Tuesday, April 1, 2014

سندباد جہازی کے حیرت انگیز سفر​۔۔۔۔۔پہلا سفر​

سندباد جہازی کے حیرت انگیز سفر
 احمد خاں خلیل
 پہلا سفر
 خلیفہ ہارون الرشید کا پائے تخت بغداد تھا۔ اس زمانے میں بغداد دنیا بھر کے شہروں کا شہزادہ تھا۔ اس میں عالی شان محل اور خوبصورت حویلیاں تھیں۔ اس کے بازار بڑے بڑے اور بارونق تھے۔ شہر میں امیر اور غریب، بہادر اور شہہ سوار، عالم اور فاضل، ہنرمند اور کاریگر ہر طرح کے لوگ رہتے تھے۔ ہر روز دور دراز سے کئی قافلے آتے اور کئی کارواں کوچ کرتے۔ صبح سے شام تک ہر بازار اور ہر منڈی میں میلے کا سا سماں نظر آتا تھا۔
 اس شان دار شہر کے ایک خوبصورت مکان میں ایک مالدار شخص رہتا تھا۔ اس کا نام تھا سندباد جہازی۔ وہ بڑا مہمان نواز، سخی اور دوستوں کا دوست تھا۔ وہ زندگی کے سرد گرم جھیل چکا تھا۔ گرمی کے موسم میں ایک دن وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اپنے باغ میں بیٹھا باتیں کر رہا تھا کہ میدان مارنے، سخت مشکلات کو سر کرنے اور مہم جیتنے کی بات چل نکلی۔ کہنے لگا، "دوستو! میں الله کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ہر طرح کے مال و متاع سے نوازا ہے، لیکن میں آپ دوستوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایک زمانہ تھا کہ میں بھی غریب و نادار تھا۔ میری زندگی خوشیوں سے خالی تھی۔
 یہ اس زمانے کی بات ہے جب میں نے جوانی کی منزل میں قدم رکھا تھا۔ میرے پاس کوئی روزگار نہ تھا۔ وقت مشکل سے گزرتا تھا۔ ایک دن جب کہ میں بہت تنگ دست تھا میں نے ارادہ کر لیا کہ مجھے شیخ چلّی کی طرح خواب نہیں دیکھنے چاہیئں۔ مجھے کچھ کرنا چاہیے۔ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ چنانچہ میں نے اپنا مکان اور گھر کا سارا سامان بیچ دیا۔ مجھے کل تین ہزار درہم ملے۔ اس رقم سے میں نے تجارت کا سامان خریدا۔ اسے بصرہ لے گیا۔ جہاں سے بحری جہاز دوسرے ملکوں کو مال تجارت لے کر جاتے تھے۔
 بصرہ میں جا کر میں نے معلوم کیا کہ کون سا جہاز سفر کے لیے تیار ہے۔ ایک عرب جہاز کے کپتان سے میں نے بات کی۔ اس نے مجھے بتایا کہ چھے تاجر اپنا مال تجارت اس کے جہاز پر لے جا رہے ہیں۔ یہ جہاز مشرقی جزیروں کو جائے گا۔ تاجر وہاں اپنا مال بیچ کر ہیرے اور جواہرات خرید کر پھر اسی جہاز سے بصرہ واپس آئیں گے۔ میں نے بھی اسی جہاز پر جانے کی خواہش ظاہر کی۔ معاملہ طے ہوگیا اور میں نے بھی اپنا اسباب اس میں لاد دیا۔
 اگلے ہفتے جہاز کا لنگر اٹھا اور ہم دعائیں مانگتے ہوئے روانہ ہوئے۔ جہاز نے مشرق کا رخ کیا۔ ہم کھلے سمندر میں سفر کرنے لگے۔ کئی دن اور کئی راتیں یونہی گزر گئیں۔ آخر ایک بندر گاہ آئی۔ ہم نے کچھ سامان اور خریدا اور آگے چل پڑے۔ اس طرح ایک دو اور بندرگاہیں آئیں اور مزید خرید و فروخت ہوئی۔
 ایک دن ہم ایک چھوٹے سے جزیرے پر پہنچے۔ بحری سفر میں چند باتیں بڑی اہم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کو وقفے وقفے سے پینے کا پانی ملتا رہے۔ دوسرے ہوا موافق ہو اور تیسرے یہ کہ الله تعالی طوفان سے بچائے رکھے۔ جہاز کے کپتان نے کہا، "حیرت ہے۔ یہ جزیرہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ یہ چھوٹی چھوٹی گھاس پھوس بتاتی ہے کہ یہاں تازہ پانی بھی ہوگا۔ چنانچہ وہ جہاز کو ساحل کے قریب لے گیا۔ ہم میں سے کئی آدمی برتن لے کر اترے کہ پانی تلاش کریں۔ کچھ محض سیر کے لیے اترے۔ انہی کے ساتھ میں بھی کنارے پر گیا۔ سوچا کہ ذرا آگے جا کر جزیرے کی زمین دیکھ لوں۔ ٹہلتا ٹہلتا اپنے ساتھیوں سے کچھ دور چلا گیا۔
  
جزیرہ ہلنے لگا
  
کچھ ملّاح کھانا پکانے کے لیے ساحل پر آئے۔ گھاس پھوس جمع کر کے آگ جلائی۔ اچانک اس وقت دو عجیب و غریب باتیں ہوئیں۔ اوّل یہ کہ جزیرہ ہلنے لگا۔ مسافر حیران و پریشان ہو گئے۔ کپتان تجربے کار آدمی تھا۔ وہ فوراً چلّایا، "جلدی سے جہاز پر سوار ہو جاؤ۔ یہ جزیرہ نہیں، یہ تو حوت مچھلی ہے۔ جو برسوں سے پانی کی سطح پہ سو رہی تھی۔ تم نے جو آگ جلائی ہے۔ اس کی تپش سے جاگ اٹھی ہے۔ جلدی کرو، جلدی کرو۔"
 جو لوگ جہاز کے بالکل قریب ہی کنارے پر تھےوہ دوڑ کر اس میں سوار ہو گئے۔ میں لوگوں سے دور تھا۔ مجھے زیادہ فاصلہ طے کرنا تھا۔ میں سرپٹ دوڑا۔ لیکن جزیرہ جو صرف پہلے ہلا تھا۔ اب پانی کے اندر گھسے جا رہا تھا۔ ٹھیک اسی وقت آندھی آئی۔ اس نے جہاز کو دور لے جا پھینکا۔ پھر مجھے نہیں معلوم مجھ پر کیا گزری۔ جب مجھے ہوش آیا تو دیکھا میں پانی میں غوطے کھا رہا تھا۔ جزیرہ بھی غائب اور جہاز بھی غائب تھا۔ میں اپنے دل میں دعا مانگنے لگا، "اے اللہ! کیا میں بےگور و کفن سمندر میں تن تنہا ڈوب کر مروں گا۔ اے میرے اللہ مجھ پر رحم فرما۔"
 الله تعالی بڑا رحیم و کریم ہے۔ ادھر میں نے دعا مانگی ادھر پانی کی ایک لہر ایک بڑے برتن کو میرے قریب لے آئی۔ میں نے فوراً اسے پکڑ لیا۔ جان بچانے کا سہارا مل گیا، لیکن آزمائشیں ابھی باقی تھیں۔ سمندر کی لہریں مجھے اور میرے برتن کو پٹک پٹک کر ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر لے جاتی تھیں۔ زندگی اور موت کی آپس میں زبردست کشمکش جاری تھی۔ اسی حال میں رات گزر گئی۔ دن بیت گیا۔ پھر دوسری رات اور دوسرا دن گزر گیا۔ مایوسی بڑھتی جا رہی تھی۔ حوصلے پست ہوتے جا رہے تھے۔ انگلیاں سن اور بازو شل ہو گئے تھے۔ مجھے یہ ڈر کھائے جاتا تھا کہ کہیں برتن ہاتھوں سے نہ نکل جائے۔

زمین! زمین! میرے اللہ زمین

 جب بھی مجھے ہوش آتا تو میں گڑگڑا کر دعا ضرور مانگتا تھا۔ ہوا کے تھپیڑے مجھے ساحل کی طرف لے گئے، لیکن میں خود اس بات سے بےخبر تھا۔ دراصل میرے جسم میں طاقت نام کو نہیں تھی۔ بار بار غشی کے دورے پڑ رہے تھے۔ ایک بار ہوش آیا تو دیکھتا ہوں کہ ایک درخت کے نیچے پڑا ہوں۔ پھر غشی کا دورہ پڑا۔ ایسی حالت میں کس کو دن اور وقت یاد رہ سکتا ہے، لیکن اندازے سے کہہ رہا ہوں کہ دو دن اسی حال میں بے خبر پڑا رہا۔ بزرگ کہتے ہیں کہ الله جو کرتا ہے اس میں بندے کی بہتری ہوتی ہے۔ اس طرح پڑے رہنے سے میری تھکن اور کوفت قدرے کم ہوگئی۔ پھر مجھے مشہور مثل یاد آ گئی، اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے۔ میں اٹھا کہ پانی اور غذا تلاش کروں۔ پیروں پر نظر پڑی تو داغ نظر آئے۔ شاید مچھلیوں نے جگہ جگہ کاٹا تھا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا، "سندباد الله کا شکر ادا کرو اور آگے بڑھ کر تازہ پانی تلاش کرو۔ تازے پانی سے پیر دھوؤگے تو یہ زخم ٹھیک ہو جائیں گے۔"
میں اٹھا تو اٹھا نہ گیا۔ ایسا لگتا تھا کہ کسی نے لاٹھی سے میری چول چول ڈھیلی کر دی تھی۔ کبھی گھسٹ گھسٹ کر کبھی بازوؤں پر چل کر میں آگے بڑھتا رہا۔ طبیعت میں تازگی تو تھی نہیں کہ میں ادھر ادھر نظر دوڑاؤں۔ میں تو اندھے کی طرح چل رہا تھا۔ اچانک کسی چیز سے ٹکرایا دیکھا کہ ایک پھل دار درخت سے ٹکّر لگی ہے۔ نظر اٹھائی تو پاس ہی صاف شفاف پانی کی ندی بہہ رہی تھی۔
"لاکھ لاکھ شکر تیرا، اے میرے پالن ہار۔" یہ ورد کرتے ہوئے میں نے ندی کا رخ کیا۔ گھونٹ گھونٹ پانی پی کر پیاس بجھائی۔ بدن میں کچھ تازگی آئی۔ پھر اپنے پیر دھوئے اور کچھ دیر سستانے کے بعد اس درخت کے پھل کھا کر میں وہیں سو گیا۔ میرا کئی روز تک یہی معمول رہا۔ اب ایسا لگتا تھا کہ بدن میں طاقت لوٹ آئی ہے اور پاؤں ٹھیک ہو گئے ہیں۔ میں اپنے آپ کو چاق و چوبند محسوس کرنے لگا۔ سچ تو یہ ہے کہ بےفکر زندگی گزارنے کو یہ بہترین جگہ تھی۔ لیکن پاؤں کے چکّر کا کیا علاج۔
اگرچہ یہ سمندر کا ساحل تھا اور یہ امید تھی کہ شاید کبھی کوئی جہاز یہاں آ جائے، لیکن میں اٹھا اور الله کا نام لے کر آگے بڑھا۔ خیال تھا کہ اگر یہاں ندی اور درخت ہیں تو آگے بھی ہوں گے۔ دن بھر چلتا رہا مگر ہو کا عالم تھا۔ نہ چرند نہ پرند، نہ ندی نہ درخت۔ پھر سے مجھ پر وحشت طاری ہونے لگی۔ پیچھے مڑوں کہ آگے بڑھوں، اسی کشمکش میں چلتا رہا۔ دنیا امید پر قائم ہے۔ کہاں بغداد جہاں آدمی پر آدمی ٹوٹا پڑتا تھا اور کہاں یہ سنسان بیابان جہاں کوئی آدم نہ آدم زاد۔

ویرانے میں ایک گھوڑا

میں سہما سہما چپکے چپکے چلا جا رہا تھا۔ سوچوں میں گم، ناظرین اپنے پیروں پر گری ہوئی کہ اچانک ہنہنانے کی آواز سنائی دی۔ سر اٹھا کر جو دیکھا تو ایک گھوڑا نظر آیا۔ یا الہی! اس ویرانے میں گھوڑا! گھوڑا بھی اس قدر خوبصورت! کیا سچ مچ کا گھوڑا ہے یا چھلاوا۔ اگر سچ مچ کا گھوڑا ہے تو یہاں کیسے آیا، کیا کھاتہ ہے، کہاں رہتا ہے۔ میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ایک طرف سے گرج دار آواز ای، "خبر دار! گھوڑے کا ہاتھ نہ لگانا ورنہ تیر تمہارے سینے کے پار نکل جائے گا۔"
 ایک آدمی بھاگتا ہوا میری طرف آیا۔ میں اسے دیکھ کر خوش بھی ہوا اور ڈرا بھی۔ میں نے کہا، "بھی، معاف رکھنا۔ میں تو ایک مسافر ہوں۔ گھوڑے کو فقط ایک نظر دیکھا ہے۔ کیا نام ہے جناب والا کا؟"
  اس نے للکار کر کہا، "کون ہو تم اور یہاں کیوں اے ہو؟"
 میں نے کہا، "الله تالا کے رحم و کرم سے میں سمندر میں ڈوبنے سے بچ کر ساحل پر آ گیا۔ پھر میں نے اپنی آپ بیٹی اس کو سنائی تو اسے اعتبار آیا۔ میرا ہاتھ پکڑ کر ایک غار میں لے گیا، مجھے پانی پلایا اور پھر کھانے کے دستر خون پر بٹھایا۔
 اس نے کہا، "واقی الله نے آپ پر برا کرم کیا ہے۔"
 ہم آپس میں باتیں کرنے لگے۔ باتوں کے دوران اس نے مجھے بتایا کہ ہر سال بادشاہ سلامت ایک ہفتے کے لیے اس جزیرے پر اپنے بہترین گھوڑوں کو بھیجتے ہیں۔ اس جگہ کی ہوا گھوڑوں کے لیے بہت عمدہ ہے۔ جزیرہ بالکل سنسان ہے، لیکن سرکار کے ملازم ضروری سامان اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ ہفتہ بھر یہاں رہ کر گھوڑوں کو واپس لے جاتے ہیں۔
 کچھ دیر کے بعد دوسرے ملازم بھی اپنے اپنے گھوڑے لے اے۔ انہوں نے بھی میری سرگزشت سنی۔ سب نے مجھ سے ہمدردی کی اور مجھے اپنے ساتھ لے جانے کی ہامی بھر لی۔
 دوسرے دن ہمارا قافلہ وہاں سے چلا۔ سواری کے لیے انہوں نے مجھے بھی ایک خوبصورت گھوڑا دیا۔ راستے میں انہوں نے بتایا کہ ہمارا بادشاہ برا مہربان اور قدردان ہے۔ وہ ریا کو اپنی مہربانیوں سے خوش رکھتا ہے اور ریا اس پر جان چھیریکتی ہے۔ نزدیک اور دور سے لوگ ہمارے شہر میں آتے ہیں۔ شہر پہنچ کر ہم بدسحش سے آپ کا ذکر کریں گے۔
 جب ہم شہر پہنچے تو ملازموں نے بادشاہ تک خبر پہنچائی۔ میری طلبی ہی۔ انہوں نے توجہ سے میری دکھ بھری داستان سنی۔ ان کے حکم سے مجھے نیا لباس دیا گیا۔ میری امید سے بڑھ کر میری خاطرداری کی۔ چند دنوں میں بادشاہ کا مجھ ناچیز پر اعتماد قائم ہوگیا۔ میرے سپرد یہ زمہ داری تھی کہ میں روزانہ بندرگاہ اور بازار جا کر تاجروں اور جہاز کے کپتانوں سے مل کر حال احوال معلوم کر کے بادشاہ کو باخبر رکھا کروں۔ میرے لیے یہ بڑا اعزاز تھا۔ میں روزانہ پہلے بندرگاہ جاتا۔ جہاز کے کپتانوں سے ملتا، ملاحوں سے باتیں کرتا اور پھر بازاروں میں تاجروں کا حال احوال معلوم کرتا۔ شام کو دربار میں بادشاہ کے سامنے اپنی کار گزاری پیش کرتا۔
 ایک دن بندرگاہ پر ایک بڑا جہاز لنگر انداز ہوا۔ حسب معمول میں وہاں گیا۔ جہاز پر سوار تاجر مال اسباب بیچنے کے لیے باہر لائے۔ جہاز کے کپتان سے میری ملاقات ہو گئی۔ میں نے اس سے پوچھا، "کیا تمام مال فروخت کے لیے نکال لیا گیا ہے یا کچھ باقی ہے؟"
کپتان نے کہا، "اور تو سب مال بازار چلا گیا ہے۔ چند صندوق باقی ہیں۔ یہ ایک نوجوان کے ہیں جس نے ہمارے ساتھ سفر کا آغاز کیا تھا، لیکن ایک حادثے کا شکار ہو گیا۔ خیال ہے کہ وہ ڈوب گیا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ اس کا اسباب بیچ کر رقم بغداد لے جاؤں اور اس کے وارثوں کو دیدوں۔"
 میں نے غور سے دیکھا تو اسے پہچان لیا۔ میں نے پوچھا، "اس کا نام کیا تھا؟" کپتان نے کہا، "اس کا نام سندباد تھا۔"
 یہ سن کر پہلے تو میں ایک لمحے کے لیے سکتے میں آ گیا۔ پھر میں نے پورے زور سے "الله اکبر" کا نعرہ لگایا۔ کپتان ہکا بکا ہو کر میرا منہ دیکھ رہا تھا۔ میں نے اس سے کہا، "میں ہی تو سندباد ہوں۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے ایمانداری سے میرے مال کی حفاظت کی۔"
 کپتان نے کہا، "بیشک آپ بھلے آدمی لگتے ہیں، لیکن اس کا کیا ثبوت ہے کہ آپ سندباد ہیں۔ سندباد تو ڈوب کر مر چکا ہے۔ ہم نے خود ان گناہ گار آنکھوں سے دیکھا ہے۔ میرے ملاح اور جہاز پر سوار تاجر سب اس بات کے گواہ ہیں۔"
 میں نے کپتان سے کہا، "جناب من، پہلے آپ میری سرگزشت سن لیجیے۔ پھر خود ہی فیصلہ کیجیے کہ کیا میں وہ نوجوان ہوں جس کا یہ مال ہے۔"میں نے بصرہ سے لے کر اس ہلنے والے جزیرے تک کے تمام حالات بیان کیے۔ یہاں تک کہ اسے وہ تمام باتیں یاد آ گئیں۔
 کپتان نے کہا، "اس دنیا کے رنگ نیارے ہیں۔ وہ بڑا مہربان اور رحیم ہے۔ ہمیں اس بات پر یقین تھا کہ آپ ڈوب کر مر چکے ہیں اور آج آپ کی باتیں سن کر ہمارا اللہ پر یقین اور مضبوط ہو گیا ہے۔"
اس نے مجھے میرا مال دے دیا ہے۔ میں نے اسے بیچا اور بادشاہ کے لیے ایک عمدہ تحفہ خریدا اور اسے اٹھو کر دربار میں لے گیا۔ بادشاہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ میں نے کپتان کی ایمانداری کا قصّہ سنایا۔ اس نے میرا تحفہ قبول کیا اور اس سے بڑھ چڑھ کر مجھے تحفہ دیا۔

بغداد کو واپسی

جب میرا جہاز بغداد روانہ ہونے لگا تو میں اس مہربان بادشاہ کے پاس گیا اور اسے بتایا، "آپ جیسے مہربان بادشاہ اور اس خوبصورت ملک سے جانے کو میرا دل تو نہیں کر رہا، لیکن وطن کی محبت سے میں مجبور ہوں اور آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔"
 بادشاہ نے اجازت دے دی اور ساتھ ہی سونا چاندی، ہیرے جواہرات، قیمتی لباس اور کئی انمول چیزیں تحفے کے طور پر مجھے عطا کیں۔ آخر جہاز روانہ ہوا۔ طویل مسافت کے بعد ہم بغداد پہنچے۔ دوست احباب اور عزیز و اقارب سے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔
 انشاء اللہ میں کل آپ کو اپنے دوسرے سفر کا حال سناؤں گا۔

قیمتی موتی کی تلاش

      پرانے زمانے کی بات ہے، ایک تاجر تجارت کی غرض سے بغداد پہنچا۔ پچھلے وقتوں میں تجارت کا یہ قانون تھا کہ تاجر جس ملک میں تجارت کرنے جاتا، سب سے پہلے وہاں کے بادشاہ سے ملاقات کرتا، اپنا سارا سامان تجارت دکھاتا اور اس کی خوبیوں اور انفرادیت سے آگاہ کرتا تھا۔ چنانچہ اس تاجر کو بھی بغداد پہنچنے کے بعد بادشاہ کے دربار میں پیش کردیا گیا۔ تاجر نے بادشاہ کے حضور تحائف پیش کیے۔ پھر مال تجارت نکالا اور ایک ایک چیز کی خوبی بیان کرتے ہوئے دکھانے لگا۔حضور، یہ پانی سے چلنے والی گھڑی ہے جو میں نے یونان سے خریدی ہے۔ یہ قالین ہے جو میں نے ایران سے خریدا ہے اور یہ خالص ریشم کے تار سے بنا ہے۔ یہ قلم ملاحظہ فرمائیے جو میں نے جاپان سے بہت مہنگے داموں خریدا ہے۔ تاجر نے ایک ایک مال کی اہمیت بیان کی۔
بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ بہت خوب، تمام چیزیں بہت عمدہ نایاب ہیں جو تم نے ایران، یونان اور جاپان سے خریدی ہیں لیکن یہ تو بتاؤکہ تمہیں ہندوستان میں ہمارے شایان شان کوئی چیز نظر آئی۔
تاجر نے بادشاہ کو متاثر کرنے کے لیے کہا، یوں تو بادشاہ سلامت آپ کے شایان شان بہت چیزیں تھیں لیکن جو چیز مجھے پسند آئی۔ اس کو حاصل کرنے کے لیے مجھے کچھ عرصہ وہاں قیام کرنا پڑتا جبکہ میرے پاس صرف دو دن کا وقت تھا۔ب
ادشاہ نے پوچھا۔ اچھا وہ کیا چیز تھی۔تاجر بولا، جناب وہ ایک موتی ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ وہ دوسروں کو بانٹنے سے بڑھتا ہے۔ اس کو کوئی چرا بھی نہیں سکتا اور اس موتی سے بہت سارے زیور بھی بنا کر پہنے جاسکتے ہیں۔بادشاہ بہت متاثر ہوا اور کہنے لگا۔ میں اسے حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے فوراً اپنے ایک خاص وزیر کو مع سامان و سواری اس ہدایت کے ساتھ رخصت کیا کہ اب وہ موتی لے کر ہی لوٹے۔
 وزیر اپنے مقصد کے لیے نکل پڑا۔
 جنگلوں،سمندروں، پہاڑوں اور صحراں غرض یہ کہ ہر جگہ کی خاک چھان ماری۔ وادی وادی گھوما، ہر شخص سے اس نادر و نایاب موتی کا پوچھا مگر سب نے یہ ہی کہا کہ ایسا کوئی موتی نہیں ہے جو چوری نہ ہوسکے اور اس سے بہت سارے زیور بن جائیں۔ لوگ اس کی بات سن کر ہنستے اور کہتے۔ مسافر پاگل ہوگیا ہے۔یوں ہی مہینوںبیت گئے، ناامیدی کے سائے گہرے ہونے لگے لیکن بادشاہ کے سامنے ناکام لوٹنے کا خوف اس کو چین نہیں لینے دے رہا تھا۔
وزیر نے ہر ممکن کوشش کرلی کہ ایسا موتی مل جائے لیکن یہ نہ ملا،سو اس نے واپسی کا ارادہ کرلیا۔ وزیر اپنی ناکامی پر زارو قطار روتا ہوا جنگل سے گزر رہا تھا۔ رات کافی ہوچکی تھی اور وزیر بہت تھک بھی گیا تھا۔ ایک درخت کے پاس آرام کے ادارے سے لیٹا ہی تھا کہ اسی لمحے ایک روشنی اپنی جانب بڑھتی ہوئی نظر آئی۔
 پہلے تو وزیر ڈر گیا مگر پھر ایک آواز نے اس کو حوصلہ دیا۔ارے نوجوان ڈرو مت، میں اچھی پری ہوں۔ بتا تیرے ساتھ کیا مسئلہ ہے، تو مدتوں کا تھکا ہوا مسافر معلوم ہوتا ہے، بتا میں تیری کیا مدد کروں۔
وزیر نے اپنی داستان کہہ سنائی کہ اسے جس موتی کی تلاش تھی، وہ کہیںنہیں ملا۔ اب اچھی پری وزیر کے سامنے آچکی تھی اور وہ وزیر کی بات سن کر بے ساختہ ہنسنے لگی، پھر بولی۔ افسوس کہ تو نے عقل سے کام نہ لیا اور محض ایک موتی کی تلاش میں مہینوںمارا مارا پھرتا رہا۔وزیر بولا۔ اچھی پری،میں تمہارا مطلب نہیں سمجھا ۔
وہ بولی، بھلے آدمی، وہ موتی دراصل علم کاموتی ہے لیکن تو اس کی ظاہری شکل کو تلاش کرتا رہا۔ علم تو ایک ایسی شے ہے جسے ہزاروں نام دیے جاسکتے ہیں۔ کہیں اسے پھل دار درخت کہتے ہیں تو کبھی سورج سے تشبیہ دیتے ہیں اور اسے سمندر بھی کہا جاتا ہے لیکن اسے کوئی چرا نہیں سکتا۔لیکن اس سے زیور بنانے والی صفت۔ وزیر نے حیرت سے پوچھا۔پری نے مسکراتے ہوئے کہا۔ علم کی بہت ساری صفات ہیں۔ تم اس موتی کی صورت کو کیوں تلاش کرتے ہو۔ یاد رکھو، ہر شے کی تاثیر کا تعلق اس کے نام سے نہیں بلکہ اس کے اندرونی خوبیوں سے ہوتا ہے۔ اسی طرح علم بھی ایک نایاب موتی ہے کہ جس سے یہ حاصل ہوجائے، وہ اس سے ایسے ہی سج جاتا ہے جیسے انسان زیور پہن کر سجتا ہے اور اسے کوئی چرا نہیں سکتا بلکہ یہ تو بانٹنے سے بڑھتا ہے، گھٹتا نہیں ہے۔
وزیر بڑے غور سے پری کی بات سن رہا تھا اور بالآخر اس بات کا قائل ہوگیا کہ واقعی علم ایک ایسا موتی ہے کہ جس کے پاس ہو، وہ دراصل دنیا کے سب سے قیمتی زیور کا مالک بن جاتا ہے۔ وزیر نے پری کا شکریہ ادا کیا جس کے بعد اچھی پری وہاں سے غائب ہوگئی۔
 اب وزیر بہت خوش تھا اور اپنی کامیابی کے گیت گاتا ہوا اپنے ملک روانہ ہوگیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے بادشاہ کو علم کے موتی کے بارے میں بتایا اور سمجھایا تو بادشاہ بھی پری کی بات کا قائل ہوگیا کہ صرف علم ہی وہ موتی ہے جسے کوئی چرا نہیں سکتا۔پیارے ساتھیوں! علم ایک ایسا موتی ہے جس کی چمک دمک زمین سے آسمان، فرش سے عرش تک ہے اور علم کے اس موتی کی روشنی میں ہی انسان اس کائنات کے خالق و مالک تک رسائی حاصل کرتا ہے۔


بغداد کا ایک پاکباز لوہار

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا -  نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا -
  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا -
 وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟
  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے -  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی -
  اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے - "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟
 اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی اور اس کے والدین عمرے کے لیے گئے ، اور کسی حادثے کا شکار  ہو کے وہ دونوں فوت ہو گئے - اور یہ لڑکی بے یار و مددگار اس شہر میں رہنے لگی -
 وہ لڑکی پردے کی پلی ہوئی ، گھر کے اندر رہنے والی لڑکی تھی اب اس کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ زندگی کیسے گزارے -  آخر کار نہایت غمزدہ اور پریشانی کی حالت میں وہ باہر سڑک پر نکل آئی -
  اس نے میرے دروازے پر دستک دی اور کہا " کیا ٹھنڈا پانی مل سکتا ہے "  میں نے کہا ہاں اور اندر سے اس لڑکی کو ٹھنڈا پانی لا کر پلایا اور اس لڑکی نے کہا خدا تمہارا بھلا کرے - میں نے اس سے پوچھا کیا تم نے کچھ کھایا بھی ہے کہ نہیں ؟  اس لڑکی نے کہا نہیں میں نے کچھ نہیں کھایا - میں نے اس سے اکیلے اس طرح پھرنے کی وجہ پوچھی تو اس لڑکی نے اپنے اوپر گزرا سارا واقعہ سنایا اور کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی میں زندگی کیسے بسر کروں -  میں نے اس سے کہا کہ تم شام کو یہیں میرے گھر آجانا اور میرے ساتھ کھانا کھانا - میں تمھیں تمہاری پسند کا ڈنر کھلاونگا وہ لڑکی چلی گئی - اس نوجوان نے بتایا کہ میں نے اس کے لیے کباب اور بہت اچھی اچھی چیزیں تیار کیں وہ شام کے وقت میرے گھر آگئی اور میں نے کھانا اس کے آگے چن دیا - جب اس لڑکی نے کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو میں نے دروازے کی چٹخنی چڑھا دی اور میری نیت بدل گئی کیوں کہ وہ انتہا درجے کا ایک آسان موقع تھا - جو میری دسترس میں تھا - جب میں نے دروازے کی چٹخنی چڑہائی تو اس لڑکی نے پلٹ کر دیکھا اور اس نے کہا کہ میں بہت مایوس اور قریب المرگ اور اس دنیا سے گزر جانے والی ہوں -
  اس نے مزید کہا " اے میرے پیارے بھائی تو مجھے خدا کے نام پر چھوڑ دے " وہ نوجوان کہنے لگا میرے سر پر برائی کا بھوت سوار تھا - میں نے اس سے کہا کہ ایسا موقع مجھے کبھی نہیں ملے گا میں تمھیں نہیں چھوڑ سکتا -  اس لڑکی نے مجھے کہا کہ  " میں تمھیں خدا اور اس کے رسول کے نام پردرخواست کرتی ہوں کہ میرے پاس سوائے میری عزت کے کچھ نہیں ہے اور ایسا نہ ہو کہ میری عزت بھی پامال ہو جائے اور میرے پاس کچھ بھی نہ بچے اور پھر اس حالت میں اگر میں زندہ بھی رہوں تو مردوں ہی کی طرح جیئوں "
 اس نوجوان نے بتایا کہ لڑکی کی یہ بات سن کرمجھ پر خدا جانے کیا اثر ہوا ، میں نے دروازے کی چٹخنی کھولی اور دست بستہ اس کے سامنے کھڑا ہوگیا اور کہا کہ " مجھے معاف کر دینا میرے اوپر ایک ایسی کیفیت گزری تھی جس میں میں نبرد آزما نہیں ہو سکا تھا لیکن اب وہ کیفیت دور ہو گئی ہے تم شوق سے کھانا کھاؤ اور اب سے تم میری بہن ہو -
" یہ سن کر اس لڑکی نے کہا کہ " اے الله میرے اس بھائی پر دوزخ کی آگ حرام کر دے - " یہ کہ کر وہ رونے لگی اور اونچی آواز میں روتے ہوئی کہنے لگی کہ " اے الله نہ صرف دوزخ کی آگ حرام کر دے بلکہ اس پر ہر طرح کی آگ حرام کر دے - "
 نوجوان نے بتایا کہ لڑکی یہ دعا دے کر چلی گئی - ایک دن میرے پاس زنبور (جمور) نہیں تھا اور میں دھونکنی چلا کر نعل گرم کر رہا تھا میں نے زنبور پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو وہ دہکتے ہوئے کوئلوں میں چلا گیا لیکن میرے ہاتھ پر آگ کا کوئی اثر نہ ہوا - میں حیران ہوا اور پھر مجھے اس لڑکی کی وہ دعا یاد آئی اور تب سے لے کر اب تک میں اس دہکتی ہوئی آگ کو آگ نہیں سمجھتا ہوں بلکہ اس میں سے جو چاہے بغیر کسی ڈر کے نکال لیتا ہوں۔

بغداد کی چالاک بڑھیا

بغداد شہر میں ایک بڑھیا رہتی تھی‘ کثرت سے روزے رکھتی اور نماز پڑھتی تھی۔
 اس کا ایک ہی بیٹا تھا جو سونے کا کاروبار کرتا تھا وہ ہمیشہ شراب اورفضول کھیلوں میں مصروف رہتا۔ بیٹا سارا دن دکان پر مصروف رہتا‘ رات کو اپنے پیسوں اور زیورات کی تھیلی اپنی ماں کے حوالے کرکے رات اپنے دوستوں کے گھر گزارتا۔
 ایک چوریہ سب معاملہ دیکھا کرتا اور اس نے وہ تھیلی چوری کرنے کا ارادہ کرلیا اور گھر میں داخل ہوگیا لڑکے کو خبر نہ ہوئی اور چور چھپ گیا لڑکے نے وہ تھیلی اپنی ماں کے حوالے کی اور باہر نکل گیا۔ بڑھیا نے ایک کمرہ میں لوہے کی الماری میں تھیلی رکھی اور دروازے پر بیٹھ گئی اور افطار کا سامان سامنے رکھ لیا۔ چور نے سوچا اب یہ افطار کرکے سوجائے گی تو میں سامان چرالوں گا جب بڑھیا روزہ افطار کرچکی تو نماز پڑھنے کھڑی ہوگئی اور نماز لمبی ہوگئی اور آدھی رات گزر گئی 
چور حیران ہوگیا اور اس کو ڈر ہوا کہ کہیں صبح نہ ہوجائے وہ گھرمیں پھرا اس کو نئی لنگی مل گئی اور کچھ عطر۔ اس نے لنگی باندھی اور عطر لگایا اور بہت موٹی آواز بنا کر بولا کہ بڑھیا گھبرا جائے۔
 بڑھیا دلیر تھی سمجھ گئی کہ یہ چور ہے۔ چور بولا‘ میں  جبرائیل ہوں اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے کہ تیرا بیٹا فاسق ہے ‘ اسے نصیحت کروں تو بڑھیا نے یہ ظاہر کیا کہ گھبراہٹ سے اس پرغشی طاری ہوگئی‘ اور درخواست کرنے لگی میرے بیٹے کو چھوڑ دو اس کو قتل نہ کرنا‘
 چور نے کہا میں صرف مال والی تھیلی لے کر اس کے دل کو رنج پہنچانے آیا ہوں تاکہ وہ توبہ کرلے تو میں اسے تھیلی واپس کردوں تو بڑھیا نے کہا تعمیل کرو۔
چور اندر داخل ہوگیا تاکہ تھیلی لے جائے تو بڑھیا نے آہستہ سے باہر جاکر دروازہ بند کرکے باہر سے کنڈی لگادی۔ اب تو چور کو موت نظر آنے لگی جب کہیں سے باہر نکلنے کا راستہ نہ ملا تو بڑھیا سے بولا دروازہ کھول دو تو بڑھیا نے کہا اے جبرائیل تیرے لیے کیا مشکل ہے تو روشندان سے نکل جا یا دیوار کو پھاڑ کر نکل جا۔۔۔
 اب چور نے محسوس کرلیا کہ بڑھیا چالاک اور دلیر ہے تو خوشامد اور منت شروع کردی اور توبہ کرنے لگا۔ بڑھیا روزہ رکھ کر نماز پڑھنے کھڑی ہوگئی اور چور سوال کرتا رہا یہاں تک کہ سورج نکل آیا اور اس کا بیٹا واپس آگیا۔ بڑھیا نے تمام باتیں اپنے بیٹے کو بتائیں وہ کوتوال پولیس کو بلالایا تو انہوں نے دروازہ کھول کر چور کو قابو کرلیا۔

بغداد کا ایک پہلوان

کسی زمانے میں بغداد میں جنید نامی ایک پہلوان رہا کرتا تھا۔ پورے بغداد میں اس پہلوان کے مقابلے کا کوئی نہ تھا۔ بڑے سے بڑا پہلوان بھی اس کے سامنے زیر تھا۔ کیا مجال کہ کوئی اس کے سامنے نظر ملا سکے۔ یہی وجہ تھی کہ شاہی دربار میں اس کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور بادشاہ کی نظر میں اس کا خاص مقام تھا۔
ایک دن جنید پہلوان بادشاہ کے دربار میں اراکین سلطنت کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا کہ شاہی محل کے صدر دروازے پر کسی نے دستک دی۔ خادم نے آکر بادشاہ کو بتایا کہ ایک کمزور و ناتواں شخص دروازے پر کھڑا ہے جس کا بوسیدہ لباس ہے۔ کمزوری کا یہ عالم ہے کہ زمین پر کھڑا ہونا مشکل ہو رہا ہے۔ اس نے یہ پیغام بھیجا ہے کہ جنید کو میرا پیغام پہنچا دو کہ وہ کشتی میں میرا چیلنج قبول کرے۔ بادشاہ نے حکم جاری کیا کہ اسے دربار میں پیش کرو۔ اجنبی ڈگمگاتے پیروں سے دربار میں حاضر ہوا۔ وزیر نے اجنبی سے پوچھا تم کیا چاہتے ہو۔ اجنبی نے جواب دیا میں جنید پہلوان سے کشتی لڑنا چاہتا ہوں۔ وزیر نے کہا چھوٹا منہ بڑی بات نہ کرو۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ جنید کا نام سن کر بڑے بڑے پہلوانوں کو پسینہ آ جاتا ہے۔ پورے شہر میں اس کے مقابلے کا کوئی نہیں اور تم جیسے کمزور شخص کا جنید سے کشتی لڑنا تمہاری ہلاکت کا سبب بھی ہو سکتا ہے۔ اجنبی نے کہا کہ جنید پہلوان کی شہرت ہی مجھے کھینچ کر لائی ہے اور میں آپ پر یہ ثابت کرکے دکھاؤں گا کہ جنید کو شکست دینا ممکن ہے۔ میں اپنا انجام جانتا ہوں آپ اس بحث میں نہ پڑیں بلکہ میرے چیلنج کو قبول کیا جائے۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ شکست کس کا مقدر ہوتی ہے۔
جنید پہلوان بڑی حیرت سے آنے والے اجنبی کی باتیں سن رہا تھا۔ بادشاہ نے کہا اگر سمجھانے کے باوجود یہ بضد ہے تو اپنے انجام کا یہ خود ذمہ دار ہے۔ لٰہذا اس کا چیلنج قبول کر لیا جائے۔ بادشاہ کا حکم ہوا اور کچھ ہی دیر کے بعد تاریخ اور جگہ کا اعلان کر دیا گیا اور پورے بغداد میں اس چیلنج کا تہلکہ مچ گیا۔ ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ اس مقابلے کو دیکھے۔ تاریخ جوں جوں قریب آتی گئی لوگوں کا اشتیاق بڑھتا گیا۔ ان کا اشتیاق اس وجہ سے تھا کہ آج تک انہوں نے تنکے اور پہاڑ کا مقابلہ نہیں دیکھا تھا۔ دور دراز ملکوں سے بھی سیاح یہ مقابلے دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ جنید کے لئے یہ مقابلہ بہت پراسرار تھا اور اس پر ایک انجانی سی ہیبت طاری ہونے لگی۔ انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر شہر بغداد میں امنڈ آیا تھا۔
جنید پہلوان کی ملک گیر شہرت کسی تعارف کی محتاج نہ تھی۔ اپنے وقت کا مانا ہوا پہلوان آج ایک کمزور اور ناتواں انسان سے مقابلے کے لئے میدان میں اتر رہا تھا۔ اکھاڑے کے اطراف لاکھوں انسانوں کا ہجوم اس مقابلے کو دیکھنے آیا ہوا تھا۔ بادشاہ وقت اپنے سلطنت کے اراکین کے ہمراہ اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے۔ جنید پہلوان بھی بادشاہ کے ہمراہ آ گیا تھا۔ سب لوگوں کی نگاہیں اس پراسرار شخص پر لگی ہوئی تھیں۔ جس نے جنید جیسے نامور پہلوان کو چیلنج دے کر پوری سلطنت میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ مجمع کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اجنبی مقابلے کے لئے آئے گا پھر بھی لوگ شدت سے اس کا انتظار کرنے لگے۔ جنید پہلوان میدان میں اتر چکا تھا۔ اس کے حامی لمحہ بہ لمحہ نعرے لگا کر حوصلہ بلند کر رہے تھے۔ کہ اچانک وہ اجنبی لوگوں کی صفوں کو چیرتا ہوا اکھاڑے میں پہنچ گیا۔ ہر شخص اس کمزور اور ناتواں شخص کو دیکھ کر محو حیرت میں پڑ گیا کہ جو شخص جنید کی ایک پھونک سے اڑ جائے اس سے مقابلہ کرنا دانشمندی نہیں۔ لیکن اس کے باوجود سارا مجمع دھڑکتے دل کے ساتھ اس کشتی کو دیکھنے لگا۔ کشتی کا آغاز ہوا دونوں آمنے سامنے ہوئے۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گئے۔ پنجہ آزمائی شروع ہوئی اس سے پہلے کہ جنید کوئی داؤ لگا کر اجنبی کو زیر کرتے اجنبی نے آہستہ سے جنید سے کہا اے جنید ! ذرا اپنے کام میرے قریب لاؤ۔ میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ اجنبی کی باتیں سن کر جنید قریب ہوا اور کہا کیا کہنا چاہتے ہو۔
اجنبی بولا اے جنید ! میں کوئی پہلوان نہیں ہوں۔ زمانے کا ستایا ہوا ہوں۔ میں آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ سید گھرانے سے میرا تعلق ہے میرا ایک چھوٹا سا کنبہ کئی ہفتوں سے فاقوں میں مبتلا جنگل میں پڑا ہوا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے شدت بھوک سے بے جان ہو چکے ہیں۔ خاندانی غیرت کسی سے دست سوال نہیں کرنے دیتی۔ سید زادیوں کے جسم پر کپڑے پھٹے ہوئے ہیں۔ بڑی مشکل سے یہاں تک پہنچا ہوں۔ میں نے اس امید پر تمہیں کشتی کا چیلنج دیا ہے کہ تمہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے سے عقیدت ہے۔ آج خاندان نبوت کی لاج رکھ لیجئے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج اگر تم نے میری لاج رکھی تو کل میدان محشر میں اپنے نانا جان سے عرض کرکے فتح و کامرانی کا تاج تمہارے سر پر رکھواؤں گا۔ تمہاری ملک گیر شہرت اور اعزاز کی ایک قربانی خاندان نبوت کے سوکھے ہوئے چہروں کی شادابی کے لئے کافی ہوگی۔ تمہاری یہ قربانی کبھی بھی ضائع نہیں ہونے دی جائے گی۔
اجنبی شخص کے یہ چند جملے جنید پہلوان کے جگر میں اتر گئے۔ اس کا دل گھائل اور آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ سیدزادے کی اس پیش کش کو فوراً قبول کرلیا اور اپنی عالمگیر شہرت، عزت و عظمت آل سول صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کرنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہ کی۔ فوراً فیصلہ کر لیا کہ اس سے بڑھ کر میری عزت و ناموس کا اور کونسا موقع ہو سکتا ہے کہ دنیا کی اس محدود عزت کو خاندان نبوت کی اڑتی ہوئی خاک پر قربان کردوں۔ اگر سید گھرانے کی مرجھائی ہوئی کلیوں کی شادابی کے لئے میرے جسم کا خون کام آ سکتا ہے تو جسم کا ایک ایک قطرہ تمہاری خوشحالی کے لئے دینے کے لئے تیار ہوں۔ جنید فیصلہ دے چکا۔ اس کے جسم کی توانائی اب سلب ہو چکی تھی۔ اجنبی شخص سے پنجہ آزمائی کا ظاہری مظاہرہ شروع کر دیا۔
کشتی لڑنے کا انداز جاری تھا۔ پینترے بدلے جا رہے تھے۔ کہ اچانک جنید نے ایک داؤ لگایا۔ پورا مجمع جنید کے حق میں نعرے لگاتا رہا جوش و خروش بڑھتا گیا جنید داؤ کے جوہر دکھاتا تو مجمع نعروں سے گونج اٹھا۔ دونوں باہم گتھم گتھا ہو گئے یکایک لوگوں کی پلکیں جھپکیں، دھڑکتے دل کے ساتھ آنکھیں کھلیں تو ایک ناقابل یقین منظر آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ جنید چاروں شانے چت پڑا تھا اور خاندان نبوت کا شہزادہ سینے پر بیٹھے فتح کا پرچم بلند کر رہا تھا۔ پورے مجمع پر سکتہ طاری ہو چکا تھا۔ حیرت کا طلسم ٹوٹا اور پورے مجمعے نے سیدزادے کو گود میں اٹھا لیا۔ میدان کا فاتح لوگوں کے سروں پر سے گزر رہا تھا۔ ہر طرف انعام و اکرام کی بارش ہونے لگی۔ خاندان نبوت کا یہ شہزادہ بیش بہا قیمتی انعامات لے کر اپنی پناہ گاہ کی طرف چل دیا۔
اس شکست سے جنید کا وقار لوگوں کے دلوں سے ختم ہو چکا تھا۔ ہر شخص انہیں حقارت سے دیکھتا گزر رہا تھا۔ زندگی بھر لوگوں کے دلوں پر سکہ جمانے والا آج انہی لوگوں کے طعنوں کو سن رہا تھا۔ رات ہو چکی تھی۔ لوگ اپنے اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔ عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر جنید اپنے بستر پر لیٹا اس کے کانوں میں سیدزادے کے وہ الفاظ بار بار گونجتے رہے۔ “آج میں وعدہ کرتا ہوں اگر تم نے میری لاج رکھی تو کل میدان محشر میں اپنے نانا جان سے عرض کرکے فتح و کامرانی کا تاج تمہارے سر پر رکھواؤں گا
جنید سوچتا کیا واقعی ایسا ہوگا کیا مجھے یہ شرف حاصل ہوگا کہ حضور سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے یہ تاج میں پہنوں ؟ نہیں نہیں میں اس قابل نہیں، لیکن خاندان نبوت کے شہزادے نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ آل رسول کا وعدہ غلط نہیں ہو سکتا یہ سوچتے سوچتے جنید نیند کی آغوش میں پہنچ چکا تھا نیند میں پہنچتے ہی دنیا کے حجابات نگاہوں کے سامنے سے اٹھ چکے تھے ایک حسین خواب نگاہوں کے سامنے تھا اور گنبد خضراء کا سبز گنبد نگاہوں کے سامنے جلوہ گر ہوا، جس سے ہر سمت روشنی بکھرنے لگی، ایک نورانی ہستی جلوہ فرما ہوئی، جن کے حسن و جمال سے جنید کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں، دل کیف سرور میں ڈوب گیا در و دیوار سے آوازیں آنے لگیں الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ۔ جنید سمجھ گئے یہ تو میرے آقا ہیں جن کا میں کلمہ پڑھتا ہوں۔ فوراً قدموں سے لپٹ گئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جنید اٹھو قیامت سے پہلے اپنی قسمت کی سرفرازی کا نظارہ کرو۔ نبی ذادوں کے ناموس کے لئے شکست کی ذلتوں کا انعام قیامت تک قرض رکھا نہیں جائے گا۔ سر اٹھاؤ تمہارے لئے فتح و کرامت کی دستار لے کر آیا ہوں۔ آج سے تمہیں عرفان و تقرب کے سب سے اونچے مقام پر فائز کیا جاتا ہے۔ تمہیں اولیاء کرام کی سروری کا اعزاز مبارک ہو۔
ان کلمات کے بعد حضور سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جنید پہلوان کو سینے سے لگایا اور اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت خواب میں جنید کو کیا کچھ عطا کیا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اتنا اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ جب جنید نیند سے بیدار ہوئے تو ساری کائنات چمکتے ہوئے آئینے کی طرح ان کی نگاہوں میں آ گئی تھی ہر ایک کے دل جنید کے قدموں پر نثار ہو چکے تھے۔ بادشاہ وقت نے اپنا قیمتی تاج سر سے اتار کر ان کے قدموں میں رکھ دیا تھا۔ بغداد کا یہ پہلوان آج سید الطائفہ سیدنا حضرت جنید بغدادی کے نام سے سارے عالم میں مشہور ہو چکا تھا۔ ساری کائنات کے دل ان کے لئے جھک گئے تھے۔