پہنتا تھاجس کی وجہ سے پیوند لگالگاکر جوتی بہت بھاری ہوچکی تھی۔ گاؤں کے تمام لوگ اُس کے جوتوں کو جانتے تھے۔؎
ایک دن وہ نہانے کےلئے حمام کی طرف نکلے۔
راستے میں اِس کا ایک دوست ملا۔ دوست نے اُس سے کہا’ارے بھائی آپ مالدار آدمی ہے اپنے لئے نئے جوتے کیوں نہیں لیتے ہو؟ پھر اُس کے دوست نے کہا کہ اللہ نے چاہا تو وہ اُس کو لیکر دیں گے۔
 ابوالقاسم بہت خوش تھا۔ وہ حمام میں نہانے کے بعد جب باہر نکلا تو حمام میں اُس کے پُرانے جوتوں کے ساتھ ایک نیا جوڈا پڑا تھا۔ وہ اُن کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور یہ سمجھ کر کہ شاید اُس کے دوست نے لیکر یہاں رکھا ہے‘ پہن کر اپنے گھر چلے گئے۔
 چند دن بعد پتہ چلا کہ وہ جوتے قاضی صاحب کے ہیں۔ وہاں پر موجود لوگوں نے قاسم کے جوتے کو پہچان لیا پولیس کو اطلاع دی اور پولیس اُن کے جوتے لیکراُن کے گھر میںداخل ہوگئی۔ اُن کو جوتا چرانے کی جرم میں سزا ملی اور جرمانہ بھی ہوا۔
ایک عرصے کے بعد وہ قید سے رہا ہوئے اور اپنے جوتے کو غصے سے قریبی دریا میں پھینک دیا۔
کچھ دن بعد ایک شکاری دریا میں مچھلی پکرنے گیا اور جھال میں جوتے نکل آئے۔ شکاری نے قاسم کے جوتے پہچان لئے اور اُن کو لیکر اُن کی گھر کی جانب گئے۔ ابوالقاسم گھرمیں نہیں تھے شکاری نے اُن کے جوتوں کو کھڑکی سے اندر پھنکا۔ جوتے اندر سیدھے شیشے کے صندوق پر گرے اور وہ ٹوٹ گیا وہاں موجود کچھ شیشے کے سامان بھی ٹوٹ گئے۔
 جب وہ واپس آیا تو اُس کی صندوق ٹوٹی ہوئی تھی۔سامان بکھڑا پڑا تھا اور جوتا اس کے سامنے گویا ہنس رہا تھا،اُس کو بہت غصہ آیا اور وہ رات کو ہمسائے کے گھر کے قریب ایک گھڑا کھود کر وہاں اُن کو دفن کردی۔ اُس دوران ہمسائے نے قاسم کو دیکھ لیا اور اِس شک میں شاید وہ اُس کا مکان کوگرانے کی کوشش کر رہے تھے یا کوئی تعویز دفن کررہے تھے۔ ہمسائے نے جوتہ دیکھ کر ابوقاسم کوپہچان لیا اور حاکم کی عدالت میں لے گئے۔ عدالت میں قاضی نے آپ کو دوبارہ سزا دی اور جرمانہ کیا۔
 اِس دفعہ سزا کے بعد گھر آئے اور جوتے کو غصے سے چھت پر پھینگ دیا۔ کچھ دن بعد ایک کتّا چھت پر گیا اور جوتے کو منہ سے گرایا جو سیدھے نیچے ایک راہ گیر کے سر پر لگی۔ راہ گیر زخمی ہوا اور ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ لوگوں نے ابوالقاسم کے جوتے کو پہچان لیا اور اُن کو پکڑکر پھر عدالت کے حوالے کیا۔ عدالت نے سخت سزا دی اور جرمانہ کیا اور اُن کو سخت تنبیہ کی۔
سزا کاٹنے کے بعد ابوقاسم گھر آئے اور وہی جوتے لیکر شہرکے قاضی کے پاس گئے اور حلف نامہ پیش کیا جس میں انہوں نے جوتوں کا ”عاق نامہ“ تحریر کیا تھا۔ قاضی کو انہوں عرض پیش کی آئندہ میں اِن جوتوں کا میںکوئی ذمہ دار نہیں اور نہ ہی یہ میرے ہیں میں اِن سے لا تعلقی کا اظہار کرتا ہوں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا کبھی آپ نے اس بارے میں سوچا ہے؟ اگر آپ کے پاس اللہ کی دی ہوئی دولت ہے تو ضرور اپنے لئے اور اپنے اہل وعیال کے ساتھ ضرورت مندوں کا بھی خیال رکھیں اس سے پہلے کہ دولت آپ کے لئے گلے کا کانٹا یا طوق ثابت ہو۔


Friday, April 4, 2014

بغداد کا نانبائی

 بغداد میں ایک نانبائی تھا، وہ بہت اچھے نان کلچی لگاتا تھا اور بڑی دور دور سے دنیا اس کے گرم گرم نان خریدنے کے لئے آتی تھی۔ کچھ لوگ بعض اوقات اسے معاوضے کے طور پر کھوٹہ سکہ دے کے چلے جاتے جیسے ہمارے یہاں بھی ہوتے ہیں۔
 وہ نانبائی کھوٹہ سکہ لینے کے بعد اسے جانچنے اور آنچنے کے بعد اپنے “گلے“ (پیسوں والی صندوقچی ) میں ڈال لیتا تھا۔ کبھی واپس نہیں کرتا تھا اور کسی کو آواز دے کر نہیں کہتا تھا کہ تم نے مجھے کھوٹہ سکہ دیا ہے۔ بے ایمان آدمی ہو وغیرہ بلکہ محبت سے وہ سکہ بھی رکھ لیتا۔
 جب اس نانبائی کا آخری وقت آیا تو اس نے پکار کر اللہ سے کہا
 (دیکھئے یہ بھی دعا کا ایک انداز ہے ) “ اے اللہ تو اچھی طرح سے جانتا ہے کہ میں تیرے بندوں سے کھوٹے سکے لے کر انہیں اعلٰی درجے کے خوشبودار گرم گرم صحت مند نان دیتا رہا اور وہ لے کر جاتے رہے۔
آج میں تیرے پاس جھوٹی اور کھوٹی عبادت لے کر آرہا ہوں ، وہ اس طرح سے نہیں جیسا تو چاہتا ہے۔ میری تجھ سے یہ درخواست ہے کہ جس طرح سے میں نے تیری مخلوق کو معاف کیا تو بھی مجھے معاف کردے۔ میرے پاس اصل عبادت نہیں ہے۔
 بزرگ بیان کرتے ہیں کہ کسی نے اس کو خواب میں دیکھا تو وہ اونچے مقام پر فائز تھا اور اللہ نے ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جس کا وہ متمنی تھا۔ “ -

Tuesday, April 1, 2014

خلیفہ ہارون رشید کی انسانیت دوستی

خلیفہ ہارون رشید کے دربار میں ایک فنکار کو پیش کیا گیا که یه بہترین فنکار هے اس کا فن ملاحظہ هو . اسے موقع دیا گیا ، اس نے قد آدم (پانچ فٹ کی دوری پر) ایک سوئی گاڑ دی اور کهڑے ہوکر (پانچ فٹ کی دوری سے) تاک کر دوسری سوئی اس طرح پهینکی کہ اس کی نوک ،کهڑی هوئی سوئی کے ناکے میں گڑ گئی سب نے داد وتحسین ے ڈونگرے برسادیے .
 اس شخص کو لانے والے کو امید تهی کہ اسے خاطر خواه انعام ملے گا .لیکن خلیفہ نے اسے ایک درهم انعام دینے کا حکم دیا
اور اس کے ساتھ ساتھ دس کوڑے لگانے کا بهی حکم دے دیا .
درباریوں نے حیران هو کر پوچها کہ یہ کیا ؟
 اتنے بڑے فنکار کو ایک درہم انعام اور دس کوڑے ؟خلیفہ نے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ واقعی باکمال شخص ہے، اس لیے اسے ایک درهم انعام دیا جائے
اور دس کوڑے اس لیے کہ 
اس نے اپنا وقت اور دماغ ایک فضول کام پر صرف کیا ہے ، جس سے انسانیت کو کوئی فائده نہیں.

بغداد کے تاجر کا طوطا

کہتے ہیں بغداد میں ایک متمول تاجر رہتا تھا۔۔ اس تاجر نے ایک طوطا پالا ہوا تھا جس سے یہ بہت محبت کرتا۔۔ طوطے کو بھی اپنے مالک سے بہت محبت تھی ۔۔لیکن غم صرف ایک تھا اور وہ غم تھا پنجرے کی قید۔۔۔ ایک دن تاجر کہیں جا رہا تھا ۔۔اور راستے میں طوطے کا آبائی علاقہ بھی آتا تھا۔۔وہی علاقہ جہان سے اس طوطے کو پکڑا گیا تھا۔۔
 سوداگر نے طوطے سے پوچھا کہ وہ اس کے علاقے سے گزرے گا۔۔اگر طوطا چاہے تو وہ کوئی پیغام اپنے عزیز رشتہ دارون تک۔۔ اس کے ہاتھ بھیج سکتا ہے۔۔
 طوطے نے سوداگر کی اس پیشکش کو  قبول کرتے ہوئے سوداگر سے کہا ۔۔۔ مالک میرے علاقے میں جا کر میرا نام لے کر میرے عزیزوں کو آواز دینا۔۔ جب وہ آ جائیں تو انھیں بتانا کہ میں آپ کے پاس بہت خوش ہوں ۔۔۔لیکن۔۔ صرف ایک تکلیف ہے۔۔ اور وہ تکلیف ہے پنجرے کی قید۔۔۔ پھر میرے عزیزوں کو میرے لئے دعا کا کہنا۔۔۔ اور جو پیغام وہ میرے لئے دیں وہ مجھے آ کر بتا دینا۔۔۔ سوداگر نے طوطے سے پیغام پہنچانے کا وعدہ کیا ۔۔ اور رخت سفر باندھا۔۔۔
 جس روز وہ اپنے پیارے طوطے کے علاقے میں پہنچا اس دن طوطے کے بتائے طریقے کے مطابق طوطے کا نام لے کر اس کے عزیزوں کو آواز دی۔۔
 کچھ ہی دیر میں درجنوں طوطے قریب کے درختوں پر آ کر بیٹھ گئے۔۔ سوداگر نے طوطے کا پورا پیغام  سنایا ۔۔ طوطے کے لئےدعا کی درخواست کی۔۔۔  ابھی وہ بات پوری کر ہی رہا تھا کہ یکا یک تمام طوطے اپنی ڈالیون سے گرنا شروع ہو گئے۔۔ اور کچھ ہی دیر میں تمام طوطے گر کے مر گئے۔۔۔سوداگر کو بہت افسوس ہوا۔۔خیر کام ختم کیا اور واپس بغداد پہنچا۔۔۔ طوطے نے جب پوچھا کہ میرے رشتہ دارون نے کیا نصیحت کی ۔۔ تو  سوداگر  نے پورا واقعہ بیان کر دیا۔۔۔
طوطے نے واقعہ سنا اور غش کھا کر گرا اور وہ بھی جیسے مر گیا۔
تاجر  کو بہت افسوس ہوا ۔۔مگر کیا کر سکتا تھا۔۔ مردہ طوطے کو اٹھایا اور باہر پھینک دیا۔۔۔پھینکنے کی دیر تھی ۔۔طوطا اڑا ۔۔اور اڑ  کر سامنے کی دیوار پر بیٹھ گیا۔۔۔ تاجر نے حیرت سے پوچھا کہ یہ سب کیا ہے۔۔
طوطا بولا ۔۔۔گو کہ آپ نے ہمیشہ میرا خیال رکھا اور مجھے خوش رکھنے کی کوشش کی ۔۔لیکن میں قید تھا۔۔۔  اور اس قید نے  مجھے اندر سے ختم کر دیا تھا۔۔میں اپنی نہیں بلکہ آپ کی مرضی کی زندگی جی رہا تھا۔۔۔ میرے عزیزوں نے آپ کے ذریعے مجھے یہ ہی پیغام بھیجا کہ اگر میں مر جاوں تو آپ کی قید سے آزاد ہو جاون گا۔۔ کیونکہ جب تک زندہ رہوں گا آپ مجھے کبھی آزاد نہیں کریں گے۔۔۔ میں نے اپنے عزیزوں کی نصیحت کےمطابق عمل کیا اور اب دیکھیں میں آ زاد ہوں ۔۔۔ اب جتنی باقی زندگی رہ گئی ہے، انشاء اللہ وہ آزادی سے ہی گزرے گی۔۔۔
انسان زمان و مکان کی قید میں زندگی گزارتا ہے۔۔ یہ قید اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ  زندگی کے ڈرامے کو سمجھنے کی بجائے  ۔۔۔۔ اس میں اس قدر کھو جائے کہ اسے یہ یاد  ہی نا رہے کہ اسے ایک دن ختم ہونا ہے۔۔ لیکن ایسا ہر ایک کے ساتھ نہیں ہوتا۔۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ایک مقام پر پہنچ کر انھیں سمجھ آ جاتی ہے کہ ان کا رول بھی ایک دن ختم ہو جائے گا۔۔  لیکن زمان و مکان کی یہ قید اتنی سہانی  لگتی ہے۔۔۔ کہ  جانتے ہوئے بھی ۔۔۔۔۔ وہ اس قید کی، اپنے لئے بقا مانگتے ہیں۔۔


ہارون رشید اور بہلول

ہارون الرشید کے دور میں بغداد میں ایک درویش رہتا تھا۔اس درویش کا نام بہلول دانا تھا ۔
بہلول دانا بیک وقت ایک فلاسفر اور ایک تارک الدنیا درویش تھا ۔اس کا کوئی گھر ،کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔وہ عموما شہر میں ننگے پاؤں پھرتا رہتا تھا اور جس جگہ تھک جاتا تھا وہیں ڈیرہ ڈال لیتا تھا۔ لوگ اس کے پیچھے پیچھے پھرتے رہتے تھے ۔ وہ جب کسی جگہ بیٹھ جاتا تھا تو لوگ اس کےگرد گھیرا ڈال لیتے تھے جس کے بعد بہلول دانا بولتا رہتا تھا اور لوگ اس کے اقوال لکھتے رہتے تھے ۔اگر کسی دن اس کا موڈ ذرا سا خوشگوار ہوتا تو وہ لوگوں کو سوال کرنے کی اجازت بھی دے دیتا تھا اور اس کے بعد لوگ اس سے مختلف قسم کے سوال پوچھتے رہتے تھے ۔
ہارون الرشید بھی اس کابہت بڑا فین تھا۔ جب کبھی بہلول دانا کا موڈ ذرا سا بہتر ہوتا تھا تو وہ بھی اس کی محفل میں شریک ہوجاتا تھا ۔ایک دن بہلول دانا محل کے پاس آگیا۔ ہارون الرشید کو اطلاع ملی تو وہ اس کے پاس حاضر ہوگیا ۔
 بہول نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور غصے سے پوچھا :ہاں !بتاؤ کیامسئلہ ہے ؟ہارون الرشید نے عرض کیا :حضور !جب اﷲتعالی کسی حکمران سے خوش ہوتا ہے تو وہ اس کو کیا تحفہ دیتا ہے ؟بہلول دانا نے غور سے اس کی طرف دیکھا اور بولا :اﷲ اسے درست اور بروقت فیصلے کی قوت دیتاہے ۔
ہارون الرشید نے پوچھا :حضور ! اگر اﷲکسی حکمران سے ناراض ہوجائے تو وہ اس سے کون سی چیز چھین لیتا ہے؟بہلول دانا نے چند لمحے سوچا اور ہنس کربولا :فیصلہ کرنے کی قوت ۔ہارون الرشید نے پھر پوچھا :حضور! بادشاہ کوکیسے پتہ چلے گا کہ اﷲاس سے خوش ہے یاناراض ؟
اس سوال پربہلول دانا چند لمحے خاموش رہا ۔اس نے آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں اورہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا :ہارون الرشید! جب اﷲتعالی کسی شخص سے خوش ہوتا ہے تو وہ اس کو عزت اورمرتبے سے نوازتا ہے لیکن جب اﷲکسی سے ناراض ہوتا ہے تو وہ اس شخص کو نفرت کی علامت بنا دیتا ہے ۔خلق خدا اس سے پناہ مانگنے لگتی ہے اور اس کی زندگی عبرت کا نشان بن جاتی ہے۔
ہارون الرشید کے ماتھے کے شکنین گہری ہوگئیں ۔اس نے ایک لمبی آہ بھری ۔اس کے بعد بہلول سے عرض کیا :اورحضور! جب اﷲکسی بادشاہ سے ناراض ہوجائے تو اس کا انجام کیا ہوتاہے۔بہلول دانا نے غور سے بادشاہ کی طرف دیکھا ،پھر مسکرایا اور بولا : جب کوئی شخص قدرت کے انجام کا شکار ہوتا ہے تو
·  درد رکی ٹھوکریں اس کا مقدر بن جاتی ہیں ۔
·  وہ سونے میں ہاتھ ڈالتا ہے تو ریت اس کی مٹھی میں آتی ہے ۔
·  وہ اپنے تئیں اچھا فیصلہ کرنا چاہتا ہے لیکن قدرت اسے بے عزت کردیتی ہے ۔
·  اس کے اپنے بھی پرائے ہو جاتے ہیں
·  اور وہ اپنی زندگی سے تنگ آآکر اپنا گلہ خود ہی گھونٹ دیتا ہے ۔

بغداد کا قاضی اور یہودی کا سوال

کہتے ہیں کہ اسلام کے عروج کے دور میں بغداد کے قاضی اپنے شاندار گھوڑے پر سوار بازار میں جا رہے تھے کہ ایک غریب یہودی موچی نے ان کو روکا اور ان سے کہا کہ تم کہتے ہو کہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ دیکھو اپنی سواری ، اپنا گھر، اپنا منصب اور اپنی عزت و جاہ۔۔۔۔۔کیا یہی قید خانہ ہے۔۔۔۔؟اور میری حالت دیکھو۔۔۔ کس غربت اور کسمپرسی میں زندگی گزار رہا ہوں۔۔۔کیا یہی جنت ہے ؟
آپ نے اسے جواب دیا ارے نادان! اگر میں اللہ کے ہاں کامیاب ہو گیا اور مجھے جنت مل گئی تو یہ سب جس کا تم نے ذکر کیا ہے ، اس کے مقابلے میں ایک قید خانہ سے زیادہ نہیں۔۔۔۔اور اگر تو کفر و شرک پر مر گیا اور جہنم میں ڈالا گیا تو اس کے مقابلے میں تیری یہ حالت جس میں تو آج ہے تیرے لیے جنت سے کم نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ارے ناسمجھ! دنیا کی کسی بہت بڑی سلطنت کی بادشاہی بھی جنت کی نعمتوں کے مقابلے میں کسی قید خانہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔
 جنت اپنے بندوں کے لیے اللہ کا انعام ہے جس کی صحیح تصویر کھینچنے  کے لیے کسی انسانی زبان میں ایسے الفاظ موجود نہیں کہ ان کا بیان کیا جا سکے :
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں ،نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی بشر کے دل پر ان کا خیال گزرا

سندباد جہازی کے حیرت انگیز سفر۔۔۔ ساتواں سفر​

ساتواں سفر
چھٹے سفر کے اختتام پر خلیفہ ہارون الرشید نے مجھے شرف ملاقات بخشا تھا۔ اس سے تاجر برادری میں میرا وقار بڑھ گیا۔ نئے نئے دوست بننے لگے۔ چھے سفروں میں ایک عمر گزر گئی تھی۔ جوانی پختہ عمر میں ڈھل گئی تھی۔ میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ آئندہ سفر نہیں کروں گا۔ اب تک تو ستارہ عروج پر رہا ہے۔ میں ہر مصیبت سے بچ نکلا ہوں، لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہو سکتا۔
ایک دن خلیفہ ہارون الرشید کا پیغام پہنچا۔ میں ان کے دربار میں پہنچا۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا، "سندباد جہازی! تمہیں یاد ہے کہ تم مہاراجا سراندیپ کا میرے نام ایک خط لائے تھے۔ اب میں چاہتا ہوں کہ تم میرا جواب ان تک پہنچا دو۔"
خلیفہ کا فرمان تھا اس لیے میں نے خوشی خوشی منظور کر لیا۔
سرکاری ملازموں کو حکم دیا گیا کہ وہ میرے لیے ایک بہترین جہاز کا بندوبست کریں۔ جہاز کا انتظام ہوگیا۔ خلیفہ کی طرف سے بغداد، اسکندریہ اور قاہرہ کے انمول تحفے میرے حوالے کیے گئے۔ میں یہ سب کچھ لے کر سراندیپ پہنچا۔ مہاراجا مجھ سے مل کر بہت خوش ہوا اور جب میں نے تمام تحفے اس کی نذر کے تو وہ اور بھی خوش ہوا۔ یہ تو ایک سفارتی سفر تھا، اس لیے میں نے مہاراجا سے واپسی کی اجازت مانگی اور جہاز لے کر بصرہ روانہ ہو گیا۔

بحری لٹیرے
تین دن کے سفر کے بعد ایک دن ہم پر اچانک بحری لٹیروں نے دھاوا بول دیا۔ پانی کی چھے بڑی بڑی کشتیوں میں سینکڑوں لٹیرے سوار تھے۔ انہیں قزاق بھی کہتے ہیں۔ ان کشتیوں نے ہمارے جہاز کے گرد گھیرا ڈال کر ہمیں اور ہمارے جہاز کو قیدی بنا لیا۔ وہ ہمارے جہاز کو ایک جزیرے میں لے گئے اور وہاں ہم سب کو بیچ دیا۔
مجھے جس تاجر نے خریدا وہ ایک مہربان اور شریف آدمی تھا۔ مجھ سے بڑی نرمی سے پیش آیا۔ ایک دن اس نے مجھے بلا کر پوچھا، "کیا تم تیر چلا سکتے ہو؟"
میں نے جواب دیا، "ہاں۔"
اس نے کہا، "چلو اچھا ہوا، کیوں کہ ہمارے ملک کا دستور ہے کہ جو غلام ہم خریدتے ہیں، انہیں ہم ہاتھیوں کے شکار کے کام پر لگاتے ہیں۔ ہاتھی مار کر ہم ان کے قیمتی دانت حاصل کرتے ہیں اور پھر ان کی آمدنی سے کچھ رقم ان سمندری لٹیروں کو دیتے ہیں۔ میں آج ہی تمہیں جنگل میں لے جاؤں گا۔"
شام کو وہ مجھے جنگل لے کر پہنچا۔

ہاتھیوں کا شکار
رات ہوگی تھی۔ اس نے مجھ سے کہا دیکھو تم اس درخت پر چڑھ جاؤ۔ جب ہاتھی قریب آیئں تو ایک کو اپنے تیر سے گھائل کر دینا۔ میں صبح آؤں گا۔ میں خاصی دیر تک ہاتھیوں کا انتظار کرتا رہا۔ آخر ایک ہاتھی اس درخت کے قریب آیا جس پر میں بیٹھا تھا۔ میں نے تیر چلایا اور وہ زخمی ہو گیا۔ صبح کو تاجر آیا اور وہ میرے قریب مردہ ہاتھی دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اس نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا، "مجھے خوشی ہے کہ تمہارا نشانہ اچھا ہے۔ یاد رکھو اگر تم ہاتھی کو نہ مار سکے تو پھر وہ تمہیں ضرور مار دے گا۔"
ہم ہاتھی دانت لے کر واپس چلے گئے۔ اسی روز دوپہر میں میری دو آدمیوں سے ملاقات ہوئی۔ انہیں بھی بحری قزاقوں نے پکڑ کر بیچا تھا اور وہ بھی ہاتھیوں کا شکار کرتے تھے۔ ان میں سے ایک مجھ سے کہنے لگا، "اگر ہم روز روز ہاتھی مارتے رہیں تب بھی ہم موت سے نہیں بچ سکتے۔ ہاتھی تو ایسی مخلوق ہے کہ اگر ایک ہاتھی مارا تو اس کا رشتےدار ہاتھی بدلہ لیتا ہے۔ ان میں اتنی عقل موجود ہے۔"
اس نے مجھ سے بڑے کام کی بات کی تھی۔ میں نے اس پر غور کیا تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ایک تو مجھے ایک ہی درخت پر دوسری بار نہیں بیٹھنا چاہیے۔ ہر بار درخت بدل لینا چاہیے۔ دوسرے جب ایک سے زیادہ ہاتھی ہوں تو پھر تیر نہیں چلانا چاہیے اور تیسرے اس یقین سے تیر چلانا چاہیے کہ ہاتھی ڈھیر ہو جائے، اگر وہ بچ گیا تو میری خیر نہیں ہوگی۔
مدتوں ہر رات میں ایک ہاتھی مارتا رہا۔ تاجر اس بات سے بہت خوش تھا۔ اس نے میری تعریف کی اور کہا کہ آئندہ ہر دس ہاتھی دانتوں میں سے ایک دانت تمہارا ہو گا۔ جب تم سو دانت جمع کرلو گے تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا اور تم وہ سو ہاتھی دانت بھی اپنے ساتھ لے جانا۔
میری قسمت اچھی تھی۔ میں تقریباً سو ہاتھ دانت جمع کر چکا تھا، مگر ایک دن ایک ہاتھی زندہ بچ کر بھاگ نکلا۔ دوسری رات جنگل میں بڑا ہنگامہ تھا۔ سینکڑوں ہاتھی میری تلاش میں سرگرداں تھے۔

آخری حادثہ
ایک دن تمام ہاتھی اس درخت کے گرد جمع ہو گئے جس پر میں چڑھا ہوا تھا۔ میں نے سوچا، "سندباد جہازی، اب تک تو تمہارا مقدّر چمکتا رہا ہے، مگر آج تمہاری شامت آ گئی ہے۔"
ہاتھی درخت کے نزدیک آتے گئے۔ میں نے صورتحال کو سمجھا اور کوئی تیر نہ چلایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس دور اندیشی ہی سے میری جان بچی۔ پھر سب ہاتھیوں نے مل کر اس درخت کو جڑ سے اکھاڑ ڈالا۔ میں دھڑام سے زمین پر گرا۔ ایک ہاتھی نے مجھے سونڈ سے اٹھا کر اپنی پیٹھ پر بٹھایا اور پھر وہ ایک قطار بنا کر چل دیے۔ وہ کئی وادیوں سے گزرے۔ آخر پہاڑوں سے گھری ہوئی ایک وادی میں پہنچے اور وہاں رک گئے۔
اس سے پہلے میں نے ایسی کہانیاں سنی تھیں کہ ہاتھیوں کا ایک مرگھٹ ہوتا ہے جہاں جا کر وہ مرتے ہیں، مگر مجھے ان باتوں پر یقین نہ تھا۔ آج یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ سینکڑوں کیا ہزاروں ہاتھی یہاں مر چکے تھے۔
دوسرے ہاتھی میرے چاروں طرف گھیرا ڈالے ہوئے تھے۔ وہ مجھے بھی دیکھ رہے تھے، لیکن کسی نے مجھے چھوا نہیں۔ مجھے ایسا لگا کہ وہ نگاہوں میں مجھ سے کہہ رہے ہیں۔ اگر وہ بات کر سکتے تو غالباً مجھ سے یہی کہتے کہ تم ہمیں کیوں مارتے ہو؟ یہاں دیکھو۔ ہزاروں ہاتھی دانت پڑے ہیں۔ ہمارے یہ کس کام کے۔ تمہی لے جاؤ اور لوگوں سے کہو، اگر تمہیں ہاتھی دانت چاہیئں تو ہمیں مت مارو، ادھر سے کچھ ہاتھی دانت اٹھا کر لے جاؤ۔
یہ منظر دیکھ کر میرا دل بھر آیا۔ میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ میں پشیمانی کی تصویر بن چکا تھا۔ وہ میرے جذبات کو بھانپ گئے۔ ایک طرف سے ہاتھیوں کا گھیرا ٹوٹا اور جس ہاتھی پر میں سوار تھا وہ مجھے لے کر چلا اور اس کے ساتھ دو اور ہاتھی چلے۔ جنگل کے ایک کنارے پر جا کر اس ہاتھی نے اپنی سونڈ سے مجھے اٹھا کر آہستہ سے زمین پر ڈال دیا۔
میں نے الله کا شکر ادا کیا۔ میں ہاتھیوں کا پیغام سمجھ چکا تھا۔ چنانچہ میں نے اپنے آقا تاجر کو اور ہاتھ دانت کا کاروبار کرنے والے دوسرے تاجروں کو ہاتھیوں کے اس مرگھٹ میں لے گیا۔ وہ وہاں ہزاروں ہاتھ دانت دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے۔ میں نے ان سے کہا، "دیکھیے آپ وعدہ کیجیے کہ آپ روزانہ ضرورت سے زیادہ ہاتھح دانت یہاں سے نہیں اٹھائیں گے۔"
انہوں نے وعدہ کیا۔ ہم سب خوشی خوشی واپس آئے۔ تمام تاجروں نے مل کر مجھے تحفوں سے مالا مال کر دیا اور میں سو ہاتھ دانت اور وہ تحفے اپنے ساتھ وطن لے آیا۔ سب چیزیں بیچ کر بے شمار دولت جمع کی۔ یہ دس سال پہلے کی بات تھی۔ یہی میرا آخری سفر تھا۔ اس کے بعد میں نے کبھی سفر نہیں کیا۔ مجھے ان بے زبان ہاتھیوں کا پیغام ہمیشہ یاد رہے گا۔
الله حافظ۔